Font by Mehr Nastaliq Web

تعارف : خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور

ریان ابوالعلائی

تعارف : خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ بہار کے دارالسلطنت پٹنہ میں واقع ایک عظیم علمی و روحانی مرکز ہے۔

    صدیاں گذریں جب مشہد سے نکل کر حضرت سید حسن زنجانی (لاہور) کے پوتے حضرت مخدوم لطیف الدین بندگی اپنے روحانی قافلہ کے ساتھ ملتان آئے اور لاہور کے راستے دہلی آئے اور یہاں حضرت بو علی شاہ قلندر کی خدمتِ بابرکت میں رہے اور مرید ہوکر سلسلہ کے مجاز ہوئے، بو علی شاہ قلندر کے وصال کے بعد بہار شریف میں حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری کی خدمت میں کچھ عرصہ تک رہے اور تعلیم و تربیت کے منازل طے کرتے رہے پھر حضرت مخدوم کے حکم سے بہار شریف سے تقریباً دیڑھ کوس اتر کی جانب ایک مقام پر قیام کرتے ہوئے مخدوم لطیف الدین بندگی نے اپنے عصا کو زمین میں نصب کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ایں مورا‘‘ اور اسی جگہ آپ نے آٹھویں صدی ہجری کے اواخر میں تالاب، مسجد اور خانقاہ کی تعمیر کی اور یہی جگہ بعد میں موڑہ تالاب کے نام سے مشہور ہو گئی، بہار کی مشہور کتاب کیفت العارفین، اشرف التواریخ، تاریخِ عرب، نذرِ محبوب سے ان حالات پر روشنی ملتی ہے، ساتھ اس کا انکشاف بھی ہوتا ہے کہ ان برگزیدہ ہستیوں نے اپنی روحانیت سے معاشرے کی اصلاح ہی نہ کی بلکہ انسانی زندگی کے بگڑے ہوئے نقوش سنوار کر ایمان و عرفان کی شمع روشن کی جس کی روشنی آج بھی باقی ہے۔ (آثارِ موڑہ تالاب)

    خانقاہ موڑہ تالاب بہار کی اولین خانقاہوں میں سے ایک ہے، یہاں کے سجادگان کا سلسلۂ طریقت چشتیہ قلندریہ تھا جب کہ دوسرے بڑے سلاسل بھی تھے مگر بو علی شاہ قلندر کا فیضان اس خانقاہ پر خوب رہا، مخدوم بندگی سے لے کر مولانا شاہ بہاؤالحق چشتی کے مزارات خانقاہ موڑہ تالاب میں مسجد کے باہر واقع ہے، اس خانقاہ سے سلیم شاہی بھی وابستہ رہا، ملا عبدالقادر بدایونی نے منتخب التواریخ میں موڑہ تالاب کے مشائخ کا تذکرہ کیا ہے مگر بارہویں صدی ہجری میں خانقاہ کی بام و در حالتِ رکوع میں چلی گئی جس کے پیش نظر موڑہ تالاب کی خانقاہ کو داناپور میں از سرِ نو قائم کیا گیا، لہٰذا خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ در حقیقت خانقاہ موڑہ تالاب ہے جس کی ہندوستان میں ایک تاریخی حیثیت ہے، یہ بارہویں صدی ہجری کے مقبولِ زمانہ بزرگ حضرت قطب العصر مخدوم شاہ محمد سجاد پاک (1881-1816) سے منسوب ہے، یہ بزرگ حضرت امام محمد تاج فقیہ کی اولاد زکور میں سے ہیں اور حضرت شاہ اکبر داناپوری کے والدِ گرامی اور مرشدِ عظامی ہیں، جنہوں نے فقیری و درویشی کے چراغ کو روشن کیا اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو سیدھا راستہ دکھلایا، آپ کی تعلیمات، کرامات اور صحبت کا اثر اس قدر ہوا کہ ہندوستان کا اکثر علاقہ آپ کے زیرِ اثر ہوا۔

    (آثارِ موڑہ تالاب، تذکرۃ الابرار، بزمِ ابوالعلا، جلد دوم)

    حضرت شاہ اکبر داناپوری فرماتے ہیں کہ

    جو داناپور اک بستی ہے مشہور

    وہ ہو ایمان کے انوار سے پر نور

    یہیں ہے خانقاہ بوالعلائی

    بڑی دولت ہے اس بستی نے پائی

    (جذباتِ اکبر)

    بانیِ خانقاہ حضرت مخدوم محمد سجاد کا سلسلۂ نسب منیر شریف کے مشہور بزرگ مخدوم عبد العزیز ابن امام محمد تاج فقیہ سے جا ملتا ہے، خانوادۂ تاج فقیہ کے ساتھ ساتھ بہار کی مشہور مخدومہ حضرت بی بی کمال (کاکو) کی آپ سیدھی اولاد ہیں اور اس طرح آپ کو حضرت شہاب الدین پیر جگجوت کی ذریت میں بھی ہونے کا شرف حاصل ہے، آپ کے اجداد میں سلسلہ چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کے ممتاز بزرگ شامل ہیں جیسے شیخ سلیمان لنگر زمین، مخدوم احمد چشتی، مخدوم اخوند شیخ چشتی، شاہ عنایت اللہ چشتی، شاہ امین اللہ شہید، شاہ طیب اللہ نقاب پوش اور شاہ بہاؤالحق چشتی۔ (کنزالانساب، آثارِ کاکو)

    اس خانقاہ میں شروع سے لنگر کا انتظام رہا، بیواؤں اور یتیموں کا خاص اہتمام رہا، ضرورت مندوں کی حاجت کا خاص خیال رکھا گیا، یہاں تمام مذاہب کے لوگ آتے ہیں، امیر ہو یا غریب، کالا ہو یا گورا سب اس خانقاہ میں ایک ہی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں، مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی کو داناپور کے مشائخ سے خاص عقیدت تھی، یہاں کی بیشتر کتب و رسائل عوام و خاص میں کافی مقبول ہیں، خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کے سجادگان و وابستگان نے تقریباً 100 سے زائد قیمتی کتابیں لکھی ہیں، شاہ اکبر داناپوری فرماتے ہیں۔

    اکبر کے گھر کا آپ نشاں پوچھتے ہیں کیا

    اس بے نوا فقیر کی وہ خانقاہ ہے

    (دل، جذباتِ اکبر، تذکرۃ الابرار)

    خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ میں زیادہ تر سلاسل کی اجازت و خلافت موجود ہے، طالب جس سلسلے کی خواہش رکھتا ہے اسے داخلِ سلسلہ کیا جاتا ہے اور اگر اپنی خواہش اپنے پیر پر موقوف کرتا ہے تو سلسلۂ ابوالعلائیہ میں اسے داخل کر لیا جاتا ہے، اس خانقاہ میں تمام سلاسل کے باوجود سلسلۂ ابوالعلائیہ کا غلبہ و دبدبہ زیادہ ہے، شاہ اکبر داناپوری فرماتے ہیں۔

    کوئی شے خالی نظر آئی نہ اسمِ ذات سے

    نقشبندی ہوں نظر آتا ہے نقش اللہ کا

    (سفینۂ سجادگانِ ذیشان داناپور)

    خانقاہ میں رائج چند معروف سلسلۂ طریقت کے نام یہ ہیں، ان میں ہر ایک سلسلہ کئی کئی واسطوں سے بھی پہنچا ہے جس کی ایک انفرادی حیثیت ہے۔

    (۱) سلسلہ چشتیہ فریدیہ نظامیہ نصیریہ

    (۲) سلسلہ قادریہ منعمیہ

    (۳) سلسلہ سہروردیہ فردوسیہ

    (۴) سلسلہ ابوالعلائیہ

    (۵) سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ

    (۶) سلسلہ قلندریہ لطیفیہ

    (۷) سلسلہ کبرویہ

    (۸) سلسلہ زاہدیہ

    (۹) سلسلہ شطاریہ

    (۱۰) سلسلہ مداریہ

    (آثارِ موڑہ تالاب، سفینۂ سجادگانِ ذیشان داناپور)

    خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کی عظمت و شہرت مسلم ہے، ہندوستان اور بیرونِ ملک میں اس خانقاہ کے مریدین و معتقدین اور وابستگان نے بہترین خدمات انجام دی ہیں، چند نام یہ ہیں۔

    فہرست مریدین و مجازین : اکبرؔ الہ آبادی، نثارؔ علی اکبرآبادی، صباؔ اکبر آبادی وغیرہ۔

    فہرست معتقدین : محسن اللمک مہدی علی خاں، غلام امام شہیدؔ، خواجہ غلام غوث بے خبرؔ، مولوی محمد سمیع اللہ (سی، ایم، جی)، امام احمد رضا خاں، قاضی عبدالوحید فردوسی، امداد امام اثرؔ، عبدالرحیم صادق پوری، خدا بخش خاں، امیر عبدالرحمن خاں، محبوب علی خاں، نواب کلب علی خاں، امداد اللہ مہاجر مکی، بیدم وارثی، نوح ناروی، زہرہ بائی آگرے والی، بسمل عظیم آبادی، قاضی عبدالودود، مفتی انتظام اللہ شہابی، سر علی امام، کلیم عاجز، مفتی محمد سعید وغیرہ۔

    خانقاہ موڑہ تالاب کی حیثیت سے اس خانقاہ میں اب تک بائیس سجادگان رونقِ سجادہ ہوچکے ہیں اور خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کی حیثیت سے چھٹے سجادہ نشیں رونقِ سجادہ ہیں، موڑہ تالاب کے پہلے سجادہ مخدوم بندگی اور ان کے بعد حضرت صدرالدین دانشمند سجادہ ہوئے اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا اور خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کے پہلے سجادہ نشیں حضرت شاہ اکبر داناپوری ہوئے جنہیں خاصی شہرت حاصل ہے، شعر و شاعری، روحانی و عرفانی صحبت اور بندگانِ خدا کی کثرت سے یہ خانقاہ ہمیشہ بھری رہی ہے۔

    (حالاتِ حضرت شاہ اکبر داناپوری، انوارِ اکبری، جلد اول)

    سجادگان کے نام اور ان کی عہدِ سجادگی کی ترتیب کچھ یوں ہے۔

    (۱) حضرت شاہ اکبر داناپوری (1909-1881)

    (۲) حضرت شاہ محسن داناپوری (1945-1909)

    (۳) حضرت شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی (1974-1945)

    (۴) حضرت شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی (1997-1974)

    (۵) حضرت شاہ ابو محمد ابوالعلائی للن میاں (2001-1997)

    (۶) حضرت شاہ سیف اللہ ابوالعلائی مدظلہ (موجودہ سجادہ نشیں2001-)

    یہاں کے سجادگان کا تصنیف و تالیف سے گہرا رشتہ رہا ہے، ان کے شعری اثاثہ اور نثری کارنامے سے ایک زمانہ روشن ہے، حضرت شاہ اکبر داناپوری مقبولِ زمانہ مصنف اور شاعر ہوئے ہیں، آپ کا نثری کارنامہ بڑا شاندار رہا ہے، وہ بنیادی طور پر نثر نگاری کے ہی شہسوار تھے اور تمام عمر تصنیف و تالیف میں گزار دی، آپ نے تاریخ، تذکرہ، ادب، اسلامیات، تصوف اور عقائد پر پچاسوں کتابیں لکھی ہیں جو برصغیر ہند و پاک میں کافی مقبول و منظور ہوئی، سر سید احمد خان کے عقائد نیچری پر دلائل سے مزین شورِ قیامت لکھی جو کافی مقبول ہوئی اس طرح جب ایک عیسائی مؤرخ نے خدا پر جھوٹ باندھا تو اس کے جواب میں خدا کی قدرت نامی کتاب لکھی، 1893ء میں مولوی سمیع اللہ (سی ایم جی) کے بیٹے مولوی حمیداللہ کی شادی کی دعوت پر دہلی تشریف لے گئے، یہ وہ وقت تھا جب دہلی برباد ہو چکی تھی اس دوران حضرت اکبرؔ نے دہلی کا جائزہ لیا اور دیگر مزارات و عمارات میں حاضری دی اس 20 روز کے سفر کو آپ نے قلمبند کر لیا جسے بعد میں آپ کے معتقدین نے سیرِ دہلی کے نام سے شائع کرا دیا، یہ کتاب دہلی کی تاریخ پر بڑی مفید ہے، اسی طرح حضرت اکبر کی دوسری بڑی تصنیف مولدِ فاطمی، ادراک، ارادہ، سرمۂ بینائی، التماس، تحفۂ مقبول، آل و اصحاب، تاریخِ خواجگان، نذرِ محبوب، احکامِ نماز وغیرہ نے بھی خوب پزیرائی حاصل کی۔

    شاہ اکبر داناپوری کی نثری خدمات میں اشرف التواریخ کی تین جلد اور تاریخِ عرب کو خاصی شہرت حاصل ہوئی، برصغیر میں اشرف التواریخ کو اولیت مقام حاصل ہے، کہا جاتا ہے کہ اس وقت کے علما اشرف التواریخ کو اپنے تکیے کے پاس لے کر سوتے تھے کہ کب اس کی ضرورت پڑ جائے، تینوں جلد ملا کر 1765 صفحات ہوتے ہیں، اشرف التواریخ کے علاوہ دوسری چھوٹی بڑی کتابوں کو ملا کر فن تاریخ میں آپ نے دنیائے ادب کو 3000 صفحات سے بھی زائد دیے ہیں، بحیثیت مؤرخ حضرت اکبر کا کارنامہ قابلِ تسلیم ہے۔

    اشرف التواریخ (حصہ اول) اسرار نبوت کے موضو ع پر 1904ء میں 655 صفحات پر آگرہ پریس سے شائع ہوئی۔

    اشرف التواریخ (حصہ دوم ) عہد رسالت و سایۂ خلافت پر 1907ء میں 775 صفحات پر آگرہ پریس سے شائع ہوئی۔

    اشرف التواریخ (حصہ سوم) میں خلفائے راشدین کا تذکرہ ہے یہ 1910ء میں 360 صفحات پر آگرہ پریس سے شائع ہوئی۔

    تاریخ عرب (حصہ اول) 272 صفحات پر مشتمل 1900ء میں آگرہ سے طبع ہوئی۔

    تاریخ عرب کی دوسری جلد 1000 صفحات پر مشتمل تھی جس میں انبیا کے حالات شامل تھے مگر یہ طبع نہ سکی۔

    شروع سے ہی آپ کی طبیعت میں شعر و سخن کا شوق موجود تھا، اہلِ علم کی صحبت نے مزید جلا بخشی، خواجہ حیدر علی آتشؔ کے یادگار وحیدؔ الہٰ آبادی سے بے حد متاثر ہوئے اور انہیں کی شاگردی اختیار کر لی، واضح ہوکہ اکبر الہٰ آبادی اور حضرت اکبر دونوں ایک ہی استاد کے شاگرد اور ایک ہی پیر کے مرید تھے، اکبر الہٰ آبادی کا خط بھی شاہ اکبر داناپوری کے نام ملتا ہے جس میں اکبر نے آپ کی بزرگی کا اعتراف کیا ہے، حضرت اکبر زیادہ تر صوفیانہ کلام کہتے تھے اور اسی فن میں انہیں مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کی شاعری اہلِ دل کے لیے گرمئ دل کا سامان بنی، آپ کے صوفیانہ کلام کو قوال نہایت عقیدت مندی سے خانقاہوں میں پڑھتے ہیں، معروف گلوکارہ زہرہ بائی آگرے والی بھی حضرت اکبر کی بڑی معتقدہ تھیں اور ان کے عارفانہ کلام پڑھا کرتی تھیں، اکبر کے قلم سے 9000 اردو اشعار ظاہر ہوئے ہیں جن میں قصیدہ، مثنوی، آشوب شہر، مسدس، قطعہ تاریخ، سہرے، رباعیاں، مخمس، مثلث، غزل، منقبت اور حمد و نعت کا بڑا ذخیرہ جمع ہے، آپ کی فارسی شاعری بھی لاجواب ہے جو جذباتِ اکبر کے ساتھ طبع ہوئی ہے، حضرت اکبر لوگوں کو بیدار کرنا چاہتے تھے اپنے ماضی سے آشنائی دلانا چاہتے تھے، انہوں نے مسلمانوں کے روشن مستقبل کے لیے بہت کچھ قیمتی باتیں لکھیں ہیں، ہندوستان کی آزادی کے تعلق سے ہنر نامہ کے عنوان سے اکبر کی یہ قیمتی نظم ہندوستان بھر میں گائی جاتی تھیں، ان کا رجحان تصوف کی طرف زیادہ تھا اس لیے کلام زیادہ تر عارفانہ ہے، آپ کا پہلا دیوان تجلیاتِ عشق 1316ھ میں آگرہ سے شائع ہوا جب کہ دوسرا دیوان جذباتِ اکبر کے عنوان سے انتقال کے بعد 1915 میں آگرہ سے شائع ہوا اس کے علاوہ باغِ خیالِ اکبر میں بھی بیشتر کلام مل جاتے ہیں۔

    اسی طرح حضرت اکبر کے صاحبزادے اور خانقاہ کے سجادہ نشیں شاہ محسن داناپوری بھی فطری شاعر تھے، آپ کے شعر میں تصوف کی آمیزش اور روحانی جلوہ گری نمایاں تھی، اپنے والد ہی سے اصلاح لیتے رہے، ان کی شاعری میں جہاں متعدد شعرا کا رنگ و بو پایا جاتا ہے تو وہیں صوفیانہ شاعری کا اثر بھی نمایاں ہوتا ہے، آپ نے 1927ء میں اخوان الصفا کی بنیاد ڈالی جس میں ہندوستان کی مایہ ناز ہستیاں شریک مشاعرہ ہوا کرتی تھیں، 1919ء میں درگاہ حضرت شاہ ارزاں، پٹنہ میں سہ روزہ کل ہند تاریخی مشاعرہ ہوا جس میں احسنؔ مارہروی، سائلؔ دہلوی، نوحؔ ناروی وغیرہ شریکِ محفل تھے، آپ نے جو غزل پڑھی تھی اس کا مطلع یہ ہے۔

    قیس رخصت ہوا دنیا سے تو فرہاد آیا

    ایک ناشاد گیا دوسرا ناشاد آیا

    حضرت محسن علامہ اقبال سے بے حد متاثر تھے اور ان کی ایک غزل پر مخمس بھی کہا ہے، نوح ناروی، سائل دہلوی، سیماب اکبرآبادی، مبارک عظیم آبادی اور حامد عظیم آبادی آپ سے آپ کے دیرینہ تعلقات تھے، آپ کی شاعری کا مکمل گلدستہ کلیاتِ محسن میں محفوظ ہے، اس کے علاوہ فغانِ درویش (طبع 1939ء، الہ آباد) اور برہان العاشقین (طبع 1931ء، پٹنہ) بھی آپ کی یادگار تصانیف ہیں۔

    حضرت محسن کے صاحبزادے اور خانقاہ کے سجادہ نشیں شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی بھی صاحبِ قلم ہوئے ہیں، چند مشہور تصنیف کے نام یہ ہیں۔

    آئینۂ علی، تذکرۃ الابرار، حکومت بنو امیہ کی سفاکیاں، پاک نسل، آلِ اطہار و اہلِ بیتِ اخیار، آثارِ موڑہ تالاب، حاشیہ برہان العاشقین۔

    شعر وشاعری کا ذوق آپ کو وراثت میں ملی ہے، اپنے والد سے اصلاح لیتے رہے، بعض مشاعروں کی آپ نے صدارت بھی کی ہے، آپ کی بعض رباعیاں زبان زد و عام ہے۔

    قسمت نے رسا ہو کہ رسائی بخشی

    مولیٰ نے کرم کیا گدائی بخشی

    کونین میں اک شور ظفرؔ ہے برپا

    بندے کو حسین نے خدائی بخشی

    اسی طرح حضرت ظفر کے صاحبزادے اور خانقاہ کے سجادہ نشیں شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی بھی صاحبِ قلم تھے، حالاتِ حضرت شاہ اکبر داناپوری نامی رسالہ ان کی یادگار تصنیف ہے۔

    خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ میں تبرکات کی زیارت حضرت شاہ اکبر داناپوری کے عرس کے موقع پر 15 رجب کو صبح قدیمی روایت کے موافق ہوتی چلی آ رہی ہے اور وقتِ زیارت دو مخصوص فارسی کلام حضرت شاہ محسن داناپوری کی منفرد انداز میں پڑھی جاتی ہے، تبرکات کی فہرست یہ ہے۔

    (۱) خانۂ کعبہ کا ٹکڑا (حضرت شاہ اکبر داناپوری کو بطور تحفہ شیوخ عرب نے دیا تھا)

    (۲) حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند کی کلاہ اور تسبیح

    (۳) حضرت مخدوم منعم پاک کی کلاہ

    (۴) اعلیٰ حضرت شاہ قمرالدین حسین ابوالعلائی کا پیرہن اور رومال

    (۵) حضرت شاہ اکبر داناپوری کی کلاہ اور جائے نماز

    یہاں عرس و فاتحہ اور مختلف محافل میں ایک خاص قسم کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، فہرست یہ ہے۔

    10 محرم- ذکر شہادت حضرت امام حسین

    9 صفر- عرس و فاتحہ حضرت سیدنا امیر ابوالعلا

    3 ربیع الاول- فاتحہ حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند

    12 ربیع الاول- محفل میلادالنبی

    14 اور 15 رجب- عرس حضرت شاہ اکبر داناپوری

    19 رمضان- اجتماعی افطار و فاتحہ حضرت مولیٰ علی

    17 شوال- فاتحہ حضرت مولانا شاہ قاسم ابوالعلائی

    14ذیقعدہ- عرس حضرت مخدوم سجاد پاک

    خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کی شاخ الہٰ آباد، آگرہ، بھنڈ، کشن گنج، رانچی اور کراچی وغیرہ میں پھیلی ہوئی ہے، چند معروف شاخ کے نام یہ ہیں۔

    (۱) حجرۂ اکبری، نئ بستی (آگرہ)

    (۲) خانقاہ حلیمیہ ابوالعلائیہ، چک (الہٰ آباد)

    (۳) خانقاہ چشتیہ، بشن پور بازار (کشن گنج)

    (۴) خانقاہ ظفریہ، ملیر (کراچی)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے