ہے دل کی حسرت ہر ایک لمحے میں مدحِ خیرالا نام لکھوں
ہے دل کی حسرت ہر ایک لمحے میں مدحِ خیرالا نام لکھوں
ادب سے چوموں قلم کو پہلے درود لکھوں سلام لکھوں
اسی میں گزرے حیات میری یہی سہارا ہو زندگی کا
کتابِ ہستی کے ہر ورق پر میں پیارے آقا کا نام لکھوں
ثنا نگاری بھی اوج پر ہو بیاں کروں آپ کی میں سیرت
کہ جس میں حسان کی مہک ہو کوئی تو ایسا کلام لکھوں
کرم ہو میرے کریم کا توعطا ہو رزقِ سخن کی دولت
قصیدہ ان کا ولا کی خوشبو میں گوندھ کر صبح و شام لکھوں
اشارہ کر دیں قمر کو توڑیں وہ ڈوبے سورج کو چاہیں موڑیں
وہ پتھروں کو پڑھائیں کلمہ یہ معجزے بھی تمام لکھوں
بڑھائی خالق نے شان ان کی وہ شافعِ امتاں ہوئے ہیں
نبی ہیں سب ان کی اقتدا میں انہیں میں سب کا امام لکھوں
بلا لیں گر نازؔ کو مدینے تو ایک ہی التجا ہے میری
وہیں پہ بن جائے میرا مدفن وہیں ہو میرا قیام لکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.