Font by Mehr Nastaliq Web

رازدار_حقیقت پہ لاکھوں سلام

عارف نقشبندی

رازدار_حقیقت پہ لاکھوں سلام

عارف نقشبندی

MORE BYعارف نقشبندی

    دلچسپ معلومات

    تضمین بر کلام احمد رضا خاں بریلوی

    رازدار حقیقت پہ لاکھوں سلام

    رہنمائے طریقت پہ لاکھوں سلام

    تاجدار شریعت پہ لاکھوں سلام

    مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

    شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

    فخر انساں کی عظمت پہ لاکھوں سلام

    ان کے ایثار و خدمت پہ لاکھوں سلام

    ان کی ہر اک مصیبت پہ لاکھوں سلام

    مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

    شمع بزم ہدایت پہ لاکھوں سلام

    اف قیامت کا منظر پناہ خدا

    ہوش بکھرے ہوئے سب کے محشر بپا

    شان رحمت کا کہنا ہی کیا مرحبا

    جس طرف اٹھ گئی دم میں دم آ گیا

    اس نگاہ عنایت پہ لاکھوں سلام

    کیا زبان محمد میں تاثیر تھی

    کلمۂ حق سے ساری فضا گونج اٹھی

    اینٹ پتھر میں پیدا ہوئی بندگی

    جس کے سجدے کو محراب کعبہ جھکے

    اس جبین سعادت پہ لاکھوں سلام

    مالک فرش و عرش علیٰ پر درود

    ان کے کردار کی ہر ادا پہ درود

    پاک بازیٔ نور خدا پر درود

    نیچی نظروں کی شرم و حیا پر درود

    اونچی بینی کی رفعت پہ لاکھوں سلام

    کیا جمال محمد ہے ثانی کہاں

    چہرۂ پاک قرآن کا ترجمہ

    خندۂ مصطفیٰ کھل پڑا گلستاں

    پتلی پتلی گل قدس کی پتیاں

    ان لبوں کی نزاکت پہ لاکھوں سلام

    جس کے آگے جھکے آسمان بریں

    جس کے ادنیٰ اشارے پہ روئے زمیں

    جس کو حق نے کہا رحمت العالمیں

    اس کو بار دو عالم کی پروا نہیں

    ایسے بازو کی قوت پہ لاکھوں سلام

    بھوکے پیاسوں کا غم کس قدر دل میں تھا

    آیا سائل تو منہ کا نوالہ دیا

    بادشاہو یہ شاہی تو دیکھو ذرا

    کل جہاں ملک اور جو کی روٹی غذا

    اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

    جس کی خاطر دعا کی سخی کر دیا

    دین و دنیا کے غم سے بری کر دیا

    چشم الطاف ڈالی ولی کر دیا

    ہاتھ جس سمت اٹھا غنی کر دیا

    موج بحر سخاوت پہ لاکھوں سلام

    بزم میلاد کی دھوم صل علیٰ

    ہے زمیں تا فلک نور کا سلسلہ

    بیٹھو عارفؔ ادب سے سنو یہ صدا

    مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضاؔ

    مصطفیٰ جان رحمت پہ لاکھوں سلام

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے