قطب عالم مدار اعظم نیاز بے نیاز حضرت شاہ نیاز احمد قادری چشتی سہروردی نقشبندی
قطب عالم مدار اعظم نیاز بے نیاز حضرت شاہ نیاز احمد قادری چشتی سہروردی نقشبندی
فیض علی شاہ
MORE BYفیض علی شاہ
من نور ذات حق اے صاحب بصیرت
در صورتم اگرچہ از خاک آفریدہ
(1155-1250 Hijri )
ولادت :
حضرت شاہ نیاز بے نیازؒ کی ولادت مبارکہ بروز چهارشنبه ۲۵/ربیع الاول ۱۱۵۵ھ ۳۰مئی۱۷۴۲ء ساڑھے چار بجے بوقت صبح صادق بمقام سر ہند محلہ پیر جی میں ہوئی ۔ یہ محلہ حضرت
امام ربانی مجد دالف ثانی کے روضہ شریف کے باغ سے مشرق و شمال جانب سڑک پار واقع ہے۔
(ص۔۲)
ولادت کی بشارتیں:
حضرت قبلہ کی والدہ ماجدہ کو ان کے شیخ حضرت محی الدین دیا سنامی قدس سرہ نے دو بار بیعت کیا تو موصوفہ نے دوبارہ بیعت کرنے کی وجہ دریافت کی آپ نے ارشادفرمایا کہ تمہارے بطن سے ایک صاحبزادے تولد ہوں گے اور میں اس وقت نہیں ہوں گا لہذا میں ان کی روح کو بیعت کرتا ہوں ۔ مولف ناز و نیاز کا بیان ہے کہ دوران حمل آپ کی والدہ صاحبہ نے ایک بار جناب سیدہ فاطمہ علیہا السلام کو خواب میں دیکھا کہ جس چھپر کھٹ میں تشریف فرما ہیں۔ بی بی صاحبہ نے اس کی جھالر کا ایک موتی توڑ کر مرحمت فرمایا ۔ اس موتی میں ریشم کی سی سرخی تھی جب اس سرخی کوموتی سے نکالا گیا تو دالان اور صحن سرخی سے بھر گئے لیکن موتی سے سرخی کم نہیں ہوئی ۔
معظمہ فرماتی ہیں کہ اس اثناء میں میری آنکھ کھل گئی ۔ میں بہت حیران تھی ۔ میں نے خواب کی تعبیر کے لیے حضرت پیرومرشد کی خدمت میں سنام کو عریضہ ارسال کیا ۔حضرت بہ نفس نفیس (سرہند ) تشریف لے آئے اور اس خواب کی تعبیر فرمایئ کہ تمہار بطن سے ایک حسین اور صاحب باطن لڑ کا پیدا ہوگا اور اس سے بہت سے آدمی مستفیض ہوں گے ۔)
نسب:
آپؒ کا نسب مبارک اپنے والد کی طرف سے علوی ہیں اور والدہ محترمہ کی طرف سے رضوی سید ہیں۔لیکن آپ ہمیشہ بوجہ ادب اپنے آپ کو سادات بنی فاطمہ سلام اللہ علیہا کا غلام کہتے تھے۔ کبھی آپ نے خود کو سید نہیں کہا۔
۱۸۵۷ء کے غدر کے زمانے میں آپ کے کتب خانے (لائبریری)میں آگ لگ گئی۔ہزاروں کتابوں کے ساتھ آپ کا آبائی شجرہ بھہ جل کر خاک ہو گیا جو معلومات تھیں اس کے مطابق آبائی شجرے کی کچھ پیڑھیاں اس طرح ہیں:-
قطب عالم مدار اعظم نیاز بے نیاز حضرت شاہ نیاز احمدؒ قادی چشتی ابنِ حاجی الحرمین حکیم شاہ محمد رحمت اللہ علوی سر ہندیؒ ابنِ حضرت شاہ ابراہیم علوی ملتانیؒ ابنِ شاہ کلمت اللہ علوی ملتانیؒ ابنِ شاہ آیت الہ علوی ملتانیؒ ابنِ شاہ حکمت اللہ علوی ملتانیؒ ابنِ شاہ احمد علوی اندر رجانیؒ۔
تعلیم:-
آپ کے خاندان کا یہ دستور تھا کہ جب کسی بچے کا مکتب ( بسم اللہ ) ہوتا تھا جو خاندان کے بزرگ ہوتے تھے یا جو اس وقت کامل شیخ سمجھے جاتے تھے وہ شیخ تبرکاً بچے کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیتے تھے۔ چنانچہ جب حضور قبلہ کا مکتب ہوا تو آپ کے نانا مولانا سعدالدین رضوی نے آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔ حالانکہ ان کی صاحب زادی اور آپ کی
والدہ حضرت بی بی غریب نواز کو یہ بات پسند نہیں آئی لیکن آپ خاموش رہیں۔ آپ
کے نانا مولا نا سعدالدین رضوی بڑے پاۓ کے بزرگ کامل تھے ۔ آپ حضرت شاہ شاہان شاہ نظام الدین اورنگ آبادی کے خلیفہ اور حضرت مولانا فخرالدین محمد دہلوی کے پیر ومرشد تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی شاہ غریب نواز نے چند ماہ کی عمر سے ہی آپ کی باطنی تعلیم و تربیت شروع کر دی تھی۔ جیسا کہ حضور قبلہ نے اپنے ایک شعر میں بیان فرمایا ہے: ۔
شیر مادر تھا یا شراب کہن
جس کا ہے یہ خمار آنکھوں میں
حضرت قبلہ کی عمر شریف ساڑھے چار ماہ تھی جب آپ کی والدہ ماجدہ نے عالم مثال میں ( خواب میں ) حضرت خاتون جنت کی زیارت کی۔ حضرت بی بی غریب نواز نے آپ کو حضرت خاتون جنت کے قدموں میں
ڈال دیا۔ جناب سیدہ ؑنے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا یہ ہمارا بچہ ہے ۔‘‘
حضرت مولانا فخر پاک نے کیونکہ مولانا سعید الدین رضویؒ بیبی شاہ غریب نواز کے والد اور حضور قبلہؒ کے نانا تھے سے باطنی فیض حاصل کیا تھا اس لئے وہ حضرت بی بی غریب نواز کو اپنی مرشد زادی سمجھ کر ان کا احترام کرتے تھے اور ہر جمعرات کو ان کے دروازے پر حاضری دیتے تھے۔ ان کی دہلیز ( چوکھٹ ) کو ہاتھ لگاتے اور اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتے پھر حضرت بی بی شاہ غریب نواز کوسلام کہلوا بھیجتے۔
حسب معمول ایک دن جب حضرت مولانا فخر الدین تشریف لائے تو بی بی شاہ غریب نواز نے ان سے کہلوایا کہ آپ میرے اس بچے کو اپنی تعلیم میں لیجئے اور اس کو تعلیم فرمائے‘‘۔ مرشد زادی کے حکم کے مطابق مولا نافخر پاک نے حضور قبلہ کی تعلیم و تربیت فرمائی لیکن بیعت نہیں کیا۔ مکتب کے بعد حضور قبلہ نیاز احمد صاحب کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوا اور صرف پندرہ سال کی عمر میں آپ نے تمام علوم ظاہر کی تعلیم مکمل کر لی ۔ تعلیم مکمل کر نے کے بعد استاد دستار بندی کرتے تھے۔ لیکن آپ کے استاد نے جب دستار بندی کرنی چاہی تو آپ نے شہر کے تمام عالموں کی تین دن تک دعوت اور ان سب سے کہا کہ آپ لوگ ہر علم اور ہر فن کے بارے میں مجھ سے سوالات کریں۔ اگر میں سب سوالات کے صحیح جواب دے دوں تب ہی میری دستار بندی کی جاۓ ورنہ نہیں۔ کچھ
لوگوں کو یہ بات پسند آئی اور کچھ کو نہیں آئی۔ چنانچہ تین دن تک سب ہی عالموں نے ہر
علم اور ہر فن پر آپ سے سوال کئے اور آپ نے سب سوالوں کے اطمینان بخش جواب دیئے۔ جب آپ اس امتحان میں بھی پورے اترے تو سب عالموں نے ایک زبان ہوکر کہا کہ ایسے محترم شخص جن کی قابلیت ایسی ہو کہ انہیں ہر علم فن میں مہارت ہو، بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں پھر سب ہی علماء نے مل کر استاد کے ساتھ آپ کی دستار بندی کی رسم ادا کی اور آپ کے سر پر دستار فضیلت باندھی اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ ظاہری تعلیم کے ساتھ آپ کی باطنی تعلیم کا سلسلہ بھی والدہ محترمہ کے زیر تربیت چلتا رہا۔
(کرامات نظامیہ مصنف مولوی محمد فائق نیازی, صفحہ 33,34,38,42)
بعیت:-
حضرت قبلہؒ نے جب مولانا فخر پاکؒ سے بیعت کی درخواست کی تو مولانا نے فرمایا ’’میاں تمہارے مکتب کے وقت تمہارے ہاتھ پر تمہارے نانا مولانا سعید الدین نے ہاتھ رکھا تھا۔ وہ میرے مرشد ہیں میں ان کے ہاتھ پر ہاتھ نہیں رکھ سکتا ۔‘‘ حضور قبلہ نے عرض کیا کہ وہ ہاتھ رکھنا میرے بچپن کا واقعہ ہے اور اس کی کوئی سند بھی نہیں ہے ۔ مولانا نے فرمایا کہ جب شیخ نے قبول کر لیا تو یہی سند
ہے ۔‘‘ حضور قبلہ نے فرمایا کہ بغیر بیعت کے فیض نہیں ہوسکتا۔ اگر بیت نہیں کرتے تو میں رخصت ہوتا ہوں ۔ معلوم ہوا کہ میری تقدیر میں آپ سے فیض حاصل کرنا نہیں تھا۔‘‘ جب مولانا فخر پاک نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا کہ’’میاں بیعت طالبی اختیار کرو‘‘۔ چنانچہ مولانا نے حضور قبلہ کے ہاتھ پر ہاتھ نہیں رکھا بلکہ اپنا دامن پکڑا کر بیعت فرمائی اور اس بیعت کا نام بیعت طالبی رکھا۔ اس کے بعد باطنی تعلیم شروع کی لیکن اپنے مرشد کے ادب کا لحاظ رکھتے ہوۓ مولانؒا نے حضورقبلہؒ کو بھی اپنا مرید یا خلیفہ نہیں کہا۔ صاحب زادہ سمجھ کر ہمیشہ’میاں‘‘ کہہ کر مخاطب کیا ۔لیکن تمام باطنی علوم اور تعلیم مکمل فرمائی ۔ جب حضور قبلہ کو بریلی جانے کا حکم دیا تو اپنی مسند اور تکیہ جو کھجور کے ریشوں کا بنا ہوا تھا عطا کیا۔ اپنے سر سے دستار اتار کر حضور قبلہ کو پہنائی اور آپ کو اپنا مسندنشین مقررفرمایا۔ یہ تبرکات آج بھی خانقاہ نیازیہ میں اسی طرح موجود ہیں ۔ اور خاص موقعوں پر ان کی زیارت کروائی جاتی ہے ۔اس کے علاوہ دو روپیہ روز خرچ کے لیے عطا فرماۓ جو آپ کو ہمیشہ ملتے رہے ۔حضور قبلہ نے اصرار کر کے مولانا کا حقہ بھرنے کی خدمت اپنے ذمہ لی تھی اور کسی دوسرے کو یہ خدمت انجام نہیں دینے دی۔ جب دہلی میں حضرت قبلہ نیاز احمد صاحب کے کمال اور مرتبے کی شہرت پھیلنے لگی تو کچھ حسد کرنے والوں نے یہ مشہور کر دیا کہ ان کو کسی سے بیعت ہی نہیں ہے۔ یہ سن کر حضور قبلہ بہت افسردہ ہوۓ ،کئی دن کے بعد جب آپ حضرت مولانا فخر پاکؒ کی خدمت میں حاضر ہوۓ ۔ صبح کا وقت تھا اور تمام مریدین قدم بوسی کے لیے حاضر تھے۔مولانا نے حضور قبلہ کی طرف دیکھ کر فرمایا’’میاں آج رات میں نے
پیران پیر حضرت بڑے پیر صاحب ( غوث الاعظم ) کی زیارت کی ۔ آپؓ نے تمہاری بیعت اپنے ہاتھ پر قبول فرمائی اور مجھ کو ایک صورت دکھائی گئی اور فرمایا کہ اپنی خاص
اولادوں میں سے ایک کو میں بھیجتا ہوں ۔ بظاہر ان کے ہاتھ پر بیعت مکمل کروا دینا۔
یہ سن کر حضور قبلہ نے مولانا فخر پاک کی قدمبوسی کی ۔ اس بات کو چھہ ماہ گزرے ہوں
گے کہ ایک دن مولانا فخر پاکؒ نے حضور قبلہ سے صبح فرمایا کہ میاں حضرت بڑے پیر صاحب فرماتے ہیں ہم نے اپنے بیٹے کو بھیجا ہے۔ انہیں دہلی پہنچے تین دن ہو چکے ہیں
اور تم ان کی آمد سے بے خبر ہو ۔‘‘ مولانا نے یہ فرما کر لوگوں کو تلاش میں بھیجا۔ ایک صاحب نے آکر اطلاع دی کہ بغداد شریف کے رہنے والے ایک صاحب جامع مسجد میں ملے ہیں۔ ان کا حلیہ وہی تھا جو مولانا کو خواب میں دکھایا گیا تھا مولاناؒ نے یہ سن کر مٹھائی منگوائی اور مٹھائی کو ایک تھال میں سجا کر اپنے سر پر رکھا اور حضور قبلہ کو لے کر جامع مسجد پہنچے تو دیکھا کہ مسجد کے بیچ کے در میں جو صاحب بیٹھے ہوئے ہیں وہ ہو بہو
وہی ہیں جن کی صورت بڑے پیر صاحب نے دکھائی تھی ۔ان بزرگ کا نام سید عبداللہ
بغدادی تھا۔
(کرامات نظامیہ مصنف مولوی محمد فائق نیازی, صفحہ ۳۸,۳۹,۴۳
خلافت:-
سید عبداللہ بغدادیؓ نے حضور قبلہؒ نیاز بے نیاز کو دیکھتے ہی ان بزرگ نے فرمایا انہیں کی صورت مجھے دکھائی گئی تھی اور انہیں کے لیے مجھے بھیجا گیا ہے ۔ اس گفتگو کے بعد مولا نا فخر پاک نے مٹھائی کا خوان سر سے اتار کر بغدادی صاحب کے سامنے رکھا اور آپ نے وہیں مسجد کے محراب میں دو رکعت ادا کی اور دعا کے بعد حضورقبلہ نیاز بے نیاز کی بیعت فرمائی ۔ ہر طرح کی تعلیم اور تلقین عطا فرمائی یشغل و اشغال عطا فرماۓ اور عربی زبان میں خلافت نامہ لکھ کر دیا جس پر پانچ مہریں لگی ہوئی تھیں ۔ اپنی دستار اور کچھ تبرکات بھی عطا فرماۓ اور اپنی صاحب زادی کا نکاح حضور قبلہ سے کر دیا۔ آپ کی یہ صاحبزادی جو حضرت نیاز بے نیاز کی پہلی بیوی تھیں ، چند سال بعد ہی انتقال
فرما گئیں ۔ان سے کوئی اولا نہیں ہوئی ۔ بعد میں حضور قبلہ نے دوسری شادی کی ۔ان بی بی صاحبہ سے آپ کے یہاں تین اولادیں ہوئیں۔ دو صاحب زادے اور ایک صاحب زادی ۔ صاحب زادی کا بچپن میں ہی انتقال ہو گیا۔ بڑے صاحب زادے شاہ نظام الدین صاحب ( تاج الاولیا ) اور چھوٹے صاحب زادے نصیر الدین حسین صاحب تھے جن سے سلسلہ نیازی کا فیض جاری ہوا ۔
( کرامات نظامیہ مصنف مولوی محمد فائق نیازی, صفحہ:۴۴)
شاعری:
فارسی شاعری:
حضرت قبلہ شاہ نیاز بےنیاز ؓ اپنے اسلاف کی مانند تالیف و تصنیف اور شعر گوئی میں بھی منہمک رہتے تھے تا کہ ان کے افکار رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں کو روشن اور ہمدرد بناسکیں۔
شاہ نیاز ۱۹ویں صدی نصف اول کے مشہور و معروف شعرا میں شمار کیے جاتے ہیں جنہوں نے حافظ و سعدی کی روایت کو آگے بڑھایا اور اپنے ہم عصروں مرزا غالب وغیرہ اور ۱۹ویں ۲۰ویں صدی کے مشہور ترین فارسی شاعر علامہ اقبال کو بھی متاثر کیا۔ اس طرح اپنے کلام کے ذریعے مذہبی منافقت کو دور کرنے کی کوشش کی ۔ پرواز تخیل میں ایک انفرادی پہچان کے مالک تھے کہ ایسی موزونیت کے ساتھ طبیعت کی جولانیاں دکھاتے کہ جب غزل لکھنے بیٹھتے تو مضامین کا ایک طوفان بر پا ہوتا جو وحدانیت کے
نغموں کو ڈھالتا ہوا مذہبی عصبیت کو بہائے جاتا۔ یہاں تک کہ ایک ہی زمین میں کئی کئی غزلیں موزوں ہو ۔نیاز صاحب رحمۃ اللہ علیہ
نے فارسی ادب کا مطالعہ خاصی دقیق النظری سے کیا تھا اور شاعر عرفان حافظ سے متاثر تھے۔ جس کی مثال حافظ کی پہلی غزل کے مطلع کے مصرعہ اولی الا یا ایها الساقی‘‘ سے کافی فیض اٹھایا ہے ۔ اور اس
ترکیب کو اپنے اشعار میں موزوں کیا ہے ۔
الا يا ايهـا السـاقـی بنو شان جام می مارا
که نشناسم ز مدهوشی سر از پا وز سر پا را
الا يا ايهـا السـاقـى بـده جـام مـی نـابـم
که افگنده ست هشیاری بلا در پیچ و در تابم
علامہ اقبال نے جن شخصیات سے فیض حاصل کیا ہے ان کے نام ضرور تھر تحریر کئے ہیں لیکن دو نام ایسے بھی ہیں جن سے اقبال نے فیض تو پایا لیکن ان کا تذکرہ کہیں نہیں کیا۔ ان میں پہلا نام شاہ نیاز بےنیاز کا ہے تو دوسرا میر تقی میر کا ۔ اقبال کے کلام میں’’ شاہین‘‘اور’’محمود وایاز‘ کی تلمیحات سے فائدہ اٹھایا گیا ہے۔ شاہین کا تصور شاہ نیاز ہی کی فکر رسا کا مرہون منت ہے فرماتے ہیں:
کی رسد شاهین فکر اندر هوای اوج تو
بی پرو بالست آنجا طائر طیار ما
یا
بصيد ما سوا شاهین همت کی فرود آرم
باوج قدس بهر او شکاری کرده ام پیدا
اسی طرح علامہ اقبال کے محمود و ایاز کی تلمیحات پر مبنی اشعار کے مضامین کا سلسلہ بھی شاہ صاحب کے کلام سے ملتا ہے۔ نیاز بے نیاز فرماتے ہیں:
درمیان جهان کهنه و نو
جان محمود در ایازمن است
اقبال کے فلسفہ عقل وعشق کا آغاز بھی شاہ صاحب نے بہت پہلے کر دیا تھا۔
به گوشم کی کند جا وعظ و پند واعظ و ناصح
که درمستان نباشد قدر و عزت مرد دانا را
شاہ نیاز اس دور کے نمایندہ شاعر ہیں جس دور میں ہندوستانی فارس دم توڑ رہی تھی لیکن سبک ہندی کا دندبہ قائم تھا۔ بیدل کے بعد ابھی غالب کا غلغلہ کم نہیں تھا۔ لیکن شاہ نیاز نے سبک ہندی کی پیچیدگیوں سے پر ہیز کرتے ہوئے نظام الدین اولیا کے اس مشورہ پر عمل کیا جو انہوں نے خسرو دہلوی کو دیا تھا کہ سبک خراسانی میں شاعری کرو ۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں’’ سبک بازگشت‘‘ کی گونج سے پہلے ہندوستان میں شاہ صاحب نے سبک خراسانی میں شعر گوئی کا آغاز کر دیا تھا اگرچہ کہا جاۓ تو بیجا نہ ہوگا کہ’’سبک بازگشت‘‘ کے موجد خود شاہ نیاز ہیں جن کی تمام غزلیں اسی سبک کی گواہ ہیں ۔ اپنے مضامین کوگل، بلبل، گیسو، بہار، خزاں، چمن ، ساقی وغیرہ سے مرصع کرنا اور ہر طرح کی دلچسپی بھی قائم رکھنا ۔ اپنے اشعار کو طرح طرح کی تشبیہات وصنعات سے مسجع کرنا۔ اور ان صنعتوں کے التزام میں بھی جدت طرازی سے کام لیتے۔
شاہ صاحب ہندوستانی تہزیب و تمدن کے دلدادہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بہار کے ساتھ ساتھ بسنت کا تزکرہ بھی کرتے ہیں۔ شاہ صاحب نے بسنت کے سلسلےمیں اردو زبان میں نہایت خوبصورت نظمیں موزوں کی کیں۔ وہ اپنے جدی مرشد خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کی کیفیت بسنت کے حوالے سے بیان کرتے ہیں:
خواجہ معین الدین کے گھر آج دھاتی ہے بسنت
کیا بن بنا اور سج سجا مجرے کو آتی ہے بسنت
شاہ صاحب کے کلام میں ایک عجیب سا بہاؤ ہے۔ انہیں ہر طرح کی ردیف کے استعمال پر
قدرت حاصل ہے ۔طویل ردیف کے الفاظ میں بھی وہ ایک انوکھا ترنم پیدا کرنے کا ہنر جانتے ہیں پھر ردیف میں تکرار پیدا کر دینا فارسی ادب میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ایک ایسی ہی ردیف میں شاہ صاحب کی غزلیں کمال کی کشش رکھتی ہیں پھر مضمون کا انتخاب ، اپنے لیے چند دعوے، اپنی نسبت کو
رسولوں ، نبیوں ،ائمہ اور ولیوں سے بڑے اعتماد کے ساتھ جوڑنا آسان کام نہ تھا جسے خوب نبھایا ہے۔
عيسـى مـريـمـى مـنم احمدؐ هاشمی منم
حـيـدرؑ شـيـر نـر مـنـم من نه منم نه من منم
كـعـبـه مـنـم حـرم مـنـم دير منم صنم منم مومن و برهمن منم من نه منم نه من منم
مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ شاہ نیاز کے کلام میں فارسی ادب کی نہایت بے بہا روایتیں اور مضامین کی جولانیاں دکھائی دیتی ہیں۔ خصوصاً مستزاد اور طویل ردیف پر دسترس انہیں فارسی کے دوسرے شعرا پر فوقیت کا تاج عطا کرتی ہے ۔ عرفانی ادب جو فارسی شاعری کا ایسا خزانہ ہے جس کی بدولت فارسی شاعری کو دنیا کے ہر ادب میں تراجم کے ذریعے جگہ دی گئی ہے۔ شاہ صاحب اس عرفانی ادب کے پاسبان ہیں ۔
اردوشاعری:
شاہ نیاز بریلوی کے اردو کلام کے مطالعہ کی روشنی میں یہ کہنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے تصوف کے دقیق فلسفیانہ مباحث کو بہت سلیس اور عام فہم کر کے نظم میں پیش کیا ہے۔ اس حوالے سے ان کا کلام سہل ممتنع مواد کی کثرت کے سبب اپنے عہد
کے بڑے شعرا کے درمیان نمایاں امتیاز اور انفرادیت کا حامل ہے۔ ان کے یہاں تغزل بہت نمایاں ہے اور شعری محاسن بھی انفرادیت کے حامل ہیں ۔ ان کی شاعری کی سلیس ، رواں دواں اور بے تکلف زبان دیکھ کر اس پر انیسویں صدی کے نصف اول کے بجاۓ بیسویں صدی کی زبان کا گمان گزرتا ہے۔ یہی وہ خصوصیت ہے جو ان کے کلام کو ممتاز بناتی ہے۔
شاه نیاز بریلوی کی شاعری کا بڑا حصہ فلسفہ وحدۃ الوجود پرمشتمل ہے اور انھوں نے اس فلسفے کو بہت آسان شکل میں اپنے کلام میں پیش کیا ہے۔ نظریہ وحدۃ الوجود کی تعبیرات مختلف ہیں ۔ یہ ایک پیچیدہ فلسفہ ہے، جس کے مطابق کائنات میں صرف اللہ تبارک و تعالی کی ذات موجود ہے’’لامـوجـود في الحقيقة الاالله ‘‘ باقی چیزوں کا وجود محض خیالی اور وہمی ہے ۔ ہر شئے میں اس کا حلوہ اور اظہار ہے ۔ کائنات کی ہر شئے جز اور ذات باری کل ہے۔ جز اپنے کل سے مل کر ہی تکمیل پاتاہے۔شاہ نیاز صاحب کے کلام میں اس نوع کے اشعار بہ کثرت موجود ہیں:
جسے دیکھنا محال تھا, نہ تھا اس کا نام و نشاں کہیں
سو ہر ایک ذرہ میں عشق نے ہمیں اس کا جلوہ دکھا دیا
اندھیرا اجالا ، نہاں اور عیاں
یہ جلوے ہیں سب جلوۂ یار کے
شاہ نیاز کی شاعری کا بہت نمایاں امتیاز
جذبہ عشق کا اظہار ہے۔ ان کی شاعری ذاتی تجربات اور قلبی واردات پرمبنی ہے ۔ان کے یہاں عشق کا جذبہ شدید ہے عشق ان کے رگ و پے میں سمایا ہے ، اور مضامین تصوف کے حوالے سے یہ ان کی اردو شاعری کا بہت اہم رجحان ہے:
کہیں عاشق نیاز کی صورت
سینہ بریاں و دل جلا دیکھا
(تاریخ ساز و ھمہ گیر شخصیت قطب عالم حضرت شاہ نیاز احمدؓ مدیران ڈاکٹر محمد عباس نیازی' ڈاکٹر محمد مختار عالم صابری,صفحہ 41,42,43,48,156.158,163)
خلفاء:
حضرت نیاز بے نیاز کے مرید اور خلفاء ہندوستان ، سندھ، بخارا ، کابل ، مصر
روم اور شام وغیرہ میں بھی پھیلے ہوئے تھے ایک اندازے کے مطابق ان کی تعداد آٹھ
نو لاکھ کے قریب تھی ۔ بہت سے خلفاء غیر ملکوں میں ایسے بسے کہ ان کا نام ونشان بھی
نہیں معلوم ۔ صرف کچھ ہی خلیفہ ایسے تھے جو خود بڑے پاۓ کہ بزرگ گزرے ہیں
اور جن کا نام معلوم ہے ۔ ان میں سے بعض بریلی شریف میں حاضر خدمت رہتے تھے
اور دوران تعلیم شغل واشغال سے ان کی تربیت کی جاتی تھی۔
حضورقبلہ کے چند مشہور خلیفاؤں کے نام
(۱) مولا نا ومرشد نا حضرت تاج الاولیا شاہ نظام الدین حسینؓ
سجاده نشین خانقاہ عالیہ نیازیہ) ۔)
(۲) مولوی عبداللطیف خاں سمرقندی
(۳) سید احمد علی صاحب شاه آبادی
(۴) سید حشمت علی صاحب شاه آبادی
(۵) مرزا اسد اللہ بیگ صاحب بریلوی
(۲ ) مولوی نعمت اللہ خان صاحب بخاری
( ۷ ) شاه بی شرف الدین صاحب رودولوی
(۸) سید صاحب شاہ زاده شمیر،اجمیر شریف
(۹) سید ضیاءالدین خان صاحب
(۱۰) حافظ وزیر خواجہ صاحب کا بل
(۱۱) عبدالرسول صاحب کا بل
(۱۲) مولوی محمد حسین صاحب ، مکہ معظمہ
(۱۳) محمد عبداللہ خان صاحب ،شاہجہانپور
(۱۴) مولا دادخان صاحب ،شاہجہانپور
(۱۵) میر محمد سمیع صاحب بدخشانی
(۱۶) مولوی یارمحمد صاحب شہید ، کابل
(۱۷) مسکین شاہ صاحب ولایتی ، جے پور
(۱۸) حکیم رحیم اللہ صاحب ، بچھڑانو
(۱۹) مولوی محمود عالم صاحب کھڑا نو
( ۲۰ ) بخش اللہ خان صاحب شاہ آبادی ، ہر دوئی
( ۲۱ ) مولوی عبدالرحمن خاں صاحب ، جاوره
( ۲۲ ) مولوی عبدالرحمن صاحب
(۲۳) غلام مولا خاں صاحب اکبر آبادی ،آگرہ
( ۲۴ ) ملاعیوض محمد صاحب بدخشانی
(۲۵) محمد کفایت اللہ خان صاحب
(۲۶) محمد عثمان خان صاحب وز یرخیلی ، کابل
( ۲۷ ) ملا جان محمد صاحب اخوان ، کابل
(۲۸) مولوی عبید اللہ صاحب پھیلی
(۲۹) حاجی ہاشم صاحب دیو غالبی ،کا بل
(۳۰) مخدوم عبدالشہید صاحب، یارقندی
(کرامات نظامیہ مصنف مولوی محمد فائق نیازی, صفحہ 49,85,86,87)
سجاده نشين:
۱۔حضرت تاج الاولیاء شاہ نظام الدین حسین
حضرت قبلہ شاہ نیاز بے نیاز کے جانشین اول آپ کے خلف اکبر حضرت شاہ نظام الدین حسین ہیں۔جن کی ولادت بروز چہار شنبہ یکم صفر ۱۲۳۶ھ/۸ نومبر ۱۸۲۰ء میں ہوئی۔آپ کا لقب تاج الاولیاء ہے۔آپ کی تصانیف میں مرآت الحقیقت و رسالہ سکر و صحو مایہ ناز ہیں۔آپ کا وصال بروز پنج شنبہ یکم رمضان المبارک ۱۳۲۲ھ/۱۰ نومبر ۱۹۰۴ء میں ہوا۔
ظاہری تعلیم حضرت نے مولوی عبیداللہ صاحب بدخشانی اور مخدوم عبدالشہید
صاحب بدخشانی سے حاصل کی اور تصوف کی تعلیم اپنے والد ماجد حضورقبلہ نیاز بے نیاز سے حاصل کی ۔حضور قبلہ نے دوسرے سب ہی مریدوں کی تعلیم حضرت کے سپر دکر دی تھی اور یہ کام برابر کرتے رہے۔ جب آپ کی عمر کے پندرہ سال پورے ہو گئے تو ایک دن حضور قبلہ نے اپنے تمام خلیفاوؤں ، مریدوں اور دوسرے معزز شہریوں کو جمع کیا۔ حضرت کو زبردستی اپنی مسند پر بٹھایا اور اپنے سر سے دستار اتارکر حضرت کے سر پر
رکھی پھر سامنے کھڑے ہوکر دوروپیے نزر کیے اورفرمایا کہ یہ وہ دوروپے ہیں جو حضرت
مولانا فخر پاک نے دستار خلافت اور مسند عطا کرتے وقت دیئے تھے‘
(تاریخ ساز و ھمہ گیر شخصیت قطب عالم حضرت شاہ نیاز احمدؓ مدیران ڈاکٹر محمد عباس نیازی' ڈاکٹر محمد مختار عالم صابری,صفحہ ۲۸۶ )
(کرامات نظامیہ مصنف مولوی محمد فائق نیازی, صفحہ 103)
بعد ان کے خلف اکبر حضرت تاج الاولیاء شاہ نظام الدین حسین صاحب سجادہ نشین ہوۓ ۔ حضرت شاہ نظام الدین حسین بڑے پایہ کے بزرگ تھے۔ ہزاروں عقیدتمندان کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے
۷۰ سال مسند عالیہ نیازیہ پر رونق افروز رہے آپکے مریدین و خلافہ میں ہندوستان کے بڑے بڑے بزرگ ہوئے ہیں حضرت تاج الاولیاء کے عہد میں خانقاہ کی شان و عظمت بہت فروغ ہوا
۔حضرت سراج السالکین شاہ محی الدین صاحب قادی چشتی نیازی سجادہ نشین-
حضرت تاج الاولیاء شاہ نظام الدین حسین کے وصال کے بعد ان کے صاحبزادے سراج السالکین حضرت شاہ محی الدین
سجادہ نشین و جانشین ہوۓ۔
حضرت سراج السالیکین شاہ محی الدین احمد چشتی قادری نیازی ؓ
حضرت قبلہ کی ذات بابرکت جامع علوم صوری و معنوی تھی ۔ آپ میں نسبت خالصہ مرتضویہ اس قدر غالب تھی اس کا اندازہ اس وقت ہوسکتا ہے جب آپ کی عادات واطوار کو حضرت مولاۓ کائنات کے اطوار کے مطابق کر کے دیکھا جاۓ تو کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا۔ بقول مصنف سراج السالکین سرکار راز بریلوی:
حقیقت میں یہ حیدر ہیں جو چاہو مانگ لو ان سے
کھلا ہے آج میخانہ محی الدین احمد کا
چراغ خاندان مرتضی ہے ذات پاک ان کی
یہی ہے بالیقیں چشم و چراغ شیر یزدانی
آپ سیرت محمدیہ اور صورت حیدریہ کے پیکر تھے۔ باوجود اس قدر رعب وسطوت حیدری کے خلق محمدی اس قدر غالب تھا کہ’’انّکَ لعلیٰ خلق عظیم ‘‘ کے سراپا مصداق تھے۔ آپ کی ذات سے جس قدرخرق عادات اور کرامات اظہار میں آئیں ممکن نہیں کہ احاطہ تحریر میں آ سکیں کیوں کہ آپ جس کے عاشق تھے ان کا لقب مظہر العجائب والغرائب ہے۔
آپ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلبیت اور وصی و ولی کے عشق میں فنائیت کے درجہ پر تھے اوران کی خاص روحانی اخلاقی تعلیمات کے امین تھے۔
۳۔امام السالکین محبوب حق حضرت شاہ محمد تقی عزیز میاں صاحب
پھر حضرت سراج السالکین کے نواسے حضرت شاہ محمد تقی عزیز میاں صاحب سجادہ نشین ہوئے ۔ وہ راز تخلص
کرتے تھے۔ان کے شعر میں ترنم اور سوز کی فراوانی پائی جاتی ہے انھوں نے شاہ نیاز احمد صاحب کے کچھ اشعار کی تضمین کی ہے۔ جن
میں راز و نیاز کی باتیں بڑے انداز سے کہی ہیں ۔
حضرت قبلہ شاہ نیاز بے نیاز ؓ کی خانقاہ کو حضرت امام السالکین عزیز میاں کے زمانے میں بڑی مقبولیت اور شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی شخصیت میں بڑی کشش تھی ۔متعلقین اور منسلکین سلسلہ سے ان
کے روابطہ بہت گہرے اور مخلصانہ تھے۔
(تاریخ ساز و ھمہ گیر شخصیت قطب عالم حضرت شاہ نیاز احمدؓ مدیران ڈاکٹر محمد عباس نیازی' ڈاکٹر محمد مختار عالم صابری,صفحہ ۲۸۲)
۔
۔امام المحبین حضرت شاہ محمد حسن سجاد قادری چشتی نیازی ؓ
حضرت شاہ مجمد تقی امام السالیکین نے ۱۷ جنوری ۱۹۶۸ء کو وصال فرمایا ان کے بعد حضرت شاہ مجمد حسن سجاد حسن میاں صاحب
سجادہ نشین ہوۓ ، انھوں نے کل ۵۴ سال کی عمر پائی اور ٫۱۸ جون ۱۹۸۰ء کو رحلت کی ۔
سیدالعاشقین سندالمعشوقین حضرت شاہ محمد حسنین المعروف حسنیٰ میاں صاحب ؓ
ان کے بعد ان کےبڑے صاحبزاد حضرت شاہ محمد حسنین معروف حسنی میاں صاحب جانشین و سجادہ نشین ہوئے۔
جانشین:
فخر العشقین سند المعاشوقین سیدنا مرشدنا حضرت شاہ محمد حسنین معروف حسنیٰ میاں صاحب نے قبل از وصال حضرت قبلہ شاہ محمد مہدی میاں صاحب نیازی کو اپنا جانشین و سجادہ نشین کیا آج الحمد اللّٰہ آپ زیب سجادہ ہیں آپ کی ذات سطودہ صفات سے لاکھوں لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں آپ کی ذات اپنے اسلاف و اجداد کے طریقوں کے مطابق ہے بلکہ ان کے عین ہیں خانقاہ کی رونق اور نظم و نسق مومنانہ فراصت سے تبلیغ و اشاعت کا کام سرانجام دے رہیں۔
سلسلہ نیازیہ اور تبلیغ دین:
حضرت مولانا فخر پاکؒ نے آپ کو اپنی خلافت سے سرفراز فرما کر بریلی میں اقامت کی ہدایت دی۔ بریلی پہنچ کر آپ نے اپنی خانقاہ قائم کی ۔ جو بہت جلد بقول مولا نا سرور’’ معدن‘‘ فیوض ربانی اور مطلہ انوار سجانی بن گئی۔ دور دور سے لوگ آپ کی صحبت سے فیض حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ پروفیسر خلیق احمد نظامی ’’تاریخ مشائخ چشت‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔
’’اٹھارویں صدی میں چشتیہ نظامیہ سلسلہ کو ہندوستان میں جو فروغ ہوا وہ مولا نا فخرالدین صاحب دہلوی کے دو مریدوں کی کوشش کا نتیجہ ہے ۔نور محمد صاحب نے پنجاب میں اور شاہ نیاز احمد صاحب نے یو پی میں اس سلسلہ کوخوب پروان چڑھایا‘‘۔
حضرت قبلہ شاہ نیاز بے نیاز ؓ کو حدیث نبوی میں خصوصی عبور حاصل تھا، جس کا درس وہ تمام عمر دیتے رہے۔ اس طرح اکابر صوفیہ کی طرح آپ علوم ظاہری اور باطنی دونوں ہی سے آگاہ تھے۔سلسلہ چشتیہ میں آپ کی نسبت سے ایک سلسلے کی ابتدا ہوئی جو نیاز یہ کے نام سے مشہور ہے۔
آپؒ نے رسول پاک اور اولادِ رسول پاکﷺ کی تعلیمات کی تبلیغ و اشاعت کی اور مخلوق خدا کو بذریعہ اصلاح قلب خدا تک پہنچانے اور ان کی عاقبت درست کرنے کے فرائض انجام دیے۔ آپ نے ہر طبقے کی خدمت اپنا فرض سمجھا کیوں کہ آپ مظہر رحمت العالمین تھے اس لیے بلا تفریق مذہب وملت وفرقہ آپ نے قوم کی رہبری فرمائی ہر طبقے کی خدمت کی لیکن کسی طبقے میں میں مدغم نہیں ہوئے۔
آپؒ نے ۹۵/ سال کی عمر تک لاکھوں نفوس کو فنافی اللہ کی منزل تک پہنچایا اور کلمہ گو کے سینوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر دیا۔ آپنے اہل سنت والجماعت کے اندر عشق حقیقی کی روح پھونکی اور اسے تنگ نظری و کفر سازی کی آلودگیوں سے بچایا۔ آپ نے بھی اپنے ملک ومشرب کے مخالف مسالک وفرقوں یا
شخصوں پر تقریر یا تحریر میں نکتہ چینی نہیں کی نہ کسی کے خلاف کفر سازی کی تلوار چلائی بلکہ آپ نے علم نبیﷺ جو آپ کو باب علم مولاۓ کائنات کے روحانی فیض سے حاصل ہوا تھا اس علم کی روشنی سے جہالت کا اندھیرا دور کر کے علم کی روشنی سے سماج کو جگمگا دیا۔ اور اس روشنی کے ذریعہ نہ صرف اہل اسلام بلکہ غیر مسلموں کو بھی اسلام کی حقیقت سے روشناس کرایا۔ اور اپنے محاذ کو مضبوط رکھنے کا اصول پیش نظر رکھا جیسا کہ آپ کے کلام سے ظاہر ہے ۔
دنیا کے نیک و بد سے کام ہم کو نیاز کچھ نہیں
آپ سے جو گذر گیا پھر اس کو کیا جو ہوسو ہو
مختصر یہ کہ اولیا اللہ مومن ساز وار انسانیت نواز ہوتے تھے جو اپنے عمل، اخلاق، عادات جو
سرکار کائنات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور معجزات عطا ہوۓ تھے ۔ اسی نکتہ نظر کو پیش نظر رکھ کر دین مبین کی
تبلیغ کرتے تھے۔
حضرت قبلہ شاہ نیاز احمد صاحب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اپنے مدرسہ و خانقاہ میں علم وعرفان کی محفلیں سجائیں اور اس روشنی سے جو بھی سرفراز ہوا چاہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم اس نے دنیا کو اپنے علم وفن سے فیض پہنچایا منتخب افراد جیسے کندن لال، راجہ منولال فلسفی انھوں نے علم ریاضی و فلسفہ میں کمال حاصل کیا اس کے علاوہ راجہ رتن ناتھ نمی شاہ آل رسول مارہروی نے بھی آپ ہی سے تصوف تفسیر وغیرہ میں خاص تعلیم حاصل کی اور آپ نے ایک دو رسالہ بھی ان کے لیے تصنیف کیا۔
( کرامات نظامیہ )
اس طرح سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ آپ نے علم معرفت جو علم سینہ ہوتا ہے اور اللہ کی عنایت سے عطا ہوتا ہے اس سے تشنہ گان معرفت کو سیراب کیا اور ساتھ ساتھ دنیاوی تمام علوم وفنون سے بھی دنیا کوفیض یاب کیا۔
برصغیر ہند و پاک میں دو جلیل القدر سلاسل طریقت سلسلۂ چشتیہ قادریہ کی علم برداری ہر ہر طرح سے ثابت کی اس وجہ سے تمام دیگر سلاسل بھی آپ کے سلسلے میں شامل ہو گئے۔
حضرت قبلہ شاه نیاز بے نیاز ؓ نے ۲ جمادی الاخری ۱۲۵۰/۱۸۳۴ کو بمقام بریلی ۹۵ سال کی عمر ظاہر میں وصال فرمایا
ماخذ و مصادر:
۱۔ کرامات نظامیہ مصنف مولوی محمد فائق نیازی, صفحہ:۳۸,۴۴,۳۹ ,۳۲,۳۳,۳۴,۴۲,۱۰۳,۳۰۱
۲۔ حضرت شاہ نیاز بے نیاز بریلوی از مسعود حسین نظامی از گوہر میاں۔ص:
۲,۲۷۴,۲۸۰, ۲۸۶
۳۔تاریخ ساز و ھمہ گیر شخصیت قطب عالم حضرت شاہ نیاز احمدؓ مدیران ڈاکٹر محمد عباس نیازی' ڈاکٹر محمد مختار عالم صابری,صفح
ہ۴۱,۴۲,۴۳,۴۸,۱۵۶,۱۵۸,۱۶۳,۲۸۲
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.