Font by Mehr Nastaliq Web

والی_کربلا کو ہمارا سلام ہو

سید حسن احمد

والی_کربلا کو ہمارا سلام ہو

سید حسن احمد

MORE BYسید حسن احمد

    والی کربلا کو ہمارا سلام ہو

    آئینہ خدا کو ہمارا سلام ہو

    دریا پہ کر کے قبضہ جو لب کو کرے نہ تر

    اس غازیٔ با وفا کو ہمارا سلام ہو

    گل رو جناب حضرت قاسم حسن کی جاں

    نوشۂ کربلا کو ہمارا سلام ہو

    جان حسین شکل شبیہ رسول حق

    ہم نام مرتضیٰ کو ہمارا سلام ہو

    کربل میں تیر کھا کے جو ہنستا رہا اسی

    اصغر سے دل ربا کو ہمارا سلام ہو

    کہنے لگی قضا یہ ادب سے حسین کو

    امت کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو

    ظالم نے جس کی عمر کا رکھا نہیں خیال

    اس ننھی مہ لقا کو ہمارا سلام ہو

    خطبے سے جس نے پلٹا تھا تخت لعیں اسی

    ثانی سیدہ کو ہمارا سلام ہو

    سارے سفر جو نظریں اٹھاتے نہیں انہی

    ناموس مصطفیٰ کو ہمارا سلام ہو

    کشتی دین جس نے بچائی تھی ہاں اسی

    امت کے نا خدا کو ہمارا سلام ہو

    نوک سناں پہ جس نے سنایا کلام حق

    اس پیر اؤلیا کو ہمارا سلام ہو

    خالق کرے قبول حسنؔ نے لکھا ہے جو

    والی کربلا کو ہمارا سلام ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے