ریان ابوالعلائی کے صوفیانہ مضامین
مقدمہ : ’’مولدِ غریب‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
قرونِ اولیٰ سے لے کر آج تک ائمہ و محدثین اور علما و شیوخ نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق حضرت رسول اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ اور میلادالنبی ﷺ کے موضوع پر قلم اٹھایا اور نظم و نثر میں ہزاروں کی تعداد میں گراں قدر کتب تصنیف کیں، ان میں سے بعض مختصر اور بعض ضخیم
مقدمہ : ’’خدا کی قدرت‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
عقیدۂ توحید کی اہمیت اور ضرورت کے متعلق اکابرین کی رائے یہ ہے کہ عقیدۂ توحید اسلام کا سب سے پہلا بنیادی عقیدہ ہے، یہ صرف ایک نظریہ ہی نہیں بلکہ انسان کو صحیح معنی میں انسان بنانے کا واحد ذریعہ بھی ہے ، یہ انسان کی تمام مشکلات کا حل، ہر حالت میں اس
مقدمہ : ’’چہل حدیث‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
چہل احادیث کے جمع کرنے کا سب سے بڑا محرک حضرت رسول اللہ ﷺ کا قول ہے۔ ’’جس شخص نے امورِ دین کے متعلق چالیس احادیث یاد کیں اور انہیں آگے امت تک پہنچایا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ اسے فقیہ کی حیثیت سے اٹھائے گا اور روزِ قیامت میں اس کے حق میں شفاعت کروں گا
مقدمہ : ’’سیرِ دیلی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
دہلی ہندوستان کا دارالحکومت ہے جسے مقامی طور پر دلی بھی کہا جاتا ہے، ایک ایساشہر جو کئی سلطنتوں اور مملکتوں کا دارالحکومت رہا ہے، کئی مرتبہ فتح ہوا، تباہ ہوا اور پھر آباد ہوا، سلطنت کے عروج کے ساتھ ہی یہ شہر ایک ثقافتی،تمدنی اور تجارتی مرکز کے طور پر
مقدمہ : ’’التماس‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ کا دائرہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اسے سمیٹنا یا ایک جگہ تحریر کر دینا یہ ایک بڑا مشکل کام ہے، اس کا دامن اس قدر وسیع ہے کہ اس کا ہر ایک موضع کئی جلد کا متلاشی ہے، وحدت الوجود یا وحدت الشہود پر ہی سیکڑوں صفحات خرچ ہوسکتے ہیں،
مقدمہ : ’’آثارِ کاکو‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
تاریخ نویسی و تذکرہ نگاری کا ذوق و شوق شروع سے قائم رہاہے۔ اس سلسلے میں اربابِ قلم نے جزیرۃ العرب کے حالات و مقامات کا ذکر شروع کیا اور چھوٹی بڑی کتابیں لکھ ڈالیں مگر ان میں کچھ شائع ہوئی اور کچھ ضائع ہوئی بقیہ تلف ہوئی،یہ کام سب سے پہلے عربی زبان میں
مقدمہ : ’’فنا و بقا‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
گیارہویں صدی ہجری کے اوائل میں ہندوستا ن کے اکثر علاقوں میں سلسلۂ نقشبندیہ کا خوب عروج رہا جو بعد میں پھوٹ کر دو شاخوں میں منقسم ہوگیا۔ (۱) سلسلۂ نقشبندیہ مجددیہ (۲) سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ سلسلۂ ابوالعلائیہ کے بانی محبوب جل و علا حضرت سیدنا
مقدمہ : ’’سرمۂ بینائی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
’’سرمۂ بینائی‘‘حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری کی اردو زبان میں لکھا ہوا پچیس ؍تیس صفحات پر مشتمل ایک مشہور و معروف رسالہ ہے، اس میں صوفیانہ عقائد مثلاً وحدت الوجود، توحید، فنافی الذات، فنافی الصفات، حقیقت النفس اور توبہ جیسے مہتم بالشان عنوانات
مقدمہ : ’’آل و اصحاب‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
اہلِ بیت اور صحابۂ کرام کا احترام جزوِ ایمان ہے۔ عہدِ رسالت سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ اہلِ بیت سے محبت رکھتی ہے۔ حضرت عبدالرؤف مناوی (پیدائش 1545ء - وصال 1622ء) فرماتے ہیں کہ ’’کوئی بھی امام یا مجتہد ایسا نہیں گزرا جس نے اہلِ بیت کی محبت سے بڑا
مقدمہ : ’’مولد فاطمی‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
حضرت فاطمہ زہرا اسلام کی مقدس ترین خاتون میں سے ایک ہیں جن کے تذکروں کا دائرہ اس قدر وسیع و عریض ہے کہ اسے سمیٹنا ایک مشکل امر ہے۔ صحاحِ ستہ اور دوسری تمام کتبِ احادیث آپ کے تذکرے سے بھری پڑی ہیں،بیشتر علمائے اہلِ سنت نے آپ کے اوصاف و کمالات، انداز
مقدمہ : ’’تاریخِ خواجگان‘‘ کا تفصیلی مطالعہ
محبوبِ جل و علا حضرت سیدنا امیر ابوالعلا قدس سرہٗ مریدوں کو اکثر سلسلۂ نقشبندیہ کا شجرہ عنایت فرماتے تھے، جو کوئی سلسلۂ چشتیہ میں بیعت کی درخواست کرتا تواس کو شجرۂ عالیہ اس ترتیب سے عنایت فرماتے کہ پہلے خواجگانِ چشت سے خواجہ معین الدین چشتی تک کےاسمائے
نصرت فتح علی خان مہد سے لحد تک
’’سہرا یہ حقیقت کا نصرتؔ کو سنانے دو‘‘ نصرت فتح علی خاں پاکستان کے بڑے قوال، موسیقار، موسیقی ڈائریکٹر اور بنیادی طور پر قوالی کے گلوکار تھے، نصرت کو اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے قوالی کے گلوکار کے طور پر جانا جاتا ہے، انہوں
ذکر خیر حضرت مخدومہ بی بی کمال
صوبۂ بہار میں مسلمانوں کی آمد سے پہلے کمال آباد عرف کاکو میں ہندوؤں کی آبادی تھی۔ یہاں کوئی راجہ یا بڑا زمیندار برسرِ اقتدار تھا۔ پُرانے ٹیلے اور قدیم اینٹیں جو کھدائی میں برآمد ہوتی رہیں، اس بات کی گواہی ہیں۔ بقول عطاؔ کاکوی ’’بہترے ٹیلے اور گڑھ
ذکر خیرحضرت شاہ فریدالدین احمد چشتی کاکوی
کمال آباد المعروف کاکو اپنی قدامت اور ہدایت و لیاقت کے اعتبار سے ہمیشہ ممتاز رہی ہے۔ یہاں مشہور ولیہ حضرت مخدومہ بی بی ہدیہ المعروف کمال قدس سرہا کا آستانہ متبرکہ ملک بھر میں مشہور ہے۔ کثرت سے بندگان خدا اس دیار میں آکر من کی مراد پاکر خوشی کے ساتھ
ذکر خیر حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ
حضرت پیر نصیرالدین نصیرؔ معروف شاعر، ادیب، محقق، خطیب، عالم اور گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشیں تھے، آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے، اس کے علاوه عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے ہیں، اسی وجہ سے انہیں "شاعرِ ہفت زبان"
ذکرخیر حضرت حکیم شاہ عزیز احمد ابوالعلائی
اس عالم فانی میں کئی ہستیاں نمودار ہوتی ہیں اور پھر اپنے جلووں کے ساتھ رخصت ہو جاتی ہیں، مگر اپنی کردار، انداز و اطوار، گفتار و بیان اور اخلاق و اخلاص یہیں چھوڑ جاتی ہیں۔ انسان چلا جاتا ہے، مگر اپنی اچھائیوں سے ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ اگر
ذکرِخیرحضرت شاہ رضی الدین حسین منعمی
آپ حضرت سید شاہ مبارک حسین ابوالعلائی کے فرزند اصغر اور خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ، پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ہیں، آپ کی ولادت ۱۲۷۱ھ میں ہوئی، آپ کی آمد پر حضرت شاہ محمد یحییٰ عظیم آبادی نے قطعۂ تاریخ کہا اور ’’نمونۂ خورشید‘‘ اور ’’نور شمس و قمر
خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور اور مجاہد ملت
اس کائنات میں بے شمار مؤقر اور معتبر شخصیات جنم لیتی ہیں اور معدوم ہو جاتی ہیں، لیکن بعض افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے نام علمائے کرام کے درمیان داخل نصاب بن جاتے ہیں اور ان کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تیرہویں صدی ہجری کے وسط میں اللہ تعالیٰ نے
تبصرہ : ’’بہار میں رثائی ادب آغاز وارتقا‘‘
ابھی کچھ مہینے قبل، سلطان آزاد صاحب کی ایک نئی کتاب ’’بہار میں رثائی ادب- آغاز و ارتقا‘‘ موصول ہوئی، جو اپنے موضوع کے اعتبار اور معیار سے گراں قدر ہے۔ موصوف نے نہایت تلاش و تحقیق کے بعد یہ قیمتی سرمایہ تیار کیا ہے۔ ۱۵۲؍ صفحات کی کتاب کو آزاد نے چار
ذکر خیر حضرت مخدوم شاہ محمد منعم پاک
پٹنہ ہرعہد میں صوفیوں کا عظیم مرکز رہا ہے، یہاں بڑے بڑے صوفیو ں کی درگاہیں اور خانقاہیں آج بھی آباد ہیں، صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ہندوستان سے بھی لوگ اِن صوفیوں کی خانقاہوں میں عقیدتوں کا سلام پیش کرنے آتے ہیں اور محبتوں کا پھول چڑھاکر خوش خوش
ذکر خیر حضرت شاہ محمد غزالی ابوالعلائی کاکوی
کاکو ہمیشہ اپنی علمی و روحانی وجہوں سے ممتاز رہا ہے، یہاں کی ادبی شخصیات سے لے کر روحانی ہستیوں تک کی ایک طویل فہرست ملتی ہے جنہوں نے ایک عہد کو بڑا متاثر کیا، ان کی کرنیں آج بھی زمانے کو روشنی دینے کا کام کر رہی ہیں، انہیں میں ایک عظیم روحانی ہستی
تبصرہ : ’’نجاتِ قاسم‘‘ کا ایک مختصر جائزہ
راقم الحروف فقیر حقیر محمد ریان ابوالعلائی داناپوری عرض دارد کہ جب اس احقر العباد کی عمر انیس برس کو پہنچی اور اپنے پلے کوئی ایسا عمل نہ پایا جو بارگاہِ بے نیاز میں پیش کرنے کے قابل ہو، شیخ سعدی شیرازی کے ان اشعار نے میرے کانوں میں غفلت کا شبہ نکالا۔ ہر
تبصرہ : فریدالدین یکتاؔ پر ایک سرسری نظر
ابھی حال کے پچاس برسوں پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بزرگوں کی نگارشات اور ان کی زندگی کے قیمتی لمحات کو یکجا کرنے کی ایک وسیع تر تحریک جاری ہے، ہر شخص اپنے اپنے اسلاف و اکابر کی قلمی کاوشوں کو منصۂ شہود پر لانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، تاکہ نئی
تبصرہ : ’’چلہ کشی‘‘ ایک مطالعہ
خدا تک پہنچنے کے لیے صوفیائے کرام نے ہمیشہ تگ و دو کی ہے، انہوں نے اپنے نفس کو تیاگ کر خدا کو پا لینے کے لیے بڑی بڑی ریاضتیں اور کوششیں کی ہیں، ان عبادت و ریاضات میں چلہ کشی بھی ایک اہم راستہ ہے جس کے ذریعہ بندہ خدا کو پالینے کے اہتمام و انتطام میں مصروف
ہے شہرِ بنارس کی فضا کتنی مکرم
سفر دراصل خدا کو پالینے کا سب سے بہتر وسیلہ ہے، جتنا زیادہ انسان سفر کرتا ہے، اتنا ہی وہ خدا کے وجود اور اس کی قدیم و ازلی ہستی کا قائل ہوتا جاتا ہے، راستے کے مناظر، اجنبی چہروں کی مسکراہٹیں، مقامات کی تاریخ اور زمانے کے نشانات، یہ سب مل کر انسان کو
تبصرہ : جوہرؔ نوری - ایک بہترین شاعر
جوہرؔ نوری اردو شاعری کی دنیا کا ایک معروف اور قابل احترام نام ہیں، جنہوں نے چار دہائیوں سے گلستانِ سخن کو آباد رکھا ہے۔ یہ موروثی شاعر ہیں اور ان کے آباؤ اجداد، خصوصاً والد نورؔ نوحی، بہار کے ممتاز شعرا میں شمار کیے جاتے تھے۔ جوہرؔ کی تربیت اور تلمذ
ذکر خیر حضرت مخدوم حسین دھکڑپوش
بہار و بنگال کے اؤلیا صوفیا میں زیادہ تر سہروردی سلسلے سے وابستہ ہیں، فاتح منیر حضرت امام محمد تاج فقیہ اور ان کے پوتے مخدوم کمال الدین احمد یحییٰ منیری، نیز ان کے خسر معظم حضرت سید شہاب الدین پیر جگجوت، سب سہروردی سلسلے کے پیروکار تھے۔ دوسری طرف حضرت
ذکر خیر حضرت شہاب الدین سہروردی پیر جگجوت
حضرت سید شہاب الدین پیر جگجوت سہروردی تقریباً 570ھ / 1174ء میں کاشغر (ایران) میں پیدا ہوئے، آپ اعلیٰ نسب کے حامل تھے اور حضرت امام محمد جعفر صادق سے تعلق رکھتے تھے، والد کا نام سلطان سید محمد تاج المعروف عبدالرحمٰن اور والدہ ماجدہ سیدہ راحت النساء بنت
ذکر خیر حضرت شاہ علی ارشد شرفی
بہار کی سرزمین اپنی زرخیزی، علمی وراثت اور روحانی سرمایہ کے لیے معروف ضرور ہے مگر اپنی شہرت اور وسعت کے اعتبار سے ابھی تک دنیا کی توجہ سے محروم رہی ہے، اس کی ایک روشن مثال حضرت مخدومِ جہاں، شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری ہیں، جنہیں شیخ الاسلام والمسلمین
تذکرہ حضرت حکیم شاہ علیم الدین بلخی فردوسی
برصغیر ہندوپاک کی جن شخصیتوں کو صحیح مانوں میں عہد ساز اور عبقری کہا جاتا ہے، ان میں ایک نمایاں اور محترم نام خانقاہ بلخیہ فردوسیہ فتوحہ کے سجادہ نشین اور صوبۂ بہار کی مشہور علمی شخصیت حضرت مولانا حکیم سید شاہ علیم الدین بلخی فردوسی نور اللہ مرقدہ و
ذکر خیر حضرت پروفیسر عبدالمجید ابوالعلائی
پروفیسر عبدالمجید ابوالعلائی کا تعلق افغانستان کے سرحدی قبائل میں قبیلہ اُتمان خیل سے ہے، یہ قبیلہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ میں آباد ہے، اُتمان خیل پٹھانوں کا ایک مشہور قبیلہ ہے جس کی مردانگی اور بہادری زبان زدِ خاص و عام ہے، اس قوم کا بنیادی تعلق
ذکرخیر حاجی شاہ عبداللہ ابوالعلائی اکبری
ہندوستان میں سلسلۂ چشتیہ کے بعد جو سلسلہ سب سے زیادہ رائج ہوا وہ سلسلۂ ابوالعلائیہ ہے، جو دراصل نقشبندیہ سلسلے کی شاخ ہے۔ اس سلسلے میں توحید اور عشقِ الٰہی کی تعلیم لازمی حیثیت رکھتی ہے۔ گیارہویں صدی ہجری سے یہ سلسلہ اس قدر مشہور ہوا کہ برصغیر میں
ذکر خیر حضرت شاہ غفورالرحمٰن حمدؔ کاکوی
کمال آباد عرف کاکو کی قدامت سے سب واقف ہیں، آج سے تقریباً سات سو برس قبل یہاں مسلم آبادی کا آغاز ہوا، اس طویل عرصے میں نہ جانے کتنے مشائخ اور اہلِ دانش گزرے جن کے مزارات آج بھی کاکو کے مختلف مقامات پر شکستہ حال میں موجود ہیں، کاکو میں چند ایسے خاندان
ذکر خیرحضرت مولانا شاہ ہلال احمد قادری
خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف محتاجِ تعارف نہیں ہے۔ یہاں کی عظمت و رفعت سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے۔ پھلواری شریف، جسے بزرگوں کی اصطلاح میں جنت نشاں کہا جاتا ہے، کئی صدیوں سے آباد و شاد ہے۔ ابتدائی دور میں یہ جگہ فوجیوں کا مسکن ہوا کرتی تھی، لیکن روحانی و
تذکرہ حضرت شاہ مبارک حسین مبارکؔ
عظیم آباد میں رؤسا، شعرا، حکما، علما، صلحا اور صوفیا کی ایک طویل جماعت رہی ہے جنہوں نے اس سرزمین کو اپنی علم و عرفاں سے روشن کر دکھایا ہے، ان میں زیادہ تر وہ ہستیاں شامل ہیں جنہوں نے بہار کے دوسرے خطے سے ہجرت کرکے عظیم آباد میں اپنے کمالات کے جوہر
تبصرہ : ’’گل سخن‘‘ پر اک سرسری نظر
فون کی گھنٹی بجی، سلام و دعا کے بعد معلوم ہوا کہ محترم ڈاکٹر سید شاہ علی اختر صفدرؔ ہاشمی صاحب مخاطب ہیں، جو معروف شاعر و مصنف ڈاکٹر سید شاہ اظہارالحسن اظہرؔ ہاشمی کے صاحبزادۂ گرامی ہیں، گفتگو نہایت خوشگوار اور ادبی رنگ میں رنگی ہوئی رہی، اسی دوران
ذکر خیر حضرت حامد رضا خاں بریلوی
حضرت محمد حامد رضا خان بریلوی 1362ھ میں پیدا ہوئے اور اپنی زندگی میں نہ صرف علم و فضل بلکہ فصاحت و بلاغت میں بھی شہرۂ آفاق بنے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم والد بزرگوار کے زیرنگرانی ہوئی، جہاں آپ نے علوم دینیہ اور ادبیہ میں مہارت حاصل کی۔ 19 سال کی عمر میں
اردو زبان میں سیرت النبی پہ قابلِ ذکر کتابیں
قرونِ اولیٰ سے لے کر آج تک ائمہ، محدثین، علما اور مشائخ نے اپنے اپنے ذوق و فہم کے مطابق حضرتِ رسولِ اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ اور میلادالنبی کے موضوع پر خامہ فرسائی کی ہے، نظم و نثر ہر دو میدانوں میں ایسے گراں قدر علمی و روحانی سرمائے وجود میں آئے جن کی تعداد
ذکر خیر حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری
صوبۂ بہار کا خطہ مگدھ، پاٹلی پترا، راجگیر اور منیر شریف نہ صرف سیاسی برتری اور علمی شہرت کا مرکز رہا ہے بلکہ روحانی تقدس اور عظمت کے اعتبار سے بھی ہر دور میں ممتاز و بے مثال مقام رکھتا ہے۔ ہندو مت ہو یا بدھ دھرم، جین مت ہو یا کوئی دوسرا مکتبۂ فکر،
ذکرِ خیر حضرت بہلول قادری نظام آبادی
برصغیر کے روحانی نقشے پر نظام آباد (دکن) کی درگاہِ حضرت سید امان اللہ حسینی ایک درخشندہ چراغ کی مانند رہی ہے، اسی عظیم روحانی سلسلے کے چشم و چراغ، متواضع اور باکمال بزرگ عارف الحق حضرت سید بہلول طبقاتی قادری نظام آبادی تھے، جن کی زندگی تقویٰ، علم، فقر،
تذکرہ حضرت شاہ خالد امام ابوالعلائی داناپوری
صوبۂ بہار میں نہ جانے کتنی شخصیات جنم لیتی ہیں اور معدوم ہوجاتی ہیں۔ ان ہی میں بعض صاحبِ جمال اور مکاشفۂ لایزال ہستیاں بھی نمودار ہوتی ہیں جو اپنے اسلاف و اخلاف کی یادیں تازہ کرادیتی ہیں۔ یہاں کی سرزمین ہمیشہ سے نہ صرف زرخیز بلکہ مردم خیز رہی ہے اور
حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ
بہار میں جن خانوادوں سے تصوف کو فروغ ملا ان میں حضرت فریدالدین طویلہ بخش اور ان کا خانوادہ نمایاں کردار ادا کرتا ہے، انہوں نے یہاں روحانیت اور اس کی عظمت کا ایسا سلسلہ قائم کیا جس کی چمک تقریباً تین صدیوں پر محیط ہے، کسے پتا تھا کہ بہار شریف میں ملّا
ذکر خیرحضرت شاہ التفات احمد صابری
ہندوستان میں بہت سی خانقاہیں ہیں جو قدیم زمانہ سے دین کی تبلیغ، علم کے فروغ، اصلاح تصوف، تحقیق و تصنیف، اور تربیت و تذکیہ کے ذریعے عظیم فریضہ انجام دے رہی ہیں، ان میں بعض خانقاہوں کو امتیازی شان حاصل ہے۔ ہندوستان کی قدیم ترین خانقاہوں میں خانقاہ حضرت
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ محمد اسمعیل روحؔ کاکوی
کمال آباد عرف کاکو کی مشہور درگاہ حضرت مخدومہ بی بی کمال قدس اللہ تعالیٰ سرہا کے متولی حکیم شاہ سعید احمد ابوالعلائی صاحب کے لائق صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد اسماعیل ابوالعلائی بڑے صوفی مزاج اور نہایت بردبار شخصیت کے حامل تھے۔ 1 اگست 1338ھ بروز یک
جوہرؔ نوری ایک فطری شاعر
شعری و ادبی دنیا میں جوہرؔ نوری کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ تقریباً پانچ دہائیوں سے انہوں نے اردو زلف کو سنوارنے اور سجانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جوہرؔ نوری کو شاعرانہ ذوق موروثی طور پر ملا ہے۔ آپ کے جدِ اعلیٰ حضرت سید لطف احمد قادری ایک اچھے
ذکر خیر حضرت جنابحضور شاہ امین احمد فرودسی بہاری
کسی بھی شئے کو ممتاز اور خوشگوار بنانے کے لئے غیر معمولی صفت کا ہونا ضروری ہے۔ خواہ وہ شاہانِ زمانہ ہوں یا صوفیائے کرام۔ جن کی حسین تر زندگی یعنی اخلاق و کردار کی بنا پر وہ شہر جہاں یہ بستے ہیں ممتاز ہوجاتا ہے۔ وقت کے ساتھ شاہانِ زمانہ کی شوکت و جاہ
لکھنؤ کا سفرنامہ
لکھنؤ کے متعلق برج نرائن چکبستؔ نے بہت پہلے ایک ایسا شعر کہا تھا جو آج بھی اس شہر کے ماضی کی دھندلی مگر پررونق تصویر آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ زبانِ حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے مٹایا گردشِ افلاک نے جاہ و حشم میرا یہ شعر صرف ایک جملۂ ماتم نہیں
ذکر خیر خواجہ امجد حسین نقشبندی
ہندوستان میں خانقاہیں اور بارگاہیں کثرت سے وجود میں آئیں، جہاں شب و روز بندگانِ خدا کو تعلیم و تلقین دی جاتی رہی۔ ان متبرک خانقاہوں میں بعض ایسی بھی تھیں جو بالکل متانت و سنجیدگی اور سادگی و سخاوت کا مجسمہ ثابت ہوئیں، جہاں روحانیت اور معرفت کا خاص خیال