مختصر تذکرہ حضرت سید شاہ میراں بھیک چشتی صابری
حضرت سید میراں بھیک چشتی صابری کا اصل نام سید محمد سعید تھا، آپ کے والد کا نام سید محمد یوسف ترمذی اور والدہ کا نام بی بی ملکو تھا، آپ کی ولادت باسعادت 9 رجب المرجب 1046ھ مطابق 1629ء، بروز پیر، موضع سیوانہ، نزد کرنال، ہریانہ میں ہوئی۔
آپ کا تعلق ترمذی سادات سے تھا، آپ کے آبا و اجداد میں حضرت سید زید سالار بارہویں صدی عیسوی میں ازبکستان کے شہر ترمذ سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں حکم پاکر ہندوستان تشریف لائے، حضرت سید زید نے ہندوستان میں آکر کرنال کے علاقے سیوانہ میں سکونت اختیار کی اور اشاعتِ حق میں مشغول ہوگیے، انہیں نماز کی حالت میں قدیم باشندوں نے شہید کر ڈالا اور وہیں سیوانہ کی سر زمین میں سپردِ خاک ہوئے، حضرت زید شہید کی اولاد میں گیارہویں پشت میں حضرت مولانا سید محمد یوسف ترمذی سیوانوی ہوئے اور انہی کے فرزندِ ارجمند حضرت محمد سعید عرف سید میراں بھیک ہوئے۔
حضرت سید میراں بھیک جب سات سال کے ہوئے تو والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، تب آپ کی والدہ ماجدہ آپ کو ہمراہ لے کر سیوانہ سے کہڑام (پٹیالہ، پنجاب) منتقل ہوگئیں اور یہیں ایک طویل مدت تک حصولِ علم میں مشغول رہے، جب آپ کو معرفت کی طرف رغبت ہوئی تو کہڑام سے پندرہ کوس کے فاصلے پر موضع ملوی/نلوی کے ایک درویش بےنوا حضرت شاہ محمد قاسم قدس سرہٗ کی خدمت میں پہنچے، جہاں کچھ عرصہ قیام فرمایا اور روحانی تعلیمات حاصل کیں، مزید آسودگی کے لیے بمقام انبیٹھہ (سہارن پور) جا کر حضرت شاہ ابوالمعالی صابری انبیٹھوی کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت کی، انہوں نے آپ کو پہلے عبادتِ الٰہی میں مشغول رہنے کی ہدایت فرمائی، آپ رخصت ہوکر کہڑام واپس آئے اور زہد و ریاضت میں مشغول ہوگیے۔
ایک عرصہ دراز تک یادِ الٰہی میں مشغول رہنے کے بعد شاہ ابوالمعالی صابری انبیٹھوی بذاتِ خود انبیٹھہ سے کہڑام تشریف لائے اور آپ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا۔
آپ نے کہڑام سے 24 میل کے فاصلے پر بمقام ٹھسکہ (کوروچھیتر، ہریانہ) میں ڈھاک کے سایہ دار درخت کے نیچے رشد و ہدایت کی وہ شمع روشن کی کہ جس کی چمک سے دور دراز علاقوں کی خلائق جوق در جوق آپ کے گرد جمع ہونے لگی، آپ کے روحانی فیضان کے سبب یہ جگہ خانقاہ میں تبدیل ہوگئی جو دائرہ میراں جی کے نام سے مشہور ہوئی، آپ کی حیاتِ مبارکہ تک یہ صرف ایک حجرے تک محدود رہی، علاقہ کے امرا ؤ رؤسا کے اصرار کے باوجود آپ نے تعمیرات کی اجازت نہ دی، آپ کے زمانے سے ہی یہاں لنگر جاری تھا اور سیکڑوں سالکین یہاں حلقۂ ذکر میں مشغول رہتے، آپ نے علاقائی زبان میں اپنے علم کو شاعری کے ذریعے پھیلایا، آپ کی مشہور تصانیف میں گیان لہر، گیان پرکاش اور کافیاں شامل ہیں۔
آپ کے متعدد خلفا میں حضرت سید محمد سالم ترمذی روپڑی، حضرت سید علیم اللہ فاضل جالندھری اور حضرت شاہ عنایت اللہ بہلول پوری مشہور و معروف ہیں۔
آپ کو پانی پت میں ہی اپنے وصال کی اطلاع ہوگئی، آپ نے اسی وقت طے کیا کہ اپنے دور دراز کے مریدین اور وابستگان سے آخری ملاقات کریں، آپ مع اپنے قافلے کے پانی پت سے کرنال، تھانیسر، شاہ آباد، انبالہ اور سرہند کا سفر طے کر رہے تھے کہ دورانِ سفر قصبہ سونٹہ میں طبیعت علیل ہوگئی اور یہیں مؤرخہ 5 رمضان المبارک 1131ھ مطابق 1714ء، وقتِ صبح صادق، آپ نے سفرِ آخرت اختیار فرمایا۔
وصال کے بعد آپ کی میت کے دعویدار تین فریق ہوگئے۔
اول : آپ کے رشتہ دار آپ کو آبائی وطن سیوانہ میں دفن کرنا چاہتے تھے۔
دوم : ٹھسکہ والے آپ کو آپ کی خانقاہ (دائرہ میراں جی) میں دفن کرنے کے خواہاں تھے۔
سوم : کہڑام والے سبقت لے گیے اور آپ کو قصبہ کہڑام میں ہی آپ کے حجرے میں سپردِ خاک کر دیا۔
ٹھسکہ والے مایوس ہو کر آپ کے تبرکات (پیراہنِ مبارک) کو ٹھسکہ لے گئے اور خانقاہ میں دفن کر دیا، آپ کے مریدِ صالح نواب روشن الدولہ نے روضۂ مبارک تعمیر کروایا جو نہایت حسین و جمیل اور وسیع اراضی پر واقع ہے، بوجہ تکلیف درویشاں 12 اور 13 شعبان المعظم عرس کی تاریخ مقرر ہے۔
نوٹ : اس مضمون کے لیے ’’خم خانۂ تصوف‘‘ (ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ)، ’’انوارالعاشقین (مشتاق احمد انبیٹھوی)، ’’تذکرہ قطب الاقطاب سید محمد سعید خلیفہ محمد یونس صابری، ’’تحفۃ الابرار‘‘ (محمد نواب مرزا بیگ) اور ’’تواریخ آئینۂ تصوف‘‘ (شاہ محمد حسن صابری) سے حوالے لیے گئے ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.