’’حسن سلوک‘‘ سے انسان کی انتہائی عقل مندی، وسعتِ علم اور بردباری کا ثبوت ملتا ہے، کیوں کہ نفس کی یہ عادت ہے کہ جو اسے ناپسند ہو یا جو اس کی مرضی کے خلاف کام کرے، اس وقت اس میں غیظ و غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، لہٰذا حسن مدارات اور نرمی سے نفس کی حدت و طیش اور نفرت کا الزالہ ہو جاتا ہے۔
’’حسن سلوک‘‘ سے انسان کی انتہائی عقل مندی، وسعتِ علم اور بردباری کا ثبوت ملتا ہے، کیوں کہ نفس کی یہ عادت ہے کہ جو اسے ناپسند ہو یا جو اس کی مرضی کے خلاف کام کرے، اس وقت اس میں غیظ و غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، لہٰذا حسن مدارات اور نرمی سے نفس کی حدت و طیش اور نفرت کا الزالہ ہو جاتا ہے۔
شیخ شہاب الدین سہروردی
MORE BYشیخ شہاب الدین سہروردی
’’حسن سلوک‘‘ سے انسان کی انتہائی عقل مندی، وسعتِ علم اور بردباری کا ثبوت ملتا ہے، کیوں کہ نفس کی یہ عادت ہے کہ جو اسے ناپسند ہو یا جو اس کی مرضی کے خلاف کام کرے، اس وقت اس میں غیظ و غضب کی آگ بھڑک اٹھتی ہے، لہٰذا حسن مدارات اور نرمی سے نفس کی حدت و طیش اور نفرت کا الزالہ ہو جاتا ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.