Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت شاہ واعظ الدین حسین ابوالعُلائی

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت شاہ واعظ الدین حسین ابوالعُلائی

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    آپ حضرت شاہ نظیر حسن ابوالعُلائی (متوفیٰ۱۳۴۳ھ) کے خلف اکبر تھے، پیدائش یکم شوال المکرم ۱۲۹۰ھ روز شنبہ یک شنبہ بوقتِ شب ہوئی، آپ اپنے والد کے صورتاً اور سیرتاً جانشین تھے،کم عمری ہی سے صوفیانہ مزاج کے حامل تھے، آپ نے علوم ظاہر کی تکمیل اپنے والد اور مولانا سلطان احمد قندھاری سے حاصل کی، طلبِ مولیٰ کی خاطر کم عمری ہی میں حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری سے بیعت و ارشاد لائے، چند روز گزرے تھے کہ خلافت سے نوازے گئے، اپنی وہ پوری زندگی مدرسہ حنفیہ نعمانیہ میں درس و تدریس کے لیے وقف کردی، معاصر علما و مشائخ آپ کی علمی لیاقت کے قائل تھے، خاندانی صحبت نے شاعری سے بھی رغبت دلا دی جو کہ دل بہلانے کا سب سے بہتر طریقہ تھا، علم کی پختگی کے ساتھ عمل کی پاکیزگی بھی خوب تھی، بزرگوں کی عظمت و حشمت کا پاس و لحاظ خوب رکھتے، بغض و حسد، کینیہ و عداوت سے کوسوں دور رہتے، للٰہیت اور فقر و درویشی کی طرف جلد ہی مائل ہوگئے، مجاہداتِ نفس بھی ذکر و فکر کی طرح گاہے بگاہے کرتے رہتے، باضابطہ کوئی تصنیف موجود نہیں مختصر سی تحریریں مختلف کتب و رسائل میں مل جاتی ہیں، آپ اپنے والد ماجد کے بعد شاہ ٹولی کی مسجد کے امام و خطیب اور بڑی عیدگاہ کے منتظم کار رہے، خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کی محافل میں برابر آپ منفرد صوت و صدا میں کلام پڑھا کرتے تھے، اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے عاشقِ زار تھے، کیفیت سے معمور نسبت سے سرشار، خاندانی عزت و وجاہت کے خواہاں تھے۔

    مولانا شاہ حسین الدین احمد منعمی کا بیان ہے کہ

    ’’داناپور میں سادات کا جو خاندان آباد تھا وہ اگر محلہ شاہ صاحبان ہیں آج بھی موجود ہے اور بحمداللہ تعالیٰ دورِ متاخراور دورحاضر میں بھی ذی علم و ممتاز ہستیوں سے خالی نہیں ہوا، حضرت سیّد شاہ محمد اکبر داناپوری و سیّد شاہ نظیر حسن دور متاخر میں اور سیّد شاہ محمد محسن و سیّد شاہ واعظ الدین حسین جیسی ذی علم و معزز و مقتدر ہستی دور حاضر میں بھی موجود ہے‘‘ (خانقاہ داناپور، ص؍۱)

    آپ کی چار شادیاں یکے بعد دیگرے ہوئیں، زوجہ اولیٰ امینہ خاتون بنت قاضی شیخ عبدالکریم شیر گھاٹی (فرزند الیاس ابوالعُلائی قیصرؔ داناپوری)، زوجہ دوم عصمت النسا بنت شاہ کفایت گوری گھاٹ (لاولد)، زوجہ سوم بی بی محفوظ بنت خواجہ عبدالرحمٰن شیر گھاٹی (دختربی بی کلثوم زوجہ چہارم آمنہ خاتون بنت الطاف حسین، بیوبڑی (فرزند فیضان احمد، رضوان احمد، حبیبہ خاتون)۔

    آپ کی آوازاتنی دل نشیں کہ سننے والا مدہوش ہوجاتا، نماز جمعہ کا خطبہ آپ کا یادگار ہوتا، خاص طور سے دور دراز سے لوگ خطبہ سننے بگھی سے آیا کرتے، عمر کے حساب سے جب وجد و کیفیت میں نکھار آنے لگی تو اپنے والد کے علاوہ حکیم شرف الدین حسین چشتی (متوفیٰ۱۳۴۳ھ ) نے بھی آپ کو خلافت سے نوازہ، خود اک خط کے جواب میں آپ رقمطراز ہیں کہ

    ’’اور حضرت حکیم چچا علیہ الرحمت نے اس کمترین راقم کو بھی اجازت سے سرفراز فرمایا ہے‘‘

    (مکتوبات، ص؍۴۳)

    ڈاکٹر عبدالحلیم ساکن تراولی، کرنال پہلے یہ مرزا قادیانی کے گروہ میں شامل تھے، برابر آپ سے خط و کتابت ہوتے رہتے تھے، بعد میں انہوں نے مرزا سے اختلاف کیا اور ایک رسالہ جواب میں لکھا۔

    مولانا محمد جان (گیا)، مولانا عبدالغفور مالدھری (مدرسہ عربیہ، بلندشہر)، مولانا نجم الہدیٰ (مدرسہ حنفیہ، آرہ)، مولانا سیّد مظہر حسن (گیا) وغیرہ آپ کے خاص احباب میں شامل تھے۔

    آپ حکیم احسان علی کی ’’طبِ احسانی‘‘ کو ہمیشہ اپنے مطالعہ میں میں رکھتے تھے، مولانا جلال الدین رومی کے مثنوی کا درس طلبہ کو دیتے اور پھر اس کی تشریح کرتے، مولانا واعظ الدین ادعیات و وظائف کے بھی سخت پابندتھے، فن شعر و سخن سے واقفیت تو تھی مگر زیادہ شعر نہ کہتے تھے، البتہ دوسرے شعرا کے اشعار زیادہ پسند کرتے اور گنگنایا کرتے، آپ کو عربی و فارسی کے سیکڑوں اشعار یاد تھے، جامیؔ، قدسیؔ، عراقیؔ، عرفیؔ، سعدیؔ، رومیؔ، حافظؔ کے اشعار زیادہ پڑھتے تھے، اکثر زباں پر امام محمد شافعیؔ کے اشعار رواں رہتے تھے۔

    قال واجب علی الناس ان یتوبوا

    لکن ترک الذنوب اوجب

    والدھر فی صرف عجیب

    وغفلۃ الناس فیہ اعجب

    والصبر فی النائبات صحب

    لکن فوات الثواب اصعب

    ولکم یرتجیٰ قریب

    والموت من کل ذات اقرب

    اردو شاعری میں اپنے استاد اور پیر و مرشد حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے غزلیں انہیں خوب یاد تھیں، اس کے علاوہ حضرت مخدوم سجاد ساجدؔ، خواجہ حیدر علی آتشؔ، اسیرؔ لکھنوی، امیرؔ مینائی، نظامؔ اور رضاؔ بریلوی کے اشعار پسند تھے۔

    مولانا واعظؔ کا ایک شعر ملتا ہے اور وہ یہ ہے۔

    یاں نکتہ چیں بہت ہیں نصیحت پذیر کم

    جو بات ہو سو حضرت واعظؔ جچی تلی

    آپ کی نشست اکثر خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ میں ہوا کرتی تھی، مولانا شاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی آپ کی قدر و منزلت کہیں زیادہ کرتے، بزرگوں کی قدیم روایت ہے کہ آج تک خاص طور پر کبھی بھی شاہ واعظ نے اپنے بھانجہ شاہ ظفر سجاد کو ظفر نہیں پکارا، ہرچند کہ آپ حقیقی بھانجہ تھے ہمیشہ ’’ظفر بابو‘‘ سے مخاطب کیا کرتے، آپ کی خصوصی نظر عنایت نے شاہ ظفر سجاد کی شخصیت کو واضح کردیا، شاہ ظفر سجاد اپنے خال محترم کا تذکرہ بڑے شد و مد سے کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت ماموں علیہ الرحمت نے جس قدر محنت و مشقت کے ساتھ مجھے تعلیم دی ہے، شاید کسی اور کو دیا ہو، ایک صبح کی بات تھی جب آپ نے یہ ماجرا سنایا کہ میں ہمیشہ مموں علیہ الرحمت کو ایصال ثواب کرتا ہوں مگر ایک روز میرے دل نے یہ سوال کیا کہ کیا وہ اُن تک پہنچتاہے، یہ سوال میرے لیے بوجھ سا معلوم ہونے لگا، لہٰذاکل رات میں نے خواب میں خال محترم کو دیکھا انہوں نے فرمایاکہ

    ’’ظفر بابو! آپ کا بھیجا ہوا ثواب مجھ تک پہنچتا رہتا ہے‘‘

    لہٰذا میں نے ٹھنڈی سانس لی اور خدا کا شکر ادا کیا، انتقال ۵؍ رمضان المبارک ۱۳۵۹ھ مدفن شاہ ٹولی کے آبائی قبرستان میں حضرت شاہ تراب الحق کے مزار کے پائیں ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے