Font by Mehr Nastaliq Web

ایمان کی سچائی خدا کو بڑا سمجھنے میں ہے اور خدا کی بڑائی کے احساس سے خدا سے شرم پیدا ہوتی ہے، اس شرم سے باطن اور ظاہر کی تعظم پیدا ہوتی ہے، اس کے بعد سالک کا شاہد خدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کو مختلف صورتوں میں مشاہدہ کرتا ہے، جن کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں مثلا وہ خدا کے غنا کے کمال کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے دل سے ساری طمع جاتی رہتی ہے اور خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور سے اس کو انس پیدا نہیں ہوتا، وہ خدا کے فضل کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنے افعال اور احوال سے بے نیاز ہوتا ہے وہ خدا کے کرم کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کو خدا سے ایسا انبساط حاصل ہوتا ہے کہ کون و مکاں اسی کے حاجت مند ہو جاتے ہیں، خدا کے قہر کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس پر خدا کا خوف ایسا طاری رہتا ہے کہ اس کو کبھی آرام نہیں ملتا۔

شیخ شرف الدین یحییٰ منیری

ایمان کی سچائی خدا کو بڑا سمجھنے میں ہے اور خدا کی بڑائی کے احساس سے خدا سے شرم پیدا ہوتی ہے، اس شرم سے باطن اور ظاہر کی تعظم پیدا ہوتی ہے، اس کے بعد سالک کا شاہد خدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کو مختلف صورتوں میں مشاہدہ کرتا ہے، جن کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں مثلا وہ خدا کے غنا کے کمال کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے دل سے ساری طمع جاتی رہتی ہے اور خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور سے اس کو انس پیدا نہیں ہوتا، وہ خدا کے فضل کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنے افعال اور احوال سے بے نیاز ہوتا ہے وہ خدا کے کرم کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کو خدا سے ایسا انبساط حاصل ہوتا ہے کہ کون و مکاں اسی کے حاجت مند ہو جاتے ہیں، خدا کے قہر کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس پر خدا کا خوف ایسا طاری رہتا ہے کہ اس کو کبھی آرام نہیں ملتا۔

شیخ شرف الدین یحییٰ منیری

MORE BYشیخ شرف الدین یحییٰ منیری

    ایمان کی سچائی خدا کو بڑا سمجھنے میں ہے اور خدا کی بڑائی کے احساس سے خدا سے شرم پیدا ہوتی ہے، اس شرم سے باطن اور ظاہر کی تعظم پیدا ہوتی ہے، اس کے بعد سالک کا شاہد خدا ہو جاتا ہے اور وہ اس کو مختلف صورتوں میں مشاہدہ کرتا ہے، جن کے اثرات بھی مختلف ہوتے ہیں مثلا وہ خدا کے غنا کے کمال کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے دل سے ساری طمع جاتی رہتی ہے اور خدا کی قدرت کا مشاہدہ کرتا ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور سے اس کو انس پیدا نہیں ہوتا، وہ خدا کے فضل کا مشاہدہ کرتا ہے تو وہ اپنے افعال اور احوال سے بے نیاز ہوتا ہے وہ خدا کے کرم کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کو خدا سے ایسا انبساط حاصل ہوتا ہے کہ کون و مکاں اسی کے حاجت مند ہو جاتے ہیں، خدا کے قہر کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس پر خدا کا خوف ایسا طاری رہتا ہے کہ اس کو کبھی آرام نہیں ملتا۔

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے