Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت ابراہیم زندہ دل اور ان کا خانوادہ

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت ابراہیم زندہ دل اور ان کا خانوادہ

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    کاکو ساتویں صدی ہجری سے صوفیائے کرام کا مولد و مسکن رہا ہے، یہاں ابتدا ہی سے جلیل القدر اولیا و اصفیا کی خانقاہیں اور درگاہیں قائم رہی ہیں، جو بندگانِ خدا میں خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتی چلی آ رہی ہیں، اسی سلسلے میں حضرت ابراہیم زندہ دل بھی کاکو تشریف لائے اور انسان کو انسان بنانے کی تلقین فرمائی۔

    حضرت ابراہیم زندہ دل کو امام جعفر صادق کی اولاد میں شمار کیا جاتا ہے اور بیعتاً سلسلۂ چشتیہ نظامیہ سے منسلک بتائے جاتے ہیں مگر اس کی کوئی تصدیق نہیں ہے، کریم الدین احمد بہاری رقمطراز ہیں کہ

    ’’نسب نامہ بالاتر از حضرت مخدوم ابراہیم زندہ دل کاکوی بخاندان حضرت مخدوم نبود، باعث روزگار تلف گریدہ‘‘

    (مخزن الانساب، ص؍۷۸)

    نجم الحسن نے اشرافِ عرب میں امام حیدر رضوی سکریچوی کی بیاض سے آپ کا نسب نامہ نقل کیا ہے، وہ درست نہیں ہے، لیکن یہاں درج کیا جا رہا ہے۔

    ابراہیم بن محمد حامد عرف چاند بن محمود پیارے بن اکبر علی بن محمد بن ضیاؤالدین بن احمد بن شہاب الدین بن عبدالرزاق بن عبدالرحمٰن بن عبدالعزیز بن حسین خنگ سوار بن برہان الدین بن ابوالمؤید بن ابراہیم بن امام محمد تقی بن امام علی موسیٰ رضا۔

    آپ عرب سے ہندوستان تشریف لائے اور بہار کے کاکو میں اقامت گزیں ہوئے۔

    کریم الدین احمد بہاری لکھتے ہیں کہ

    ’’ملک عربستان ہست سیّد ابراہیم زندہ دل نور مرقدہٗ از آنجا وارد ہندوستان شد و در صوبۂ بہار بموقع کاکو اقامت‘‘

    (مخزن الانساب، ص؍۷۸)

    کاکو میں آپ نے ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی، جس کی شکستہ دیواریں آج بھی دیکھی جا سکتی ہیں، جسے قناتی مسجد کہا جاتا ہے، حضرت غفورالرحمٰن حمد کاکوی رقمطراز ہیں کہ

    ’’یہ بات زبان زد ہے کہ کاکو کی مسجد قدیم حضرت سیّد ابراہیم ہی کی بنوائی ہوئی ہے، آپ کا مزار پختہ و پختہ چار دیواری اور قناتی مسجد اب بھی موجود ہے، مرورِ ایام سے کہنہ اور بے مرمت ہوجانے کے بعد سیّد محمد یونس صاحب نے اپنے خرچِ خاص سے از سرِ نو تعمیر کرا دی ہے، آپ کی خانقاہ بھی پختہ تھی مگر اب محض نشان باقی ہے‘‘ سید محمد یونس نے روضۂ حضرت ابراہیم اور چہار دیواری کی از سرِ نو تعمیر اپنے خرچِ خاص سے کروائی، اس موقع پر حمدؔ کاکوی نے یہ تاریخ کہی۔

    سید ابراہیم زندہ دل لقب

    ہست بے شبہ زخیل اؤلیا

    قبر پاکش کہنہ و معدوم بود

    میر یونس باز کرد آں را بنا

    ہست یونس از یکے اولاد او

    کرد در تعمیر آں بس سعہا

    مال خود را صرف کرد از حبیب خاص

    عمر و دولت حق کند او را عطا

    سال تعمیرش ز روئے اعتقاد

    حمدؔ گفتہ را ’بارگاہ پر فضا‘

    ۱۳۰۹ھ

    (کلیاتِ حمد)

    حضرت ابراہیم زندہ دل ایک جلالی شان کے حامل بزرگ تھے، انہوں نے کاکو میں مسجد اور خانقاہ کی تعمیر کرائی اور جذبۂ حق کا بھرپور اظہار فرمایا، آپ کا عقد شیخ احمد براق بن شمس الدین دوانقی کی صاحبزادی بی بی خدیجہ سے ہوا، ان سے ایک صاحبزادے حضرت سیّد محمد عبدالباقی جعفری پیدا ہوئے، جن کی اولاد میں بہار شریف کے محلہ پر کے جعفری افراد شمار کیے جاتے ہیں، حالاں کہ لفظ’’جعفری‘‘ کی وجہِ تسمیہ واضح نہیں ہو سکی اور نہ ہی سلسلۂ نسب امام جعفر صادق تک متصل ثابت ہوتا ہے۔

    آپ کا دوسرا عقد موضع بربگہہ، علاقہ تلہاڑہ کی ایک خاتون سے ہوا، جن سے تین صاحبزادے ہوئے، قرینِ قیاس ہے کہ حضرت سیّد محمد عمر اور حضرت سیّد محمد اسمٰعیل بھی انہی کے بطن سے ہوں، خاندانی نوشتوں کے مطابق ان تین صاحبزادوں کے نام سیّد محمد طلحہ، سیّد محمد منصور اور سیّد عبدالغفور بیان کیے جاتے ہیں۔

    (مخزن الانساب، ص؍۱۱۳)

    کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم زندہ دل کا عہد شیر شاہ سوری کے زمانے سے متعلق تھا، ان کے بہنوئی یعنی شیخ احمد براق کے صاحبزادے شیخ بدرالدین، کاکو کی جامع مسجد شیر شاہی کے امام و خطیب مقرر تھے، روایت ہے کہ شیر شاہ سوری نے کچھ جاگیر عطا کی تھی، وہ جاگیر آج تک ’’چک خدیجہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے، اسی طرح ایک دوسری جاگیر آپ کے صاحبزادے حضرت سیّد محمد عمر کے نام سے ’’چک عمر‘‘ کے نام سے معروف ہے لیکن سید حسن سجاد جعفری (محل پر) کے نوشتہ نسب نامہ میں آپ کے کسی فرزند سیّد محمد عمر کا نام نہیں ملتا بلکہ آپ کے ایک پرپوتے سیّد محمد عمر کا ذکر موجود ہے، ممکن ہے کہ ’’چک عمر‘‘ انہی بزرگ کے نام سے مشہور ہوا ہو۔

    حمد کاکوی نے آپ کے دو صاحبزادوں محمد عمر اور محمد اسمٰعیل کا ذکر کیا ہے، جبکہ مخزن الانساب میں محمد عبدالباقی بن ابراہیم زندہ دل کا نام ملتا ہے اور سید حسن سجاد جعفری کے مرتب کردہ نسب نامہ میں محمد عبدالباقی کے نام کے ساتھ ’’فرزندِ کلاں‘‘ درج ہے۔

    صاحبزادگان کے مفصل حالات دستیاب نہیں ہوتے، حمدؔ کاکوی لکھتے ہیں کہ

    ’’خاندان کے دو افراد سیّد محمد یونس اور سیّد عبدالشکور نے راقم سے بیان کیا کہ مذکورہ بالا واقعات اور دیگر ضروری حالات خاندانی کاغذات میں مندرج تھے، مگر بستی میں بار بار آتش زدگی کے باعث سارے کا غذات جل کر خاک ہو گئے‘‘

    آپ کی جلالت اور صاحبزادگان کے تعلق سے حمدؔ کاکوی نے آثارِ کاکو میں دو روایات نقل کی ہیں، جو اسداللہ اور حاجی اکبر علی سے مروی ہیں، وہ یہاں نقل کی جاتی ہیں۔

    پہلی روایت یہ ہے کہ آپ کے فرزندِ ارجمند جب کبھی سفر کے لیے باہر جاتے تو ادباً گھر سے گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے، بلکہ کچھ فاصلے پر جا کر سوار ہوتے، اسی طرح جب واپس آتے تو گھر سے دور ہی گھوڑے سے اُتر جاتے اور پاپیادہ گھر تک آتے، ایک دن حسبِ معمول سفر پر گئے، واپسی کے وقت آپ کے والدِ ماجد مسجد کے سامنے ایک پتھر پر تشریف فرما تھے اور چند افراد بھی موجود تھے، دور سے دیکھا کہ کوئی گھوڑے پر سوار چلا آ رہا ہے، لوگوں سے دریافت فرمایا کہ دیکھو، کون آ رہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ کے فرزند آ رہے ہیں، آپ نے فرمایا کہ

    ’’سوار کا سر معلوم نہیں ہو رہا ہے‘‘

    ادھر سر تن سے جدا ہو گیا اور گھوڑا باقی جسم لیے ہوئے گھر پہنچا، آپ نے فرمایا کہ جب سوار ہی نہیں تو گھوڑا کیا ہوگا، معاً گھوڑا بھی گر کر ہلاک ہو گیا، اس واقعے میں کس بات کی خفگی تھی، یہ معلوم نہیں ہو سکا۔

    دوسرا واقعہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن آپ اپنی پگڑی سر سے اتار کر اور تسبیح جائے نماز پر رکھ کر کسی ضرورت سے باہر تشریف لے گئے، اسی اثنا میں آپ کی اہلیہ بی بی خدیجہ آئیں، انہوں نے پگڑی اپنے سر پر رکھ لی اور تسبیح ہاتھ میں لے کر آپ کے مصلیٰ پر بیٹھ گئیں، جب آپ واپس تشریف لائے تو نہایت پُرغضب انداز میں اپنی اہلیہ کی طرف نظر کی اور یوں محسوس ہوا کہ ان کے تن و بدن میں آگ سی لگ گئی۔

    ان دونوں روایات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کس قدر جلالی شان کے حامل بزرگ تھے۔

    ایک واقعہ حضرت ابراہیم سے متعلق حمدؔ کاکوی بھی رقم کرتے ہیں کہ میر یوسف حسین عرف نتھو جو حضرت ابراہیم کی اولادِ ذکور سے تھے، ان کے داماد محمود میاں (ساکن: موضع فیروزی) آپ کے مزار کے متصل اپنا مکان تعمیر کروانا چاہتے تھے، بنیاد رمجو میاں مزدور کھود رہا تھا کہ دو چار دن کے بعد دونوں افراد مرض میں مبتلا ہو گئے، رمجو مزدور نے گریہ و زاری اور دعا کے ساتھ اپنے قصور کی معافی چاہی اور تندرست ہوگیا، خود اس نے راقم سے بیان کیا کہ ہم ’’ڈینی باغ‘‘ کے بزرگوں کے مزارات کی ہر سال مرمت اور کہگل کیا کرتے تھے، ممکن ہے کوئی بے ادبی ہوئی ہو جس کی یہ سزا ملی، چنانچہ وہاں جا کر خوب روئے اور معافی طلب کی، خواب میں ارشاد ہوا کہ تم نے سیّد ابراہیم کی جناب میں بے ادبی کی ہے، یہ اسی گستاخی کی سزا ہے، جاؤ معافی مانگو، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور خدا کے فضل و کرم سے شفا یاب ہوا مگر محمود میاں نے اپنی بدنصیبی کے باعث عذر خواہی نہ کی، نتیجتاً ان کا مرض بڑھتا گیا اور وہ اسی علالت میں جاں بحق ہوگئے۔ (آثارِ کاکو)

    عطاؔ کاکوی لکھتے ہیں کہ

    ’’اہل اللہ کے جمالی و جلالی انداز کے مظاہرے اکثر سنے گئے، ان کو چشم باطنی ہی سمجھ سکتی ہے چشم ظاہر نہیں دیکھ سکتی اور نہ سمجھ سکتی ہے‘‘

    (حاشیۂ آثارِ کاکو)

    حضرت ابراہیم زندہ دل کی اولاد بہار میں خوب پھلی پھولی، مختلف مقامات پر آباد ہوئے اور علم و معاش سے آراستہ و پیراستہ رہے اور ہر دور میں اپنی شناخت قائم کی، آپ کے اخلاف میں کاکو سے حاجی میر تبارک حسین، سیّد محمد یونس، ڈاکٹر عبدالشکور، میر یوسف حسین عرف نتھو وغیرہ اور بہار شریف کے محلّہ پر سے شاہ محمد یٰسین، شاہ محمد سجاد، شاہ محمد جمیل وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔

    حضرت ابراہیم زندہ دل کی تاریخِ رحلت ۳؍ رمضان المبارک بیان کی جاتی ہے، آپ کا مزار کاکو میں خانقاہ جلیلیہ سے متصل واقع ہے، جہاں اہلِ حاجت حاضر ہو کر سلام و نیاز پیش کرتے ہیں۔

    حضرت سیّد محمد عبدالباقی جعفری اپنے والد کے بعد مسند سجادگی پر جلوہ افروز ہوئے، آپ کا عقد اپنے خالِ اکبر شیخ صدرالدین کاکوی کی دختر سے ہوا، جن سے ایک صاحبزادہ سیّد محمد مبارز جعفری پیدا ہوئے، آپ کی تاریخِ رحلت ۴؍ جمادی الثانی ہے اور مقامِ وفات کاکو بتایا جاتا ہے، والد کی رحلت کے بعد سیّد محمد مبارز جعفری کاکوی سجادہ نشیں ہوئے، آپ کا نکاح شیخ پھول موضع سنگریّانواں کی دختر سے ہوا، جن سے سیّد ابوالحسن جعفری تولد ہوئے، آپ کی تاریخِ رحلت ۴؍ رمضان المبارک اور مقامِ وفات کاکو ہے، بعد ازاں سیّد ابوالحسن جعفری کاکوی اپنے والد کے بعد خانقاہ کے زیبِ سجادہ ہوئے، آپ کی شادی مسماۃ بی بی رقیہ بنت سیّد ہیبت ساکن محلولی سے ہوئی، اور آپ نے ۱۱؍ محرم الحرام کو شہر مدنی پور میں وصال فرمایا۔

    حضرت سیّد محمد جعفر جعفری رشیدی اپنے والد سیّد ابوالحسن جعفری کے بعد مسندِ سجادگی پر رونق افروز ہوئے، آپ کی شادی حضرت سیّد فضل اللہ قادری بہاری عرف گوسائیں کے خاندان میں سیّد نورالدین کی صاحبزادی سے ہوئی، آپ دیوان شیخ محمد رشید عثمانی کے تربیت یافتہ اور خلیفۂ اعظم تھے، پیر و مرشد کے حکم سے آپ نے کاکو کی اقامت ترک کی اور عظیم آباد کے محلے میں سکونت اختیار فرمائی، ۳؍ رمضان المبارک ۱۱۰۵ھ کو آپ کا وصال ہوا اور آپ شہر عظیم آباد ہی میں مدفون ہوئے، آپ کے بعد سیّد حسین علی جعفری بن سیّد جعفر علی جعفری بن سیّد عنایت کریم جعفری بن سیّد علی ابراہیم جعفری بن سیّد غلام جعفر جعفری بن سیّد محمد اسلم جعفری بن سیّد محمد جعفر جعفری رشیدی تک سجادگی کا سلسلہ جاری رہا اور یہ حضرات شہر عظیم آباد میں تبلیغِ دین کا فریضہ انجام دیتے رہے اور روحانیت کی شمع روشن رکھتے رہے۔

    کریم الدین احمد بہاری رقمطراز ہیںکہ

    ’’حضرت سیّدشاہ غلام جعفر بن سیّدشاہ محمد اسلم بن بندگی حضرت میر سیّد محمدجعفر ساکن دیوان محلہ پٹنہ بن سیّدشاہ ابوالحسن بن سیّدشاہ مبارز کاکوی بن سیّدشاہ محمد عبدالباقی بن مخدوم ابراہیم زندہ دل کاکوی رحمہ اللہ تعالیٰ اجمعین،نسب نامہ بالاتر از حضرت مخدوم ابراہیم زندہ دل کاکوی بخاندان حضرت موجود نبود‘‘ (مخزن الانساب ص؍۱۱۲)

    مزید لکھتے ہیں کہ

    ’’سیّد علی ابراہیم المعورف پیر میاں قدس سرہٗ و سیّد علی اسماعیل المشتہر بہ کبیر میاں علیہما ہر دو بزرگوار برادر عینی بود ند و نام ایشاں غلام جعفر است بن سیّد محمد اسلم بن سیّد محمد جعفر نسب ایشاں بحضرت امام ناطق جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام صوفیہ داشتد وفات سیّد علی ابراہیم یعنی پیر میاں شب ہفتم ماہ شعبان سنہ ایکہزار و یکصد نودنہ ہجری واقع شدہ و عمر گرامش قریب ہفتاد ہجری نبوی اتفاق افتاد درستہ عمر اں بزرگوار تاپنجاہ و دوسال کشید یک پسر ایشاں سیّد لطف علی نام داشت در سن ہفتدہ سالگی جہاں فانی ر اداغ نماد و دیگر پسرے نماند وپیر میاں رادو پسر اد سیّد عنایت کریم و سیّد علی اعظم و ہر دو بزرگوار در بلدہ عظیم آباد پٹنہ بسجادۂ خلافت اجداد خود استقامت دارند‘‘

    وفات آپ کی ۲۷؍شعبان المعظم ۱۱۹۵ھ میں ہوئی اور شریعت آباد میں مدفون ہوئے۔

    حضرت سیّد علی اسمعیل عرف کبیر میاں صاحب فارغ التحصیل عالم ہونے کے علاوہ حاذق طبیب بھی تھے فن طب آپ نے حکیم علوی خاں دہلوی سے پڑھا تھا چنانچہ ان کے شاگرد حکیم نعمت اللہ پھلواروی اپنے تذکرہ میںلکھتے ہیں کہ

    ’’معہ چندے سریری از کبیر میاں صاحب کہ برادر خورد پیر میاں صاحب کہ والد بزرگوار ایشاں میر غلام جعفر ولد سیّد اسلم بودند وبزرگی و سیادت ایشاں وفاتہ اں خلافت ایشاں چوں شمع در قندیل دنیا تواں گفت وہم کبیر میاں صاحب درس صحبت وفیض درس حکیم علوی خاں صاحب فرمودہ بودند شروع کردیم‘‘

    حضرت سیّد محمد اسلم رشیدی : عبدالقدوس آپ کا لقب تھا، آپ حضرت سیّد محمد جعفر رشیدی کے فرزندِ اوسط تھے، علومِ عربیہ اپنے والدبزرگوار سے حاصل کیے، پھر سلسلۂ قادریہ میں مرید ہوئے اور خلافت و اجازت سے سرفراز کیے گئے، آپ اپنے والد کے نہایت عزیز تھے، چنانچہ وصیت کے مطابق والدمحترم کی نمازِ جنازہ بھی آپ ہی نے پڑھائی، والد کی رحلت کے بعد آپ جون پور تشریف لائے اور جو کتابیں باقی رہ گئی تھیں، انہیں حضرت شیخ محمد ارشد کی خدمت میں رہ کر مکمل کیا، سفر و حضر ہر حال میں آپ حضرت شیخ ارشد کی خدمت کیا کرتے تھے، اسی دوران اذکار و اشغال بھی سیکھے اور کچھ ہی عرصے میں حضرت شیخ ارشد بھی آپ سے بڑی محبت فرمانے لگے، یہاں تک کہ آستانۂ حضرت شیخ دیوان محمد رشید میں آپ کو پیرہن اور دستار پہنا کر اجازت و خلافت سے سرفراز فرمایا گیا، اس وقت آپ نے عرض کیا کہ

    ’’میں اس قابل نہیں ہوں‘‘

    شیخ ارشد نے فرمایا کہ

    ’’ہماری تمہاری قابلیت کی کیا ضرورت ہے ؟ آستانہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ قابلیت اُن کی ہے جن کا دامن ہم لوگوں کے لیے وسیلہ ہے‘‘

    اس کے بعد آپ جون پور سے رخصت کیے گئے، پھر آپ برابر طلبہ کو علمی فیض پہنچانے اور فقرا کی رشد و ہدایت میں مشغول رہے، یادِ الٰہی میں زندگی بسر کی اور سرود و سماع سے پرہیز فرماتے رہے، علم سے آپ کو گہرا شغف تھا، چنانچہ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کی تصنیفات فتوحاتِ مکیہ اور فصوص الحکم کا خوب مطالعہ فرماتے اور جہاں مشکل مقامات پیش آتے ان کی توضیح و حل بیان کرتے، آپ کا رسالہ عمدۃ النجاۃ فی حل الزلات بھی آپ کی علم دوستی اور علمی بصیرت کا واضح ثبوت ہے، آپ کا وصال ۲۱؍ شوال المکرم ۱۱۳۸ھ کو ہوا، اور مادۂ تاریخ یہ ہے۔

    ’’آہ از عالم برفتہ رہنما ‘‘

    آپ کا مزار شریعت آباد، چِٹ کہرا بازار، پٹنہ ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع ہے۔

    حضرت سیّد عنایت کریم بن سیّد علی ابراہیم کی پیدائش ۱۱۳۹ھ میں ہوئی، آپ نے کتبِ درسیہ اپنے والدِ بزرگوار اور حضرت شاہ حیدر بخش، نواسہ و جانشین حضرت قمر الحق غلام رشید، سے مکمل کیں اور انہی دونوں بزرگوں سے تعلیم و تربیت بھی حاصل کی، بعد ازاں اپنے والد کے جانشین ہوئے اور ۱۲۱۷ھ میں رحلت فرمائی، آپ کے تین صاحبزادیاں اور دو صاحبزادے تھے، جن میں حضرت جعفر علی اور حضرت سجاد علی قابلِ ذکر ہیں۔

    حضرت سیّد سجاد علی بن سیّد عنایت کریم کی پیدائش ۱۱۶۲ھ میں ہوئی، آپ اپنے والد کے مرید و خلیفہ تھے، نیز حضرت شاہ نور الحق صدر بخش سے بھی تعلیم و تربیت پائی اور دونوں بزرگوں کی طرف سے مجاز تھے، اپنے والد کے بعد جانشین ہوئے اور فرائضِ سجادگی ادا کرتے ہوئے ۱۲۴۱ھ میں وفات پائی، آپ کی تین شادیاں ہوئیں، زوجۂ اول موضع کاندھا کے خاندانِ ہمدانی سے تھیں، زوجۂ دوم حضرت حمید الدین راجگیری کی دختر تھیں اور زوجۂ سوم سیّد محمد مائلی بن سیّد خیرالدین عرف میگھن بن سیّد محمد قاسم بن سیّد محمد ارشد الدین بن سیّد قطب الدین بن سیّد عثمان علی بن سیّد محی الدین بن حضرت سیّد محمد پیر دمڑیا کی دختر تھیں مگر اولاد نہ ہوئی، اس لیے آپ نے اپنے برادرزادہ سیّد حسین علی جعفری کو اپنا جانشین نامزد فرمایا۔

    حضرت سیّد حسین علی بن سیّد جعفر علی کی پیدائش ۱۲۲۶ھ میں ہوئی، آپ اپنے عمِ محترم حضرت سیّد سجاد علی کے مرید و خلیفہ تھے، نیز حضرت شاہ قیام الحق امیر الدین سے بھی تعلیم و تربیت حاصل کی اور اجازت و خلافت پائی، اپنے عم محترم کے بعد سجادہ نشیں ہوئے اور فرائضِ سجادگی ادا کرتے ہوئے ۱۶؍ رجب المرجب ۱۳۰۳ھ کو رحلت فرماگئے، آپ کا نکاح بہار شریف کے محلہ محل میں منشی سیّد کریم بغدادی کی دختر سے ہوا اور آپ اپنی سسرال ہی میں جا بسے، آپ کے تین صاحبزادے ہوئے، سیّد احمد سجاد، جو آپ کے بعد جانشین ہوئے، دوسرے سیّد فضل سجاد اور تیسرے سیّد حسین احمد سجاد بن سیّد شاہ حسین علی؛ سیّد حسین احمد سجاد کے تین صاحبزادے سیّد وحید سجاد، سیّد احسن سجاد اور سیّد محمد سجاد ہوئے، سیّد محمد سجاد کے چار صاحبزادے سیّد ابراہیم سجاد، سیّد حسین سجاد، سیّد اشرف سجاد اور سیّد جعفر سجاد ہوئے، سیّد فضل سجاد بن سیّد حسین علی کے دو صاحبزادے سیّد سبحان احمد اور سیّد یاسین سجاد ہوئے، سیّد سبحان احمد کے تین صاحبزادے سیّد جمیل احمد، سیّد وکیل احمد اور سیّد جلیل احمد ہوئے، جبکہ سیّد یاسین سجاد کے تین صاحبزادے سیّد محمد طہٰ، سیّد محمد ظاہر اور سیّد محمد طیب ہوئے۔

    (تجلیاتِ انوار، جلد دوم، ص ۲۹۳)

    یہاں دیوان محمد رشید جون پوری کے مرید و خلیفہ، جن کا تعلق قصبہ کاکو سے ہے، ان کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے۔

    حضرت میر سیف الدین رشیدی : دیوان محمد رشید جون پوری کے شاگردِ رشید، مرید اور خلیفہ تھے، گنج ارشدی میں انہیں کہیں مدن پوری اور کہیں کاکوی لکھا گیا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ آپ کا تعلق دونوں قصبوں سے رہا ہو، حضرت دیوان محمد رشید کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا وطن مدن پور تھا جبکہ حضرت شاہ نصر ملتانی کی تحریر سے آپ کا تعلق کاکو سے ظاہر ہوتا ہے، البتہ انہوں نے صرف قصبہ کا نام ذکر کیا ہے اور آپ کے سنۂ وفات و مقامِ مرقد کی تحقیق نہیں ہوسکی۔

    (تجلیات انوارجلد دوم،ص؍۲۰۱)

    گنج ارشدی میں مرقوم ہے کہ

    ’’زبدۂ سادات،عمدۂ کرامات، اہل دین حضرت میر سیّد سیف الدین نہایت صاحب کمال بزرگ تھے، گنج ارشدی سے بتاریخ ۲۵؍ماہ جمادی الثانی ۱۰۷۹ھ بعد نماز مغرب حضرت دیوان محمد رشید قدس سر ہاپنے حجرہ میں ایک نیا پرامن لاے اور صحن مسجد میں بیٹھ کر حسینیہ سلسلہ کی خلافت میر سیّد سیف الدین کو جو قصبہ کاکوصوبۂ بہار سے تشریف لاے تھے دے کر کچھ ارشاد فرماکر پرامن پہنایا،فرمایا عید کے دن اس پرامن کو خوشبو مل کر پہننا کہیں اور کچھ نقد و مکر فرمایا کہ طریقہ یہ ہے کہ جب خلافت دیتے ہیں تو کچھ فتوح بھی دیتے ہیں ،خلافت دینے کے بعد لوگوں سے فرمایا کہ مبارکباد دو اور دست بوسی کر‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے