تذکرہ حضرت شاہ امید علی
حضرت حاجی مولوی منشی امید علی شاہ موضع کراڈانگی، ہیمتا آباد، اتر دیناج پور کے ایک معزز اور معتمد رئیس خاندان میں 1887ء میں بدرو محمد سرکار کے گھر پیدا ہوئے، آپ کے دادا کا نام نکو محمد تھا، معلمی اور زراعت آپ کا پیشہ تھا، کراڈانگی کی بیشتر اراضی آپ ہی کی زیرِ کاشت تھی، جس کے باعث علاقے میں آپ کو عزت و وقار کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
آپ بظاہر دنیاوی دولت سے مالا مال تھے مگر جب حضرت سید شاہ تصدق علی سے بیعت و ارادت کا شرف حاصل ہوا تو دولتِ فقر و معرفت سے بھی سرفراز ہوگئے، سلوک و طریقت کی منازل طے کرنے کے بعد آپ کو اجازت و خلافت سے بھی نوازا گیا، آپ کراڈانگی کی مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے تھے، بیشتر اوقات تلاوتِ قرآنِ مجید میں گزرتا اور راتیں عبادت و ریاضت میں بسر ہوتیں، آپ کی رشد و ہدایت کی محفلیں ہمیشہ آباد رہتیں اور پورا موضع آپ کا معتقد و گرویدہ تھا، آج بھی اہلِ علاقہ آپ کی بزرگی، تقویٰ اور روحانی عظمت کے معترف ہیں۔
آپ نے اپنے موضع میں سب سے پہلے حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کا شرف پایا، بعد ازاں 1970ء میں دوبارہ زیارتِ حرمین شریفین کا اشتیاق پیدا ہوا، روانگی سے قبل آپ نے اہلِ موضع سے ملاقاتیں کیں اور پھر سفرِ حج پر روانہ ہوئے، ارکانِ حج کی ادائیگی کے بعد اسی مقدس سر زمین میں وصال فرمایا اور وہیں مدفون ہوئے۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسنِ سیرت کے ساتھ حسنِ صورت سے بھی نوازا تھا، آپ درمیانہ قد، گول چہرے، صاف رنگت اور نہایت پُرکشش شخصیت کے مالک تھے، زلفیں اور ریشِ مبارک لمبی تھیں، آپ عموماً لمبا کرتا اور تہمد زیبِ تن فرماتے، نہایت شریف النفس، سنجیدہ مزاج، غریب نواز اور خوش اخلاق انسان تھے۔
آپ کی اہلیہ محترمہ بی بی خیر النسا کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے چار نیک سیرت فرزند عطا فرمائے۔
معین الدین، رفیع الدین، حاجی ماسٹر شکرالدین اور حاجی مہدی حسن۔
وقت گزرنے کے ساتھ یہ خاندان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ترقی کرتا گیا، فی الحال یہ خاندان تقریباً چالیس گھروں پر مشتمل ہے، جبکہ کل آبادی دو سو نفوس سے متجاوز ہوچکی ہے۔
حضرت امید علی شاہ نے 1965ء میں اپنے آبائی وطن کراڈانگی، اتر دیناج پور، مغربی بنگال میں ایک عظیم دینی و روحانی مرکز کی بنیاد رکھی، یہ ادارہ آپ کے جد طریقت حضرت سید امجد علی چشتی صابری کی نسبتِ پاک کے اظہار و احیا کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس مرکز کو “مدرسہ امجدیہ” کا مبارک نام دیا گیا جو بیک وقت مسجد اور دینی تعلیم و تربیت کا مرکز تھا۔
وصالِ مبارک کے بعد آپ کی روحانی نسبت اور فیوض و برکات کی یاد کو تازہ رکھنے کے لیے اس ادارے کا نام “مدرسہ امجدیہ امیدالعلوم” رکھا گیا، یہ مدرسہ آج بھی اپنے بانیان و مورثین کی روحانی برکتوں، خدمتِ دین کی درخشاں روایت اور تعلیم و تربیت کی روشن شمع کو فروزاں کیے ہوئے ہے، اس وقت اس ادارے کے صدر مدرس، امام و خطیب مولانا سیف الاسلام ساکن بامور معمور ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.