Font by Mehr Nastaliq Web

آدمی دو چیزوں سے عبارت ہے، صورت اور صفت، ان میں سے قابل اعتنا آدمی کی صفت ہے، خدائے عزوجل صورتوں کو نہیں بلکہ قلوب کو دیکھتا ہے، اگر کسی کا قلب اوصافِ ذمیمہ سے پُر ہے تو اس کا شمار بہائم میں ہے، اوصافِ ذمیمہ کو دور کرنے کے لیے’’تزکیۂ نفس‘‘ کی ضرورت ہے اور ’’تزکیۂ نفس‘‘ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک بندہ خدا سے التجا و اسعانت نہ کرے یعنی اس کی بارگاہ میں گڑگڑائے اور اس سے مدد طلب کرے، التجا و استعانت سے خدا کی طرف سے ’’فضل اور رحمت‘‘ حاصل ہوتی ہے، فضل اور رحمت کے ظہور کی علامت یہ ہے کہ بندہ کی چشمِ بینا میں اس کے عیوب ظاہر ہو جاتے ہیں اور عظمتِ الٰہی کے انوار کے پرتو سے ساری کائنات اس کی نظر میں ہیچ ہو جاتی ہے، دنیا کے بھیدوں میں پھنسے رہنے والوں کی وقعت اس کے دل سے بالکل جاتی رہتی ہے اور جب اس کے قلب پر یہ کیفیت مستولی ہو جاتی ہے تو اس کے اوصاف فرشتوں کے اوصاف میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس میں ’’ظلم کے بجائے عفو ‘‘غضب کے بجائے حلم کبر" کے بجائے تواضع ’’بخل کے بجائے سخاوت‘‘ اور ’’حرص کے بجائے ایثار‘‘ کی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

شیخ رکن الدین ابو الفتح

آدمی دو چیزوں سے عبارت ہے، صورت اور صفت، ان میں سے قابل اعتنا آدمی کی صفت ہے، خدائے عزوجل صورتوں کو نہیں بلکہ قلوب کو دیکھتا ہے، اگر کسی کا قلب اوصافِ ذمیمہ سے پُر ہے تو اس کا شمار بہائم میں ہے، اوصافِ ذمیمہ کو دور کرنے کے لیے’’تزکیۂ نفس‘‘ کی ضرورت ہے اور ’’تزکیۂ نفس‘‘ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک بندہ خدا سے التجا و اسعانت نہ کرے یعنی اس کی بارگاہ میں گڑگڑائے اور اس سے مدد طلب کرے، التجا و استعانت سے خدا کی طرف سے ’’فضل اور رحمت‘‘ حاصل ہوتی ہے، فضل اور رحمت کے ظہور کی علامت یہ ہے کہ بندہ کی چشمِ بینا میں اس کے عیوب ظاہر ہو جاتے ہیں اور عظمتِ الٰہی کے انوار کے پرتو سے ساری کائنات اس کی نظر میں ہیچ ہو جاتی ہے، دنیا کے بھیدوں میں پھنسے رہنے والوں کی وقعت اس کے دل سے بالکل جاتی رہتی ہے اور جب اس کے قلب پر یہ کیفیت مستولی ہو جاتی ہے تو اس کے اوصاف فرشتوں کے اوصاف میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس میں ’’ظلم کے بجائے عفو ‘‘غضب کے بجائے حلم کبر" کے بجائے تواضع ’’بخل کے بجائے سخاوت‘‘ اور ’’حرص کے بجائے ایثار‘‘ کی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

شیخ رکن الدین ابو الفتح

MORE BYشیخ رکن الدین ابو الفتح

    آدمی دو چیزوں سے عبارت ہے، صورت اور صفت، ان میں سے قابل اعتنا آدمی کی صفت ہے، خدائے عزوجل صورتوں کو نہیں بلکہ قلوب کو دیکھتا ہے، اگر کسی کا قلب اوصافِ ذمیمہ سے پُر ہے تو اس کا شمار بہائم میں ہے، اوصافِ ذمیمہ کو دور کرنے کے لیے’’تزکیۂ نفس‘‘ کی ضرورت ہے اور ’’تزکیۂ نفس‘‘ اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک بندہ خدا سے التجا و اسعانت نہ کرے یعنی اس کی بارگاہ میں گڑگڑائے اور اس سے مدد طلب کرے، التجا و استعانت سے خدا کی طرف سے ’’فضل اور رحمت‘‘ حاصل ہوتی ہے، فضل اور رحمت کے ظہور کی علامت یہ ہے کہ بندہ کی چشمِ بینا میں اس کے عیوب ظاہر ہو جاتے ہیں اور عظمتِ الٰہی کے انوار کے پرتو سے ساری کائنات اس کی نظر میں ہیچ ہو جاتی ہے، دنیا کے بھیدوں میں پھنسے رہنے والوں کی وقعت اس کے دل سے بالکل جاتی رہتی ہے اور جب اس کے قلب پر یہ کیفیت مستولی ہو جاتی ہے تو اس کے اوصاف فرشتوں کے اوصاف میں تبدیل ہو جاتے ہیں اور اس میں ’’ظلم کے بجائے عفو ‘‘غضب کے بجائے حلم کبر کے بجائے تواضع ’’بخل کے بجائے سخاوت‘‘ اور ’’حرص کے بجائے ایثار‘‘ کی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے