تذکرہ مولوی سید محمد اسحٰق خاموش شاہ
آپ کا نام نامی محمد اسحٰق جو موتیہاری کے باشندہ اور سادات گھرانے کے چشم و چراغ تھے، موتیہاری شہر کے مدرسہ میں مدرس اعلیٰ کے عہدے پر فائز تھے، درس و تدریس کے بعد جو وقت بچتا، اسے اذکار و اوراد اور یاد الٰہی میں صرف کر دیتے، آپ کم سخن اور تنہائی پسند تھے، آپ حضرت مولانا سید تصدق علی شاہ سے شرفِ ارادت و خلافت سے بہرہ مند ہوئے اور شاہ خاموش کا لقب پایا، آپ نے اپنی ولایت کو عوام سے مخفی اور اپنے احوال و کوائف کو دنیا داروں سے پوشیدہ رکھا۔
آپ نہ صرف عالمِ باعمل تھے بلکہ استاد شاعر بھی تھے، آپ کو تاریخ گوئی پر ملکہ حاصل تھا، آپ کی فارسی میں ایک طویل شجرۂ منظومہ صابریہ امجدیہ بطور یادگار ہے، جو خانقاہ امجدیہ کی ذیلی شاخ خانقاہ اسدیہ مرادیہ میں رائج ہے جس کے ابتدائی اشعار پیش خدمت ہیں۔
اے کہ ذاتِ تست رب العالمیں
اے کہ زیبندہ ز تو عرش بریں
اے منزہ ذاتت اس عدم و زوال
اے کہ آمد نام پاکت زوالجلال
اے رحیم ماوائے رحمان ما
اے دلیل ماواے برمان ما
اے جانِ ما فدائے نام تو
اے کہ سرشاریم ما جام تو
اے کہ از ہستی تو ہستی ما
اے ز تو رندی وہ سرمستی ما
اے کہ تو گفتی قل ھو اللہ احد
اے کہ بے شک ہستی اللہ الصمد
اے عفور ماواے غفار ما
اے رؤف ماوائے ستار ما
اے توئی در ظاہر و ہم در نہاں
ہم جہاں ہستی و ہم جان جہاں
اے زجامت شبلی و منصور مست
اے برقص اندر ز تو ہر انچہ ہست
بہر حقانیت خود اے کریم
ہم بہ وحدانیت تو اے رحیم
اس شجرہ میں اپنے جد طریقت اور پیر طریقت کے نام کو یوں شامل کیا ہے۔
ہم بشیخ امجد علی پیر طریق
باش ہر لحظہ بمن نعم الرفیق
بہر حضرت شیر شاہ پاک باز
دور داریم از راہ حرص و آز
حضرت سید امجد علی شاہ کے وصال پر قطعۂ تاریخ رقم فرمایا تھا جو مندرجہ ذیل ہے۔
چوں قطبِ زماں شاہ امجد علی
حقیقت نما تا کہ پوشیدہ بہ
بگوشم ز ہاتف رسید ایں ندا
بتنذیہہ حق نور پیوست زہ
١٣٢٨ھ
کافی جدوجہد کے باوجود آپ کا سنِ وصال اور جائے مدفن معلوم نہ ہوسکا ہنوز تحقیق جاری ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.