شیخ کا دل صیقل شدہ آئینے کی طرح ہے، اس پر خدا کا فیض اترتا رہتا ہے، وہ ذات، صفات، اسما اور افعال کی تجلیات سے متجلی ہوتا ہے اور اس طرح شیخ ہر لمحہ غیبی لطائف سے آراستہ ہوتا رہتا ہے، جب مرید صادق مکمل ارادت کے ساتھ اپنے دل کوایسے آئینے کے سامنے لاتا ہے تو شیخ کا دل مریدکے دل پر عکس تجلی ڈالتا ہے اور تمام کمالات بغیر کسی کسب اور محنت و مشقت کے اس مرید کے دل میں اتر جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اس کا دل غیر یت کی کدورت سے پاک اور طبیعت کے زنگ سے صاف ہو۔
شیخ کا دل صیقل شدہ آئینے کی طرح ہے، اس پر خدا کا فیض اترتا رہتا ہے، وہ ذات، صفات، اسما اور افعال کی تجلیات سے متجلی ہوتا ہے اور اس طرح شیخ ہر لمحہ غیبی لطائف سے آراستہ ہوتا رہتا ہے، جب مرید صادق مکمل ارادت کے ساتھ اپنے دل کوایسے آئینے کے سامنے لاتا ہے تو شیخ کا دل مریدکے دل پر عکس تجلی ڈالتا ہے اور تمام کمالات بغیر کسی کسب اور محنت و مشقت کے اس مرید کے دل میں اتر جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اس کا دل غیر یت کی کدورت سے پاک اور طبیعت کے زنگ سے صاف ہو۔
مخدوم شاہ مینا
MORE BYمخدوم شاہ مینا
شیخ کا دل صیقل شدہ آئینے کی طرح ہے، اس پر خدا کا فیض اترتا رہتا ہے، وہ ذات، صفات، اسما اور افعال کی تجلیات سے متجلی ہوتا ہے اور اس طرح شیخ ہر لمحہ غیبی لطائف سے آراستہ ہوتا رہتا ہے، جب مرید صادق مکمل ارادت کے ساتھ اپنے دل کوایسے آئینے کے سامنے لاتا ہے تو شیخ کا دل مریدکے دل پر عکس تجلی ڈالتا ہے اور تمام کمالات بغیر کسی کسب اور محنت و مشقت کے اس مرید کے دل میں اتر جاتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اس کا دل غیر یت کی کدورت سے پاک اور طبیعت کے زنگ سے صاف ہو۔
- کتاب : مجمع السلوک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.