Font by Mehr Nastaliq Web

"اصغرؔ کی آہ نالوں کا کیا کیجیے بیاں"

ریان ابوالعلائی

"اصغرؔ کی آہ نالوں کا کیا کیجیے بیاں"

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    آگرہ کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہر ایک طویل عرصے تک لودھی سلطنت کے عروج کا مرکز رہا اور بعد ازاں مغل حکمرانوں کی محبوب ترین قیام گاہ بھی بنا رہا، تقریباً پانچ سو برس تک یہاں شاہی قافلوں، درباروں اور اقتدار کی رونقیں قائم رہیں، مگر وقت کے ساتھ ان حکمرانوں کی عظمت صرف ان کی عمارتوں تک محدود ہو کر رہ گئی۔

    تاہم اسی سرزمین نے ایسے عظیم صوفیائے کرام کو جنم دیا جنہوں نے آگرہ کو اپنی روحانی برکتوں سے ہمیشہ روشن رکھا، حضرت سیدنا امیر ابوالعلا، حضرت میر نعمان بدخشی، حضرت جلال الدین بخاری اور حضرت شاہ ولایت کی زندگیاں اس حقیقت کی روشن مثال ہیں کہ ان بزرگوں نے محبت، اخلاص اور روحانیت کی ایسی بہاریں پھیلائیں کہ آج بھی عقیدتمند ان کی درگاہوں پر حاضر ہوتے ہیں۔

    انہی بزرگوں میں حضرت سید امجد علی قادری اصغرؔ اکبرآبادی بھی شامل ہیں، جنہوں نے آگرہ میں رشد و ہدایت کی شمع روشن کی اور لوگوں کے دلوں میں عبادتِ الٰہی اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کیا، امیر و غریب، عرب و عجم، ہر طبقے کے لوگ آپ کے دامنِ محبت سے وابستہ رہے۔

    کہا جاتا ہے کہ آپ کا خانوادہ عہدِ جہانگیری میں مدینہ منورہ سے ہجرت کرکے آگرہ میں سکونت پذیر ہوا، آپ کے جدِ امجد حضرت سید ابراہیم جعفری پہلے بزرگ تھے جنہوں نے ہندوستان کا رخ کیا، اس دور کی معروف شخصیت خان جہاں لودی آپ کے نہایت معتقد تھے، انہوں نے اپنے محل کے قریب آپ کے لیے مسجد اور رہائش گاہ تعمیر کرائی، سعید احمد مارہروی رقم طراز ہیں کہ

    جس جگہ یہ مکانات تھے وہ اب لودی خاں کا ٹیلہ مشہور اور متصل ریلوے اسٹیشن، آگرہ سیٹی واقع ہے، آپ کے والد ماجد مولانا سید احمدی کے عہد میں اتفاق سے ان مکانات میں آگ لگی اور جملہ مکانات و کتب خانہ وغیرہ جل جلا کر خاکستر ہوگیا (تریاق جامع النفع، ص 51، بوستانِ اخبار، ص 50)

    حضرت امجد علی قادری کی ولادت کا سنِ دقیق کہیں مذکور نہیں، البتہ قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی پیدائش 1150ھ کے آس پاس ہوئی ہوگی۔ آپ کے والد مولانا سید احمداللہ کا سلسلۂ طریقت نسلاً بعد نسلٍ قادری تھا، ابتدائی تربیت و تعلیم آپ نے اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی، بعد ازاں اپنے خسرِ محترم مولانا سید محمد کاظم، جو حضرت رفیع الدین صفوی کی اولاد میں سے تھے، ان سے علومِ باطن کی تحصیل کی، پھر حضرت ضیاؤالدین بلخی سے بیعت و خلافت سے سرفراز ہوئے، میکش اکبرآبادی لکھتے ہیں کہ

    مولانا بلخی رحمۃ اللہ علیہ نے ہی وصال کے وقت فرمایا تھا کہ اب تمہیں حضرت غوث پاک کے صاحبزادے سے ملے گا جو عنقریب تشریف لائیں گے اور مدارِ فقر ان کی زبان پر ہوگا (فرزندِ غوث الاعظم، ص 188)

    جبکہ سعید احمد مارہروی نے آپ کو حضرت بلخی کا صرف مرید لکھا ہے اور حضرت سید عبداللہ بغدادی کا خلیفۂ اعظم بتایا ہے۔ 51)

    حافظ محمد حسین مرادآبادی رقم طراز ہیں کہ

    بارشاد جناب محبوبِ سبحانی سید عبداللہ برائے تعلیم ایشاں از بغداد در ہند تشریف آوردند، نسب ایشاں بہ بست و پنج واسطہ السید اسحٰق بن امام جعفر صادق علیہ السلام می رسد (انوارالعارفین، ص 598)

    اسی تحریر کا اردو ترجمہ سعید احمد مارہروی نے اپنے مخصوص انداز میں کیا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ

    کمالاتِ باطنی کے متعلق صرف یہ روایت کافی ہے کہ حضور محبوبِ سبحانی غوث الاعظم جیلانی کے ارشاد کے بموجب آپ کے پیر بزرگوار آپ ہی کی تعلیم کے واسطے بغداد سے ہندوستان میں آئے تھے 51)

    حضرت امجد علی کی بزرگی، روحانی مراتب اور اپنے پیر سے والہانہ عقیدت کا اندازہ مذکورہ اقتباسات سے بخوبی کیا جاسکتا ہے، آپ اپنے مرشد کے استقبال کے لیے متھرا تک تشریف لے گئے تھے اور عربی زبان میں ایک قصیدہ کہہ کر نذرانۂ عقیدت پیش کیا تھا۔

    اسی طرح مصطفیٰ خاں شیفتہؔ نے بھی گلشنِ بےخار میں آپ کا مختصر ہی سہی، مگر ذکرِ خیر کیا ہے اور ایک شعر بھی نقل کیا ہے جو موجودہ دیوان میں نہیں ہے، رقمطراز ہیں کہ

    بوقع و وقار تمام و تورع و ثقات تام زندگانی کردہ از خیالات اوست 23)

    اسی طرح یادگارِ شعرا کے مصنف ڈاکٹر اسپرنگر نے بھی اپنی تصنیف میں آپ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے کہ

    یہ ایک بزرگ شخص تھے، جن کا مریدی کا شجرہ عبداللہ بغدادی سے ملتا تھا 25)

    جبکہ حکیم غلام قطب الدین باطنؔ جو آپ کی خدمت میں دو مرتبہ حاضر ہوئے تھے، لکھتے ہیں کہ

    وہ فارسی اور اردو کی نظمیں چھوڑ گئے، ان کا اردو کا دیوان آگرے میں چھپا ہے

    سعید احمد مارہروی شعر و سخن کے تعلق سے مزید رقمطراز ہیں کہ

    شاعری میں اصغر تخلص اور کمال حاصل تھا جس کا ثبوت آپ کا مطبوعہ دیوان موجود ہے جو حقائق و معارف کے موتیوں کا خزانہ ہے 51)

    اسی طرح میر محمد خاں سرورؔ نے تذکرۂ سرور میں آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے، لکھتے ہیں کہ

    از پیرزادہ ہائے مشاہیرِ مستقرالخلافہ اکبرآباد ست 115)

    اور پھر دو شعر درج کیے ہیں۔

    بسمل جے پوری نے آپ کو اکابر اولیائے امت میں شمار کیا ہے۔ (فرزندِ غوث الاعظم، ص 192)

    صبا اکبرآبادی نے ماہنامہ مشورہ (آگرہ نمبر، 1936ء) میں بھی آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے اور غزل کے چند متفرق اشعار نقل کیے ہیں، پڑھیے اور دل ہی دل میں مسکرائیے

    کرتا ہوں تری زلفِ پریشاں کا تصور

    جس وقت کہ راتوں کو مری نیند اچٹ جائے

    دنیا کے تعلق سے دل اپنے رکھ آزاد

    ایسا نہ ہو اس گرد سے یہ گھر کہیں لٹ جائے

    36)

    صبا اکبرآبادی رقم طراز ہیں کہ

    ان سب میں مقامی حیثیت صرف حضرت سید امجد علی اصغرؔ نوراللہ مرقدہٗ کو حاصل ہوئی جو مسندِ فقر و تصوف پر بیٹھے ہوئے ایک طرف طریقت و سلوک کے اور دوسری طرف خوش بیانی کے دریا بہاتے رہے 26)

    میر تقی میرؔ لکھتے ہیں کہ

    آگرہ میں مشاعرہ کی طرح مولانا امجد علی شاہ اصغر نے ڈالی جو میاں نظیر کے معاصر تھے، عالم باعمل صوفی باصفا ہوتے ہوئے جہاں محفلِ سماع منعقد کیا کرتے، گاہے شعر و سخن کی مجلس بھی جماتے۔ حکیم محمد ظاہرؔ، مولوی محمد معظم معظمؔ، ملا ولی محمد شارح مثنوی مولانا روم سے حضرات ان کے ہم صحبت تھے (نکات الشعرا)

    اسی سلسلے میں مفتی انتظام اللہ شہابی رقمطراز ہیں کہ

    اصغرؔ اور نظیرؔ ہی وطن کے دلدادہ تھے، ہر تباہی کو جھیلا، تاج محل کو پیٹھ نہ دی۔۔۔مولوی صاحب فارسی میں فکرِ سخن کرتے تھے (ماہنامہ انجمن اسلامیہ میگزین، کراچی، 1958ء، ص 9)

    مرزا غالبؔ اپنے استاد محمد معظمؔ کے ہمراہ مشاعروں میں آپ کے یہاں مدرسۂ شاہی میں شریک ہوتے تھے، جس کی تفصیل مفتی انتظام اللہ شہابی کے مضمون میں دیکھی جاسکتی ہے۔

    شعر و سخن کی مجلس قائم کرنا، مشاعروں میں شرکت کرنا اور فارسی و اردو میں شعر کہنا حضرت کا خاص وصف تھا۔ آپ اپنے عہد کے معروف صوفی شاعر اور صاحبِ نسبت بزرگ تھے، آپ کا دیوان 1266ھ میں جامِ جمشید، آگرہ سے شائع ہوا تھا، متن میں فارسی دیوان ہے جبکہ حاشیے پر اردو کلام درج ہے۔

    آپ 11 ربیع الثانی کو شیخ عبدالقادر جیلانی کا سالانہ فاتحہ نہایت اہتمام و انتظام کے ساتھ منعقد کرتے تھے، جس کا سلسلہ آج بھی آپ کے خاندان میں جاری ہے، آپ کا انتقالِ پُرملال 2 ربیع الاول 1230ھ کو ہوا اور مدرسۂ شاہی، آگرہ میں سپردِ خاک ہوئے، آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سید منور علی سجادہ نشیں ہوئے، آپ کے خلفا میں حکیم سید نورالدین قادری ایک نہایت معروف بزرگ گزرے ہیں۔

    حضرت منور علی کے بعد ان کے صاحبزادے حضرت سید مظفر علی جانشیں ہوئے، آپ صاحبِ نسبت بزرگ تھے، ہمارے حضرت شاہ محمد قاسم ابوالعلائی داناپوری سے آپ کو روحانی اتحاد تھا اور حضرت سیدنا امیر ابوالعلا سے قلبی لگاؤ رکھتے تھے۔

    آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت سید اصغر علی سجادہ نشیں ہوئے، یہ بزرگ بھی اپنے والد کی طرح صوفیِ صافی تھے، حضرت شاہ اکبر داناپوری نے آپ کو برادر بجان برابر کہا ہے اور آپ کے انتقال پر قطعۂ تاریخِ وفات بھی کہا۔

    گویا یہ پورا خاندان انوارِ معرفت سے لبریز رہا ہے، ہمارے خانوادے سے اس خانوادے کا قدیم تعلق رہا ہے جو کسی تحریر میں پوری طرح سما نہیں سکتا، آج بھی حضرت اصغر علی کی نسل میں ان کے پڑپوتے سید فیض علی قادری زاداللہ لطفہٗ و برکاتہٗ اپنے اسلاف کی نگارشات کو منظرِ عام پر لانے میں کوشاں و سرگرداں ہیں، یہ مجموعۂ امجد بھی انہیں کی کاوشوں کے سبب منصۂ ظہور پر آرہا ہے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے