تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "dildaar"
انتہائی متعلقہ نتائج "dildaar"
صوفی کہاوت
ھر کہ دست ازجان بشوید ھرچہ دل دارد بگوید(سعدی)
ھر کہ دست ازجان بشوید ھرچہ دل دارد بگوید(سعدی)
زبانی روایتیں
نعت و منقبت
آنگن میرے آیا دل دار بسم اللہ بسم اللہکیتا میں سر صدق یک بار نذر اللہ نذر اللہ
قادر بخش بیدلؔ
لغت سے متعلق نتائج
مزید نتائج "dildaar"
پد
جس میں ہوئے سکھی بھلا سو کر لے اے مدھماتا
وقت پڑے پر بھائی بیٹا کام کوئی نہیں آتاہے گا اے دلدارؔ انہوں سے جیتے جی کا ناطہ
کوی دلدار
پد
اب احوال جہاں کا اے دلدارؔ عجب دیکھے ہیں ہم
اب احوال جہاں کا اے دل دار عجب دیکھے ہیں ہمصوم صلوٰۃ سے نفرت ہے اور عمل بدی پر ہیں محکم
کوی دلدار
پد
وہ میرا محبوب پیارا کس کس رنگ میں آیا
موسیٰ ہو فرعون ڈبایا عیسیٰ آپ کہایاہم نے اے دلدارؔ پیارے ہر میں ہر کو پایا
کوی دلدار
پد
کام جہاں کا اے دلدارؔ یہ جانو سارا پھکڑ ہے
کام جہاں کا اے دل دار یہ جانو سارا پھکڑ ہےآسمان جو کھڑا ہے سر پر بہت پرانا مکڑ ہے
کوی دلدار
پد
آج بہار چمن میں ماکھن تیری ہے گی جیسی
کہنا تم دلدارؔ کا مانو نہیں خزا جو ویسیپھر نہ ملیں گی فرسیت دم کی رہو گی روتی ویسی
کوی دلدار
پد
پیو ملنے کے کھوج میں ہم نے ساری عمر گنوایا
گہ پکڑا جب گرو کا دامن تب ان بھید بتایاگھر بیٹھے دلدارؔ ہم اپنے پیو پیارا پایا
کوی دلدار
پد
کس کی ہے امید تمہیں یاں کون تمہارا اپنا ہے
بہتر تیری خاطر اے دلدارؔ خدا کا جپنا ہےباقی جو آگے ہے اس کو رونا ہے کلپنا ہے
کوی دلدار
پد
جو آئے سو گیے یہاں سے پھر پھر دیکھا سارا
رہا نہیں ضحاک فریدوں نہیں سکندر دارارہے گا وہ دلدارؔ بنایا جس نے سب سنسارا
کوی دلدار
پد
یہ جو صورت جدی جدی ہے اک مائی کے جائے ہیں
کوئی مسلماں کوئی یہودی کوئی ہنود کہائے ہےوحدت سے کثرت میں آ دلدارؔ یہ سب بھرمائے ہیں
کوی دلدار
پد
صوم صلوٰۃ ریا سے کر کر آپ کو اعلیٰ کیا
شیخ بنا کر لے لے سب سے تن کو پالا کیازر خاطر دلدارؔ انہیں نے منہ کو کالا کیا
کوی دلدار
پد
جس کو جو کچھ چاہا کرنے اس کا وہ سامان کیا
موسیٰ کو پیغمبر کر فرعون کو بے ایمان کیادلدارؔ کسی کو قہر سے مارا کس ہی پر احسان کیا
کوی دلدار
پد
کوئی آیا کوئی گیا کسی کے اب جانے کی باری ہے
طول عمل کا پھر کیا پھر کیا محل کی یہ تیاری ہےہوس تمہیں دلدارؔ عبث یہ شاہی اور سرداری ہے
کوی دلدار
پد
اس دنیا پر دل مت باندھو اس کا کام نیارا ہے
جو آئے سو گزر گیے سب یہ ندی کا دھارا ہےاے دلدارؔ وہی ہے گیانی جس نے کیا کنارہ ہے
