تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "گویا"
انتہائی متعلقہ نتائج "گویا"
صوفی اقوال
کسی نے پوچھا کہ "صبر کرنے والوں کے لیے سب سے مشکل صبر کون سا ہے؟" انہوں نے فرمایا کہ "خدا کی طرف صبر، خدا کے لیے صبر، خدا کے ساتھ صبر... اور آخرکار، خدا سے دوری پر صبر؟" یہ کہتے ہوئے وہ چیخ پڑے اور ان کی روح گویا فنا کے قریب پہنچ گئی۔
یہ کہتے ہوئے وہ چیخ پڑے اور ان کی روح گویا فنا کے قریب پہنچ گئی۔
ابوبکر شبلی
لغت سے متعلق نتائج
کتاب کے متعلقہ نتیجہ "گویا"
مزید نتائج "گویا"
صوفی اقوال
اپنے بھائیوں کی پرورش اپنی خاندان سے بڑھ کر کرو اور ان کے عیبوں کو نظرانداز کرو، اپنے مال کو اتنی محبت سے ان کے لیے پیش کرو گویا وہ تمہارا نہیں بلکہ ان کا حق ہو۔
ابو عبدالرحمٰن السلمی
بیت
ان کی زبان گویا خدا کی زبان ہے
ان کی زبان گویا خدا کی زبان ہےقطرہ کا حکم حکم ہے بحرِ ذخیر کا
نا معلوم
بیت
زبانِ حال سے گویا ہلال ہے کہ نہیں
زبانِ حال سے گویا ہلال ہے کہ نہیںکہ ہر زوال کو آخر کمال ہے کہ نہیں
بیتاب کراپی
صوفی اقوال
جس نے باطل کی تائید کی گویا اس نے حق پر ظلم کیا۔
جس نے باطل کی تائید کی گویا اس نے حق پر ظلم کیا۔
حضرت علی
فارسی صوفی شاعری
خداوندا بکن گویا بمدحِ خود زبانم راباستیلائے حسنِ خود نما شرح و بیانم را
خواجہ مستان شاہ
صوفی اقوال
لوگ چار باتوں میں خدا کی موافقت کرتے ہیں مگر عمل میں مخالفت کرتے ہیں یعنی اول کہتے ہیں کہ ہمارا رازق خدا ہے لیکن دل اس پر نہیں رکھتے، دوم کہتے ہیں کہ ہم اس کے بندے ہیں لیکن اس کی اطاعت نہیں کرتے، سوم کہتے ہیں کہ عاقبت اس دنیا سے بہتر اور ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے لیکن مال صرف دنیا پر خرچ کرتے ہیں آخرت کے لیے نہیں دیتے اور چہارم کہتے ہیں کہ مرنا لازمی ہے لیکن عمل ایسے کرتے ہیں کہ گویا کبھی مرنا ہی نہیں۔
لوگ چار باتوں میں خدا کی موافقت کرتے ہیں مگر عمل میں مخالفت کرتے ہیں یعنی
شفیق بلخی
صوفی اقوال
جس نے اپنی ماں کا پیر چوما گویا اس نے جنت کی چوکھٹ کو بوسا دیا۔
جس نے اپنی ماں کا پیر چوما گویا اس نے جنت کی چوکھٹ کو بوسا دیا۔
نا معلوم
صوفی اقوال
جو توکل پر طعن کرتا ہے گویا کہ ایمان پر طعن کرتا ہے۔
جو توکل پر طعن کرتا ہے گویا کہ ایمان پر طعن کرتا ہے۔
سہل بن عبداللہ تستری
صوفی اقوال
جس کسی نے ظالم کی مدد کی اس نے گویا غضبِ الٰہی کو خود اپنے سر لے لیا۔
جس کسی نے ظالم کی مدد کی اس نے گویا غضبِ الٰہی کو خود اپنے سر لے لیا۔
نا معلوم
رباعی
میں ہوں وہ طائر گویا کہ بعد از ذبح مقتل میںجدا سر تن سے ہو کر بھی میرا ہر بال وپر بولا
