خدا کے بندوں کا رقص نازک اور لطیف ہوتا ہے، وہ ایسا ہوتا ہے کہ مانو پانی پر کسی درخت کی پتی بہہ رہی ہو، وہ باہر سے دیکھنے پر تو تنکے برابر دکھائی دیتا ہے لیکن وہ اندر سے پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔
خدا کے بندوں کا رقص نازک اور لطیف ہوتا ہے، وہ ایسا ہوتا ہے کہ مانو پانی پر کسی درخت کی پتی بہہ رہی ہو، وہ باہر سے دیکھنے پر تو تنکے برابر دکھائی دیتا ہے لیکن وہ اندر سے پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔
شمس تبریزی
MORE BYشمس تبریزی
خدا کے بندوں کا رقص نازک اور لطیف ہوتا ہے، وہ ایسا ہوتا ہے کہ مانو پانی پر کسی درخت کی پتی بہہ رہی ہو، وہ باہر سے دیکھنے پر تو تنکے برابر دکھائی دیتا ہے لیکن وہ اندر سے پہاڑ جیسا ہوتا ہے۔
- کتاب : The Sayings and Teachings of the Great Mystics of Islam
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.