ہم غرور کے جام سے مست ہیں اور اس کا نام ہم نے ہوشیاری رکھ لیا ہے۔
ہم غرور کے جام سے مست ہیں اور اس کا نام ہم نے ہوشیاری رکھ لیا ہے۔
حافظ شیرازی
MORE BYحافظ شیرازی
ہم غرور کے جام سے مست ہیں اور اس کا نام ہم نے ہوشیاری رکھ لیا ہے۔
- کتاب : گنجینۂ اقوال (Pg. 50)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.