Font by Mehr Nastaliq Web

قوالی: فنون لطیفہ کی مقبول صنف موسیقی

پروفیسر شاہد کمال

قوالی: فنون لطیفہ کی مقبول صنف موسیقی

پروفیسر شاہد کمال

MORE BYپروفیسر شاہد کمال

    برصغیر میں فنون لطیفہ کی سب سے مقبول صنف موسیقی ہے، جس کی باضابطہ تاریخ تقریباً نو سو برس پرانی ہے، اس عرصے میں یہ فن مختلف شکلیں اختیار کرتا رہا، کہا جاتا ہے کہ اس خطے میں موسیقی کی ابتدائی شکل چار سروں پر مشتمل تھی جسے بعد میں آنے والے مرتبین موسیقی کے مروجہ اصولوں کی روشنی میں علم موسیقی نہیں کہا جاسکتا، گویا کہ یہ ایک اظہار لطیف تھا جسے یہاں کے لوگ سازوں کے ملاپ سے اپنی روح کی بالیدگی کے لیے اختیار کیے ہوئے تھے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اکابرین موسیقی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ موسیقی کی ابتدائی شکل چار سروں پر مشتمل تھی تو اس بیانیے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سر اپنی باقاعدہ شکل میں موجود تھے جو موسیقی کا لازمہ ہیں، کیوں کہ آواز اور سر میں فرق ہے، وہ آواز جو اپنے صوتی تاثر میں موسیقی کی متفقہ شناخت اور درجہ بندی رکھتی ہو، سر کہلاتی ہے یعنی سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی یہ وہ سات شکلیں ہیں جو کائنات کی تمام آوازوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں، آگے چل کر سروں کے اس نظام سے مختلف شکلیں ترتیب دی گئی ہیں جو راگ راگنیاں کہلاتی ہیں اور موسیقی کے بنیادی اکابرین رتناگر سے بھات کھنڈے تک سب اس بات پر متفق ہیں کہ راگ کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ سات سروں پر مشتمل ہوتا ہے، اسی لیے اوپر یہ بات بیان ہوئی کہ اس وقت چار سروں میں گایا جانے والا گانا موسیقی کی مرتب شدہ لغت کے مطابق گانا نہیں تھا، یہ تین یا چار سروں کی ایسی شکل تھی جسے ضرورت کے مطابق دھال کیا جاتا تھا، یہ سلسلہ علاؤالدین خلجی کے زمانے تک چلتا رہا کہ گوپال نائک نامی ایک مہا گرو نے خلجی کے دربار میں اپنے چیلوں کے ساتھ حاضری دی اور اپنا گانا پیش کرنے کے بعد اس زمانے کی روایت کے مطابق خلجی سے ان کے درباری گویے کا ناصرف گانا سنے کی فرمائش کی بلکہ یہ بھی کہا کہ آپ کا گویا میرے فن کا جواب بھی دے تو کیا اچھا ہو یعنی یہ ایک طرح کا چیلنج تھا، اس موقع پر بادشاہ نے اپنے خاص درباری اور صاحبِ کمال شخص ابوالحسن یمین الدین خسروؔ کو اس کام کا اہل سمجھتے ہوئے نائک گوپال کا جواب دینے سے سرفراز کیا جو اس وقت دربار میں موجود نہیں تھے، امیر خسرو نے سر تسلیم خم کیا لیکن کسی بھی قسم کے دعوے کو قبل از وقت قرار دیتے ہوئے پہلے گوپال نائک کا گانا سننے کی فرمائش کی، محفل کا اہتمام کیا گیا اور امیر خسرو نے دربار میں کسی خفیہ مقام پر بیٹھ کر گانا سنا اور محسوس کیا کہ نائک گوپال جسے گانا کہہ رہا ہے وہ تین سروں پر مشتمل منتر ہیں جو سننے والے کو مسحور کر دیتے ہیں، لہٰذا امیر خسرو نے بادشاہ سے تیاری کے لیے وقت طلب کیا اور درباری مصاحبین میں سے کچھ باصلاحیت بچوں کو گانے کی تربیت دینا شروع کی، خسرو یہ بات سمجھ چکے تھے کہ یہ ہندوؤں کے منتر ہیں، لہٰذا انہوں نے اس مذہبی وار کا مقابلہ کرنے کے لیے جو دھنیں ترتیب دیں ان کی تعداد پانچ بتائی جاتی ہے لیکن خاص بات یہ تھی کہ یہ تمام دھنیں حدیثِ رسول اور قرآنی آیات وغیرہ پر مشتمل تھیں، جن میں سرِ فہرست من کنت مولى فهذا علی مولی آج تک زبان زد عام ہے اور دوسری سبحان ذي الملك والملكوت جو کبھی کبھی کسی قوال سے سننے میں آتی ہے، بقیہ تین کمپوزیشن ناپید ہیں، جن کے بارے میں تمام خاندانی قوالوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ ہمارا سرمایہ ہیں اور ہم انہیں محفل میں اس لیے نہیں سناتے کہ کوئی دوسرا قوال نہ سن لے، قوالوں کا یہ غیر منطقی بیانیہ دل میں ایک ہی شبہ پیدا کرتا ہے جسے لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں، بہر حال! یہ تو جملہ معترضہ تھا، جہاں تک امیر خسرو کی مشہور زمانہ دھن بندش من كنت مولى فهذا على مولى کا تعلق ہے اسے خسرو نے راگ ایمنی بلاول میں بلاول کمپوز کیا اور ترانے کے بولوں کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ سننے والوں پر آج تک اس کا سحر موجود ہے، حدیث رسول کی یہ کمپوزیشن قول کہلائی اور جس کا گانے قوال کے لقب سے سرفراز ہوا اور یہ صنف موسیقی قوالی کے نام سے معروف ہوئی، جب کہ دوسری دعا سبحان ذي الملك والملكوت ہمارے عہد تک آتے آتے شاید اپنی مرتبہ شکل کھو بیٹھی، کیوں کہ کچھ قوال اسے گاتے تو ہیں لیکن اساتذہ موسیقی کے نزدیک یہ غیر معتبر ہے، کیوں کہ اس دھن میں نہ تو راگ کی مکمل شکل ہے اور نہ ہی ٹھیکے کا چکر پورا ہوتا ہے، جب کہ بقیہ تین دھنیں منظر سے غائب ہیں اور اگر کسی کے پاس ہیں تو وہ اسے سنانے کو تیار نہیں۔

    بہر کیف! امیر خسرو نے بارہ با صلاحیت بچوں کو موسیقی کی تربیت دے کر نائک گوپال کے سامنے بٹھایا اور اس کے ہر منتر کا جواب مذکورہ انداز سے دیا اور یہی وہ حربہ تھا جس کے سبب نائک گوپال کے جادو کا حربہ نہ چل سکا اور وہ اپنے منہ کی کھا کر دربار سے یہ کہتا ہوا اٹھا کہ مارا تو صحیح مگر فن سے نہیں چالاکی سے، اس واقعے کے بعد امیر خسرو کی حیثیت نا صرف دربار میں مزید معتبر ہوگئی بلکہ صوفیا کی ایک محفل میں جب انہوں نے یہ کلام پیش کیے تو حضرت مسعودالدین گنج شکر نے قوال کا لقب دیا اور وہ با صلاحیت بچے جنہوں نے امیر خسرو سے تربیت پائی تھی، قوال بچے کہلائے اور ان کی نسل کے لوگ آج تک قوالی گا رہے ہیں، ان قوال بچوں میں دو بڑے گھرانے ہمارے عہد میں قوالی کا بھرم رکھے ہوئے ہیں، جن کے مشہور قوالوں میں بہاؤالدین قوال، منظور نیازی قوال، نصیرالدین سامی قوال اور فرید ایاز قوال شامل ہیں جب کہ دوسرا بڑا گھرانہ فتح علی مبارک علی قوال کا ہے جن کے یہاں نصرت فتح علی جیسے نابغۂ روزگار قوال کا جنم ہوا، اس کے علاوہ تاریخ میں بہت سے قوال گزرے ہیں جنہوں نے خواجہ معین الدین چشتی، قطب الدین بختیار کاکی اور بابا فریدالدین مسعود گنج شکر جیسے صوفیا کی خدمت میں قوالی پیش کی اور ان کا ورثہ آج تک نسل در نسل منتقل ہورہا ہے۔

    ہر چند کہ قوالی امیر خسرو کی ایجاد معنی جاتی ہے لیکن یہ صنف صوفیا کے یہاں اس سے پہلے موجود تھی لیکن اس وقت اس کا نام قوالی نہیں سماع تھا، تاریخ میں امیر خسرو سے پہلے سماع پیش کرنے والوں میں صلاح الدین قوال اور ان کے بیٹے کلیم الدین اور نصیرالدین ہیں، یہی وہ فن کار ہیں جن کی سماع آرائی کے دوران قطب الدین بختیار کاکی نے رحلت فرمائی، کہا جاتا ہے کہ یہ محفل قطب الدین علی سجستانی کی خانقاہ پر منعقد تھی اور جب مذکورہ سماع کاروں نے

    کشتگان خنجرِ تسلیم را

    ہر زمان از غیب جانِ دیگر است

    پڑھا تو خواجہ بختیار کاکی وجد میں آ گئے اور یہ وجد اتنا بڑھا کہ اسی حالت میں آپ کی روح پرواز کرگئی، یہی وہ واقعہ ہے جس نے مذکورہ فن کاروں کو تاریخ میں امر کر دیا، ہر چند کہ اس کے بعد سے اب تک اس طرح کے بہت سے واقعات موجود ہیں کہ جب صوفیا دوران وجد انتقال کر جاتے ہیں لیکن اس کی بھر پور سائنسی توضیح موجود ہے، اس لیے اسے روحانیت پر منطبق کرنے کی قطعی ضرورت نہیں لیکن کیا کیجیے کہ ہر عہد میں جعلی صوفیوں کا کاروبار حیات اسی طرح کی پھل جھڑیوں سے منور ہے جو تو ہم پرست اور عام عقلی سطح سے کم درجے کے لوگوں کو متوجہ کرنے کا سبب بنتی ہیں، اس پر طرفہ تماشا قوال برادری ہے جو محض اپنی روزی روٹی کے لیے اس طرح کے واقعات کی ناصرف گواہی دیتی پھرتی ہے بلکہ نسل در نسل ان باتوں کے اشتہار کو منتقل کرنے کا ذریعہ بھی بنی رہتی ہے، یا یوں کہیں کہ چشتی صوفیا اور اہل تصوف کے اعتبار کی عمارت قوالوں کے سہارے پر کھڑی ہے، حد یہ ہے کہ امیر خسرو کے کمالات کو جھوٹ سچ کی آمیزش کے ساتھ عصر حاضر تک پہنچانے والے قوال ہی ہیں جو کسی بھی جگہ خسرو لکھا دیکھ کر یا سن کر احترام سے کان پکڑ لیتے ہیں اور جلیل خسرو لیق خسرو، ظہور خسرو سب کے کارنامے امیر خسرو کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امیر خسرو کا تمام کا تمام کلام قوالوں کا مشتہر کردہ ہے، امیر خسرو سے اس کا کوئی تعلق نہیں، وہ تو بے چارا اردو کا شاعر ہی نہیں تھا، بہر حال یہ الگ بحث ہے، فی الحال ہم امیر خسرو کی متفقہ ایجاد صنف قوالی تک ہی اپنی تحریر کو محدود رکھتے ہیں، موسیقی کی مشہور تصنیف ”معدن الموسیقی کے مطابق خسرو نے آگے چل کر قوالی کو چار الحال ہم امیر حس ولی منطقه ایجاد اپنی حریر و محدود رکھتے ہیں، اقسام میں پیش کیا۔۔ باگیسری قوالی ۲۔ سونی قوالی ۳۔ بہار قوالی ۴ ۔ بسنت قوالی۔

    جب کہ امیر خسرو کی ایجاد کردہ سترہ تالوں میں سوم تال قوالی کی ہے اور انہوں نے مقامی راگوں میں قوالی کے لیے قول، ترانہ نقش گل وغیرہ اختراع کی ہے جو آج تک قوالی کے مستند سانچے ہیں، امیر خسرو کے عہد شاہجہانی میں دو مشہور قوالوں کا سراغ ملتا ہے جن کے نام روضہ قوال اور کبیر قوال، بعد ازاں محمد شاہ کے دور میں اللہ بندی، نیازی قوال اور تاج خاں قوال قابل ذکر ہیں، نیازی قوال کی امتیازی خصوصیت یہ تھی کہ اسے کلاسیکی موسیقی پر بھی بھر پور عبور حاصل تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے سکندرآباد گھرانے کے مشہور گائک نعمت خان سدا رنگ کے ساتھ مل کر بہت سی کلاسیکی بندشوں پر کام کیا اور انہیں مستند بنانے میں اہم کردار ادا کیا، اس کے برعکس تاج خاں ایک خالص قوال تھا جس کے بچوں جانی اور غلام رسول نے اس کے فن کو آگے بڑھایا اور تاریخ میں نام پیدا کیا، تان رس خاں اس زمانے کا ایک بڑا گویا تھا، جس کے تعلق سے یہ بات اہم ہے کہ قوال بچوں کے بیشتر گھرانے اس کے شاگرد ہوئے، اسے چوں کہ صوفیا سے خاص نسبت تھی اور اس کا یہی تعلق قوالوں سے ہم آہنگی کا سبب بنا، ہندوستان میں بھی بہت سے قوال اپنی نسبت تان رس خاں سے منسوب کرتے ہیں جن میں عصر حاضر کے معروف قوال غلام صابر، غلام وارث برادران کے نام اہم ہیں۔

    برصغیر میں قوالی کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ہندوستان کے مذہبی کلچر سے مماثلت تھی کہ جہاں مندروں میں بھجن اور خصوصاً کیرتن گائے جاتے تھے، لہٰذا صوفیا نے اسی صنف کی ہیئت کو قوالی کے قالب میں ڈھال کر عوام الناس کو اپنی طرف متوجہ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے قوالی نا صرف عوامی مقبولیت حاصل کر گئی بلکہ رفتہ رفتہ ایک صنعت کی شکل اختیار کر گئی، تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد دونوں جگہوں پر اس انداز کے گانے والوں نے اپنے شعبے میں نام پیدا کیا، پاکستان کے قوال گھرانوں میں سب سے پرانا گھرانا میاں بخش محمدی کا ہے، جس میں آگے چل کر امام الدین اور میاں کریم بخش جیسے بڑے نام سامنے آئے، سلسلۂ چشت سے وابستہ اس گھرانے میں ایک مستند نام محمد علی فریدی کا ہے جو میاں کلیم بخش کے نواسے تھے، جب کہ میاں مہتاب بھی قوالی کا ایک بڑا نام ہے جو مشہور قوال رشید احمد فریدی کے دادا تھے، آگے چل کر اس فریدی خاندان نے قوالی کے شعبے میں امتیازی حیثیت حاصل کی، گزشتہ صدی کے اوائل میں صاحب داد اور خلق داد مشہور قوال گزرے ہیں جب کہ استاد جھنڈو خاں کے شاگردوں میں فتح علی خاں اور مبارک علی خاں کے والد میاں مولا داد کا نام سرفہرست ہے، ان کے علاوہ اس زمانے میں عمر دین قوال، دین محمد قوال اور احمد دین قوال کے نام بھی قابل ذکر ہیں، میاں داد قوال، احمد دین ہی کے فرزند ہیں۔

    گزشتہ صدی کے اوائل میں حیدرآباد دکن کے قوال علی بخش واعظ بھی صاحبِ اسلوب مانے جاتے ہیں، جنہوں نے قوالی میں گرہ بازی متعارف کرائی، جب کہ کنہیا لال میرٹھ والے، بخشا قوال، غلام صابر اور ابن خاں کے نام مستند شمار کیے جاتے ہیں، جب کہ پاکستان میں جہاں لاہور اور کراچی قوالی کے مراکز ہیں، لاہور میں علی بخش خاں، مبارک علی فتح علی، نصرت فتح علی، مجاہد مبارک علی، سنتو خان، بخشی خاں، سلامت خاں، حافظ عطا محمد، حاجی محبوب قوال، مولوی اختر، احمد حسین، خاں فت خان عطا محمد، محمد بدر میاں داد، شیر میاں داد، شیر علی، مہر علی اور عزیز میاں، عمران عزیز میاں قوال اپنی خدمات کے حوالے سے جانے جاتے ہیں، کراچی میں منشی رضی الدین بکن خاں، بہاؤالدین منظور نیازی، صابری برادران، رئیس خلیق نظامی، فاروق نظامی، جعفر نظامی نصیرالدین سامی، ذکی تاجی معین نیازی وغیرہ نے قوالی کے شعبے کو اپنی ریاضت اور تربیت سے جادہ رواں بنایا، جس پر چل کر ان کی آنے والی نسلوں نے قوالی کو اپنی خدمات سے مالا مال کیا، ان لوگوں میں فرید ایاز، ابو محمد قوال، عبداللہ نیازی، نجم الدین، سیف الدین، امجد صابری، ایاز نظامی، ماہر نظامی، زمان تاجی، طاہر علی وغیرہ شامل ہیں، جب کہ ہندوستان میں قوالی کے شعبے میں عزیز احمد خاں وارثی، انعام احمد خاں، حیات احمد نظامی، معراج نظامی، جعفر بدایونی، احسان حسین خاں بندہ نوازی، ظہیر وارثی، شاہد وارثی، غلام صابر، غلام وارث، ہمسر نظامی، سلطان نیازی، عثمان نیازی وغیرہ شامل ہیں۔

    قوالی کے میدان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو قوالوں کی خدمات نے بھی انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، اس سلسلے میں کنہیا قوال، شنکر شمبو برادران اور مرلی قوال کے نام قابل ذکر ہیں، مرلی قوال جو کہ ماسٹر مرلی بھی کہلایا اس کی ایک بڑی خوبی گرہ بندی اور تکرار پر مکمل گرفت تھی جس کے باعث وہ مصرعے کے ہر لفظ سے با آسانی تکرار اور پھر اس میں موضوع گرہ بندی سے سماں باندھ دیا کرتا تھا، غرض یہ کہ ان غیر مسلم قوالوں کی اس شعبے تک رسائی اور خدمات اس بات کا مظہر ہیں کہ فن قوالی لوگوں بلا تخصص مذہب و ملت اپنا اثر رکھتی ہے۔

    اپنی اس تحریر میں اب تک ہم نے قوالی کی تشکیل و ترتیب اور روایت کے تعلق سے گفتگو کی لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ قوالی کی تاریخ کے اس نوسو برس طویل دورانیے میں اس شعبے میں مختلف اسلوب متعارف ہوئے ہیں، فی زمانہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ برصغیر میں قوالی کے تین اسلوب رائج ہیں جو اپنی اپنی سطح پر خواص سے لے کر عوام تک یکساں مقبولیت کے حامل ہیں۔

    ا۔ خالص روایتی یا خانقاہی قوالی

    ۲۔ روایتی کمرشل قوالی

    ۳۔ فلمی قوالی

    جہاں تک روایتی یا خانقاہی قوالی کا تعلق ہے تو یہ وہی خالص اسلوب قوالی ہے جس کا ذکر ہم بنیادی قوالی کے ضمن میں اوپر تفصیل سے کر آئے ہیں، اسے ضمن میں اور تفصیل سے کر آئے ہیں، اسے صوفیانہ انداز قوالی بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ اس کے سامعین میں سلسلہ چشت اور اس کے ذیلی سلسلوں کے صوفیا شامل ہیں، جن کا محفل میں رکھ رکھاؤ اسی روایت کا تسلسل ہوتا ہے جو قدما کے زمانے میں رائج تھا، یہ آج بھی ہماری خانقاہوں اور صوفیوں کے حجروں میں اپنی خالص شکل، طرزِ ادا اور مخصوص طرز کلام کی شکل میں گائی اور سنی جاتی ہے، اس طرز قوالی کی بنیادی شرط کلام میں شروع سے آخر تک ڈھولک کی تھاپ کا جاری اور قائم رہنا ہے، خانقاہی قوالی کے سننے والے بھی مخصوص لوگ ہوتے ہیں جو اس کے لفظی اور غنائی دونوں طرح کے اتار چڑھاؤ اور اثر انگیزی سے واقفیت رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ خانقاہوں میں برسہا برس سے مخصوص کلام گائے اور سنے جاتے ہیں وہی پرانی لگی بندھی تکرار اور وہی محدود گرہ بندی کی جاتی ہے جو خانقاہی انداز قوالی کا حسن ہے، اس پر مستزاد حال و وجد کی کیفیت ہے جو نا صرف قوالی کے ماحول کو اثر انگیز بناتی ہے بلکہ قوال کو معاشی طور پر بھی سہارا فراہم کرتی ہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جب قوال کی مخصوص تربیت اور ڈھولک کی تھاپ امتحان کے مرحلے سے گزرتی ہے اور جو قوال جس قدر زیادہ تربیت یافتہ اور حافظے کا مستحکم ہوتا ہے وہ وجد و حال کے اس مرحلے سے محفل کو اثر انگیز بناتا چلا جاتا ہے اور محفل اپنے عروج پر آ جاتی ہے، یوں لگتا ہے کہ ہر چیز ایک خاص رنگ میں رنگ گئی ہو، محفل کا یہ عروج ہی اُسے اختتام کی طرف لے جاتا ہے کہ جب قوال محفل کا آخری کلام رنگ پڑھتا ہے، ہر خانقاہ کا ایک چوکی بند قوال ہوتا ہے جو اس خانقاہ کی مخصوص تاریخوں میں سارا سال حاضر رہتا ہے اور سالانہ عرس کے موقع پر قوالی کا آغاز بھی کرتا ہے اور محفل کے اختتام پر رنگ بھی اسی کے حصے میں آتا ہے، خانقاہی انداز قوالی کی اصل روح عرفانہ کلام میں مضمر ہوتی ہے جس سے محفل میں موجود صوفیا اپنے شیخ کا تصور کر کے اپنی اپنی سطح پر اپنے اپنے انداز سے کیف و وجد میں محو ہو جاتے ہیں۔

    صنف قوالی کی عوام الناس میں مقبولیت نے اسے برصغیر میں ایک صنعت کا درجہ دے دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ موسیقی کے بڑے بڑے گھرانوں سے وابستہ گویوں نے بھی اپنے معاشی معاملات درست رکھنے کے لیے قوالی کا سہارا لیا، جن میں سکندرآباد گھرانہ، آگرہ گھرانہ، رام پور گھرانہ، خرجہ گھرانہ، ہاپڑ گھرانہ وغیرہ شامل ہیں جو آج بھی قوالی گا کر اپنی معاش کا مسئلہ حل کر رہے ہیں، کیوں کہ قوالی کی بہ نسبت کلاسیکی موسیقی کے ذریعے اقتصادیات کی بحالی ایک دشوار گزار عمل ہے، جب کہ قوالی میں فی الفور معاش کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جاتا ہے، البتہ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب بھی جدی پشتی گویوں نے قوالی کو اختیار کیا تو اسے فنی اعتبار سے مزید خوب صورت بنا دیا، کیوں کہ یہ لوگ قوالی کی بڑھت لفظی تکرار کے بجائے گائیکی کے ذریعے کیا کرتے تھے۔

    ہمارے یہاں قوالی کا مقبول ترین انداز جسے ہم خانقاہی کمرشل قوالی کہہ سکتے ہیں، یہ وہ انداز ہے جس کی گائیکی، ساز اور ہئیت خانقاہی طرز کی ہی ہوتی ہے لیکن اس میں جو کلام گایا جاتا ہے وہ عام موضوعات پر مشتمل ہوتا ہے، جیسا کہ عاشقانہ غزلیں، موضوعاتی اور واقعاتی کلام وغیرہ، اسی طرز شاعری میں صوفیانہ کلام بھی گایا جاتا ہے لیکن ایسا انداز اختیار کیا جاتا ہے کہ وہ صوفیوں سے نکل کر عوام الناس تک بھی رسائی رکھتا ہو، اس طرز قوالی کا سب سے بڑا نام حاجی غلام فرید صابری اور مقبول صابری قوال کا ہے جو دنیا بھر میں صابری برادران کے نام سے جانے جاتے ہیں، آپ نے صنف قوالی کو دنیا بھر میں ناصرف متعارف کرایا بلکہ اسے بین الاقوامی سطح پر قابل قبول بنانے میں مثبت ترین کردار ادا کیا جس کی وجہ ان کی بنائی ہوئی وہ سیکڑوں دھنیں ہیں جو دنیا بھر کے قوالوں اور سامعین قوالی کا اثاثہ بن گئی ہیں، میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا، تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم، سر لامکاں سے طلب ہوئی، بھر دو جھولی میری یا محمد، یا صاحب الجمال و یا سیدالبشر اور نہ جانے کتنی مشہور قوالیاں ان لوگوں کی فن قوالی دسترس کی شاہد ہیں کہ جب بھی قوالی کا ذکر ہوتا ہے تو فوری طور پر صابر برادران کی گائی ہوئی کوئی نہ کوئی قوالی حافظے پر دستک دیتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ خالصتاً خانقاہی انداز کے قوال بھی جب کسی عام محفل میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں تو سامعین کی طرف سے صابری برادران ہی کی کسی نہ کسی قوالی کی فرمائش ہوتی ہے، غرض یہ کہ ان کے کریڈٹ پر لا تعداد ایسی قوالیاں ہیں جنہوں نے قوالی کے عام سامع کی تربیت کی کیوں کہ کسی مقام پر بھی اس میں کسی طرح کلچر پن دیکھنے میں نہیں آیا، حمدیہ نعتیہ کلام ہو، مناقب یا عاشقانہ یا موضوعاتی، ہر سطح پر صابری برادران کے یہاں ایک خاص طرح کی لطافت اور موسیقی کا مخصوص نظم پایا جاتا ہے، صابری برادران کے بعد نصرت فتح علی قوال نے بھی قوالی میں جدت ادا کا مظاہرہ کیا اور دنیا بھر میں بے پناہ شہرت حاصل کی لیکن ان کی یہ شہرت ان کے اس مخصوص خاندانی انداز کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ انہوں نے مغربی انداز اپنا کر دنیا بھر کے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا اور آگے چل کر ان کی فن کارانہ صلاحیتوں نے انھیں موسیقار کا درجہ دیا، جس نے ان سے لاتعداد مقبول گیت تخلیق کرائے، جس کے سبب وہ آج بھی دنیا بھر میں جانے جاتے ہیں لیکن خانقاہی انداز رکھنے والی چند قوالیاں بھی ان کے کریڈٹ پر نہیں، قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ان کی متعدد وہ مشہور قوالیاں جو ان کی شناخت بنیں ان کی اپنی دھن نہیں تھیں بلکہ انہوں نے کمال مہارت اور چابک دستی سے بھلی بسری دھنوں کو مغربی آہنگ میں ڈھال کر لوگوں کے سامنے پیش کیا، مثلاً ان کی وجہ شہرت قوالی دم مست قلندر مست ہندوستانی فلم بھائی بھائی کے مشہور گانے اس دنیا میں سب چور چور کی پیروڈی ہے، جب کہ علی دا ملنگ، مشہور پاکستانی بزرگ گلوکارہ افشاں عباس کے مشہور گانے کڑی وانگواج مینوں سجنا اڑائی جا وغیرہ اس سلسلے میں قابل ذکر ہیں، جب کہ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں، اس کے علاوہ انہوں مشہور پنجابی فوک گیتوں کو بھی اپنے گیتوں کی تشکیل کا سہارا بنایا۔

    پاکستان میں خانقاہی قوالی کی گائیگی کا ایک اور بڑا نام کلن خاں قوال ہے جو اپنی مشہور قوالی مدینہ نہ دیکھا تو کچھ بھی نہ دیکھا عوام الناس میں پہچانے گئے، جس کے بعد ان کی متعدد قوالیاں مقبول ہوئیں لیکن ان کے ساتھ بھی مسئلہ یہی تھا کہ مخصوص انداز قولی کا کوئی بھی آئٹم یا ریکارڈ ان کے کریڈٹ پر نہیں، البتہ وہ اپنے ایک مخصوص انداز کے سبب لوگوں میں جانے گئے لیکن کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہے کہ یہ انداز راجستھان کی مشہور علاقائی صنف چہار بیت مشتق تھا جس نے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور وہ صاحب اسلوب بھی کہلائے گئے۔

    جہاں تک فلمی کمرشل قوالی کا سوال ہے تو وہ صرف اپنی بلند آہنگی اور لے کی چال کی وجہ سے قوالی کی صف میں شامل کی جاتی ہے وگرنہ اس میں قوالی کے اسلوب کی کوئی بات موجود نہیں، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ قوالی کی بنیادی شرط شروع سے آخر تک لے کا جاری رہنا ہے جب کہ فلمی انداز قوالی میں ساز روک کر بول کہا جاتا ہے، ریکارڈنگ کی حد تک تو یہ بات قابل قبول ہو جاتی ہے لیکن محفل میں جب ساز روک کر قوال شعر پڑھنا شروع کرتا ہے تو قوالی کی روح بری طرح متاثر ہو جاتی ہے، اس بنیادی سقم کے باوجود اس انداز قوالی نے دنیا بھر میں فلموں کی طرح ہی مقبولیت حاصل کی، اس کے گانے والوں میں اسمعٰیل آزاد ہمیں تو لٹ لیا مل کے حسن والوں نے، یوسف آزادا ایسے بے شرم عاشق ہیں، حبیب پینٹر باپ کی نصحیت بیٹی کو، جانی بابو میرے محبوب نہ جا اور عزیز نازاں جھوم برابر جھوم شرابی اور اسلم صابری محمد کے شہر میں کے نام شامل ہیں جو اپنی مذکورہ فلمی قوالیوں کے سبب جانے جاتے ہیں، جب کہ پاکستان میں چھوٹے صالح محمد، احمد آزاد، الف دین پٹھان وغیرہ نے فلمی قوالی میں خوب نام پیدا کیا، اس قوالی کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ موضوعات کا تنوع رہا، یہی وجہ تھی کہ مذکورہ قوالوں نے موقع کی مناسبت سے انہیں اختیار کیا، بزرگوں کے واقعات، ولیوں کی کرامات، سہرے، رخصتی محرم الحرم اور رمضان کی نسبت سے گائی گئی قوالیوں کے ساتھ ساتھ نصحیت آموز کلام بھی لوگوں کے دلوں میں گھر کر گئے، اس کے علاوہ مذکورہ قوالیوں کی نت نئی دھنوں اور انہیں موجود تجربات نے بھی سامعین میں اپنی جگہ بنائی، بالخصوص عزیز نازاں کا نام اپنے متنوع کار کردگی کے تعلق سے منفرد ہے، جس نے اس شعبے میں ساز و آواز کو نہایت خوبصورتی سے جدت اور مغربی سازوں سے ہم آہنگ کیا، ان کے گائے ہوئے ریکارڈ آج بھی اس انداز قوالی کی شناخت سمجھتے جاتے ہیں، چڑھتا سورج دھیرے دھیرے ڈھالتا ہے ڈھل جائے گا ایک شاندار پیشکش ہے۔

    مذکورہ قوالی کے پس منظر میں چوں کہ فلمی انداز موجود تھا اس لیے اس میں بعض مقامات پر بھر پور لچر پن دیکھنے میں آیا، جس میں روز بروز اضافہ بھی ہوا اور آج کی یہ قوالی اپنے اس معیار سے بہت نیچے چلی گئی ہے جو مذکورہ فنکاروں نے قائم کیا تھا، یوسف آزاد کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بے شمار ریکارڈ مقبول ہوئے، جن میں شادی بیاہ، تہوار اور مختلف موضوعات کے تعلق سے گائی گئی مقبول ترین قوالیوں کی ایک بڑی تعداد ہے، آپ کی قوالی کی خاص بات کلام کا خوب صورت انتخاب تھا، جس کی بدولت جدید شاعری کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی قوالی کا حصہ بنتی چلی گئیں، آگے چل کر یہی اہتمام عزیز نازاں کے یہاں بھی دیکھنے میں آیا کہ جب انہوں نے اپنے ہاں بائیں بازو کی شاعری کو استعمال کیا، پاکستان میں بھی یہ اثر اس وقت دیکھا گیا جب احمد آزاد قوال کا ایک ریکارڈ ”ماں کا دل مقبول عام ہوا جو میکسم گورکی کے ناول ماں کے بنیادی پلاٹ سے مشتق تھا، یہ ریکارڈ اپنی جذباتی کیفیت کی وجہ سے لوگوں میں مقبول ہوتا چلا گیا۔

    موضوعات کے اس پھیلاؤ نے کمرشل انداز قوالی کو فلموں کی طرح ہی پذیرائی دلائی اور آج بھی اگر کوئی اس انداز کا گانے والا اچھی دھن، عمدہ کلام کو خوبصورتی اور سلیقے کے ساتھ پیش کرے تو لوگ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے، فی زمانہ اس کی مثال اسلم صابری ہے جن کی لطیف آواز، خوب صورت کلام اور نفیس ادائیگی لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے، بحیثیت مجموعی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ فلمی انداز قوالی نے لوگوں میں عمدہ دھنیں متعارف کرائیں اور خوبصورت انتخاب کلام

    گائیکی کا حصہ بنا، مذکورہ انداز قوالی میں مردوں کے ساتھ ساتھ چند خواتین کے نام بھی قابلِ تذکرہ ہیں جن میں شکیلہ بانو بھوپالی، رشیدہ خاتون اور شمیم بانو کی خدمات یادگار ہیں۔

    آخر میں ایک ایسے قوال کا ذکر بھی ضروری ہے جس نے اپنے مخصوص طرز ادا سے ایک عالم کو فتح کیا، یہ قوال عزیز میاں ہے، ہر چند کہ ان کا انداز فلمی قوالی سے ہی مشتق تھا، کیوں کہ ان کے یہاں بھی ساز روک کر گرہ بندی کی جاتی تھی اور پھر کسی ایک مصرعے کی تکرار سے قوالی کا تاثر پیدا کیا جاتا تھا، پھر اسی تکرار کی مناسبت سے طول طویل گرہ بندی کی جاتی ہے، کیوں کہ یہ دراصل اس بنیادی مصرعے ہی کی وضاحت ہوتی ہے جسے تکرار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، عزیز میاں سے پہلے ایک اور مقبول قوال حبیب پینٹر کے یہاں یہ انداز بہت ہی بھر پور طریقے سے دیکھا جاتا رہا، یوں کہیں کہ عزیز میاں کا انداز قوالی، حبیب پینٹر کے اسلوب قوالی ہی کا توسیع مزید تھا، کیوں کہ انہوں نے اپنے علم اور مطالعے کے زور پر قوالی میں نہایت فکری اور کسی حد تک فلسفیانہ مضامین پیش کیے اور اپنے حافظے اور مطالعے کے زور پر طول طویل گرہ بندی کے ذریعے موضوع کی وضاحت کر کے سامعین کو اپنی طرف نا صرف متوجہ کیا بلکہ اپنے موضوعات پر بڑی حد تک قائل بھی کر لیا، ان کے یہاں قوالی کا مخصوص کلام ہی نہیں بلکہ قدیم و جدید ادب کے ساتھ ساتھ رثائی مضامین کی روانی بھی سننے والے کو ایک خاص رو میں بہالے جاتی ہے، عزیز میاں کے یہاں فنی معاملات سے زیادہ مضامین کی فکر انگیزی اور وضاحت کو غلبہ حاصل تھا، اسی لیے لوگ ان کی گائیکی کی طرف جانے کے بجائے ان کے مضامین کے گرویدہ ہو جاتے اور یہی وہ انداز تھا جس نے عزیز میاں کی قوالی کو ان ہی سے منسوب رکھا۔

    دنیا چل رہی ہے قوالی کا سفر بھی جاری ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کی تاریخ میں جن لوگوں کے نام جگ مگا رہے ہیں اور جن اسالیب کی گونج موجود ہے ان کی اثر انگیزی اور کتنی دیر قوالی کے سامعین کو مسحور رکھتی ہے اور آنے والے زمانے میں اب کون لوگ اس صنف کے امانت دار بنتے ہیں۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے