Font by Mehr Nastaliq Web

اسلام میں عورت کا کردار

ریان ابوالعلائی

اسلام میں عورت کا کردار

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابلِ احترام جز ہیں، حضرت رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں، اس مختصر اور بامعنی مثال میں یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ دونوں کی اہمیت بھی برابر ہے اور ضرورت بھی یکساں، قرآنِ مقدس میں متعدد انبیا کے ساتھ ان کے رشتوں کا ذکر آیا ہے، بعض مردانہ رشتوں کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ اپنے غلط عقائد کے باعث اللہ پاک کی ناراضگی کا شکار ہوئے لیکن نبیوں سے منسوب کوئی نسوانی رشتہ ایسا نہیں ملتا جو غضبِ الٰہی کا مستحق ٹھہرا ہو، بلکہ ایک برگزیدہ نبی کو گود لینے کے صلے میں فرعون جیسے دشمنِ خدا کی بیوی کو بھی دولتِ ایمان سے نواز دیا گیا۔

    زمانۂ جاہلیت میں جزیرۂ عرب میں عورت کے لیے کوئی قابلِ ذکر حقوق نہ تھے، عورت کی حیثیت کو ماننا تو درکنار، اسے معاشرے میں زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہ تھا، مرد اچھا سامان اپنے لیے رکھتے اور کمتر چیزیں عورتوں کے حصے میں آتیں، قرآن مقدس نے اس طرزِ عمل کو یوں بیان کیا ہے کہ

    ’’اور بولے جو ان مویشی کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کا ہے، صرف انہی کے لیے حلال ہے، اور ہماری عورتوں پر حرام ہے، اور مرا ہوا نکلے تو وہ سب اس میں شریک ہیں، قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی باتوں کا بدلہ دے گا، بیشک وہ حکمت اور علم والا ہے‘‘ (سورہ الانعام، آیت ۱۳۹)

    اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں نہ صرف معاشی معاملات میں عورت کو کمتر سمجھا جاتا تھا بلکہ اس کے جینے کا حق بھی چھین لیا جاتا تھا، لڑکی کی پیدائش پر لوگ شرمندگی محسوس کرتے اور اسے زندہ دفن کر دیتے، قرآن نے اس صورت حال کی تصویر یوں پیش کی ہے کہ

    ’’اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے، لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب، کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا، ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں‘‘ (سورہ نحل، آیات ۵۸-۵۹)

    اسلام سے قبل دنیا کی مختلف تہذیبوں میں بھی عورت کو کم تر سمجھا جاتا تھا، یونانی، رومی، ایرانی اور دیگر معاشروں میں عورت کو ثانوی حیثیت حاصل تھی مگر اسلام نے اس کے برعکس عورت کو عزت، احترام اور باوقار مقام عطا کیا، بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی رسم ختم کی، انہیں وراثت میں حق دیا اور بحیثیت انسان مرد کے برابر درجہ عطا کیا۔

    اسلام نے عورت کو محض گھر کی محدود فضا تک نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے کا فعال اور باوقار رکن بنایا، اللہ پاک نے تخلیق کے درجے میں مرد و عورت کو ایک ہی اصل سے پیدا فرمایا اور نیک اعمال کے اجر میں دونوں کو برابر قرار دیا، ارشادِ ربانی ہے کہ

    ’’جو اچھا کام کرے مرد ہو یا عورت اور مسلمان ہو تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کا اجر عطا کریں گے‘‘ (سورہ نحل، آیت ۹۷)

    اسی طرح فرمایا کہ

    ’’جو برا کام کرے تو اسے اتنا ہی بدلہ ملے گا، اور جو اچھا کام کرے مرد خواہ عورت اور ہو مسلمان تو وہ جنت میں داخل کیے جائیں گے وہاں بے گنتی رزق پائیں گے‘‘ (سورہ مؤمن، آیت ۴۰)

    اور ارشاد ہوا کہ

    ’’تو ان کے رب نے ان کی دعا سن لی کہ میں تم میں کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، مرد ہو یا عورت، تم آپس میں ایک ہو‘‘ (سورہ آل عمران، آیت ۱۹۵)

    اسلام نے عورت کو ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کی حیثیت سے عزت بخشی، حضرت رسول اللہ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، اسی طرح بیٹی کی پرورش کو جنت کا ذریعہ قرار دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہترین عورتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دنیا کی چار عورتیں افضل ہیں، حضرت سیدہ فاطمہ زہرا، حضرت مریم بنت عمران، حضرت خدیجہ اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ۔

    حضرت مریم صبر، طہارت اور توکل کی عظیم مثال ہیں، انہوں نے اللہ پاک پر کامل اعتماد رکھا اور ہر آزمائش کو برداشت کیا، قرآن میں ان کی فضیلت کا ذکر یوں ہے کہ

    ’’اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ نے تجھے چن لیا اور پاک کیا اور تمام جہان کی عورتوں پر تجھے فضیلت دی‘‘ (سورہ آل عمران، آیت ۴۲)

    حضرت خدیجہ الکبریٰ نے مثالی بیوی کا کردار پیش کیا، انہوں نے اپنا مال و جان دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا اور ابتدائے اسلام میں حضرت رسول اللہ کا بھرپور ساتھ دیا۔

    حضرت فاطمہ زہرا بیٹی، بیوی اور ماں کے ہر کردار میں مثالی نمونہ ہیں، بیٹی کی حیثیت سے حضور کی خدمت، بیوی کی حیثیت سے حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ وفاداری اور ماں کی حیثیت سے حضرت امام حسن و حسین کی تربیت، یہ سب اسلامی عورت کے لیے رہنما اصول ہیں۔

    حضرت آسیہ زوجۂ فرعون ایمان، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کی علامت ہیں، ظالم اور جابر بادشاہ کی بیوی ہونے کے باوجود انہوں نے اللہ پاک کی رضا کو ترجیح دی اور تاریخ میں عظمت کا مقام حاصل کیا۔

    اسی طرح حضرت ہاجرہ کی اطاعت و قربانی بھی اسلامی عورت کی عظمت کا روشن باب ہے، صفا و مروہ کے درمیان ان کی سعی کو قیامت تک کے لیے عبادت کا حصہ بنا دیا گیا۔

    المختصر یہ کہ اسلام نے عورت کو وہ مقام عطا کیا جو کسی قدیم یا جدید تہذیب نے نہ دیا، اسلام نے عورت کو عزت، حقوق اور باوقار حیثیت دی اور اسے معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ستون قرار دیا، اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب عورت اپنے حقیقی مقام کو پہچانتی ہے تو معاشرہ سنور جاتا ہے اور جب وہ اپنی حیثیت کھو دیتی ہے تو معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے، لہٰذا اسلام کا عطا کردہ تصورِ عورت ہی ایک متوازن، باوقار اور مثالی انسانی معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے