پیت کی ریت نہ پوچھیے پیت ہے اپنی ریت
پیت کی ریت نہ پوچھیے پیت ہے اپنی ریت
میت کہے مر جائیے موت ملن کی ریت
پریم کرے پر ماتما، پریم کی پرلو موہ
پر لو سے مورکھ ڈرے جے کے پریم نہ ہو
واصفؔ گُر کے چرن سے گُر کی بات ملے
تو دھنوتی بالکا گُر سے نین ملے!
واصفؔ جل میں آگ ہے پربت دوڑا آئے
دھرتی گرے آکاش پر مورکھ سمجھ نہ پائے
آشا بھری عمر یا پگ پگ ڈولے ناؤ!
بے آشا کھیون ہار ہے چلے بچ بچاؤ
لو بھی منوا شہد میں مکھی بن کے بیٹھ
جان گئی ہے لوبھ میں منوا شہد کے ہیٹھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.