ذکر خیر حضرت مولانا شاہ محمد قاسم ابوالعُلائی داناپوری
ذکر خیر حضرت مولانا شاہ محمد قاسم ابوالعُلائی داناپوری
ریان ابوالعلائی
MORE BYریان ابوالعلائی
آپ کی پیدائش ۱۷؍ شوال المکرم ۱۲۱۸ھ، بروز پنجشنبہ، مقام داناپور میں ہوئی، آپ کا نامِ نامی محمد قاسم تھا اور تخلص بھی قاسم تھا، جب کہ آپ ’’سیّد الطریقت‘‘ کے خطاب سے زیادہ مشہور ہوئے، آپ کے والدماجد کا اسمِ گرامی حضرت شاہ تراب الحق موڑوی (متوفیٰ ۱۲۷۲ھ) تھا اور والدۂ ماجدہ کا نام حفیظ النسا (متوفیٰ ۱۲۴۲ھ) ہے۔
آپ کا خاندان منیر شریف کے مشہور بزرگ حضرت مخدوم عبدالعزیز بن حضرت امام محمد تاج فقیہ سے جا ملتا ہے، نیز خانوادۂ تاج فقیہ کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف ولیۂ کاملہ حضرت بی بی کمال المعروف بی بی ہدیہ سے بھی آپ کی براہِ راست نسبت ہے، اس طرح آپ کو حضرت شہاب الدین پیر جگجوت کی ذریت میں ہونے کا شرف بھی حاصل تھا؛ آپ کے اجداد میں ساداتِ فقرا، سلسلۂ سہروردیہ اور چشتیہ کے نامور مشائخِ کرام شامل ہیں، جن میں حضرت سیّد حسن زنجانی مشہدی، حضرت سلیمان لنگر زمین، حضرت شاہ عطاؤاللہ، حضرت شاہ احمد چشتی نوآبادی، حضرت اخوند شیخ چشتی نوآبادی (متوفیٰ ۱۰۱۲ھ)، حضرت شاہ تیم اللہ چشتی نوآبادی (متوفیٰ ۱۰۳۶ھ)، حضرت شاہ دیوان تاج الدین محمد چشتی نوآبادی (متوفیٰ ۱۰۵۵ھ)، حضرت دیوان شاہ عنایت اللہ چشتی نوآبادی (متوفیٰ ۱۰۸۲ھ)، حضرت شاہ منواللہ چشتی نوآبادی (متوفیٰ ۱۱۰۹ھ)، حضرت شاہ امین اللہ چشتی شہید نوآبادی (متوفیٰ ۱۱۶۱ھ) اور حضرت شاہ طیب اللہ نقاب پوش موڑوی (متوفیٰ ۱۲۳۵ھ) وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
آپ کو بہار شریف موڑہ تالاب کے معروف بزرگِ طریقت حضرت لطیف الدین بندگی دانشمند موڑوی کی ذریت میں ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔
(تذکرۃ الکرام)
مولانا شاہ محمد قاسم ابوالعلائی کا خاندان پانچویں صدی ہجری کے بعد بہار میں سکونت پذیر ہوا،یہ خانوادہ امام جعفر صادق کی اولادامجاد سے ہے، جس کا سلسلہ فقیہِ زنجان حضرت لطیف الدین بندگی زنجان سے ملتا ہے، جو شیخ شرف الدین بو علی شاہ قلندر کے مرید و مجاز ہوئے اور ان سے اجازت و خلافت حاصل کی، پھر دہلی سے ہوتے ہوئے بہار تشریف لائے، جہاں حضرت مخدومِ جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے حکم سے تقریباً ڈیڑھ کوس شمال کی جانب ایک مقام پر اپنا عصا مبارک نصب کر کے فرمایاکہ ’’ایں مورہ‘‘، چنانچہ وہاں تالاب، مسجد اور خانقاہ تعمیر ہوئی اور وہ جگہ ’’موڑہ تالاب‘‘ کے نام سے مشہور ہوگئی، بعد ازاں آپ اسی مقام سے رشد و ہدایت کے فرائض انجام دیتے رہے، واضح رہے کہ حضرت لطیف الدین بندگی موڑوی، شرف الدین بو علی قلندر دہلی کے اجل خلیفہ تھے۔
مولانا شاہ محمد قاسم ابوالعلائی ایک عالمِ دین ہونے کے ساتھ ایک ممتاز علمی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ زمانہ انہیں ’’سیّد الطریقت‘‘ کے نام سے پہچاننے لگا، آپ کی دو شادیاں ہوئیں اور دونوں زوجات سے دو دو صاحبزادے تولد ہوئے، پہلا نکاح بخشا النسا سے ہوا، جن سے دو لڑکے پیدا ہوئے مگر دونوں صغر سنی ہی میں وفات پاگئے، ان میں ایک کا نام محمد افضل تھا، آپ کے پیرِ روشن ضمیر و دستگیرمولانا شاہ محمد قاسمؔ ابوالعلائی کی بزرگی اور خاندانی علمی وجاہت کا اعتراف اکبرؔ الہ آبادی نے اپنے ایک خط میں یوں کیا ہے۔
’’ سرتاج برادارن طریقت، مسند آرائے بزم معرفت زاداللہ عرفانہ تسلیم ۔۔۔
آپ کی تحریر کے ورودنے عذت بخشی۔آ پ کا خیال نہایت عمدہ ہے آ پ ہی کے گھر کا فیض ہے کہ اس زمانہ میں او ر اس حا لات میںبھی میرے عقائد محفوظ ہیں وہی ہوا ہے کہ اس طوفان بے تمیزی میں بھی درد دل سے کبھی کبھی پردۂ غفلت الٹ دیتی ہےاور یہ شعر زبان پر آجاتا ہے۔
حلقہ پیر مغانم راازل در گوش است
بر ہما نیم کہ بودیم ہماں خواہد بود
موروثی معتقدمحمد اکبر حسین ‘‘
آپ ذوالبحرین تھے، آپ کا جمالِ مبارک ایسا تاباں و درخشاں تھا کہ مفتی صدر الدین فرمایا کرتے تھے کہ اس زمانے میں اگر کوئی اصحابِ رسول ﷺ کی زیارت کا مشتاق ہو تو حضرت سیّد شاہ محمد قاسم صاحب کو دیکھ لے، آپ خوش بیان بھی ایسے تھے کہ مفتی اسد اللہ جون پوری اور مفتی ریاض الدین کاکوری فرماتے تھے کہ ہم نے ایسا مسلسل اور مربوط سلسلۂ کلام کبھی نہیں سنا، تاہم آپ خود بہت کم گفتگو کا آغاز فرماتے تھے، البتہ جب کوئی شخص کسی امر میں استفتا کرتا تو نہایت وقار، حکمت اور جامعیت کے ساتھ جواب عطا فرماتے۔
آپ کے اعمام فرمایا کرتے تھے کہ ’’ نورِ چشم سیّد محمد قاسم ولیِ مادرزاد ہیں‘‘، آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے خالِ محترم و معظم اعلیٰ حضرت شاہ قمر الدین حسین ابوالعلائی کی نگرانی میں ہوئی، آپ نے علومِ باطنی کے ساتھ علومِ ظاہری میں بھی اعلیٰ قابلیت حاصل کی، تفسیر، حدیث، فقہ، منطق، بلاغت، صرف و نحو اور فارسی زبان پر عبور حاصل کیا، اور جلد ہی تحصیلِ علومِ ظاہری کے ساتھ کمالاتِ باطنی میں بھی کامل و ماہر ہوگئے؛ فصاحت و بلاغت میں آپ کی شہرت پھیلی، جبکہ معاملہ فہمی، راست گوئی، خوش تدبیری، استقلال، ہمت، شجاعت، جوانمردی، دلیری اور بہادری میں بھی آپ بہت جلد ایک اعلیٰ نمونہ بن کر سامنے آئے۔
اپنے پیر و مرشد کے وصال کے بعد آپ مسند رشد و ہدایت پر رونق افروز ہوئے اور لوگوں کو راہِ خدا دکھلانے اور تعلیم و تلقین فرمانے لگے؛ داناپور شریف، الہ آباد اور آگرہ آپ کی رشد و ہدایت کے اہم مراکز تھے، جہاں لوگ دور دور سے حاضر ہوتے اور گوہرِ مراد پاکر واپس جاتے، سینکڑوں گم گشتگانِ راہ ہدایت راہِ راست پر گامزن ہوئے اور ہزاروں افراد دولتِ ایقان سے بہرہ ور ہوئے، درجنوں طالبان مرتبۂ ولایت پر فائز ہوئے، گویا آپ کی ذات اس زمانے میں عوام و خواص سب کے لیے یکساں طور پر مرجعِ نظر تھی۔
آپ نے اپنی زندگی ہی میں اپنے برادرِ اصغر حضرت شاہ محمد سجاد ساجدؔ ابوالعلائی داناپوری کو اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرمایا، اور آپ کے نامدار و مشہور خلفا میں حضرت مخدوم شاہ محمد سجادپاک، حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعلائی داناپوری ، حضرت شاہ فدا حسین داناپوری، حضرت مولانا غلام امام شہیدؔ، حضرت شاہ وزیر ابوالعلائی عطاؔ داناپوری، حضرت حافظ شاہ محمد منیر الدین حسین قمری، حضرت شیخ محمد شفیع اکبرآبادی، حضرت خواجہ غلام غوث اکبرآبادی ، حضرت شیخ محمد اسمعیل، حضرت حکیم شاہ علیم الدین بلخی فردوسی، حضرت شاہ شرف الدین حسین قمری، حضرت میر اشرف علی چشتی اجمیری، حضرت سیّد مظہر حسین ابوالعلائی کڑا مانکپوری، حضرت میر سیّد تفضل حسین الہ آبادی، حضرت میر سیّد طفیل علی الہ آبادی اور حضرت میر حبیب علی الہ آبادی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
شعر و شاعری ایک فطری عمل ہے، لہٰذا آپ کے بہت سے قصائد اور مناقب حضرت سیّدنا کی شان میں موجود ہیں؛ آپ کو تصنیف و تالیف کا بھی گہرا شوق تھا اور آپ کی تحریروں کے مطالعے سے آپ کی کامل استعداد اور علمی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے، تاہم آپ کی اکثر کتب و رسائل قلمی صورت میں ہیں، جن کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔
آپ کی تصانیف و تالیفات میں اعجازِ غوثیہ، جو حالاتِ غوثِ اعظم پر مشتمل ہے اور ۱۲۸۹ھ میں مطبوع ہوئی، نجاتِ قاسم، جو حالاتِ حضرت سیّدنا پر مبنی ہے اور پہلی بار ۱۲۷۲ھ میں جبکہ دوسری بار ۱۳۰۶ھ میں شائع ہوئی، فائض البرکات، انوارِ قمریہ، جو اعلیٰ حضرت کے ملفوظات پر مشتمل ہے، انشائے فرمانِ علیم، چراغِ مکتب، سیرِ نینی تال وغیرہ شامل ہیں، جن میں سے متعدد قلمی صورت میں محفوظ ہیں، اور یہ سب آپ کی علمی لیاقت، تصنیفی ذوق اور وسعتِ مطالعہ کی روشن دلیل ہیں۔
جب آپ الہ آباد سے ترکِ روزگار فرماکر داناپور شریف تشریف لائے اور خانہ نشین ہوئے تو دو یا تین برس بعد مزاجِ مبارک میں آثارِ علالت ظاہر ہونے لگے، رفتہ رفتہ مرض نے شدت اختیار کی، ابتدا میں بخار رہا پھر اسہالِ کبریٰ جاری ہوگئے، مگر آپ نے کبھی کسی قسم کی شکایت نہ فرمائی، اور جب بھی کسی نے مزاج کی کیفیت دریافت کی تو آپ یہی شعر پڑھ دیا کرتے تھے۔
در دم از رفت ودر ما نیزہم
دل فدائے او شد و جاں نیز ہم
ایک روز ۳؍ شوال ۱۲۸۱ھ کو آپ کی حالتِ مرض نہایت شدید ہوگئی، نبض کا انتظام بگڑ گیا اور تمام گھر میں کہرام برپا ہوگیا، اسی دوران شاہ اکبرداناپوری کے نکاح کی تاریخ ۲۷؍ شوال ۱۲۸۱ھ مقرر تھی مگر اہلِ خانہ کو اندیشہ ہوا کہ اس سال شادی کا انجام ممکن نہ ہوگا، آپ کو نورِ قلب سے یہ کیفیت معلوم ہوئی تو فرمایا کہ یہ شادی میری پسند سے ہوئی ہے، معلوم نہیں میرے بعد کیا واقعہ پیش آئے، اس لیے میرا جی چاہتا ہے کہ شادی دیکھ لوں، لہٰذا تاریخ کم کردو، چنانچہ آپ نے خود ۲۷؍ شوال کی تاریخ بدل کر ۱۷؍ شوال مقرر فرمائی، پھر خانقاہ داناپور شریف سے ۱۶؍ شوال المکرم ۱۲۸۱ھ روز چہار شنبہ، بارات روانہ ہوئی اور پنج شنبہ ۱۷؍ شوال کو واپس آئی، جب بارات لوٹ آئی تو حضرت شاہ فدا حسین نے عرض کیا کہ حضور! نورِ چشم محمد اکبر مدّ عمرہٗ کی بارات واپس آگئی، آپ نے فرمایا کہ بہت خوب، ہم بھی تیار ہیں اور فوراً
در دم از رفت ودر ما نیزہم
دل فدائے او شد و جاں نیز ہم
تھوڑی دیر کے بعد آپ نے بآوازِ بلند ارشاد فرمایا کہ ’’ دیکھو، پانچ شمعیں روشن ہیں ‘‘ اور اسی وقت تمام گھر میں ایسی عطر آگیں خوشبو پھیل گئی کہ ہر شخص کا دماغ معطر ہوگیا، پھر چند منٹ تک آپ پر سکوت طاری رہا، اس کے بعد آپ نے یہ رکوع تلاوت فرمایا۔
’’ اللہ نو ر السموٰت والارض‘‘ الخ
جب رکوع تمام ہوا تو خود بخود تمام حاضرین کی زبان پر ’’اِنّا للہ وَاِنّا اِلَیہِ رَاجِعُون‘‘ جاری ہوگیا اور آپ کی روحِ مبارک جوارِ رحمتِ پروردگار میں جا آسودہ ہوئی، آپ نے نمازِ عصر کے بعد وصال فرمایا اور رات نو بجے تدفین سے فراغت ہوئی، حالانکہ داناپور سے منیر شریف کا فاصلہ تقریباً سات کوس ہے، پھر بھی بارہ بجے شب تک تمام حاضرین داناپور واپس آگئے، یہ امر بھی کرامت سے خالی نہیں سمجھا جاتا؛ حضرت شاہ محمد یحییٰؔ ابوالعلائی عظیم آبادی نے آپ کی تاریخِ وصال قلم بند فرمائی ہے۔
قطعہ
قاسم کہ بود سیّد و سالار اہل فقر
رخت حیات خویش زمانی سرابہ تست
تاریخ روز و سال و محر و انتقال او
از جہہ شوال ہفدہ است
حضرت کا جسد داناپور سے روانہ ہوکر منیر شریف پہنچا تو اس وقت تک قبر شریف تیار نہ تھی، اس لیے تابوتِ مبارک کو حضرت مخدوم احمد یحییٰ منیری کی درگاہ کے صحن میں رکھ دیا گیا، اسی اثنا میں دفعتاً ایک نہایت خوش الحان اور دردناک آواز کسی جانب سے آنے لگی، جسے سن کر سب حاضرین کے کان اسی طرف متوجہ ہوگئے، جناب شاہ ولی اللہ اور ان کے بڑے صاحبزادے شیخ الٰہی بخش ایک فتیلہ روشن کر کے ہر درخت کے قریب جاتے تھے مگر اس آواز کی حقیقت معلوم نہ ہوپاتی تھی، جبکہ حضرت مخدوم شاہ محمد سجاد جسد کے سامنے مراقب بیٹھے تھے، جب آپ نے مراقبے سے سر اٹھایا اور آنکھیں کھولیں تو وہ صدا بند ہوگئی، اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ دریافت کیا گیا تھا کہ دیکھوں اب حضرت سیّد الطریقت کا قلب کس روش سے جاری اور آگاہ ہے، سو کیا بیان کیا جائے کہ اس وقت لوگوں کی کیا حالت ہوئی ہوگی، خصوصاً اُن لوگوں کی جو آپ سے بیعت کا قصد رکھتے تھے مگر کسی وجہ سے محروم رہ گئے تھے، لیکن اب وہ کچھ کر بھی نہیں سکتے تھے۔
صدمہ نزع سے عشاق کو ڈرنا کیسا
پیدا ہوتے ہیں نئے سر سے یہ مرنا کیسا
۶۳ ؍سال کی عمرِ مبارک میں آپ اس دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے اور دنیائے سنیت کو غمِ عظیم میں مبتلا کر دیا، وصیت کے مطابق آپ کا مزارِ اقدس حضرت مخدوم کمال الدین احمد یحییٰ منیری کے پائنتی میں واقع ہے، جو آج بھی خاص و عام کے لیے مرجعِ خلائق ہے۔
روشن اسی چراغ سے میرا مزا
عشق ابو تراب سے دل داغدار ہو
(شاہ اکبرؔ داناپوری)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.