Sufi Quotes of Sheikh Abdul Haque Dehlvi
عزم و نیت کی رو سے ترکِ تعلق یہ ہے کہ کوئی عمل غیر خدا کے لیے نہ ہو، تمام افعال و اقوال خالص خدا کے لیے ہوں اور ہر وہ کام جس کی تو نیت کرے نیک نیتی پر موقوف ہو، جب نیت درست ہو جائے اس وقت عمل شروع کیا جائے یا عمل خدا کے لیے کرے ورنہ عمل ہی نہ کرے۔
ماسوا سے دل کو خالی کر، جب گھر فضول چیزوں سے بھرا ہوا ہو تو خالی کیے بغیر اس میں آرائش و زیبائش و زیبائش کے قیمتی سامان نہیں رکھ سکتے، جس بوتل میں شرابِ کثیف بھری ہو اس میں نفیس گلاب کیسے بھر سکتے ہیں، اگر گھر میں معزز مہمان کا استقبال کرنا ہے تو گھر کی صفائی ضروری ہے۔
میرے ماں باپ پیچھے پڑے رہتے تھے کہ ذرا محلہ کے لڑکوں کے ساتھ کھیل آؤں یا رات کو وقت سے پلنگ پر لیٹ جایا کروں، میں عرض کرتا تھا کہ کھیل سے مقصد دل بہلانا ہے، میرا دل اسی سے بہلتا ہے کہ کچھ پڑھوں یا کوئی مشق کروں۔
چاہیے کہ کسی سے علمی بحث میں جھگڑا نہ کرو اور تکلیف نہ پہنچاؤ اگر یہ سمجھ لو کہ دوسرا حق بجانب ہے تو اس کی بات مان لو اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس کو دو تین بار سمجھا دو اگر نہ مانے تو کہو کہ مجھے تو یہی معلوم ہے ممکن ہے کہ جیسا تم کہتے ہو ویسا ہی ہو پھر جھگڑنے کی بات کیا ہے۔
معرفتِ حق کے کئی مدارج ہیں اور معرفتِ نفس جو معرفتِ حق کی شرط ہے کئی درجے رکھتی ہے، پس معرفت کا ہر درجہ معرفتِ حق کا ایک دریچہ کھول دیتا ہے۔
مشائخِ کبار کو آخرت اور بہشت کی بشارتیں ان کی مناجات سحرگاہی کی بدولت ملی ہیں۔
قناعت کے دروازے کا مرید بن مکھی نہ بن کہ جو چیز سامنے آئی اسی پر بیٹھ گئی، پاک اور ناپاک کا دھیان نہ رکھا۔
مخلوق سے حق کے لیے پیوستہ رہنا چاہیے کیوں کہ اس طرح مخلوق سے وابستگی خدا کی خوشنودی کا باعث ہے۔
بعض لوگ حصولِ یقین کے انتظار میں عمل کو ٹالتے رہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں ہے۔
ان تین چیزوں کی طرف اپنی توجہ دلاؤ۔
(۱) طلبِ صادق پیدا کرو۔
(۲) پاداشِ عمل کا خیال رکھو۔
(۳) ظاہر و باطن میں امتزاج پیدا کرو۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere