سجنی ساجن آ گئے گھونگٹ کے پٹ کھول
سجنی ساجن آ گئے گھونگٹ کے پٹ کھول
ساجن تو من میں بسے من کا منکارول
پلک جھپک میں رین کٹے رین کٹے کیا دیر
نندیا بیرن پریم کی کر نندیا پرچول
ساجن سیوا سکھ ملے سیوک سدا بہار
رنج ملے سکھ جانیو خوش ہو کھائیو کول
ساجن چرن میں چین ملے رہیو سیس نوا
وہ بولیں دم سادھیو کھلے نہ ڈھول نہ پول
ساجن کے من تب بسے جب ساجن کی ہو
رہیو نین نوائے کے میٹھی باتی بول
واصفؔ اپدیشک بھیئو گُر کی بات کہے
تمری جیسی لاکھ ہیں ساجن ہیں انمول
- کتاب : shab-e-raaz (Pg. 301)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.