Sufi Quotes of Waheeduddin Khan
منزل پر پہنچنا صرف اس شخص کے لیے مقدر ہے جو راستہ کے کانٹوں سے بچ کر آگے نکل جائے۔
آدمی پھول بن کر مہکے اور آفتاب بن کر چمکے دنیا خاموش زبان میں ہر روز یہ پیغام دے رہی ہے۔
تمام کامیابیوں کا سب سے بڑا راز صبر ہے اور تمام ناکامیوں کا سب سے بڑا راز بے صبری۔
اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے۔
نادان نے کہا کہ میں نے اپنے ماضی اور حال کو برباد کر دیا، دانش مند بولا مگر مستقبل تو برباد نہیں ہوا۔
اس دنیا میں کوئی غروب آخری نہیں، ہر غروب کے لیے ایک نیا طلوع مقدر ہے، بشرطیکہ آدمی اپنی شام کو دوبارہ صبح میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
دانش مند وہ ہے جس کا حریف اس کے منصوبہ سے اس وقت باخبر ہو جب کہ وہ اپنے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچا چکا ہو۔
عقل مند آدمی ہر چیز کی امید اپنے آپ سے کرتا ہے اور بے وقوف آدمی ہر چیز کی امید دوسروں سے۔
عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے حق سے کم لینے پر راضی ہو جائے اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے کے لیے تیار رہے۔
اگر آپ نے اپنے آغاز کو پالیا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پاسکتے ہیں کیوں کہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔
آج کا ڈوبا ہوا سورج اگلے دن ضرور طلوع ہوتا ہے مگر اکثر لوگ آنے والے دن تک اس کا انتظار نہیں کرتے۔
ترقی کا زینہ آدمی کی اپنی محنت ہے مگر بہت سے لوگ دوسروں کی بربادی کو اپنی ترقی کا سب سے قریبی زینہ سمجھ لیتے ہیں۔
کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے نہیں لڑتا ہر آدمی کو اپنی زندگی کی لڑائی خود لڑنی پڑتی ہے۔
آدمی اگر دوسروں کی غلطیوں سے سبق لینا سیکھ لے تو کبھی وہ اپنے معاملات میں غلطی نہ کرے۔
بلند مقام ہمیشہ اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے نہ کہ نعرے اور جھنڈے کو بلند کرنے سے۔
نا دانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے۔
دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرانا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خود اپنے امکانات سے با خبر نہ ہوسکا۔
جو شخص اپنے آپ پر فتح حاصل کرلے اس کے لیے دوسروں پر فتح حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں۔
عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں کو بھول جائے اور اپنی غلطیوں کو ہمیشہ یاد رکھے۔
ہر شام کے بعد دوبارہ نئی صبح آتی ہے مگر صبح کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو صبح کے آنے تک اس کا انتظار کرے۔
جو شخص کاٹھ کی ہنڈیا میں کھانا پکائے اس کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ ہمیشہ بھوکا پڑا رہے۔
جب آدمی کا ماضی اور حال لٹ چکا ہو اس وقت بھی اس کا مستقبل محفوظ رہتا ہے۔
ہر آدمی اپنے گزشتہ کل کو کھو چکا ہے، کامیاب وہ ہے جو اپنے آج کو نہ کھوئے۔
اپنی ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ آدمی پھر سے محنت کر کے اپنی کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنا چاہتا ہے۔
محرومی آپ کے لیے ترقی کا زینہ ہے، اگر وہ آپ کی دبی ہوئی قوتوں کو جگانے والی ثابت ہو۔
طاقتور دشمن سے انصاف کی اپیل کرنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر سے یہ کہنا کہ وہ پانی کا چشمہ جاری کردے۔
اگر آپ بولنا نہیں جانتے تو چپ رہنا جانیے کیوں کہ چپ رہنا بھی اتنا ہی بڑا کام ہے جتنا کہ بولنا۔
برے سلوک کا بہترین جواب اچھا سلوک ہے، جہالت کا بہترین حل اس کو نظر انداز کر دینا ہے۔
بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہو جاتی ہے جو ہم خود اس کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔
سب کچھ کھونے کے بعد بھی اگر آپ کے اندر حوصلہ باقی ہے تو سمجھ لیجیے کہ ابھی آپ نے کچھ نہیں کھویا۔
مواقع کو استعمال کرنے کا نام قیادت ہے اور مواقع کو برباد کرنے کا نام حماقت۔
اگر آپ پھول حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کانٹوں سے دامن بچانے کا فن سیکھنا ہوگا۔
اگر آپ دنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو پہلے ناکامی کا استقبال کرنے کا حوصلہ پیدا کیجیے۔
سو سال کا سفر کبھی اس طرح طے نہیں ہوتا کہ ہم اپنے کاغذی کلینڈر میں سو سال آگے کا ہندسہ لکھ لیں۔
جو کچھ کھویا گیا ہے اس کو بھول جاؤ تاکہ جو کچھ باقی ہے اس کو حاصل کر سکو۔
چھوٹے برتن میں زیادہ پانی نہیں سماتا، ٹھیک اسی طرح چھوٹے دل کے ساتھ بڑی کامیابی جمع نہیں ہوتی۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere