Font by Mehr Nastaliq Web

تذکرہ حضرت قاضی سید محی الدین جیلانی

التفات امجدی

تذکرہ حضرت قاضی سید محی الدین جیلانی

التفات امجدی

MORE BYالتفات امجدی

    قاضی سید محی الدین جیلانی جو عوام و خواص میں “للن بابو” کے نام سے مشہور و معروف تھے، اپنی شرافت، وجاہت، خوش اخلاقی اور عوامی خدمت کے سبب سیوان کی ایک ممتاز اور ہر دل عزیز شخصیت شمار کیے جاتے تھے، آپ کا آبائی وطن موضع قاضی پور، ڈاکخانہ سکندر پور، ضلع بلیا تھا، آپ کے والدِ گرامی سید کبیر عالم پولیس انسپکٹر کے منصب سے سبکدوش ہوئے تھے، دورانِ ملازمت بنارس، سردار نگر، گورکھپور اور دیگر اہم مقامات پر اپنی خدمات انجام دیں۔

    قاضی سید محی الدین جیلانی کی ولادت یکم جنوری 1950ء کو شہر بنارس میں ہوئی، آپ کے دادا سید محبوب عالم، قاضی پور بلیا کے ایک معروف زمیندار تھے، آپ کا ننھیال موضع فیروز پور، سیوان میں تھا جو شہر سیوان سے تقریباً پندرہ کلومیٹر جنوب کی جانب واقع ہے، آپ کی والدہ محترمہ فہیم النسا نے بعد ازاں اپنے میکے ہی میں سکونت اختیار کر لی تھی۔

    آپ کی ابتدائی تعلیم بنارس میں ہوئی جبکہ مزید تعلیم سینٹ اینڈریوز اسکول، گورکھپور (Saint Andrew’s School) میں حاصل کی، بعد ازاں گورکھپور یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم مکمل کی، فراغت کے بعد آپ نے ایئر فورس میں ملازمت اختیار کی مگر چند ہی دنوں بعد اس ملازمت کو خیر باد کہہ دیا اور مستقل طور پر سیوان کے محلہ پُرانا قلعہ میں سکونت پذیر ہوگئے، زمانۂ طالب علمی ہی سے آپ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل تھے، اسکول اور یونیورسٹی دونوں جگہ طلبہ کے درمیان نمایاں مقام رکھتے اور اکثر طلبہ کی قیادت کرتے تھے۔

    آپ کو مطالعہ کا غیر معمولی شغف تھا۔ کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے، بالخصوص انگریزی زبان پر آپ کی گرفت قابلِ رشک تھی، شکار سے بھی دلچسپی تھی، آپ نہایت نفیس المزاج، شیریں گفتار اور خوش اطوار انسان تھے، اخلاقِ حسنہ نے آپ کی شخصیت کو اس قدر دل آویز بنا دیا تھا کہ جو شخص ایک بار آپ سے ملتا آپ کا گرویدہ ہو جاتا، سیوان کے سماجی، سیاسی اور انتظامی حلقوں میں آپ کے وسیع تعلقات تھے، ضلع کے تقریباً ہر محکمہ کے اعلیٰ افسران سے مراسم قائم تھے اور انہی تعلقات کو آپ عوامی خدمت کے لیے استعمال کرتے تھے۔

    1972ء میں آپ کی شادی محترمہ نظر افروز عرف نجمہ بنت سید انوارالحق، ساکن داؤد پور، چھپرا سے ہوئی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو صاحبزادگان، جناب یاسر جیلانی اور جناب عامر جیلانی، نیز تین صاحبزادیوں، محترمہ ریشما علی، محترمہ شہلہ قاضی مرحومہ اور محترمہ عائشہ قاضی سے نوازا۔

    سیوان شہر نے آپ کو بے حد محبت و پذیرائی بخشی، 1980ء کی دہائی کے اوائل میں آپ شہر کی توجہ کا مرکز بن گئے، 1988ء میں آپ نے محلہ پُرانا قلعہ سے وارڈ کونسلر کا انتخاب کامیابی کے ساتھ لڑا اور نمایاں کامیابی حاصل کی، آپ نے مدرسہ یتیم خانہ کے سکریٹری کی حیثیت سے بھی قابلِ قدر خدمات انجام دیں، اس سے قبل آپ کانگریس (آئی) کے ضلع سکریٹری منتخب ہو چکے تھے، 1995ء میں کانگریس (آئی) کے ٹکٹ پر اسمبلی کا انتخاب بھی لڑا، اگرچہ کامیابی نہ مل سکی، تاہم آپ آخر دم تک پارٹی سے وابستہ رہے۔

    آپ کی زندگی کا ایک نہایت روحانی اور تابناک باب 1992ء میں اس وقت شروع ہوا جب آپ کی ملاقات حضرت سید شاہ صغیر احمد امجدی (سجادہ نشیں خانقاہ امجدیہ، سیوان) سے ہوئی، یہ تعلق ابتدا میں عقیدت سے شروع ہوا اور رفتہ رفتہ گہری روحانی وابستگی میں تبدیل ہوگیا، آپ حضرت والا کے دستِ حق پرست پر بیعت و ارادت سے مشرف ہوئے اور ان کی مجالسِ رشد و ہدایت میں گھنٹوں شریک رہنے لگے، حضرت موصوف کی آپ پر خاص شفقت و عنایت تھی، جب بھی حضرت کو میرٹھ، مجھولی، بنارس، پٹنہ، چھپرا یا دیگر مقامات کا سفر درپیش ہوتا، اکثر آپ کو اپنے ساتھ رکھتے۔

    آپ نے پوری سنجیدگی کے ساتھ راہِ تصوف اختیار کر لی تھی، تصوف کی کتابوں کا مطالعہ آپ کا محبوب مشغلہ بن گیا تھا اور حضرت والا کی گفتگو سننا روزمرہ کا معمول، غیر ضروری مصروفیات اور بے مقصد ملاقاتوں سے کنارہ کش ہو کر آپ نے اپنی زندگی کو ایک روحانی سانچے میں ڈھال لیا تھا۔

    1996ء میں آپ سیوان سے دہلی منتقل ہوگئے مگر خانقاہ امجدیہ کے سالانہ چھ روزہ عرس میں شرکت کبھی ترک نہ کی، آپ اپنی اہلیہ محترمہ کے ہمراہ پابندی سے عرس میں شریک ہوتے اور عقیدت و محبت کے ساتھ نذرانۂ عقیدت پیش کرتے، آپ کی اہلیہ بھی سلسلۂ ارادت سے وابستہ تھیں۔

    2008ء میں آپ کو حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی، اس کے علاوہ آپ نے سعودی عرب، عمان، ترکی، سنگاپور، تھائی لینڈ اور دیگر ممالک کا سفر بھی کیا، راقم الحروف پر آپ کی خاص شفقت تھی، آپ ہمیشہ مخلصانہ مشوروں اور محبت آمیز رہنمائی سے نوازتے، دہلی میں آپ کی قیام گاہ پر خاکسار کو بارہا قیام کا شرف حاصل ہوا۔

    بالآخر 17 شوال 1442ھ مطابق 30 مئی 2021ء بروز اتوار، شب تقریباً گیارہ بجے، دہلی کے ایل این جے پی ہاسپٹل میں آپ کا وصال ہوا، اگلے روز، 31 مئی 2021ء کو صبح دس بجے، آپ کو پنج پیراں، دہلی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

    آپ کی وفات پر پروفیسر شاہ طلحہ رضوی برقؔ نے یہ تاریخِ وفات کہی۔

    بدل آمد کہ برقؔ او را مخاطب می کنم بہ سلام

    زہے خلد آشیاں سید محی الدین جیلانی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے