تذکرہ حضرت مخدوم سلطان حسین
ہندوستان کی تاریخ سے اگر صوفیائے کرام کے تذکرے کو نکال دیا جائے یا نظر انداز کر دیا جائے تو اس ملک کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی ارتقا کو سمجھنا بہت مشکل ہو جائے گا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کی تاریخ میں ایک نمایاں خلا رہ جائے گا، ہر دور میں صوفیائے کرام کے تذکروں پر کتابیں لکھی گئی ہیں اور آج بھی کم و بیش یہ سلسلہ جاری ہے، یوں تو ہمارے ملک میں صوفیوں اور سنتوں کا فیض جاری رہا ہے اور تاریخ اس پر شاہد ہے، صوبۂ بہار بھی صدیوں سے صوفیائے کرام کے فیوض و برکات سے مستفید ہوتا رہا ہے، عام طور پر جنوبی بہار میں صوفیوں کی آمد کا تذکرہ بڑے بڑے مؤرخین نے کیا ہے اور ان پر متعدد کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں لیکن جہاں تک شمالی بہار کا تعلق ہے یہاں بھی صوفیائے کرام نے اپنے مراکز قائم کیے مگر ان کے حالات و خدمات پر کم ہی قلم اٹھایا گیا، جس کے باعث ان کے تذکرے گمنامی کا شکار ہوگئے، اگرچہ قدیم زمانے میں ترہت کے اس حصے جس میں حاجی پور، دربھنگہ، سمتی پور اور مظفر پور وغیرہ شامل ہیں بزرگوں کی آمد کا ذکر تاریخ میں محفوظ ہے اور ان کے فیوض آج بھی جاری ہیں لیکن ان کی خانقاہیں خال خال ہی دکھائی دیتی ہیں، البتہ ان کے مزارات آج بھی موجود ہیں جنہیں سماج میں عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور لوگ ان سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔
یوں تو سلسلۂ چشتیہ کے بزرگانِ دین کی روایت ہندوستان میں قدیم زمانے سے چلی آ رہی ہے، تاہم بہار میں اس سلسلے کے اولین بزرگ حضرت ابراہیم چشتی بن جلال چشتی مشہدی اور ان کے صاحبزادے حضرت آدم صوفی چشتی تھے جو اشاعتِ دین کے لیے حاجی پور تشریف لائے اور وہیں مقیم ہوئے، بہار میں سلسلۂ چشتیہ کی پہلی خانقاہ بھی یہیں بتائی جاتی ہے، حضرت ابراہیم چشتی نے ۶۵۰ھ/۱۲۵۲ء میں حاجی پور میں وصال فرمایا، آج بھی آپ کا مزار مرجعِ خلائق ہے، آپ کے مرید و خلیفہ حضرت آدم صوفی جو آپ کے صاحبزادے بھی تھے اور آپ کے ہمراہ لاہور سے تشریف لائے تھے، آپ کے سجادے پر متمکن ہوئے اور سلسلے کو خوب فروغ دیا۔
حضرت آدم صوفی کے دور میں دربھنگہ کے علی نگر بلاک میں واقع ایک تاریخی گاؤں ہرسنگھ پور میں فتنۂ ارتداد زوروں پر تھا، مسلمانوں کو جبراً مرتد کیا جاتا اور برہمن بنایا جاتا تھا، جب یہ خبر حضرت آدم صوفی کو پہنچی تو آپ خانقاہ چھوڑ کر بھیس بدل کر ہرسنگی پور تشریف لے گئے اور سنت کے روپ میں پردۂ اخفا میں رہ کر تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دیا، ساتھ ہی اس فتنۂ ارتداد کی روک تھام میں بھی اہم کردار ادا کیا، بعد ازاں حضرت شہاب الدین پیر جگجوت کے ایما پر پٹنہ کے جیٹھلی تشریف لے آئے، آپ نے ۶۹۷ھ/۱۲۹۷ء میں ۱۱۳ سال کی عمر میں جیٹھلی میں وصال فرمایا، آپ نے ہرسنگھ پور میں اپنے ایک مرید و خلیفہ قاضی مٹھا کو تبلیغِ دین کے لیے مقرر فرمایا، جن کا مزارِ اقدس آج بھی مرجعِ خلائق ہے۔
سلطان محمد بن تغلق (۷۲۵ھ/۱۳۲۵ء) کے عہد میں ایک اور بزرگ حضرت شاہ صوفی کا ذکر ملتا ہے جو سلطان کے لشکر میں کسی عہدے پر فائز تھے، ۷۲۶ھ مطابق ۱۳۲۵ء میں جب سلطان نے ترہت کے راجہ ہرسنگھ دیو پر چڑھائی کی تو راجہ کو شکست ہوئی اور وہ اپنے تعمیر کردہ قلعے میں محصور ہوگیا لیکن وہاں بھی سلطان کے خوف سے نہ ٹھہر سکا اور ہرسنگھ پور کا قلعہ چھوڑ کر نیپال کی پہاڑیوں میں جا کر روپوش ہوگیا، اس کے بعد سلطان نے اس قلعے کی قلعہ داری حضرت شاہ صوفی کے سپرد کر دی، نیز دربھنگہ میں ایک جامع مسجد بھی تعمیر کرائی جو آج بھی قلعہ گھاٹ کی شاہی مسجد کے نام سے موجود ہے، حضرت شاہ صوفی ہرسنگھ پور میں مدفون ہیں لیکن وہاں کے بیشتر لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔
حضرت مخدوم سلطان حسین بن مخدوم شاہ جان، ایران کے شہر اصفہان سے ہندوستان تشریف لائے اور حضرت شیخ علاؤالحق پنڈوی کی خدمت میں پنڈوہ حاضر ہو کر شرفِ بیعت حاصل کیا اور خلافت سے سرفراز ہوئے، کچھ عرصے کے بعد شیخ علاؤالحق پنڈوی نے حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر کو کچھوچھہ اور حضرت مخدوم سلطان حسین کو دربھنگہ میں تبلیغِ دین کی ہدایت کے ساتھ اجازت و خلافت عطا فرما کر روانہ کیا، اس طرح حضرت مخدوم اشرف جہاں گیر اور حضرت مخدوم سلطان حسین نہ صرف ہم بیعت تھے بلکہ ہم درس بھی تھے۔
روایت ہے کہ جب بنگال میں راجہ کنس یا گنیش کی حکومت تھی اور ترہت میں راجہ دیوسنگھ برسرِ اقتدار تھا، جس کی راجدھانی دیوکلی میں واقع تھی، تو راجہ کنس کے اشتعال پر راجہ دیوسنگھ کے بیٹے شیو سنگھ نے سلطنتِ دہلی کو خراج دینا بند کر دیا اور اپنی خود مختاری کا اعلان کر دیا، جس طرح راجہ کنس بنگال میں قتل و غارت کا بازار گرم کیے ہوئے تھا، اسی طرح ترہت میں راجہ شیو سنگھ بھی اپنی رعایا پر ظلم و ستم ڈھا رہا تھا، جس کا مقابلہ علما، مبلغین اور صوفیائے کرام کر رہے تھے، ان حالات کے پیشِ نظر حضرت نور قطبِ عالم پنڈوی نے ۸۰۵ھ/۱۴۰۲ء میں سلطان ابراہیم شرقی کو صورتِ حال سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں سلطان نے بنگال پر حملہ کر دیا، اس موقع پر شیو سنگھ سدِّ راہ ہوا مگر انجامِ کار جنگ سے فرار ہو کر لہرا کے قلعے میں پناہ گزیں ہوگیا، تاہم سلطان نے قلعہ فتح کر لیا اور شیو سنگھ کو گرفتار کر لیا، بعد ازاں اس کے والد راجہ دیوسنگھ کو اطاعت اور خراج گزاری کی شرط پر دوبارہ اس کی سلطنت واپس کر دی گئی، اسی زمانے میں محلہ شاہ سوپن، دربھنگہ میں حضرت مخدوم سلطان حسین کی قیام گاہ کے قریب ایک مسجد کی تعمیر کا حکم بھی صادر ہوا جو آج بھی موجود ہے، اگرچہ حالیہ زمانے میں اس کی ازسرِ نو تعمیر کی گئی ہے، نیز حضرت مخدوم کی خانقاہ کے مصارف کے لیے ۱۲؍۳۳ بیگھہ زمین راجہ دیوسنگھ نے وقف کی، جس کی توثیق عہدِ اکبری میں میر دیانت علی فوج دارِ ترہت کے زمانے میں بھی بذریعۂ سند کی گئی تھی، حضرت مخدوم سلطان حسین کا نکاح حضرت شیخ شہاب الدین قتال بن حضرت بدرالدین بدرِ عالم زاہدی کی صاحبزادی سے ہوا، جن کے بطن سے دو صاحبزادے حضرت شیخ جمال اور حضرت شیخ کمال پیدا ہوئے، شیخ جمال کم سنی ہی میں وفات پا گئے اور ان کا مزار بہار شریف میں بمقام چھوٹی درگاہ واقع ہے، جبکہ شیخ کمال اپنے والد کے ہمراہ دربھنگہ میں مقیم رہے۔
حضرت مخدوم سلطان حسین کے سالِ وصال کا صحیح علم نہیں، البتہ قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا وصال ۸۰۵ھ/۱۴۰۲ء کے کافی بعد ہوا ہوگا، آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت شیخ کمال مسندِ سجادگی پر متمکن ہوئے، وہ اپنے والد کے مرید، مجاز اور جانشیں تھے، ان کا مزار بھی اپنے والد کے مزار کے ساتھ اسی احاطے میں واقع ہے اور آج بھی مرجعِ خلائق ہے، ان کا زمانہ نویں صدی ہجری کے اوائل پر محیط تھا، ان کے بعد حضرت شاہ شیخو سجادہ نشیں ہوئے جو شاہ کمال کے صاحبزادے تھے، انہیں اپنے والد سے بیعت، اجازت اور خلافت حاصل تھی، انہوں نے نویں صدی ہجری کے اواخر میں تبلیغِ دین کی خدمات انجام دیں، ان کا مزار بھی محلہ شاہ سوپن میں واقع ہے۔
حضرت شاہ شیخو کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت شاہ عبدالمجید مسند نشیں ہوئے، انہیں بھی اپنے والد سے اجازت و خلافت حاصل تھی، ان کا مزار اسی محلے میں مرجعِ خلائق ہے، ان کے بعد حضرت شاہ نوراللہ سجادہ نشیں ہوئے جو شاہ عبدالمجید کے صاحبزادے تھے، اپنے عہد میں ان کا شمار سلسلۂ چشتیہ کے ممتاز بزرگوں میں ہوتا تھا، ان کا مزارِ اقدس بھی اسی محلے میں مرجعِ خلائق ہے، ان کے بعد حضرت شاہ عظمت اللہ المعروف جنگلی پیر مسند نشیں ہوئے جو شاہ نوراللہ کے صاحبزادے تھے، آپ نے ساری زندگی عبادت، ریاضت اور اشاعتِ دین میں گزاری، وصال کے بعد آپ کی تدفین محلہ پرانی منصفی میں سابق صوفی منزل کے مغربی و جنوبی گوشے میں ہوئی، آپ کا مزار ایک عرصے تک جنگل کے درمیان واقع رہا، روایت ہے کہ جب اس مقام کی صفائی کی کوشش کی گئی تو بعض غیر معمولی واقعات پیش آئے، جس کے باعث صفائی کا سلسلہ روک دیا گیا، مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کو یہی حالت پسند تھی، شاہ عظمت اللہ کے ایک صاحبزادے حضرت شاہ سوپن کے نام سے مشہور ہوئے، ان کا اصل نام پردۂ خفا میں رہا، دربھنگہ کا یہ گاؤں آپ ہی نام پر موسوم ہے، آپ اپنی خانقاہ میں سلسلۂ تبلیغ جاری رکھتے رہے، آپ کا مزار محلہ شاہ سوپن کے قبرستان میں واقع ہے، آپ کے حقیقی بھائی حضرت شاہ کفایت اللہ بھی اسی محلے میں مقیم رہے اور ان کی زندگی بھی عبادت و ریاضت میں گزری، اس کے بعد اس خانقاہ کے آخری سجادہ نشیں جناب .......... تھے جو لاولد انتقال کر گئے، ان کی اہلیہ برہن پورہ نزد بھروارہ باکٹا کی ساکن تھیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جناب نورالحسن جو میرے والد کے نانا تھے ان کو اپنی خانقاہ اور جائیداد کا وارث مقرر کر دیا، اسی وقت سے آج تک حضرت مخدوم سلطان حسین کا سالانہ عرس ہر سال ۱۷ ربیع الاول کی شب میں مزارِ مبارک پر قل کی صورت میں منعقد ہوتا ہے اور زیارت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
اس سلسلے میں ایک روایت قابلِ ذکر ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ جب حضرت مخدوم سلطان حسین کا وصال ہوا تو ایک شخص نے خانقاہ پر اپنی دعوے داری پیش کی اور مسندِ سجادگی پر متمکن ہونا چاہا، بہت سے لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانا، آخرکار بزرگوں کی ایک پنچایت منعقد ہوئی، تمام حالات کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرت مخدوم کا خرقۂ مبارک پہنایا جائے اور جسے یہ موزوں آ جائے اسے ہی وارث تسلیم کیا جائے، چنانچہ سب سے پہلے اس نووارد کو خرقہ پہنایا گیا لیکن روایت کے مطابق خرقہ زیبِ تن کرتے ہی اس میں آگ لگ گئی، جلدی سے خرقہ اتارا گیا اور آگ بجھائی گئی، اس واقعے کے بعد وہ شخص وہاں سے چلا گیا اور سجادگی حضرت مخدوم کے اصل وارث کو حاصل ہوئی، اگرچہ اس روایت کا ذکر کسی کتاب میں نظر سے نہیں گزرا، تاہم یہ روایت سینہ بہ سینہ ہمارے خاندان تک پہنچی ہے، اس روایت کی اصل حقیقت یا ترتیب جو بھی ہو، راقم الحروف محمد کلیم اللہ اور میرے تمام بھائیوں کو عرس کے موقع پر اس خرقۂ مبارک کی زیارت کا شرف حاصل رہا ہے، جس پر آگ بجھانے کے نشانات جابجا موجود تھے۔
ان تبرکات میں چند کلاہ ہائے مبارک بھی تھیں، نیز ایک شنکھ اور لکڑی کی ایک کنگھی بھی محفوظ تھی، یہ تبرکات محلہ شاہ سوپن کے ایک مکان میں جناب .......... کے یہاں رکھے جاتے تھے، جب ہم لوگ وہاں جاتے تو لکڑی کا صندوق نکالا جاتا، جسے ہم خود کھولتے، عطر پاشی کرتے اور پھر سینی میں رکھ کر اپنے سروں پر اٹھائے مزارِ مبارک تک لے جاتے تھے، خدا کے فضل سے یہ سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہا، البتہ ایک سال شدید بارش ہوئی اور جس مکان میں یہ تبرکات محفوظ تھے، وہاں چھت سے پانی برس کر اس لکڑی کے صندوق میں داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں کلاہ اور خرقۂ مبارک بوسیدہ ہو کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے، بعد میں انہیں ایک کپڑے میں محفوظ کر دیا گیا اور اب اسی کی زیارت کرائی جاتی ہے، البتہ شنکھ آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔
اس شنکھ کے متعلق یہ روایت مشہور ہے کہ جب مسجد تعمیر ہوئی اور اس میں اذان دی جانے لگی تو قریب ہی ایک جوگی رہتا تھا، جس کی عادت تھی کہ اذان کے وقت شنکھ بجایا کرتا تھا، ایک روز حضرت مخدوم کو جلال آیا اور آپ نے اپنی نعلینِ مبارک پر نظر فرمائی، روایت کے مطابق نعلین پرواز کر کے اس جوگی کو مسجد کے دروازے تک لے آئیں، جس سے وہ زخمی ہوگیا، بعد ازاں اس نے اسلام قبول کر لیا، اس کی قبر بھی حضرت مخدوم کے مزار کی جانب جانے والی سیڑھی کے پہلو میں بتائی جاتی ہے۔
ان کرامات کا تذکرہ ہمارے خاندان کے بزرگوں کی زبان سے صدیوں سے سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے، البتہ ان روایات کو کسی مستند کتاب میں راقم نے اب تک نہیں دیکھا، واللہ أعلم بالصواب۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.