ذکر خیر حضرت مولانا شاہ محمد اسمعیل روحؔ کاکوی
کمال آباد عرف کاکو کی مشہور درگاہ حضرت مخدومہ بی بی کمال قدس اللہ تعالیٰ سرہا کے متولی حکیم شاہ سعید احمد ابوالعلائی صاحب کے لائق صاحبزادے حضرت مولانا شاہ محمد اسماعیل ابوالعلائی بڑے صوفی مزاج اور نہایت بردبار شخصیت کے حامل تھے۔
1 اگست 1338ھ بروز یک شنبہ، محلہ شاہ ٹولی، داناپور اپنی نانیہال میں پیدا ہوئے۔ واضح ہو کہ آپ کے والد حکیم سعید احمد کا نکاح حضور قبلہ گاہی ظفرالمکرم کے نانا حضرت شاہ نظیر حسن ابوالعلائی قدس اللہ سرہٗ کی صاحبزادی رابعہ خاتون سے ہوا، جس سے مولانا کے خاندان کی عظمت و رفعت میں مزید اضافہ ہوا۔
ابتدائی تعلیم مدرسہ نعمانیہ حنفیہ محلہ شاہ ٹولی میں اپنے نانا محترم نظیرؔ داناپوری سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم حضور قبلہ ظفرالمکرم کے والد و پیرومرشد حضرت شاہ محمد محسن ابوالعلائی قدس اللہ سرہٗ سے مکمل ہوئی۔ ہر امتحان میں نمایاں نمبرات لا کر آپ جلد ہی علمی دنیا سے واقف ہوئے۔ ابتدائی عہد میں مع اہلیہ کے حضور قبلہ کے والد حضرت محسن قدس سرہ سے مرید و مجاز ہوئے، اِس لئے روحانی و عرفانی منازل بھی آپ نے جلد طے کیں۔
خاندانی رشتے میں آپ حضور شاہ صاحب قبلہ کے خالہ زاد بھائی تھے، اس لئے شروع سے بڑے قریب رہے۔ تعلیمی میدان میں کئی جگہ بحیثیت کیٹلاگر و صدر مولوی ہوئے اور 1366ھ/1948ء میں باضابطہ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں مدرس ہو کر اعلیٰ تعلیم دینے میں مشغول ہوئے۔ علمی لیاقت کی وجہ سے جلد آپ نائب صدر المدرسین کے عہدے پر فائز ہوئے۔
سبکدوش ہونے کے بعد اُن کی علمی فضیلت اور بے پناہ تحقیقی شعور کے پیش نظر خدابخش اورینٹل لائبریری، پٹنہ میں عربی مخطوطات کی توضیحی فہرست سازی پر مامور ہوئے اور آخر عمر تک اسی میں مصروف رہے۔
دیندار عالم، بہترین مقرر اور محقق تھے۔ شاعری میں ’’روح‘‘ تخلص کیا کرتے۔ آپ کی سادگی زبان زد خلائق تھی، جس کا اعتراف کئی اہم شخصیات نے ادبی و شعری نشستوں میں کیا ہے۔ مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ میں نائب صدر کے وقت بھی طلبہ سے وہی شگفتہ مزاج باتیں کیا کرتے۔ زبان میں تاثیر تھی، بڑے ملنسار، خوبرو اور وجیہہ تھے۔ دیکھنے والے دیکھتے تو گرویدہ ہو جاتے، جو صحبت اختیار کرتا وہ ہمیشہ مداح ہو جاتا۔
شاہ صاحب قبلہ سے آپ کے مراسم بڑے گہرے تھے بلکہ حضور شاہ صاحب کے گہرے دوست تھے۔ اسی وجہ سے حسب وصیت حضور قبلہ گاہی قدس سرہ کی نمازِ جنازہ جناب مولانا نے پڑھائی۔ عظیم آباد کے اطراف و اکناف کی مجالس میں اکثر دونوں ہمراہ تشریف لے جاتے کیونکہ دونوں ایک ہی نانا کے نواسے، ہمدرس اور ہم بیعت و خلافت تھے، اس لئے شروع سے دونوں ایک دوسرے سے واقف رہے۔ شاعری میں بھی اپنے خال اقدس حضرت شاہ محسنؔ داناپوری کے شاگرد تھے۔ اچھے اشعار کہتے، اس لئے کئی غزلیں آج بھی زبان زد عام ہیں۔
حیات موت سے پہلے، حیات موت کے بعد
عجیب ربط نہاں موت کا حیات سے ہے
میں مُشتِ خاک سہی، میری کائنات ہی کیا
مقابلہ تو مگر ساری کائنات سے ہے
آپ کی وفات سفرِ حج کے دوران 24 ذی الحجہ 1419ھ بمطابق 23 اپریل 1998ء کو ہوئی اور حسب خواہش جنت البقیع میں مدفون ہوئے۔
صاحبزادگان میں محمد کمال، محمد جلال کاکوی اور محمد جمال کاکوی ہیں جو خانقاہ برابر حاضر ہوتے رہتے ہیں۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.