فضلِ حق لطفِ خدا رب کی رضا سہرے میں ہے
فضلِ حق لطفِ خدا رب کی رضا سہرے میں ہے
سنتِ خیرالبشر کا سلسلہ سہرے میں ہے
مصطفیٰ و مرتضیٰ و مجتبیٰ خیرالنسا
اور حسینِ پاک کی دیکھو عطا سہرے میں ہے
عابد و باقر محمد صادقِ آلِ عبا
اک فدائے کاظمِ موسیٰ رضا سہرے میں ہے
حضرتِ جواد اور مولیٰ نقی و عسکری
قائمِ آلِ محمد کی دعا سہرے میں ہے
قاسمِ ماہِ حسن قمرِ بنی ہاشم ہیں نور
اس کی طلعت جاودانی رونما سہرے میں ہے
حبِ اہلِ بیت سے سرشار ہے نوشہ کا دل
عاشقِ آلِ علیِ مرتضیٰ سہرے میں ہے
مشکلیں دم توڑتی ہیں سامنے نوشہ ترے
کیوں نہ ہو جب سایۂ مشکل کشا سہرے میں ہے
قادری ہے رنگ میں تو بو میں چشتی ڈھنگ ہے
یعنی صدقہ شاہِ خادم کا چھپا سہرے میں ہے
سر پہ یہ سہرا نہیں، وارثِ علی کا فیض ہے
اپنے مرشد کا مریدِ باوفا سہرے میں ہے
یادگارِ وارثی ہیں شامیانہ نور کا
اور اسی کی روشنی جلوہ نما سہرے میں ہے
بے نظیرِ وارثی تو چودویں کا چاند ہیں
دیکھیے اس چاند کی روشن فضا سہرے میں ہے
بے مثیل و بے مثال و با کمال و با وقار
جعفرِ میسور کا کل مرتبہ سہرے میں ہے
کیوں نہ ہو لعل و گہر جیسی چمک سہرے میں جی
برکتِ صلِ علیٰ بے انتہا سہرے میں ہے
گر نسیمِ خان بھی جنت سے دیتے ہیں دعا
بزم میں شبنم کی دیکھو مامتا سہرے میں ہے
بھائی سب مسرور ہیں جی کیا کلیمِ و کیا فہیم
دل غنی کا شاد ہے جانِ وفا سہرے میں ہے
بعد مدت آج بر آئی مرادِ منتشا
آج سج دھج کر تمنائے ندا سہرے میں ہے
اس لیے چمکیں ہیں آج آنکھیں نسیمِ خان کی
کیوں کہ ان کی آنکھ کا تارا چھپا سہرے میں ہے
ہیں شفیع و صائمہ دونوں کے دونوں وارثی
دو وارثیوں کے ملن کا سلسلہ سہرے میں ہے
عابر و طالب کے جیجا ہیں چھپے پھولوں کے بیچ
اور دامادِ صغیرِ مصطفیٰ سہرے میں ہے
آصف و فیضان و مظہر، ساجد و احمد رضا
خوش ہیں امجد کہ وفا کا آئینہ سہرے میں ہے
کرتے خود سہرا رقم ہوتے جو گر میرِ انیس
کیوں کہ ان کی قدر کا اک آشنا سہرے میں ہے
ادھ کھلے غنچے سبھی سہرے پہ آ کر کھل گئے
معجزہ سہرے کا ہے، معجز نما سہرے میں ہے
فیضِ بیدم کا اثر سہرے پہ ایسا چھا گیا
کہہ رہی ہے ہر کلی اک گل رُخا سہرے میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.