حضرت لطیف الدین دانشمند اور ان کا خانوادہ
بہار کی سرزمین اپنی تاریخی، علمی اور روحانی روایت کے اعتبار سے ہمیشہ زرخیز رہی ہے، مختلف ادوار میں متعدد سلاسل کے بزرگوں نے اس خطے کا رخ کیا اور یہاں اپنے علمی و روحانی آثار چھوڑے، جس طرح گیا کو ہندو اور بدھ مذاہب کے لیے ایک قدیم مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے، اسی طرح نالندہ کے قریب بہار شریف اور اس کے نواحی علاقے صوفیا اور علما کی نسبت سے معروف رہے ہیں، اسی سلسلے میں راقم السطور محمد ریان ابوالعلائی کو مدت سے اپنے اجداد کی ایک معروف شاخ یعنی حضرت لطیف الدین دانشمند اور موڑہ تالاب کے حوالے سے لکھنے کی خواہش تھی، تاکہ نئی نسل بھی موڑہ کی تاریخ اور اس سے وابستہ بزرگوں سے آشنا ہوسکے۔
موڑہ تالاب نالندہ کے سوہ سرائے میں واقع ایک تاریخی بستی ہے جو بہار شریف سے تقریباً ۹ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، حضرت لطیف الدین دانشمند کے خاندان کے بارے میں روایت ہے کہ یہ پانچویں صدی ہجری میں زنجان میں سکونت پذیر ہوا پھر مشہد، ملتان اور دہلی پہنچا، حضرت لطیف الدین دانشمند کے نسب کے بارے میں مصادر میں مختلف روایات ملتی ہیں، ’’کنزالانساب‘‘ کے مطابق آپ کا نسب حضرت ابو دردا انصاری سے جاملتا ہے، جب کہ ’’مولدِ فاطمی‘‘ اور ’’آثارِ موڑہ تالاب‘‘ کے مطابق آپ کا نسب حضرت زین العابدین سے جاملتا ہے، ’’آثارِ موڑہ تالاب‘‘ میں آپ کا نسب پدری یوں ہے کہ لطیف الدین بن کمال الدین بن ابراہیم بن رضی الدین بن حسن زنجانی۔
حضرت حسن زنجانی ہلاکو خان کے عہد میں اپنا وطن چھوڑ کر مشہد تشریف لائے، اس سلسلے میں حضرت شاہ اکبر داناپوری رقمطراز ہیں کہ
’’ایں حضرت در عہد بادشاہ ہلاکو از وطن مالوف پدر خود و در افتادہ در مشہد مقدس بخانۂ خال خود آمدند و در آغوش شفقت ایشاں آرام گرفتند بعد ازاں مع خانماں مقصد ہندوستان فرمودند و حضرت لطیف الدین دانشمند بذات خود در موضع موڑہ آباد شدن (سفینہ)
حضرت اکبر نے ’’آل و اصحاب‘‘ (ص۴۴) اور ’’مولدِ فاطمی‘‘ (ص۴۶) میں بھی تقریباً یہی مضمون بیان کیا ہے۔
اس سلسلے میں شاہ غفورالحق موڑوی رقمطراز ہیں کہ
’’ایشاں در اصل سیدزادہ بودند، وقت ہلاکو مقام جد و پدر خود گزاشت در خانۂ ما در خود اقامت اختیار کردند۔۔۔ ایشاں شیخ زادۂ صدیقی بود، مع ایشاں پرورش یافتند و تعلیم شدند و مامون ایشاں مرد صاحبِ کمال بودند۔۔۔ صاحب شیخ دادند و فرمودند کہ شما و فرزندان شما از فرزندان من ہستند از امروز شیخ گفتہ یاشتند و ازاں وقت از زباں پیر شیخ صادر شد و بمردماں ایشاں را گفت و فرزندان ایشاں پیر شیخ گویایندند و ازیں بسبب شیخ می گویند از بزرگانِ ایں قصہ شنیدہ ام‘‘ (آثارِ موڑہ تالاب)
یہاں حضرت حسن زنجانی کو سادات میں سے قرار دیا گیا ہے، روایت کے مطابق ہلاکو خان کے دور میں انہوں نے اپنے اجداد کا مقام چھوڑ کر اپنے ماموں کے گھر میں اقامت اختیار کی، ان کے ماموں صدیقی النسل تھے، حسن نے انہی کے زیرِ سایہ پرورش پائی اور تعلیم حاصل کی، بعد ازاں ان کے ماموں نے انہیں شیخ کا خطاب عطا کیا اور فرمایا کہ ’’تم اور تمہاری اولاد اب سے میری اولاد کہی جائے گی، تمہیں آج سے شیخ کہا جائے گا‘‘ چنانچہ اس روایت کے مطابق اسی وقت سے آپ شیخ کے خطاب سے یاد کیے گئے اور آپ کی اولاد بھی شیخ کہلانے لگی، تاہم، حضرت شاہ عطا حسین فانیؔ نے ’’کنزالانساب‘‘ میں آپ کو حضرت ابو دردا انصاری کی اولاد میں شمار کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ
الغرض آنجناب در نسب انصاری شیوخ انداز اولاد حضرت ابو دردا انصاری کہ اصحابِ کبار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بودند (کنزالانساب، ص ۱۷۰)
اس طرح حسن زنجانی کے نسب کے بارے میں دو مختلف روایات سامنے آتی ہیں، ایک روایت انہیں سادات سے منسوب کرتی ہے، جبکہ ’’کنزالانساب‘‘ کی روایت انہیں انصاری النسل قرار دیتی ہے، اسی ضمن میں ہلاکو خان اور عباسی حکومت کے عہد سے متعلق ایک روایت یہ بھی ملتی ہے کہ جب سادات کا قتل شروع ہوا اور ان کے جسم کی خوشبو کو ان کی شناخت کی علامت قرار دیا گیا تو خدا نے ان حضرات کے اجسادِ مطہرہ سے وہ خوشبو جدا کر دی۔، شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے بھی اس واقعے کو ’’مدارج النبوۃ‘‘ میں درج کیا ہے۔
حضرت اکبر اسی سلسلے میں مزید رقمطراز ہیں کہ
رفتہ رفتہ ان کی اولاد ملتان پہنچی تھی، وہاں سے دہلی پہنچی اور دہلی سے آپ کے پرپوتے حضرت بندگی میاں یعنی بندگی سید لطیف الدین دانشمند حضرت مخدوم الملک شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے عہد میں موڑہ تالاب میں آکر بسے (آل و اصحاب، ص۴۴)
حضرت لطیف الدین اس زمانے میں بہار تشریف لائے جب یہاں حضرت مخدوم جہاں کی شہرت عروج پر تھی، آپ ان کی خدمت میں رہ کر فیضیاب ہوئے اور علمِ ظاہری و باطنی میں کمال حاصل کیا، حضرت مخدوم کے ملفوظات ’’خوانِ پُرنعمت‘‘ میں بھی آپ کے سوال و جواب ’’مولانا لطیف الدین‘‘ کے نام سے ملتے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ حضرت مخدوم کے مستفیدین میں نمایاں مقام رکھتے تھے، ’’خوانِ پُرنعمت‘‘ تقریباً ۷۴۹ھ میں مرتب کی گئی، جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت بندگی ۷۴۹ھ سے قبل بہار شریف تشریف لاچکے تھے۔
’’خوانِ پُرنعمت‘‘ کی پینتالیسویں مجلس میں مولانا لطیف الدین اور حضرت مخدوم کے درمیان تصوف کے ایک اہم مسئلے پر گفتگو ملتی ہے، مولانا لطیف الدین نے ’’الشیخ یحییٰ و یمیت‘‘ کے مفہوم اور بعض درویشوں سے منقول احیا و اماتت کی کرامات کے بارے میں سوال کیا، حضرت مخدوم نے اس کی تاویل کرتے ہوئے احیا کو صفاتِ حمیدہ کے پیدا ہونے اور اماتت کو صفاتِ ذمیمہ کے زائل ہونے سے تعبیر کیا پھر فرمایا کہ سالک کا صفاتِ ذمیمہ سے نکلنا اور صفاتِ حمیدہ کا حاصل کرنا گویا دو عیدیں ہیں، یہ گفتگو حضرت لطیف الدین کی علمی جستجو اور حضرت مخدوم کی صحبت سے ان کے استفادے کی ایک اہم مثال ہے۔
صوفیہ در دمے دو عید کنند
عنکبوتاں مگس قدید کنند
روایات کے مطابق حضرت خضر اور حضرت مخدوم کے حکم پر حضرت لطیف الدین وہاں سے کچھ فاصلے پر اس مقام پر پہنچے جہاں آج موڑہ تالاب واقع ہے، روایت ہے کہ آپ نے وہاں اپنا عصا زمین میں نصب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایں مرا بعد ازاں اسی مقام پر تالاب، مسجد اور خانقاہ تعمیر کی گئی، اس سلسلے میں شاہ غفورالحق موڑوی کی روایت بھی قابلِ ذکر ہے، وہ لکھتے ہیں کہ
ایشاں از ولایت خود در زمانہ حضرت مخدوم شرف الدین احمد یحیٰ منیری قدس سرہ در ملک آمدہ بودند و از اجازت حضرت خواجہ خضر داد اجازت حضرت مخدوم شرف الدین در موضع موڑہ اقامت گرفتہ اند و آباد و شدہ اند کہ حضرت مخدوم از زبان مبارک خود فرمودہ اند باش تا قیامت دریں جا و فرزندان تو ایں موضع شما و فرزندان شما را خدا و رسول خدا داد حضرت خواجہ خضر داد و من دادم و بخشیدم مبارک است آباد شوند و بجا مانند از ہماں روز بندگی حضرت لطیف الدین آمدہ دریں موضع عصا دست خود در زمین زدند و گفتند کہ ما را و فرزندان ما را ایں موضع خدا داد و رسول خدا داد و حضرت خواجہ خضر داد و حضرت مخدوم شاہ شرف الدین احمد صاحبِ ولایت دادند از امروز چوں از زبان مبارک جائے او نام زد ایں موضع مشہور بہ موڑہ شد، ورنہ نام ایں دیر دیگر بود و قوم کہ ہر آباد بودند درسائی و ایں قصہ از زبان بزرگان خود شنیدم و او شان از پدر جد خود و از او شان از والد خود و پدر خود شنیدہ بودند (آثارِ موڑہ تالاب)
حضرت فانیؔ رقمطراز ہیں کہ
باید دانست بندگی مخدوم دانشمند کہ اقامت کہ اقات خود ساختند بموضع منور علاقۂ بہار می گویند جریب خود در آنجا نصب کردند و گفتند ایں مورا چنانچہ بداں نام معروف شد (کنزالانساب، ص۱۷۰)
اسی سلسلے میں حضرت اکبر رقمطراز ہیں کہ
اس مقام پر بہت بڑی خانقاہ اور مسجد اور تالاب شاہی زمانہ کی تعمیر سے تھی (نذر محبوب، ص۴۸)
ان روایات سے موڑہ تالاب کی خانقاہ اور یہاں کے مشائخ کے سلسلے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے، حضرت لطیف الدین دانشمند سے حضرت بہاؤالحق دانشمند تک یہاں سلسلۂ رشد و ہدایت قائم رہا، جس کے بعد یہ سلسلہ داناپور منتقل ہوگیا اور اب خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور سے آباد ہے۔
اس خاندان کے افراد کے ناموں کے ساتھ ’’بندگی‘‘ اور ’’دانشمند‘‘ کے خطابات بھی خاندانی طور پر مستعمل رہے ہیں، حضرت شاہ ظفر سجاد رقمطراز ہیں کہ
آپ کے اسم گرامی کے ساتھ بندگی اور دانشمند لکھا جاتا ہے، یہ اس خاندان کا خاندانی القاب ہے، آپ کے بعد آپ کے سجادہ نشینوں کے نام کے ساتھ اس خطاب کا اضافہ ہوتا رہا اور القاب اس قدر مشہور ہوئے کہ اصل اسم مبارک غیر معروف ہوگیا اور لوگ آپ کے بندگی اور دانشمند کے نام سے یاد کرنے لگے (آثارِ موڑہ تالاب)
حضرت لطیف الدین دانشمند کے وصال اور جانشینی کے حوالے سے حضرت شاہ ظفر سجاد رقمطراز ہیں کہ
سیدالکاملین حضرت مخدوم لطیف الدین بندگی دانشمند کا وصال 16؍ ذی الحجہ کو ہوا، آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ الاسلام بندگی سید صدرالدین دانشمند فقیہ زنجانی مسند آرائے رشد و ہدایت ہوئے، اسی طرح نسلاً بعد نسلٍ آپ کی اولاد میں سجادگی ہوتی رہی، یہاں تک کہ آپ کی اولاد امجاد سے حضرت بندگی سید سیف اللہ دانشمند قدس اللہ سرہ اپنے آبائی سجادہ نشیں ہوئے (آثارِ موڑہ تالاب)
حضرت بندگی صاحبِ کرامت بزرگ تھے، موڑہ کے مقامی افراد انہیں ’’بنیے پیر‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں، آپ کا مزار مسجد سے بالکل متصل ایک احاطے میں واقع ہے، جہاں ۱۶ ذی الحجہ کو قل ہوتا ہے، حضرت بندگی کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت صدرالدین دانشمند جانشین ہوئے، ان کے بعد حضرت عرب دانشمند پھر حضرت فریدالدین دانشمند، ان کے بعد حضرت طیب دانشمند پھر حضرت ناصرالحق دانشمند، ان کے بعد حضرت شیخ بڈھ طبیب دانشمند پھر حضرت عبداللہ دانشمند، ان کے بعد حضرت عبدالصمد دانشمند پھر حضرت عبدالجلیل دانشمند، ان کے بعد حضرت غلام محمد دانشمند پھر حضرت سیف اللہ دانشمند، ان کے بعد حضرت طیب اللہ دانشمند پھر حضرت بہاؤالحق دانشمند، ان کے بعد حضرت قاسم دانشمند پھر حضرت محمد سجاد دانشمند اور ان کے بعد حضرت شاہ اکبر دانشمند داناپوری ہوئے، بعد ازاں یہ جانشینی خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور سے جاری رہی۔
موڑہ تالاب کا خاندانی سلسلہ حضرت شرف الدین بو علی قلندر سے بھی منسوب کیا جاتا ہے، یہاں کے بزرگوں کے سفائن میں منقول شجروں میں یہ سلسلہ یوں بیان ہوا ہے کہ
لطیف الدین وھومن شرف الدین بو علی قلندر وھومن عاشق خدا وھومن امام الدین ابدال وھومن بدرالدین غزنوی وھومن قطب الدین بختیار کاکی وھومن خواجہ معین الدین حسن چشتی و الیٰ آخرہ۔
خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کے سجادگان کے سفائن میں بھی حضرت بندگی کو حضرت قلندر کا مرید و خلیفہ بتایا گیا ہے، اس روایت کی بنا پر یہ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ پانی پت سے اجازت و خلافت حاصل کرنے کے بعد حضرت بندگی بہار تشریف لائے ہوں، حضرت قلندر کا انتقال ۷۲۴ھ اور حضرت مخدوم جہاں کا ۷۸۲ھ میں ہوا، جب کہ ’’خوانِ پُرنعمت‘‘ کی تاریخِ تالیف ۷۴۹ھ تا ۷۵۱ھ بیان کی جاتی ہے، اس زمانی ترتیب کے پیشِ نظر یہ احتمال بھی بیان کیا جاسکتا ہے کہ حضرت بندگی پانی پت سے شرفِ نیاز حاصل کرنے کے بعد بہار تشریف لائے ہوں۔
حضرت بندگی کے بعد اس خاندان میں شیخ طیب دانشمند کو شیخ احمد عیسیٰ تاج سے بھی اجازت و خلافت حاصل ہوئی تھی، اس طرح چشتیہ طریقے سے وابستہ یہ دونوں سلسلے اس خاندان میں اب تک جاری ہیں۔
آج موڑہ تالاب میں اس خاندان کے صرف چند مزارات باقی رہ گئے ہیں، مرکزی احاطے کے اندر پہلے حضرت لطیف الدین پھر آپ کے صاحبزادے حضرت صدرالدین دانشمند اور اس کے بعد حضرت عرب دانشمند کے مزارات ہیں، جبکہ بقیہ تین مزارات اسی خاندان کی خواتین کے ہیں، اسی احاطے سے دائیں جانب تقریباً دس قدم کے فاصلے پر ایک چبوترے پر حضرت سیف اللہ، حضرت طیب اللہ اور حضرت بہاؤالحق کے مزارات واقع ہیں، اسی مقام پر مدار بخش کے صاحبزادگان ڈاکٹر نورالحسن اور ڈاکٹر عزیزالحسن پھر نورالحسن کے نواسے ڈاکٹر انوارالحق اور ان کی اہلیہ وغیرہ کی قبریں بھی موجود ہیں، حضرت اکبر رقمطراز ہیں کہ
’’جناب حضرت سید شاہ طیب اللہ نقاب پوش اور جناب حضرت سید شاہ سیف اللہ نواسہ حضرت مخدوم شاہ دولت منیری اور حضرت مخدوم بندگی سید لطیف الدین دانشمند قدس اسرارہم کے مزارات یہیں ہیں‘‘ (نذرِ محبوب، ص۴۹)
شیخ بڈھ طبیب دانشمند کا مزار اس احاطے سے باہر بستی کے اندرونی حصے میں لبِ سڑک واقع ہے، اس کے علاوہ مرکزی احاطے کے اندر تقریباً سات آٹھ مزارات اور بھی موجود ہیں۔
موڑہ تالاب جسے حضرت بندگی نے آباد کیا، رشد و ہدایت کے لیے خانقاہ قائم کی، مساجد تعمیر کروائیں، تالاب کھدوایا اور علم و عمل کی تعلیم کے لیے مدارس قائم کیے، رفتہ رفتہ اپنی عظمت و شہرت کے اعتبار سے ایک نمایاں مقام حاصل کرتا گیا، یہاں علم و معرفت کے مراکز قائم ہوئے، مشائخ کی کثرت رہی اور دور دور سے طالبانِ حق فیض حاصل کرنے کے لیے آتے رہے، شیر شاہ سوری اور سلیم شاہ سوری جیسے سلاطین بھی اس خانقاہ کے بزرگوں سے عقیدت رکھتے تھے، حضرت شاہ محمد قاسم ابوالعلائی فرماتے تھے کہ
ایک زمانے میں یہ موڑہ تالاب ایسا آباد تھا کہ اس میں کئی سو مشائخ پالکی نشیں تھے (آل و اصحاب، ص۴۴)
حضرت شاہ ظفر سجاد بھی اس بستی کی سابقہ عظمت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
’’تاریخی اعتبار سے اس بستی کو اہمیت ہے کیوں کہ صدیوں تک یہ اؤلیااللہ کا محور و مسکن رہی، مریدین و معتقدین کا حلقہ بھی بہت وسیع تھا ہزاروں طالبان حق آتے تھے اور فیضیاب ہوکر جاتے تھے‘‘ (آثارِ موڑہ تالاب)
کتب و رسائل کی روایات کے مطابق تقریباً پانچ سو برس تک یہ بستی علم و معرفت کا خزینہ و گنجینہ رہی لیکن انیسویں صدی کے آغاز کے بعد اس کے زوال کے آثار نمایاں ہونے لگے، تقریباً ۱۸۰۰ء کے بعد یہ مقام رفتہ رفتہ خاموشی اور گمنامی کی طرف بڑھنے لگا اور تقریباً ۱۸۳۰ء کے بعد اس کی ویرانی میں مزید اضافہ ہوا، بستی میں موجود چند خاندانوں کے افراد بھی روزگار کی تلاش میں یہاں سے نکل کر اکثر شہروں کی طرف رہنے لگے جس کے نتیجے میں آبادی مسلسل کم ہوتی چلی گئی، اس مختصر سی آبادی کے عروج و زوال اور اس کی ویرانی میں ہم بڑی حد تک پوری دنیا میں رونما ہونے والی تاریخی تبدیلیوں کا ایک خاکہ دیکھ سکتے ہیں جو مقام صدیوں تک مشائخ، علما اور طالبانِ حق کا مرکز رہا تھا، وہاں رفتہ رفتہ چند گھرانے ہی باقی رہ گئے، موڑہ تالاب پر دوسرے مذاہب کا قبضہ ہے، حضرت شاہ ظفر سجاد کی تحریر سے بھی اس سابقہ عظمت کا اندازہ ہوتا ہے، جب کہ بعد کے حالات اس کے زوال کی تصویر پیش کرتے ہیں۔
ہر اک خشتِ عمارت کی ہے اک تاریخ
نگاہِ غور سے پر یہ کتاب دیکھے کون
خانقاہ کی عمارت بھی رفتہ رفتہ منہدم ہوگئی، یہاں تک کہ آج خانقاہ کی نشاندہی تو درکنار، یہ بتانا بھی دشوار ہے کہ وہ کس مقام پر واقع تھی، مزارات کے سوا بیشتر عمارتیں منہدم ہوکر فرشِ خاک کے برابر ہوچکی ہیں، البتہ خانقاہ کی مسجد ۱۹۶۵ء کے قریب دوبارہ مرمت ہوکر اپنی زندہ دلی اور بقا کا ثبوت پیش کر رہی ہے، وہی تالاب جو ہر وقت وصالِ نصیبِ عشاق کے جامِ تمنا کی طرح لبریز رہتا تھا، آج ہم اسے عشاقِ مجبور کے لبِ خشک کی مانند خشک لب پاتے ہیں، وہی تالاب جس میں ہر وقت آبِ خنک کی موجیں اٹھتی تھیں، آج اس میں ادبار و نکبت کی ہوا اپنے سر پر خاک اڑا رہی ہے، وہ عالیشان مسجد جو ایک زمانے میں واصلانِ حق کے دلوں کی صورت نورِ صفا سے منور تھی، آج دل شکستہ کی طرح ٹوٹی پھوٹی پڑی ہے، دیواریں رکوع میں ہیں، کنگرے سربسجود، خالی ستون حالتِ تحریمہ میں قائم اللیل ہیں، یہاں کے آدمیوں کے بدلے اب در و دیوار ہی عبادت میں مستغرق دکھائی دیتے ہیں۔
از نقش و نگار در و دیوارِ شکستہ
آثارِ یدید است صنادیدِ عجم را
حضرت اکبر نے جب ان شکستہ حالات کی طرف قلم اٹھایا تو اپنی قلبی کیفیت اس طرح ظاہر کی۔
الٰہی پھر اسے آباد و شاد دکھلا دے
الٰہی پھر اسے حسبِ مراد دکھلا دے
بعد کے زمانے میں بھی موڑہ تالاب میں چند شرفا و سادات کے گھرانے باقی رہے، انجم اکبرآبادی لکھتے ہیں کہ
موڑہ تالاب میں اب شرفا و سادات کے صرف چند ہی گھر رہ گئے ہیں، ان گھرانوں کو داناپور شریف کی خانقاہ سے شرف بیعت حاصل ہے، مسجد کی تعمیر نے اس میں دلکشی پیدا کر دی ہے، تالاب کی پرچیاں مسمار ہیں، شرناتھیوں کا اس پر قبضہ ہے ورنہ حقیقت میں اس تالاب کے حقیقی مالک وہی لوگ ہیں جو حضرت سید شاہ بہاؤالحق موڑوی قدس سرہ کا سجادے ہوتے آئے ہیں‘‘(بزمِ ابوالعلا، ص۱۹۱)
موڑہ تالاب میں آباد رہنے والے ان خاندانوں میں مدار بخش ابوالعلائی، امیر علی ابوالعلائی، رجب علی ابوالعلائی، امیر حسن ابوالعلائی، مختار حسین ابوالعلائی، ڈاکٹر نورالحسن ابوالعلائی، عزیزالحسن ابوالعلائی اور ڈاکٹر انوارالحق ابوالعلائی وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں، یہ حضرات خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کے سجادگان سے بیعت کا شرف رکھتے تھے، اب ڈاکٹر انوارالحق کے ورثہ میں سے کچھ افراد اس بستی میں آباد ہیں۔
مدار بخش حضرت شاہ طیب اللہ کے پوتوں میں سے تھے، قلیلُ الغذا، قلیلُ الکلام، صاحبِ خیر و منبعِ حسنات، مشغلہ ’’بیار و دست بکار‘‘ میں ہمہ تن مصروف رہتے تھے، حضرت مخدوم محمد سجاد کے مرید و مجاز تھے، آپ کے دو صاحبزادے ڈاکٹر نورالحسن ابوالعلائی اور ڈاکٹر عزیزالحسن بڑے خوشحال اور مرتفع الحال انسان تھے، یہ دونوں حضرت اکبر کے مریدوں میں سے تھے، موڑہ تالاب سے متصل عزیز گھاٹ آپ ہی کے نام سے منسوب ہے، ڈاکٹر نورالحسن کی صاحبزادی وحیدالنسا (متوفیٰ ۱۳۸۰ھ) کا عقد ڈاکٹر ظفیرالحق بن خورشید علی بن انوار علی بن میر لطیف الحسن (کاشی تکیہ، بہار شریف) سے ہوا، آپ کی چھ اولاد ہوئیں، ان میں فرزندِ اکبر ڈاکٹر انوارالحق ابوالعُلائی نانیہال کی طرف زیادہ راغب تھے، سلسلے سے متعلق اچھا درک رکھتے تھے اور حضرت شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی سے بیعت تھے، آپ کی اولاد اس بستی میں موجود ہے۔ (نذرِ محبوب، ص۴۹، حالاتِ حضرت شاہ اکبر داناپوری، ص۱۹)
اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے امیر علی حضرت شاہ طیب اللہ کے نواسوں میں سے تھے، پٹنہ میں وکالت کرتے تھے، حضرت مخدوم محمد سجاد کے فیض یافتہ اور حضرت اکبر کے مرید تھے، نیز ان کے پھوپھی زاد بڑے بھائی بھی تھے، نیک سیرت و صورت انسان تھے اور خاندانی مراتب کا خاص لحاظ رکھا کرتے تھے۔ (نذرِ محبوب، ص۴۹)
حضرت بندگی کے بعد اس خاندان میں شیخ بڈھ طبیب دانشمند نامور بزرگ ہوئے ہیں، عہدِ شیر شاہی میں ان کی قدر و منزلت خوب تھی، یہاں تک کہ بادشاہ آپ کی جوتیاں سیدھی کرتا تھا، ملا عبدالقادر بدایونی رقمطراز ہیں کہ
شخ بڈھ طبیب دانشمند کہ شیر خاں از نہایت اعتقاد کفش پیش پائے او می نہاد و بر ارشاد قاضی شرحے معتبر نوشتہ مشہور است(منتخب التواریخ، جلد اول)
شیخ بڈھ طبیب دانشمند اپنے وقت میں بھارت کے مشہور اور بے مثل علما میں سے ایک تھے، انہوں نے قاضی شہاب الدین دولت آبادی کی کتاب ارشادالنحو کی شرح بھی لکھی تھی، اس کے علاوہ ان کے فتاوے بھی بڑے مشہور ہوئے تھے، ان کی خانقاہ اور ان کا مدرسہ اس عہد کی ممتاز درس گاہوں میں سے ایک تھی، شیخ بڈھ کے تلامذہ میں شیخ طاہر کا نام بھی ملتا ہے، یہ شیخ عبدالعزیز شکربار بن شیخ حسن طاہر کے دادا اور اپنے عہد کے ایک متبحر عالم تھے، شیخ عبدالحق محدث دہلوی رقمطراز ہیں کہ
’’آپ کے والدِ بزرگوار کا نام شیخ طاہر تھا، وہ ملتان سے بہار گئے اور عرصۂ دراز تک شیخ بڈھ حقانی سے تعلیم حاصل کرتے رہے، بہار ہی میں شیخ حسن طاہر متولد ہوئے‘‘ (اخبارالاخیار)
مولانا عبدالحئی رائے بریلوی اس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ
اور مدت تک قیام کے بعد بہار آ پہنچے، یہاں مدرسہ شیخ محمد ابن طیب میں قیام فرمایا، یہیں نکاح کیا اور اولاد کے رزق سے متمع ہوئے (نزہۃ الخواطر، جلد ۴)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ طاہر نے ملتان سے بہار کا سفر کیا اور ایک طویل عرصے تک موڑہ تالاب میں شیخ بڈھ کی علمی صحبت میں رہ کر کسبِ فیض کیا، بہار ہی میں نکاح کیا اور شیخ حسن طاہر کی پیدائش ہوئی جو بعد ازاں اپنے زمانے کے جلیل القدر علما میں شمار ہوئے، اسی طرح ہمیں مہدوی تحریک کے سلسلے میں بھی شیخ بڈھ کی شخصیت نمایاں طور پر نظر آتی ہے، شیخ علائی بن شیخ حسن اپنے وقت کے بڑے عالم اور والد کے جانشیں کہلاتے تھے، ان کے والد شیخ حسن حضرت سلیم چشتی کے مرید و خلیفہ تھے، آپ نے اپنے والد کے بعد لوگوں کو باطنی تعلیم دینی شروع کی لیکن اتفاق سے ایک نیازی افغان شیخ عبداللہ جو خود بھی حضرت سلیم چشتی کا مرید تھا، مکہ سے واپس آ کر فرقۂ مہدوی میں داخل ہوگیا اور یہ بھی شیخ علائی کے شہر بیانہ میں مقیم ہوگیا، شیخ علائی پھر دن رات اسی کے ساتھ رہنے لگے اور اپنے بزرگوں کی راہ سے ہٹ کر مہدوی فرقے کی تبلیغ و تشہیر کرنے لگے، جب سلیم شاہ کو اس بات کی فکر لاحق ہوئی تو انہوں نے شیخ علائی کو بہار بھجوا دیا، محمد قاسم فرشتہ لکھتے ہیں کہ
شیخ علائی کو شیخ بڈھ طبیب کے پاس بھجوا دیا، یہ بڑے سمجھ دار بزرگ تھے، ان کا شیر شاہ بہت معتقد تھا وہ شیخ جوتیاں اپنے ہاتھوں سے سدھی کیا کرتا تھا، سلیم شاہ نے علائی کو شیخ بڈھ کے پاس اس غرض سے روانہ کیا تاکہ شیخ کے حکم کے مطابق علائی کے ساتھ سلوک کیا جائے۔۔۔شیخ علائی بہار میں حضرت بڑھ کے پاس پہنچے، شخ بڈھ نے بھی مخدوم الملک کے خیال کے مطابق فتویٰ لکھ کر محضر سلیم شاہ کے پاس روانہ کیا (تاریخِ فرشتہ، جلد اول)
عبداللہ نے تاریخِ داؤدی میں لکھا ہے کہ
شیخ علائی کو بہار میں شیخ بڈھ طبیب دانشمند کے پاس بھیج دیا، یہ وہ شیخ ہے کہ شیر شاہ بھی جس کا معتقد تھا اور اس قدر ارادت رکھتا تھا کہ شیخ کی جوتیاں اپنے ہاتھوں سے سیدھی کرتا تھا، اسلام شاہ کا خیال تھا کہ شیخ علائی کے بارے میں شیخ بڈھ کے فتوے پر عمل کرے، یہ وہ دور تھا جب اسلام شاہ قلعہ مانکوت وغیرہ کی تعمیر میں مشغول تھا، جب شیخ علائی بہار گیا شیخ بڈھ نے مخدوم الملک کی موافق میں فتویٰ صادر کیا اور بادشاہ کے قاصدوں کے حوالہ کیا (تاریخِ داؤدی)
رحمٰن علی بھی منتخب التواریخ کو نقل کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ
شیخ بڈھ بہاری استاد فاضل اور طبیبِ حاذق تھے، شیر شاہ سوری نہایت اعتقاد سے ان کے سامنے جوتیاں اٹھاکر رکھتا تھا، انہوں نے ارشاد قاضی شہاب الدین دولت آبادی پر ایک معتبر شرح لکھی ہے (تذکرہ علمائے ہند)
محمد جواد حسین نے تاریخِ حسن میں شیخ بڈھ کو ’’شیخ تڑا‘‘ لکھا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ۹۵۵ھ میں سلیم شاہ سوری کے عہد میں سرزمینِ بہار میں ایک صاحبِ علم و کمال شخصیت گزری ہیں جو علم و کمال میں بے مثال تھیں، ایسے معاملات جو اس علاقے کے علما سے حل نہ ہوتے یا جب کوئی لاینحل مسئلہ سامنے آجاتا تو اسے آپ کے پاس بھیج دیا جاتا اور آپ بحسن و خوبی اسے حل کر دیا کرتے تھے، مزید بر آں وہ آپ کے نسب کے متعلق لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ شیخ نسل سے تھے یا کسی دوسری نسل سے یہ پتا نہیں۔ (سترھواں باب)
ملا عبدالقادر بدایونی اور محمد قاسم فرشتہ کے مطابق شیخ علائی نے ۹۵۵ھ اور تاریخِ داؤدی کے مطابق ۹۵۷ھ میں کوڑوں کی مار برداشت نہ کر سکنے کے باعث جان دے دی، اسی سال ملا عبدالقادر نے شیخ بڈھ کو انتہائی ضعیف بتایا ہے، یہاں تک کہ ان کے منہ سے آواز بھی بمشکل نکلتی تھی، ادھر شیخ عبدالحق دہلوی نے شیخ حسن بن طاہر کی پیدائش بہار میں ۸۳۱ھ بتائی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ بڈھ ۸۲۰ھ کے آس پاس اپنے درمیانی عمر میں تھے، اس اعتبار سے غالب امکان ہے کہ شیخ بڈھ کا انتقال ۹۶۰ھ کے قریب ہوا ہوگا، یہ بھی بہت حد تک امکان ہے کہ شیخ خلیل دانشمند نامی بزرگ جو شیر شاہ سوری کے پیر تھے، ان بزرگ کا تعلق بھی موڑہ تالاب سے ہو، تاریخِ داؤدی نے آپ کو دانشمند لکھا ہے۔
کہتے ہیں کہ شیخ بڈھ طبیب کو اپنا آبائی سلسلہ شیخ طیب دانشمند سے حاصل ہوا اور شیخ طیب کو شیخ احمد عیسیٰ تاج سے اجازت حاصل تھی، اسی طرح شیخ بڈھ کے خلفا میں مخدوم دولت منیری کا نام نامی بھی آتا ہے۔ (وسیلۂ شرف و ذریعۂ دولت، ص107)
شیخ بڈھ جنہیں بہار میں بڑے اور غیرِ بہار میں بڈھ لکھا جاتا ہے اور ایک جگہ تو حقانی کا لفظ بھی نظر آتا ہے، آپ کا مزار موڑہ تالاب میں بستی کے اندر لبِ سڑک ایک چبوترے پر واقع ہے۔
اسی طرح اس خانوادہ میں شیخ بڈھ کے بعد حضرت سیف اللہ موڑوی کا نام نامی آتا ہے، جو اپنے وقت کے بافیض بزرگوں میں سے ہوئے ہیں، آپ شیخ غلام محمد بن شیخ محمد خلیل بن عبدالجلیل دانشمند کے صاحبزادے اور حضرت مخدوم دولت منیری کے نواسے ہیں، حضرت اکبر رقمطراز ہیں کہ
’’حضرت سید سیف اللہ حسینی قدس اللہ سرہ حضرت مخدوم شاہ دولت منیری قدس سرہ کے نواسہ ہیں اور حضرت سید شاہ طیب اللہ نقاب پوش قدس سرہ کے نانا ہیں، حضرت بی بی عالمہ قدس سرہا مخدوم شاہ دولت منیری کی صاحبزادی تھیں، آپ علم حدیث و فقہ و تفسیر میں کاملہ و فاضلہ تھیں، حضرت شاہ سیف اللہ قدس سرہ آپ ہی کے بطن مبارک سے متولد ہوئی‘‘ (خدا کی قدرت، ص۵۱)
مولانا غیاث الدین حسن بن فرزند علی بن اولاد علی بن ریاض علی بن مقصود علی بن پیر علی بن یاد علی بن پیر محمد بن غلام حسین بن ابوالحسن مشہدی بن غلام محمد کے خاندانی سفائن کے مطابق مشہد سے آپ کے جد اعلیٰ حضرت ابوالحسن مشہدی ہلاکو کے زمانے میں بھارت آئے اور آپ کے نسلیں موضع پچروکھی، آبگلہ، رجہت، بڈوسر، بلیاری، شیر گھاٹی، شہسرام اور بہار شریف کے علاقوں میں پھیل گئی، ان کا کہنا ہے کہ حضرت ابوالحسن کے تین فرزند ہوئے، غلام حسین، غلام محمد اور غلام عبداللہ، غلام حسین کے خاندان سے خود غیاث الدین حسن ہیں اور غلام محمد کے ایک صاحبزادے حضرت شاہ سیف اللہ اور ایک صاحبزادی بی بی واحدہ ہوئیں اور غلام عبداللہ کے تین صاحبزادے شاہ بدیع الدین، شاہ خلیل الدین اور شاہ محمد فیض اور یہ ان سب کا مولد و مسکن موڑہ ہے۔
یہ بڑا المیہ ہے کہ مولانا غیاث الدین نے آخر ابوالحسن کو ہلاکو کے عہد کا کیسے بتایا؟ جبکہ ان کا عہد تو 1150ھ کے آس پاس ہوگا تو یہ کیسے ممکن ہے وہ ہلاکو کے وقت میں مشہد سے ہندوستان آئے بہت ممکن ہے کہ یہ ابوالحسن بھی حضرت بندگی کی اولاد میں سے ہوں اور ان کے اجداد کا وقت بتلایا گیا ہو کہ وہ ہلاکو کے عہد میں بھارت آئے۔
شاہ غفورالحق موڑوی کے مطابق شاہ بدیع الدین بن غلام عبداللہ کے بعد بن عبدالخلیل بن عبدالجلیل بن عبدالصمد بن عبداللہ بن شیخ بڈھ کا نام آتا ہے اور کنزالانساب کے مطابق شاہ سیف اللہ بن غلام محمد بن محمد خلیل بن عبدالجلیل بن عبدالصمد بن عبدالغنی بن شیخ بڈھ طیب اس طرح نام آتا ہے، بہت ممکن ہے کاتب سے عبدالصمد عبد احمد لکھا گیا ہو اور عبداللہ کو عبدالغنی لکھ دیا ہو۔ (ص170)
اسی طرح کنزالانساب میں حضرت ابوالعلا مشہدی بن محمد حیات بن محمد برکات کا ذکر آیا ہے کہ وہ بہار آئے اور ان کے صاحبزادے عبدالسلیم کا عقد موڑہ کے ایک معزز گھرانے میں ہوئی۔ (ص83، 119)
خیر! حضرت سیف اللہ اپنے عہد کے مشاہیرِ اؤلیا میں شمار کیے جاتے تھے، حضرت وحیدالدین داناپوری رقمطراز ہیں کہ
شاہ سیف اللہ ساکن موڑہ کہ از اؤلیائے صاحبِ کمال بودند (در نسب داناپور، ص۱۰۶)
حضرت شاہ محمد کبیر ابوالعلائی لکھتے ہیں کہ
’’حضرت شاہ سیف اللہ قدس سرہ موڑے میں کہ بہار کے محلوں سے ہے اقامت پذیر تھے اور اولاد امجاد سے حضرت مخدوم بندگی دانشمند قدس اللہ سرہ کے تھے جن کا مزار وہیں ہے‘‘ (تذکرۃ الکرام، ص۶۹۳)
حضرت سیف اللہ کو پانچ صاحبزادیاں تھیں، بی بی طالو (زوجہ شیخ محمد مراد) بی بی دولن (زوجہ محمد علی بن محمد روشن بن عطا فریدالدین بن عبدالقدوس بن حضرت تاج محمود حقانی مودودی، شیخ پورہ خرد)، بی بی نادرہ (زوجہ شیخ محمد منعم موڑوی)، بی بی فہمیدہ (زوجہ شیخ بدیع الدین بن غلام عبداللہ بن خلیل بن عبدالجلیل بن عبدالصمد بن عبداللہ بن شیخ بڈھ طبیب، موڑہ)، بی بی عالیہ (زوجہ شاہ امین اللہ بن منوراللہ بن عنایت اللہ نوآبادی) (سیفینہ حضرت اکبر و حضرت احمد حسین، کنزالانساب، ص۱۷۰)
اسی بی بی عالیہ کے بطن سے حضرت طیب اللہ نقاب پوش پیدا ہوئے، یوں نسبی اعتبار سے حضرت طیب اللہ حضرت سیف اللہ کے نواسے تھے، حضرت طیب اللہ حضرت امام محمد تاج فقیہ کی اولادِ ذکور میں سے اور حضرت امین اللہ شہید کے تیسرے صاحبزادے تھے، حضرت طیب اللہ کو کم سنی ہی میں والد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہونا پڑا، اس کے بعد ان کی پرورش و تربیت ان کے نانا حضرت سیف اللہ نے کی، تعلیم و تحصیلِ علوم بھی انہی کی نگرانی میں ہوئی اور بعد ازاں حضرت طیب اللہ نے اپنے نانا ہی سے بیعت کی پھر انہی سے اجازت و خلافت حاصل کی، مولانا محمد حسین بدایونی اس تعلق کی وضاحت کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ
’’آپ بحالتِ صبی اپنے آبِّ نامدار کے ظلِ عاطفت سے محروم ہوچکے تھے، اپنے نانا شاہ سیف اللہ صاحب کی آغوشِ مودت و محبت میں تعلیم و تربیت پاکر تحصیل و تکمیل علوم سے فراغت پائی اور اپنے نانا صاحب کے ہی مرید ہوئے، ازاں بعد خلافت کی بھی اجازت پائی (مظہرالعلما فی تراجم العلما والکملا، ص۲۲۲)
حضرت اکبر بھی حضرت طیب اللہ کے حضرت سیف اللہ سے خاندانی اور روحانی تعلق کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کرتے ہیں کہ
واضح باد کہ والد جد امجدم (یعنی شاہ طیب اللہ) نواسہ و مرید و جانشین حضرت سید شاہ سیف اللہ قدس سرہ بودند و بخانۂ ما در خود مقیم ماندند‘‘ (سیفنہ)
اس طرح حضرت سیف اللہ سے حضرت طیب اللہ تک تعلق کی ترتیب تین سطحوں پر سامنے آتی ہے کہ نسب میں حضرت طیب اللہ، حضرت سیف اللہ کے نواسے تھے، تربیت میں وہ اپنے نانا حضرت سیف اللہ کے زیرِ سایہ پروان چڑھے اور روحانی سلسلے میں انہی کے مرید، مجاز اور جانشیں ہوئے، یہی نسبت آگے چل کر موڑہ تالاب کے روحانی سلسلے میں حضرت طیب اللہ کے مقام کو نمایاں کرتی ہے۔
آپ کی دو شادیاں ہوئیں، پہلی حضرت بدرالدین زاہدی کی اولاد میں سید حامد زاہدی عرف سوپن کی خواہرِ حقیقی بی بی جُگن سے ہوئی، آپ سے دو صاحبزادے حضرت بہاؤالحق چشتی اور حضرت تراب الحق چشتی ہوئے اور چار صاحبزادیاں ہوئیں۔ (کنزالانساب، ص127، 191، مخزن الانساب، ص۳۲۸، سفینہ حضرت اکبر)
حضرت طیب اللہ کی صاحبزادیوں میں بڑی صاحبزادی بی بی نبیہ تھیں جن کا عقد روہ، نالندہ میں ہوا، دوسری بی بی نقیہ تھیں جو جمال علی رجہتی بن لطف اللہ بن خیراللہ بن عطاؤاللہ بن ظریف بن عبدالرزاق بن تاج الدین بن ابو محمد بن بوڑھن بن بدرالدین بن ادریس بن ہارون بن عبداللہ اصغر بن امام زین العابدین کے نکاح میں تھیں، تیسری بی بی وجیہہ تھیں جن کا عقد محمد کریم الدین رجہتی سے ہوا، جبکہ چوتھی بی بی بقیہ تھیں جن کا نکاح عنایت علی بن اعظم علی بن محمد علی بن محمد روشن بن عطا فرید بن عبدالقدوس بن حضرت تاج محمود حقانی، شیخ پورہ خرد سے ہوا۔
حضرت طیب اللہ کے دوسرے عقد سے تین صاحبزادے اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئے، صاحبزادوں کے نام شیخ صادق علی، شیخ خورشید علی اور داروغہ شیخ ولایت علی تھے، شیخ صادق کے بیٹے دلاور علی اور شیخ خورشید کے بیٹے قربان علی ہوئے۔ (کنزالانساب،ص)
حضرت طیب اللہ کا وصال ۲۸ جمادی الاول بروز جمعہ ۱۲۳۵ھ کو ہوا، آپ کا مزار حضرت بندگی کے مزار سے متصل دائیں جانب واقع ہے، آپ کے بعد آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت بہاؤالحق چشتی آپ کے جانشیں، مرید اور مجاز ہوئے، حضرت بہاؤالحق بھی اپنے والد کی طرح صاحبِ مراتب بزرگ تھے، آپ خانقاہِ موڑہ تالاب کے تیرہویں سجادہ نشیں ہوئے، عبادت گزاری اور مجاہدہ آپ کی زندگی کا نمایاں وصف تھا اور استغراق کی کیفیت میں ہمہ وقت مصروف رہتے تھے، علمی استعداد بھی بلند تھی اور اپنے زمانے کے ممتاز علما میں شمار ہوتے تھے، آپ مستند فقیہ اور جید عالمِ دین تھے۔
حضرت فانیؔ رقمطراز ہیں کہ
’’شاہ بہاؤالحق کہ صاحبِ جود و سخا بر ذات تکلف نہ بلباس داشتند و نہ در خورش نوش مجرد ماندند نہ پذیرا کردند تعلق اہل و عیال اولاد برادر شان اولاد ایشاں ہستند (کنزالانساب، ص۱۹۱)
حضرت اکبر لکھتے ہیں کہ
’’میرے دادا صاحب کے بڑے بھائی حضرت شاہ بہاؤالحق قدس سرہ تھے اور یہی اپنے والد ماجد کے سجادہ نشیں تھے، حضرت شاہ بہاؤالحق قدس سرہ فاضل جید تھے‘‘(تاریخِ عرب، جلد اول، ص۱۴)
حضرت بہاؤالحق پر نسبتِ استغراقیہ بہت غالب تھی اور آپ عزلت نشینی کو پسند فرماتے تھے، آپ ہمیشہ مجرد رہے، کھانے پینے اور اوڑھنے پہننے میں کبھی کسی قسم کی خواہش نہ کرتے بلکہ جو کچھ میسر آجاتا اسی پر قناعت فرماتے تھے۔
جب حضرت بہاؤالحق کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی حضرت تراب الحق چشتی کو بلا کر فرمایا کہ میں نے اپنے طریقے کی سجادگی تمہارے بڑے فرزند نورِ چشم محمد قاسم مدعمرہ کو دے دی ہے، میری نظر میں وہ کمالِ سعادت مند ہے اور سرمایہ و استعدادِ علمی بھی کافی و وافی رکھتا ہے، فقیر کو جاہل نہ ہونا چاہیے، جب وہ وطن واپس آئیں تو وہ تمام سفینے جن میں ان کے واسطے خلافت نامہ اور مثال تحریر کی ہے ان کے حوالے کردینا، اس وصیت کے چند روز بعد حضرت بہاؤالحق رحلت فرما گئے۔ (تاریخِ عرب، جلد اول، ص۱۴)
حضرت ظفر سجاد ارقام فرماتے ہیں کہ
’’آپ بہت کم کسی کی بیعت لیتے تھے، اس خاندان کا دورِ انحطاط آپ ہی کے زمانہ سے شروع ہوا اور وہ تمام عمارات گرنے شروع ہوئے، کیوں کہ آپ ہر وقت حالتِ جذب میں رہتے تھے، خانقاہ کے امورات و انتظامات و عرس و اعراس کے اہتمام میں کمی ہونے لگی تھی‘‘ (آثارِ موڑہ تالاب)
حضرت بہاؤالحق کا وصال بحق چہار شنبہ ۸ جمادی الثانی ۱۲۵۲ھ کو ہوا، آپ کا مزار حضرت شاہ سیف اللہ کے مزار سے متصل ہے۔ (برہان العاشقین، ص۴۵)
اس طرح موڑہ تالاب کی آبائی سجادگی کا سلسلہ آگے چل کر خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور سے جاری رہا۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.