والی_کربلا کو ہمارا سلام ہو
والی کربلا کو ہمارا سلام ہو
آئینہ خدا کو ہمارا سلام ہو
دریا پہ کر کے قبضہ جو لب کو کرے نہ تر
اس غازیٔ با وفا کو ہمارا سلام ہو
گل رو جناب حضرت قاسم حسن کی جاں
نوشۂ کربلا کو ہمارا سلام ہو
جان حسین شکل شبیہ رسول حق
ہم نام مرتضیٰ کو ہمارا سلام ہو
کربل میں تیر کھا کے جو ہنستا رہا اسی
اصغر سے دل ربا کو ہمارا سلام ہو
کہنے لگی قضا یہ ادب سے حسین کو
امت کے پیشوا کو ہمارا سلام ہو
ظالم نے جس کی عمر کا رکھا نہیں خیال
اس ننھی مہ لقا کو ہمارا سلام ہو
خطبے سے جس نے پلٹا تھا تخت لعیں اسی
ثانی سیدہ کو ہمارا سلام ہو
سارے سفر جو نظریں اٹھاتے نہیں انہی
ناموس مصطفیٰ کو ہمارا سلام ہو
کشتی دین جس نے بچائی تھی ہاں اسی
امت کے نا خدا کو ہمارا سلام ہو
نوک سناں پہ جس نے سنایا کلام حق
اس پیر اؤلیا کو ہمارا سلام ہو
خالق کرے قبول حسنؔ نے لکھا ہے جو
والی کربلا کو ہمارا سلام ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.