زمین و زماں جگمگانے لگے ہیں
زمین و زماں جگمگانے لگے ہیں
ستارے نئے جھلملانے لگے ہیں
کھلا گود میں آمنہ کے وہ گل ہے
کہ لعل و گہر منہ چھپانے لگے ہیں
چمن میں پڑے ہیں قدم جب سے ان کے
نئے گل گلستاں میں آنے لگے ہیں
ملی آج ہم کو وہ رحمت خدا کی
جسے ڈھونڈنے میں زمانے لگے ہیں
ہوا ہے ظہورِ نبی آج دیکھو
فرشتے بھی نغمے سنانے لگے ہیں
ہے حسرت یہ مہدیؔ کی دیکھے مدینہ
تصور بھی نقشے بنانے لگے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.