Font by Mehr Nastaliq Web

حضرت محمد رسول اللہ کا غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ

ریان ابوالعلائی

حضرت محمد رسول اللہ کا غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    رحمت اللعالمین حضرت محمد رسول اللہ کی سیرت تما عالم کے لیے نمونہ اور قابل تقلید ہے جس سے دنیا کاکوئی بھی فرد باآسانی رہنمائی حاصل کرسکتا ہے آپ نے انسانیت کی بنیاد پر غیر مسلموں کے ساتھ بھی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔

    آج کے تذبذب دور میں یہ پروپیگنڈا بڑے زوروشور سے کیا جارہاہے کہ اسلام اور اس کے ماننے والے دوسرے مذاہب والوں کو برداشت نہیں کرتے ،یہ ایک گمراہ کن پروپیگنڈا ہے اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں،یہ اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی ایک عالمی سازش رچی جارہی ہے ،اسلام در حقیقت سلامتی والامذہب ہے اس کا دامنِ رحمت کائنات عالم کو محیط ہے، اسلام اپنے ماننے والوں کو ہمیشہ سخت تاکید کرتا چلاآیا ہے کہ

    ’’اے لوگوں دیگر اقوام اور اہلِ مذاہب کے ساتھ مساوات، ہمدردی، سالمیت ،استحکام،غم خواری ورواداری کا معاملہ کرو، اور ان کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرو جو تمہارے دشمن ہیں تاکہ وہ تمہارا اخلاق دیکھ کر تمہارے دین کی جانب مائل ہوں‘‘

    اسلام کی تعلیم یہ نہیں ہے کہ اگر غیر مسلموں کی ایک قوم مسلمانوں سے برسرپیکار ہے تو تمام غیر مسلموں کو بلاتمیز ایک ہی نظریے سے دیکھا جائے ایسا کرنا حکمت و انصاف کے خلاف ہوگا،دیگر مذاہب یا اقوام کے کچھ لوگ اگر مسلمانوں سے سخت عداوت اور دشمنی بھی رکھتے ہوں تب بھی اسلام نے ان کے ساتھ رواداری کی تعلیم دی ہے ۔

    اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ

    ’’وَ لَا تَسْتَوِی الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّیِّئَةُ، اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ‘‘

    (سورہ فصیلت، آیت نمبر؍۳۴)

    ترجمہ : اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست۔

    اسلام درحقیقت محبت والامذہب ہے جس طرح رب اللعالمین کی صفات بے شمار و لامحدود ہیں، اسی طرح رحمت اللعالمین کے اوصاف و کمالات کے بے شمار پہلوہیں جوآپ کے نناوے اسمائے متبرکہ سے ظاہر ہیں، ان سب میں ایک ہی شان جھلکتی نظر آتی ہے کہ آپ پیکر محبت و رحمت ہیں،آپ کی فطرت میں ودیعت کردہ یہ جذبۂ محبت و شفقت صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ کائنات عالم کے لیے ہیں ،گویا ہر زبان ومکان کی مخلوق خدا کوحضرت رحمت اللعالمین کے در سے محبت و رحمت ہی کی خیرات ملتی ہے۔

    اللہ پاک کا ارشاد ہےکہ

    ’’لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ‘‘

    (سورہ التوبہ، آیت نمبر؍ ۱۲۸)

    ترجمہ : بے شک تمہارے پاس تم میں سے وہ عظیم رسول تشریف لے آئے جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا بہت بھاری گزرتا ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے مسلمانوں پر بہت مہربان، رحمت فرمانے والے ہیں۔

    حضرت رحمت اللعالمین کا تمام مخلوقِ خدا بالخصوص مؤمنین پر رحمت وکرم کا عالم مندرجہ بالاآیت سے ظاہر ہوتا ہے ،مندرجہ ذیل واقعہ سے غیر مسلموں کے ساتھ آپ کے برتاؤ کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے ،حضرت بلال سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ نے پہلی دفعہ حضرت رحمت اللعالمین کو کس طرح دیکھا ؟

    حضرت بلال فرماتے ہیں کہ میں ایک غریب انسان تھا، حبش سے آیا تھا، میںمکہ کے لوگوں کو کم جانتا تھا کیوں کہ میں ایک حقیر غلام تھا اور عرب کے غلاموں سے انسانیت سوز سلوک عام تھا ،ان کی استطاعت سے بڑھ کر ان سے کام لیا جاتا تھا، تو مجھے کبھی اتنا وقت ہی نہیں ملتا تھا کہ باہر کے لوگوں سے ملوں، لہٰذا مجھے حضرت یا اسلام کی کسی چیز کا قطعی علم نہ تھا۔

    ایک دفعہ موسم سرد میں مجھے سخت بخار کا غلبہ ہوا جس کے اثر نے مجھے بالکل کمزور کردیا ،میں وقت کے ساتھ ڈھلتا چلاگیا اور نحیف و لاغر ہوگیا، ادہر میرے مالک نے آواز دی اور کہاکہ مہمان آنے والے ہیں، لہٰذا گھر کے کنارہ حصہ میںجَو کو بوریہ رکھی ہوئی ہے اسے پیس ڈالو اور گھر کو صاف و شفا ف کر ڈالو، کل یہاں مہمان آنے والے ہیں، لہٰذا بخار کی حالت میں میں کام کرنے لگا مگر تھوڑی ہی دیر کے بعد صحت سے مجبور ہو ا اور بے ہوش ہوکر گرگیا، جب میرا مالک دیکھنے آیا کہ میں پیس رہاہوں یا نہیں ،وہ مجھے سوتا ہوا دیکھ کر آگ بگولہ ہوا اور سزا کے طور پر میری قمیص اُتروادی اور مجھے کھلے ہوئے صحن میں دروازے کے پاس بیٹھا دیا کہ یہاں بیٹھ ا ور رات بھر جَو پیس ۔

    اب سخت سردی اُوپر سے بخار اور اتنی مشقت والاکام ،میںروتا جاتا تھا اور جَو پیستا جاتا تھا کچھ ہی دیر میں دروزے پہ دستک ہوئی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو ایک نہایت متین اور پُر نور چہرے والاشخص اندر کی جانب داخل ہوا اور پوچھا کہ جوان کیوں روتے ہو ؟ جواب میں میں نے جھجھکتے ہوئے کہا کہ جاؤ اپنا کام کرو ،تمہیں اس سے کیا مطلب یہاں پوچھنے والے بہت آتے ہیں لیکن مداوا کوئی نہیں کرتا ،قصہ اختتام کی جانب جارہاہے ہے ۔

    حضرت بلال نے آپ کو کافی سخت جملے کہے ،حضور نے یہ جملے سن کر واپس لوٹنے لگے تو بلال نے کہا پس ؟میں نہ کہتا تھا کہ پوچھتے سب ہیں مداوا کوئی نہیں کرتا مگر حضور نے پھربھی کوئی جواب نہیں دیا ،حضرت بلال کہتے ہیں کہ دل میں جو ہلکی سی امید جاگی تھی کہ یہ شخص میرا معین و مددگار ثابت ہوگا لیکن بلال کو کیا معلوم کہ جس شخص سے اب اس کا واسطہ پڑا ہے وہ رحمت اللعالمین ہے۔

    حضرت بلال کہتے ہیں کہ کچھ ہی دیر میںوہ شخص واپس آگیا اس کے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا پیالہ اور دوسرے ہاتھ میں کھجور کی تھیلی تھی اس نے وہ کھجوریں اور دودھ کا پیالہ میری طرف بڑھایا اور کہاکہ شکم سیر ہوکر سو جاؤ،میں نے کہایہ جَو کون پیسے گا اگر آج جَو نہ ییسا تو مالک سخت برہم ہوجائے گا اور جو دو روٹی مل جاتی ہے شاید اس سے بھی محروم کردے گا،حضور نے فرمایا کہ تم سو جاؤ یہ پیسے ہوئے جَو مجھ سے لے لینا ،بلال سو گئے اور حضرت رحمت اللعالمین نے ساری رات ایک اجنبی حبشی غلام کے لیے چکی پیسی ،صبح بلال کو پیسے ہوے جَو دیے اور چلے گئے دوسری اور تیسری رات بھی یہی معاملہ رہا کہ کھجو ریں اور دودھ بلال کو دیتے اور خود اس کا جَو پیستے ۔

    یہ تھا وہ تعارف جس کے بطن سے اس لافانی عشق نے جنم لیا کہ آج بھی حضرت بلال کو صحابی رسول بعد میں عاشق رسول پہلے کہاجاتا ہے، اس طرح کے بہترے واقعات تاریخ کے اوراق میں مرقوم ہیں جو حضرت رسول اللہ کی غیروں پر رحمتوں کی عکاسی کرتا ہے جیسےکوئی غیر علیل بھی ہے تب بھی اس کی عیادت کو جاتے، جسم کے ساتھ دل کی بیماری کا بھی علاج ہوگیا، اسی اخلاق کریمانہ کی بنیاد پر کئی گم گشتگانِ راہ ہدایت راہ یاب ہوگئے، کل اسلام میں قلیل لوگ تھے مگر پختہ مزاج اور تقویٰ شعار ،دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے والے تھے اور آج اسلام ہر جگہ موجود ہے لیکن کون سی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کا دائرہ محدود ہوتا نظرآرہاہے؟ہم بھیڑ میں تو آج زیادہ نظر آتے ہیں مگر عملی میدان اور اخلاقی میدان میں شاید بہت پیچھے،ہم حضرت رسول اللہ کے نام کا نعرہ تو لگاتے ہیں مگر ان کے نقش پا اور ان کے عملی تعلیم سے کوسوں دور رہتے ، یہ سول شاید انفردای نہیں ہے ،ہمارا ماضی ہم سب کو بہت کچھ سمجھانا چاہ رہاہے ،مجھے عطاؔکاکوی کا وہ جملہ یاد آرہاہے کہ

    ’’ جس قوم کا ماضی نہیں اس کامستقبل بھی نہیں ‘‘

    کہیں اس بھاگتی ہوئی تیز رفتار دنیا میں ہم اپنا ماضی نہ بھو ل جائیں ،راقم السطور محمد ریّان ابوالعُلائی کا خیال ہے اگر اسلام کا تعلق دہشت گرد ی سے ہوتا تو سب سے پہلے اُس بوڑھی عورت کا سر کاٹا جاتا جو روز ہمارے مولیٰ پر کوڑا پھیکا کرتی تھی۔

    وہ افراد جو خدا کو مانتے بھی نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں بتوں کی پوجا کرتے ہیں، سارا دن لات و منات اورمورتیوںکی عبادت کرتے ہیں خداتو اسے بھی بیماری سے شفا اور رزق دیتا ہے، وہ یہ نہیں کہتا کہ جن کی پوجا کرتے ہو ان سے مانگو بلکہ خدا کی رحمت تو ہر خاص و عام کے لیے ہے اور یہی عمل مصطفیٰ بھی ہے یعنی جو آپ کی غلامی میں ہے حضرت کی چادرِ رحمت اس کے سرپر بھی ہے اور جو حضرت پر اپنی تلواریں چلارہے ہیں اور اپنے وطن مالوف مکہ کی سرزمین سے نکال رہے ہیں ان پر بھی ہے ،فتح مکہ کے موقع پر مکہ میں داخل ہوکر حضرت سعد بن عبادہ نے بلند آواز سے کہاکہ

    ’’الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ‘‘

    (الصحیح البخاری، کتاب المغازی، حدیث نمبر؍ ۴۲۸۰)

    یعنی آج انتقام کا دن ہے ،ابو سفیان نے یہ جملہ حضرت کے کانوں تک پہنچا دیا، اس پر آپ نے فرمایا کہ سعد نے غلط کہا ہے، کائنات انسانی میں محبت، رحمت، شفقت اور احسان و انعام کا عالم یہ ہوکہ وہ غم وغصہ کی انتہائی کیفیت میں بھی اپنے دامن رحمت کو تمام انسانوں پر پھیلائے رکھے اور اپنے مرتبہ رحمت اللعالمین پر قائم و دائم رہے، بلاشبہ یہ مرتبہ ساری کائنات انسانی میں فقط انہیں حاصل ہے، وہ اتنے کامل و اکمل ہیں کہ ان کے کمال میں کسی نقص کا گمان ہوہی نہیں سکتا ،چنانچہ آپ احکام دیتے تو آپ کا یہی محبت بھرا طرز عمل اور طرز فکر اجرائے احکام میں جھلکتا نظر آتا۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے