Sufi Quotes of Syed Hassan Rasoolnuma
بیمار ہوجانے کی حالت میں دوا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس دوا پر جو قیمت صرف ہوتی ہو راہِ خدا میں صرف کرنی چاہیے۔
آدمی کو اخلاص میں کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ اگر سالہا سال تک حرمین میں عبادت کرے لیکن اخلاص سے بہرہ ور نہ ہو تو اس کو سوائے ناکامی اور حرماں کے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔
کھانا تھوڑا کھانا چاہیے جو لذیذ نہ ہو، لذیذ کھانا یتیموں اور مسیکنوں کو کھلا دینا چاہیے۔
اس زمانے میں سوائے حضرت محمد رسول اللہ کے کسی کا مرید نہیں بننا چاہیے کیوں کہ شیخِ کامل کا دستیاب ہونا نہایت دشوار ہے، بہت سے لوگوں نے مکر و فریب کا جال پھیلا کر اہلِ کمال ہونے کا دعویٰ کرلیا ہے اور اکثر سادہ لوح ان کے دامِ تزویر میں پھنس جاتے ہیں جو ان کے لیے گمراہی کا باعث ہوتا ہے، اگر مدت دراز کے گزر جانے پر بھی حصولِ مقصد کامیابی نہ ہو اور بیچارہ مرید ان سے فریاد کرنے لگے تو پیر صاحب اس کی وجہ خود اس کی بے استعدادی بتاتے ہیں، جب پیرانِ زمانہ کا یہ حال ہے تو کیوں ایک ایسے پیر کا وسیلہ نہ ڈھونڈیں جو عیب اور نقصان اور خطا کاری سے مبرا ہے اور اس کے سب سے رفیع المرتبت ہونے کا سب کو بدل و جان اقرار ہے۔
جب تک کسی شخص کے عمل کا یقین حاصل نہ ہو انکار اور تشنیع سے نہیں پیش آنا چاہیے کیوں کہ ہر ایک امر نیت سے وابستہ ہے۔
محبت کے کئی مراتب ہیں، یہ ایک کم درجہ کی محبت ہے جو ماں کو اپنے پیارے لخت جگر سے ہوتی ہے کہ اس کے لیے تمام لذیذ کھانوں سے محترز رہتی ہے۔
کسی سے جھگڑا اور بحث جس کو مجادلہ کہتے ہیں بلکہ مناظرہ تک نہیں کرنا چاہیے۔
اگر غیب کی باتیں منکشف ہونے لگیں تو ان کو پوشیدہ رکھنا چاہیے کیوں کہ اگر وہ اظہار کر دے اور پھر اس کے مطابق وقوع میں آئے تو لوگ اس کی طرف جوق در جوق ہوکر رجوع لائیں گے۔
انسان کو چاہیے کہ ہر ایک حالت میں حق تعالیٰ کو حاضر و ناظر سمجھ کر اس سے حیا کرے اور کوئی ایسی حرکت اس سے سرزد نہ ہو جس سے حق تعالیٰ کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے لیکن لوگوں میں اپنا ننگ و ناموس قائم رکھنے کی ذرہ بھی پرواہ نہ کرے، ہر حالت میں شرع کا پاس رکھے تاکہ دارین کی خرابی سے محفوظ رہے۔
کسی شخص کا ضامن نہیں ہونا چاہیے، کسی کی شادی کے معاملہ میں نہیں آنا چاہیے بلکہ کسی بات میں بھی دخل نہیں دینا چاہیے۔
بغیر کسی قسم کی غرض اور مطلب کے حق تعالیٰ کا طالب ہونا چاہیے کیوں کہ وہ طالب جو خود غرضی پر مبنی ہو وہ ناخوشی اور عتاب کا باعث ہوتی ہے۔
سلف میں جب لیاقت پیدا ہوتی تھی تب مسندِ ارشاد پر بیٹھتے تھے لیکن اب یہ حال ہے کہ جو لوگ ابھی مریدی کے منازل و مراحل طے نہیں کیے ہوتے، وہی لوگ مرید بنانے کی فکر میں سرگرم ہوجاتے ہیں۔
مرید بنانا دو طرح ہوتا ہے، ایک تو یہ کہ مرید کو حق تعالیٰ تک پہنچائیں، دوسرے یہ کہ اس کی شفاعت کے کفیل ہوں، دونوں صورتوں میں شیخِ طریقت کا کامل مکمل ہونا ضروری ہے۔
گھوڑے اور ہاتھی اور پالکی پر سوار نہیں ہونا چاہیے اور اگر بوقتِ ضرورت سوار ہونا پڑے تو کوئی ایسی سواری اختیار کرنا چاہیے جو فخر و تکبر کا باعث نہ ہو۔
نامحرم اور اجنبی عورتوں سے خلوت میں ہرگز نہیں بیٹھنا چاہیے، نفس اور شیطان گھات لگائے رہتے ہیں۔
زینت اور آرائش کا خیال نہیں رکھنا چاہیے بلکہ ایسے لباس پر اکتفا کرنا چاہیے جو گرمی اور سردی کی شدت سے بچائیں۔
جب عشق اور شوقِ پیر کا غلبہ ہو جائے اپنی تمام تر توجہ کو حضرت محمد رسول اللہ پر مبذول کرے اور ہر ایک امر میں ذات فائض البرکات سے مدد طلب کرے تو بہت جلد حصولِ مقصد ہوسکتا ہے۔
بہت کم سونا چاہیے اور نفس کو سمجھانا چاہیے کہ اگر سو جاؤ گے تو چشم زدن میں وقت ہاتھ سے چلا جائے گا اور خدا کی یاد فوت ہو جائے گی جو ایک نعمتِ عظمیٰ اور دولتِ کبریٰ ہے، کثرتِ خواب سے بچنا لازم ہے کیوں کہ اس سے روح کی نوانیت کم ہو جاتی ہے۔
درویشی کا علم بھی دوسرے علوم کی طرح الف-ب سے شروع ہوتا ہے، اس کا الف یہ ہے کہ لذت ہائے نفسانی کو ترک کر دو۔
جو شخص معرفت اور کمال کا مدعی ہوکر اپنے تئیں دوسرے سے افضل سمجھے سر پر خاک ہو۔
مشائخِ طریقت کی تواضع کرنا لازم ہے کیوں کہ یا تو وہ در حقیقت بارگاہِ خداوندی میں قرب کا درجہ رکھتے ہوں گے یا نہیں، پہلی صورت میں تو ضرور اس کی تواضع کرنا واجب ہوگی لیکن اگر اس نے مشیخت کی دوکان کھول رکھی ہے تب بھی تواضع کرنا قرینِ مصلحت ہے کیوں کہ اس سے اس کی معاش ہوگی۔
لوگوں کے رد و قبول پر ہرگز نظر نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ حقیقی عزت یا ذلت وہی ہے جو حق تعالیٰ کی طرف سے ہو۔
سلف کی عادت تھی کہ وہ اپنے آپ کو غلاظت کے کیڑے سے بھی کمتر سمجھتے تھے، چہ جائے کہ انسان پر اپنے آپ کو فوقیت دیں لیکن زمانۂ حال کے پیرانِ طریقت کی یہ حالت ہے کہ جب کسی مرید کو دیکھتے ہیں تو ان کے دل میں غرور پیدا ہوتا ہے کہ اس کا پیر ہوں اور یہ میرا مرید ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ابھی پنجۂ نفس و شیطان سے نجابت نہیں پائی۔
کوئی عمارت نہیں بنانا چاہیے، یہاں تک کہ خانقاہ اور مسجد بھی نہ بنائیں، گو ان کا بنانا ثواب کی نیت سے درست ہے لیکن اس ثواب کے مقابلہ میں وہ اجر و ثواب بہت زیادہ ہے جو کسی ذی روح کو فائدہ پہنچانے سے حاصل ہوتا ہے۔
علوم میں سے علم تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول پر تمام تر توجہ مبذول کرنی چاہیے اور جاہلوں کی صحبت سے احتراز کرنا ضروری ہے، بے باکانہ گفتگو سننے سے بھی پرہیز واجب ہے۔
تعویذ نہیں لکھنا چاہیے اور دعا بھی نہیں کرنی چاہیے کیوں کہ اگر تعویذ لکھ دے یا کسی کے حق میں دعا کر دے تو اگر مشیتِ الٰہی کے مطابق اس کا اثر ظاہر ہوا تو ممکن ہے کہ نفس اور شیطان اس کو خود بینی اور تکبر میں مبتلا کریں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere