Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

مختصر تذکرہ حضرت شاہ عنایت چشتی صابری بہلول پوری

التفات امجدی

مختصر تذکرہ حضرت شاہ عنایت چشتی صابری بہلول پوری

التفات امجدی

MORE BYالتفات امجدی

    حضرت شاہ عنایت چشتی صابری بہلول پوری سلسلۂ تصوف کے ایک جلیل القدر بزرگ اور صاحبِ باطن ولی اللہ تھے، آپ کی زندگی زہد و تقویٰ، عبادت و ریاضت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج تھی، آپ کا اصل نام عنایت اللہ جیو تھا اور آپ کی ولادت 27 رجب المرجب 1109ھ، بروز سوموار، وقتِ سحر، قندھار میں ہوئی، آپ کے والد ماجد شیخ فخر احمد، حضرت شاہ ابوالمعالی صابری انبیٹھوی کے مرید و معتقد تھے۔

    بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں غیر معمولی روحانی رجحان تھا، علمِ ظاہر سے زیادہ آپ کو علمِ باطن میں کمال حاصل تھا، آپ کی ابتدائی روحانی تربیت ایک اہم واقعے سے جڑی ہوئی ہے، جب آپ اپنے بچپن میں مویشی چرا رہے تھے تو حضرت میر محمد سعید عرف میران شاہ بھیک ٹھسکوی کہڑاموی کی نظرِ کرم آپ پر پڑی، آپ نے شاہ عنایت کی روحانی صلاحیتوں کو پہچان لیا اور 22 رمضان المبارک 1129ھ، بروز جمعرات عصر کے وقت آپ کو سلسلۂ ارادت میں داخل فرما کر مخصوص ذکر و وظائف خصوصاً درودِ ہزارہ کی تعلیم عطا کی، اس روحانی تربیت کے نتیجے میں آپ کے کشف و کرامات کا ظہور ہونے لگا اور جلد ہی آپ کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔

    مؤرخہ 27 ذی الحجہ 1131ھ، بروز سوموار، عصر کے وقت آپ کو سلسلۂ چشتیہ صابریہ میں خلافت و اجازت عطا کی گئی اور مسندِ رشد و ہدایت پر فائز ہو کر مخلوقِ خدا کو فیضیاب کرنے لگے، آپ کی روحانی مجالس میں ہزاروں تشنگانِ معرفت حاضر ہو کر سیرابی حاصل کرتے تھے، آپ کی زبان سے نکلی ہوئی باتیں حقیقت میں ڈھل جایا کرتی تھیں اور آپ کے دستِ کرم سے بے شمار طالبانِ حق نے رشد و ہدایت کا راستہ پایا۔

    شاہ عنایت بہلول پوری کا وصال 5 رمضان المبارک 1195ھ، بروز پیر، بعد نمازِ ظہر ہوا، آپ کا مزار مبارک ضلع لدھیانہ، قصبہ بہلول پور میں واقع ہے، جہاں سے آپ کے فیوض و برکات کا سلسلہ جاری ہے۔

    آپ کے خلفا کی تعداد چودہ بتائی جاتی ہے، جنہوں نے سلسلۂ چشتیہ صابریہ کی تعلیمات کو دور دور تک عام کیا، آپ کے خلفائے کرام میں سرِ فہرست قطبِ دارین حضرت مولانا شاہ عبدالکریم عرف ملا فقیر آخوند رامپوری ہیں جو شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، دوسرے خلیفہ حضرت شاہ محمد روشن بہ لقب بے ریا ہیں جن کا مزار بہلول پور میں آپ کے مزار کے قریب واقع ہے، ان کے ایک خلیفہ حضرت حافظ سید محمد چشتی سنام تشریف لے گئے جہاں رشد و ہدایت میں مصروف رہے۔

    شاہ عنایت بہلول پوری کی سادہ، پُراثر اور بافیض شخصیت آج بھی اہلِ محبت و عرفان کے دلوں میں زندہ ہے، آپ کی تعلیمات میں سادگی، زہد، تقویٰ، ذکرِ الٰہی اور خدمتِ خلق کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، آپ کے سلسلے کا فیضان آج بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔

    نوٹ : اس مضمون میں تواریخ آئینۂ تصوف (شاہ محمد حسن صابری رامپوری) اور کلیات جدولیہ فی احوال اؤلیا موسوم بہ تحفتہ الابرار (مرزا آفتاب بیگ عرف محمد نواب مرزا بیگ) سے حوالے لیے گئے ہیں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے