بلند مقامی مخدوم جہانی حضرت سید جلال بخاری اکبرآبادی
آگرہ کے مقبول و معروف ترین بزرگ، صاحبِ فضل و کمالات و کرامات ہیں، تاج محل کے قریب دریا کے کنارے ایک بلند چبوترے پر مزار پُر انوار واقع ہے، درگاہ شریف سے مستفیض ہونے والوں کے اتنے قصے ہیں سب بیان کیے جائیں تو ایک دفتر درکار ہے، روزانہ کوئی نہ کوئی منت پورے ہونے کے شکریہ یا دعا کے لیے حاضر ہونے والے افراد کی تعداد سیکڑوں میں ہے محسوس ہوتا ہے ایک دربار لگا ہوا ہو۔
اؤلیاء اللہ کی ادنا شان یہ ہے کہ حکومت ختم ہو گئی، عہد گزر گیا، آشنا دنیا سے رخصت ہوئے، دعوےدار اور دعویٰ ختم ہوئے، سیاست داں ان کی سیاست بے حیثیت ہوئی لیکن ان کا روحانی فیضان جاری ہے جو نام کردار اور سیرت سے واقف نہیں وہ لوگ بھی ایک روحانی مقناطیسیت محسوس کرتے ہیں شرک و بدعت کا نارہ لگانے والے دیکھیں اللہ ہر دور میں ہر قوم و ملت کے لوگوں کو کیسے ان کے در پر فریادی بنا رہا ہے خیر! معین الآثار میں معین الدین اکبرآبادی لکھتے ہیں کہ
“آپ کا مزار ایک مرتفع مقام پر واقع ہے، خاصانِ خدا ہونے کے باعث اکثر اہل دنیا و اہل حاجات و درویش و اہل اللہ زیارت کے واسطے مزار پر جاتے ہیں، شاہ جہاں کو ان کے ساتھ کمال اعتقاد تھا اس حسن عقیدت کے باعث ان کو کسی وقت علیٰحدہ نہ کرتا تھا“ (صفحہ ۱۵۳)
آج حضرت سید جلال بخاری کا مزار مرکزِ عقیدت ہے، کہا جاتا ہے ایک دن میں کسی عرس میں ہونے والے لنگر سے زیادہ ۵ رمضان کو آپ کی درگاہ میں لنگر تقسیم ہوتا ہے، ہزاروں کی تعداد میں پوری دنیا سے وہ زائرین جو تاج دیکھنے آتے ہیں، عرس میں شریک ہوتے ہیں ہندو حضرات بھی کثرت سے لنگر کرتے ہیں، یہ منظر دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، عام دنوں میں بھی عقیدت مندوں اور جسمانی و روحانی مریضوں کا مجمع رہتا ہے، شہر میں آپ کی کرامات و بزرگ کی عظمت عام ہے، حسن صورت میں بے مثل کردار میں اپنے اسلاف کا پیرو والد بزرگوار نے تعلیم و تربیت میں آپ کو کامل کیا تھا علوم ظاہری و باطنی میں کمال حاصل تھا۔
ولادت : حضرت سید محمد بخاری کے گھر ۱۵ جمادی الثانئ ۱۰۰۳ھ احمد آباد گجرات میں ولادت ہوئی ولادت کی شعری تاریخ وارث رسول نکلتی ہے، حضرت سید میر مجمد بخاری نسباً حضرت شاہ عالم گجراتی رضوی بخاری کی پانچوی پشت یعنی اولاد میں سے ہیں، شاہ عالم حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت سہروردی کے نسب سے ہیں احمدآباد کے مشہور معروف قطب، صاحبِ تصرف بزرگ ہیں، شاہ عالم کی درگاہ مرجع خلائق ہے، سید محمد شاہ عالم صاحب کے والد برہان الدین قطب عالم کے نام سے مشہور ہیں، اپنے شیخ اور والد محمود کے حکم سے قصبہ تبوہ کو احمد آباد شہر سے تین کوس کے فاصلے پر ہے، سکونت اختیار کی ۸۵۷ ھ ۱۴۵۳ میں انتقال فرمایا، ان کے صاحبزادہ اور سجادہ نشیں شاہ عالم ۲۰ جمادی الثانی ۸۱۷ ھ/ ۱۴۱۴ء کو پیدا ہوئے ۸۸۰ھ / ۱۴۷۵ ء کو رحلت فرمائے، سید محمد بخاری قطب احمد آباد شاہ عالم کے سجادہ نشیں اور جانشیں ہیں، یہ خاندان ساداتِ گجرات میں ممتاز رہا ہے، میر سید محمد اپنے والد کے جانشیں اور علوم معرفت کے حقیقی وارث تھے، فقر و توکل فضل بزرگی سے موصوف تھے، جہاں گیر شاہ سلیم گجرات سے دریائے شور کی سیر کو روانہ ہوا اس وقت سید محمد کو بھی با کمال عظمت و توقیر اپنے ساتھ لیا، شاہ جہاں بھی دو مرتبہ سید جلیل القدر کی زیارت سے متفیض ہوا، آپ کا مزار روضہ شاہ عالم کے غربی جانب ایک گنبد کے اندر مزار مبارک ہے۔
دارالحکومت آگرہ تشریف آوری : والد کے فرمان سے دارالحکومت آگرہ شریف لائے شاہ جہاں نے عزت اور احترام سے اعزاز کیا پر وطن واپس ہوگئے دوبارا دارالخلافہ آگرہ میں رونق افروز ہوئے، غالبًا یہ صفر پشاور سے واپسی میں ہوا جو یہ روایت مشہور ہوئی کہ شاہ جہاں نے پشاور سے آپ کو بلایا تھا، ۷ شعبان ۱۰۵۲ ھ کو نہایت اصرار کے ساتھ منصب چہار ہزاری پیش کیا، صدارت ہندوستان پر موسوی خان فارغ کر کے معزز فرمایا، تھوڑے عرصہ میں شش ہزاری ہزار سوار کا منصب پیش کیا، صاحبِ مآثرلامرء رقمطراز ہے کہ اگر سید جلال بخاری کی عمر وفا کرتی کو تو اور عظیم ترقی حاصل ہوتی۔
سید جلال بخاری کی طبیعت شعر و سخن کے مناسب موزوں تھی، رضائی آپ کا تخلص ہے، آپ کی ایک فارسی رباعی بطور نمونہ ہدیۂ ناظرین ہوتی ہے۔
در نخوت و کبر لا علاجم چہ کنم
با آں کہ اسیر احتیاجم چہ کنم
می رم بہ نیاز و ناز دلبر نہ خشم
من عاشق معشوق مزاجم چہ کنم
دیگر
اے شاہ نہ تخت و نہ نگیں می ماند
از بہر تو یک دو گز زمیں می ماند
صندوق خود و کاسہ درویشاں را
خالی کن و پُر کن کہ ہمیں می ماند
نواب صمصام الدولہ شاہ نواز خاں مؤلف مآثرالامرا آپ کے حالات میں تحریر کرتے ہیں کے
ملا محمد صوفی مازندانی ایران سے ہندوستان میں آکر احمدآباد میں سکونت پزیر ہوئے، سید جلال بخاری کو محبت کے باعث تعلیم دیتے تھے، ان کو شعر گوئی میں ید طولہ حاصل تھا، ان کی صحبت سے آپ میں شعر گوئی کا ذوق پیدا ہوا
خافی خاں نے منتخب اللباب میں لکھا ہے کہ
سید جلال گرامی سید محمد رضوی مذکر بالا یعنی سید محمد رضوی کے بیٹے ہیں، حسن اخلاق حسن سیرت سے آراستہ تھے، اکثر علوم عقلی و نقلی پر بڑا عبور تھا، موزونی طبع حاصل تھے، کبھی کبھی زبان معرفت میں رنگین اشعار بھی کہتے تھے
یکم جمادی الاول ۱۰۵۷ ھ / ۱۶۴۷ ء کو عہد شباب و شہاب میں فردوس بریں کی راہ لی جانشین “حیدر کرار“ تایخِ وفات نکالی گئی، رحلت کے وقت آپ کے دو صاحبزادے ایک صاحبزادی تھے، ایک سید جعفر صورت و سیرت میں والد بزرگوار کے مشابہ تھے، جب حضرت جلال بخاری جب صدارت پر متعین ہوئے اس وقت سید جعفر کو روضہ شاہ عالم کا سجادہ نشیں کیا، دوسرے صاحبزادہ سید علی تھے، حضرت جلال بخاری صاحب کے وصال کے بعد منصب ہزاری دو سو سوار سے پانصد سوار تک ترقی دی کتب خانہ و نقاش خانہ کی دروغگی سے معزز کیا، لقب رضوی خان بھی بادشاہ نے پیش کیا، اسی طرح اورنگ زیب کے زمانے تک بہت نظرانہ جسے بارہ ہزار سالانہ پیش کیا لیکن سرکار بیگم جہاں آرا نے آپنا دیوان مقرر کیا صدارت عظیم تک سر بلند مراتب ملے باالآخر گوشہ نشیں اختیار کی، ذکر خدا میں مشغول ہوئے اؤلیاء اللہ اللہ کے حکم سے نظام دنیا کی زمینداری بھی مصلحت قبول کر لیتے ہیں، ان کا کوئی علاقہ دوسرے ظاہر دار امرا سے نہیں ہوتا، دونوں صاحبزادہ سید جعفر اور سید علی بالتحقیق نہ معلوم کہاں آرام کر رہیں، غالب گمان ہے کے حضرت جلال بخاری صاحب کے احاطے میں ہوں۔
درگاہ حضرت جلال بخاری شہر کے بڑے روحانی مرکز میں شمار ہوتا ہے، اس احاطے میں بہت سے عارف کامل آرام فرما رہے ہیں، جن میں ایک بزرک حضرت سید ضیاؤالدین بلخی شطاری سہروردی ہیں جو حضرت عنایت اللہ لاہوری کے خلیفہ ہیں سلسلۂ شطاریہ چشتیہ میں حضرت سید امجد علی شاہ قادری کے اول پیر و مرشد ہیں، مزار کے نیچے ان کا مزار ہے۔
ایک روایت جو لوگوں کی زبان پر عام ہے وہ یہ کہ تاج محل کی تعمیر کے دوران جو بھی پتھر بنا کر تیار ہوتا دوسرے دن ٹوٹا ہوا ملتا معماروں نے یہ مسئلہ بادشاہ سے عرض کیا تو بادشاہ نے حضرات سادات بخاری کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ اس کا حل کیجیے لہذا مسئلہ یہ تھا کے جاننا کا ایک قبیلہ وہاں موجود تھا جو عمارت بننے نہیں دینا چاہتا تھا حضرت احمد بخاری حضرت جلال بخاری حضرت محمد بخاری حضرت امجد بخاری نے تاج محل کو چاروں اطراف کی جانب بیٹھ کر شغل قرآنی اور حصال کیا، اسی دوران حضرت احمد بخاری کے مزار کے پاس ایک ٹیلہ ہے جو ساتھ سو حافظوں کے ٹیلے کے نام سے مشہور ہے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ یہ سب آپ کے حکم سے سنگ طراشی کے دوران تلاوت قرآن کرتے تھے، یہی وجہ تسمیہ ہے اس ٹیلہ کی آگرہ میں یہ روایت ہر بزرگ و بچے کی زبان پر عام ہے یقناً بادشاہ کے ہر کام میں بزرگوں کی دعا اور کرم ہمیشہ شامل حال رہی ہے، دہلی آگرہ اور پورے ہندوستان میں دورانِ تعمیر اس طرح کے واقعات کثرت سے ہوتے آئے ہیں، آگرہ جامع مسجد، دہلی جامع مسجد وغیرہ میں بزرگوں کی دعا کار فرما نظر آتی ہے لیکن بزرگوں کے ادب کے یہ بات خلاف ہے کہ ان کو محظ ایک محافظ خادم سلطنت کی طرح بیان کیا جائے، حضرت جلال الدین بخاری مخدوم زادے اور جلیل القدر عالم بکمال صوفی ہیں ان کو نوازنا خود سلطنت کا اعیزاز ہے۔
مصادر و مراجع : بوستان اخیار (صفحہ ۲۲، از سعید احمد مارہروی)، معین الآثار (صفحہ ۱۵۱،۱۵۲ ، ۱۵۳ ،۱۵۴، از معین اکبرآبادی) مرقع اکبرآباد (صفحہ ۶۰، از سعید احمد مارہروی)، اخبار الخیار از شیخ عبدالحق دہلوی)، منتخب اللباب (جلد دوم، صفحہ ۱۳۷،۱۳۸، از خافی خاں)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.