حضرت شاہ اکبر داناپوری اور ان کے ہندو تلامذہ
بہار میں شعر و سخن کی فضا صوفیائے کرام کے فیض سے آباد ہوئی، یہاں بڑے بڑے ملک العشاق آسودۂ خاک ہیں جن کی فکر کی بہار اور وسعتِ زبان نے نہ صرف بہار بلکہ برصغیر کے ایک بڑے گلستاں کو شاد و آباد کیا، مختلف مکاتبِ فکر اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے عشاق نے اس گلستاں میں اپنا اپنا رنگ بھرا، شعر کہا اور بہتر سے بہتر کی جستجو میں اپنا حصہ ڈالا۔
اسی سلسلے میں حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ان شاگردوں کا ذکر بھی ایک نہایت دلچسپ اور قابلِ توجہ موضوع ہے جو ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے اور فنِ شعر و سخن میں آپ کے تلامذہ ہوئے، یہ امر بھی کم باعثِ حیرت نہیں کہ حضرت اکبر نے اپنے ایسے تلامذہ کو شعر و ادب کی دنیا میں نہ صرف کامیاب و کامران کیا بلکہ گیا اور داناپور جیسے مراکز میں انہیں باقاعدہ استادِ فن کی حیثیت بھی حاصل ہوئی، حضرت اکبر کے مسلم تلامذہ کی اگر ایک طویل فہرست ہے تو ہندو شعرا کی بھی ایک مختصر مگر نمایاں قطار نظر آتی ہے، آپ کے ہندو تلامذہ میں قیس گیاوی، مست گیاوی، صہبا گیاوی، رونق گیاوی اور ماہ داناپوری جیسے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان ناموں کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اس دور میں خانقاہیں محض مذہبی مراکز نہ تھیں بلکہ علم، ادب، تہذیب اور انسانی رشتوں کے ایسے مراکز بھی تھیں جہاں مذہب و ملت کی تفریق سے بالاتر ہو کر دلوں کو جوڑنے کا کام انجام دیا جاتا تھا، دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ خانقاہیں در اصل لوگوں کو جوڑتی ہیں، دل سے دل ملانے کا وسیلہ بنتی ہیں، خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور بھی اسی روشن روایت کی ایک اہم کڑی ہے جہاں کے سجادہ نشیں حضرت شاہ اکبر داناپوری برصغیر کے ممتاز عالم، مصنف، شاعر اور صاحبِ نسبت بزرگ گزرے ہیں، حضرت اکبر کے درجنوں شاگرد اور مرید ہوئے جن میں مختلف مذاہب اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے، یہ تنوع خود اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ علم و ادب اور روحانیت کی دنیا میں انسان کی قدر اس کی مذہبی شناخت سے کہیں وسیع تر پیمانے پر کی جاتی تھی۔
اسی خیال کے پیشِ نظر مناسب معلوم ہوا کہ حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ہندو تلامذہ کا بھی قدرے تفصیلی تذکرہ کیا جائے تاکہ اس عہد کی علمی و ادبی فضا کا ایک ایسا پہلو سامنے آسکے جو عموماً ہماری نگاہوں سے اوجھل رہتا ہے، شاید یہ تذکرہ ان اربابِ علم و دانش کے لیے بھی غور کا باعث ہو جو اردو کو محض ایک مذہبی یا مسلم معاشرے کی زبان سمجھنے کی کج فہمی میں مبتلا ہیں، اردو کی تہذیبی اور ادبی تاریخ اس سے کہیں زیادہ وسیع، ہمہ گیر اور مشترک ہے، اس کے دامن میں مختلف مذاہب، علاقوں اور تہذیبی روایتوں سے وابستہ لوگوں کی محنت، محبت اور تخلیقی حصہ داری شامل ہے۔
حضرت اکبر کے ہندو تلامذہ میں قیسؔ گیاوی ایک معتبر اور مشہور نام ہیں، ان کا اصل نام رام پرشاد بن سنجیون لال تھا اور ان کا تعلق گیا کے ٹکاری سے تھا، شفقؔ عمادپوری لکھتے ہیں کہ
ضلع گیا بھر میں کوئی ایسا نہ ہوگا جو بیکنٹھ باشی بابو رام پرشاد وکیل کے نام و نشان یا مشہور خاندان سے واقف نہ ہو، ایسے باخلیق، بامروت، ذی ہمت، ذی حوصلہ، ہر دلعزیز کہاں ہوتے ہیں، ان سب کے علاوہ علم و فن کا ذوق جو روز افزوں ترقی پر تھا، شوقِ شعر و سخن کی طرف مائل ہوا (یادگارِ قیس، از دیباچہ)
قیسؔ گیاوی تقریباً ۱۸۶۰ کے آس پاس پیدا ہوئے، آپ نے B.A. اور پھر L.L.B. کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوئے، قیسؔ کو حضرت اکبر کے ممتاز شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے، استاد کی صحبت کا رنگ ان پر اس قدر چڑھا کہ ۱۸۹۸ء میں گیا میں ایک ادبی انجمن لٹریری کلب قائم کی، جس میں ہر ماہ مشاعرہ منعقد ہوتا اور مشاعرے میں پیش کی جانے والی غزلوں کا گلدستہ بھی شائع کیا جاتا تھا، عشرتؔ لکھنوی نے قیسؔ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ
دیوان راج ریاست ٹکاری تلمیذ اکبر داناپوری، اردو شاعری کا نہایت شوق تھا (ہندو شعرا، ص ۱۴۰)
عشرتؔ لکھنوی نے اس کے علاوہ قیسؔ کے تین اشعار بھی نقل کیے ہیں، فصیح الدین احمد بلخی رقمطراز ہیں کہ
اس انجمن کا ایک گلدستہ راقم کی نظر سے بھی گزرا تھا۔۔۔ قیسؔ کے تین اشعار راقم کے پاس ایک بیاض میں لکھے ہوئے موجود تھے (تذکرہ ہندو شعرائے بہار، ص ۱۱۹)
جگیشر پرشاد خلشؔ لکھتے ہیں کہ
شعرا کا مجمع اس قدر ہوتا کہ شہر گیا صوبۂ بہار کا مرکزِ سخن بن گیا تھا لیکن افسوس کہ آپ اپنے ساتھ اس مذاقِ سلیم کو بھی لیتے گئے
(فروغِ بزم، جلد اول، ص ۵۷)
شفقؔ عمادپوری لکھتے ہیں کہ
لٹریری کلب کی روشنی آپ کے دم تک تھی جس کے دھوم دھامی مشاعرے لکھنؤ کے بعض شعرا کو بھی پسند آئے (یادگارِ قیس، ص ۰۰)
لٹریری کلب سے متعلق حضرت اکبر کا ایک قطعہ بھی موجود ہے، حضرت اکبر خود بھی ایک مشاعرے میں شریک ہوئے تھے جس کا پورا نقشہ انہوں نے اپنے اس قطعے میں نہایت خوبصورتی سے کھینچا ہے۔
عجب بہار کی صحبت ہے دور اس سے خزاں
خدا کا شکر کہ مجمع ہے باکمالوں کا
سخن شناس سخن سنج شعر گو خوش فکر
ہے اس مشاعرے کا نام مجلس ادبا
کہیں گیا کو اگر شاعروں کا ہم دنگل
تو بے دلیل ہو ثابت ہمارا یہ دعوا
مزاج ہوتے ہیں جس طرح شاعروں کے لطیف
لطافت ایسی ہی رکھتی ہے اب گیا کی ہوا
اس انجمن نے جگہ کیسی کوب پائی ہے
دلوں کے غنچے کھلے جب یہاں قدم رکھا
مکاں وسیع پھر اس کی وہ مرتفع کرسی
کہ آستانے پر جس کے سپہر ناصیہ سا
وہ خانہ باغ کی نزہت وہ پھولوں کی خوشو
بسا رہی ہے قبائیں گلوں کی باد صبا
مکاں ہے کہ تصاویر کا مرقع ہے
نگار خانۂ چین ہے اسی کا اک خاکا
عجب ادا سے ہے اہلِ سخن کی صف بندی
ملے جلے ہیں وہ یوں جیسے ان کا دل ہے ملا
خیال سب کے نئے اور سب کی فکر جواں
طبیعتیں جو مصفا تو پاک ذہن و ذکا
زبان صاف بیاں خوب نظم خوش اسلوب
محاورات کی ترکیب اس کا رنگِ جدا
مزید رقمطراز ہیں کہ
خزینہ دار ہے اس بزم علمیہ کا قیس
کلام قیس ہے بے شبہ قیس کی لیلا
(جذباتِ اکبر، ص۲۳۶)
قیسؔ کا انتقال ۱۹۰۸ء میں تقریباً پچاس برس کی عمر میں گیا میں ہوا، قیس کے صاحبزادے بشن پرشاد خود بھی شعر کہتے تھے اور اپنے والد سے اصلاح لیتے تھے، لٹریری کلب اور انجمنِ بزمِ سخن کے مشاعرے میں کلام پیش کرتے تھے، ان کا ایک شعر دیکھیے۔
بڑھ گئی برق سے تڑپ تیری
اے دلِ بے قرار کیا کہنا
دیگر
چلے باغ دنیا سے کیا لے کے ہم
نہ کچھ رنگ لائے نہ پھولے پھلے
دیگر
دیکھا نیچی نگاہوں سے ترا آفت ہے
یہ ادا کم نہیں عشاق کے تڑپا
دیگر
نیند آتی نہیں شبِ فرقت
آشنا تک نہیں ہے خواب سے آنکھ
دیگر
عجیب شان سے دیکھا ہے اس کو پہلو میں
ہمارے خواب کی تعبیر رکھیے کیسا
(سخنوارنِ وطن، ص130)
بشن پرشاد نے ۱۹۰۲ میں L.L.B. کی تعلیم حاصل کی تھی، امتحان میں کامیابی کے اس موقع پر حضرت اکبر نے اپنے شاگرد کے بچے کی تکمیل پر فارسی میں ایک قطعۂ تاریخ رقم کیا، جس کی سرخی جذباتِ اکبر میں یوں درج ہے کہ
تاریخِ کامیابیِ امتحان بی۔اے۔ بی۔ایل۔ فرزندِ نوجوان بابو رام پرشاد قیسؔ سلمہ اللہ تعالیٰ
چوں پور قیس نیک دل شد کامیاب امتحاں
نامش بفہرست کرم از حکم حق تحریر شد
بادا مبارک یاخدا ایں کامیابی در جہاں
دربار عزت بہر او قصر خوشی تعمیر شد
چوں ہست آں شیریں زباں غایت فصیح و نکتہ داں
شکر فشاں گیتی ستاں تاریخ آں طستیر شد
۱۹۰۲
(ص۳۱)
بشن گیا میں وکالت کرتے تھے اور مگدھ مہیلا کالج، مرارپور کے سامنے ان کی کوٹھی ہوا کرتی تھی، وہ بہار و اڑیسہ کاؤنسل کے رکن بھی رہے، ان کے صاحبزادے برہم دیو پرشاد جنہیں بچہ بابو اور جموار صاحب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، انگلینڈ سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرنے کے بعد پٹنہ ہائی کورٹ سے وابستہ ہوئے اور ۱۸ جولائی ۱۹۴۹ء سے ۲۷ ستمبر ۱۹۵۸ء تک مستقل جج کے منصب پر فائز رہے، جج بننے سے قبل وہ پٹنہ ہائی کورٹ کے رجسٹرار کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے تھے، اس کے علاوہ ۱۹۵۵ء میں حکومتِ ہند نے املاباد کوئلہ کان کے حادثے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کورٹ آف انکوائری کا سربراہ بھی انہیں مقرر کیا تھا، ۱۹۱۸ء میں ان کی شادی کے موقع پر حضرت اکبر کے صاحبزادے حضرت شاہ محسن داناپوری نے ایک قطعۂ تاریخ لکھا تھا، پڑھیے اور اس کا لطف لیجیے۔
بشن بابو مبارک آپ کو ہو
خلفِ ارجمند کا سہرا
پھر مبارک عروسی دختر
اور جشن عزیزِ شاہانہ
گلشنِ دہر میں پھلیں پھولیں
مرے اللہ یہ دولہن دولہا
شادماں بامراد باتوقیر
آپ دیکھیں انہیں بفصلِ خدا
مجھے تاریخ کی تھی محسنؔ فکر
شبِ عشرت نواز دل نے کہا
۱۳۳۶ھ
(کلیاتِ محسن، 346)
برہم دیو پرشاد کا انتقال ۱۹۶۳ء میں پٹنہ میں ہوا، ان کی پانچ اولاد ہوئیں جو پٹنہ، رانچی اور امریکہ تک میں آباد ہوئیں۔
(سخنورانِ وطن، ص ۱۳۰)
قیسؔ کو شعر کہنے پر خاص ملکہ حاصل تھا، وہ بسا اوقات بیٹھے بیٹھے ایک دو غزلیں کہہ لیتے تھے، ان کی شعری صلاحیت قابلِ ذکر تھی اور وہ فنِ سخن کے باقاعدہ ماہر اور اس سے گہری دلچسپی رکھنے والے شاعر تھے، ان کا دیوان انتقال کے پانچ برس بعد ۱۹۱۳ء میں تقریباً ستاسی صفحات پر مشتمل یادگارِ قیس کے نام سے مفیدِ عام، آگرہ سے شائع ہوا، کتاب پر دیباچہ شفقؔ عمادپوری کا ہے، جب کہ حسبِ فرمائش میں شررؔ گیاوی کا نام درج ہے، اس میں تقریباً ۵۱ غزلیں، ۳۰ رباعی، ۲ قصیدہ، ۱ رقعہ، ۲ قطعہ اور ۴ سہرے موجود ہیں اور آخر میں شفقؔ عماد پوری، محمد اسمعیل ذبیحؔ، سریرؔ کابری، قوسؔ حمزہ پوری اور اوجؔ گیاوی وغیرہ کے قطعاتِ تاریخِ طبع درج ہیں۔
یادگارِ قیس کے مطالعے سے جہاں شعری استعداد اور مختلف اصنافِ سخن پر قدرت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یادگارِ قیس قیسؔ کے تمام شعری سرمائے کا احاطہ نہیں کرتی، بعید نہیں کہ ان کے مزید کلام کی تلاش سے نئے گوشے سامنے آئیں اور تحقیق کے لیے نئے دروازے کھلیں گے، فصیح الدین احمد بلخی قیس کا ایک قطعہ درج کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ
محلہ مرارپور گیا میں مولوی سید غنی حیدر صاحب مرحوم کا تعمیر کردہ عالی شان مکان ہے اس کے دروازہ کے اوپر قیسؔ کا کہا ہوا یہ قطعہ تاریخ کندہ ہے، اب یہ مکان غالباً شاہ قاسم غنی صاحب کی ملک ہے (تذکرہ ہندو شعرائے بہار، ص۱۲۰)
شفقؔ عمادپوری قیسؔ کے کلام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
شعر اچھے، زبان اچھی، بول چال اچھی، مضمون اچھے، بندش اچھی (یادگارِ قیس، از دیباچہ)
قیسؔ کہتے ہیں کہ
دل میں خیال آج کسی رشکِ پری کا
پوچھو نہ مزاج اب مری شوریدہ سری کا
بلبل کے بند ہے پر جو رگِ گل سی چمن میں
گل کھل گیا صیاد کی بیداد گری کا
کیا لائی ہے پھر نکہت گیسوئے معنبر
ہے آج دماغ اور نسیمِ سحری کا
اے قیسؔ مری جان ہے وہ غیرتِ لیلیٰ
میں حور کا شیدا ہوں نہ دیوانہ پری کا
(یادگارِ قیس، ص۱)
دیگر
دل دکھتا ہے کیوں میرا اس کو کوئی کیا جانے
اس راز محبت کو جانے تو خدا جانے
سچا ہے وہی عاشق جو رسم وفا جانے
معشوق وہی اچھا جو طرزِ جفا جانے
اے دل کوئی کیا جانے کیا ہے مرضِ الفت
اس درد کو وہ جانے جو اس کی دوا جانے
ملتا ہے خدا اس کو جو شرک سے باز آئے
ہر بت کو تہ دل سے بس شان خدا جانے
ہر چھوٹے بڑے کا ہے رتبہ اسی پردے میں
چھوٹے کو بھی رتبے میں اپنے سے بڑا جانے
مالک ہے جو اس گھر کا پہچانے وہی گھر کو
اے قیسؔ مرے دل کو کون اس کے سوا جانے
(یادگارِ قیس، ص۵۶)
مختار احمد عاصیؔ رقمطراز ہیں کہ
اردو ادب کے بڑے رسیا تھے، مذاقِ شعر و سخن عہدِ شباب سے تھا اور اسی ذوقِ صادق نے انہیں ایک لیٹریری کلب کھولنے پر اکسایا (حیاتِ دوام، ص ۱۵۶)
البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ قیسؔ گیا کی ادبی تاریخ میں ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں جنہیں آسانی سے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
اسی سلسلے میں حضرت شاہ اکبر داناپوری کے ایک اور ہندو شاگرد مستؔ گیاوی کا ذکر آتا ہے، وہ گیا کے رئیس اور صاحبِ حیثیت شخص تھے، ان کا پورا نام نند کشور لال بن منشی جواہر لال تھا، انہوں نے B.A اور L.L.B کی تعلیم حاصل کی تھی اور لیجسلیٹو کاؤنسل کے رکن بھی رہے، فارسی اور انگریزی زبان پر اچھی دسترس رکھتے تھے اور حضرت اکبر کے کامیاب تلامذہ میں شمار ہوتے تھے، آپ صاحبِ دیوان شاعر تھے لیکن دیوان طبع نہ ہوسکا۔
فصیح الدین احمد بلخی لکھتے ہیں کہ
لٹریری کلب گیا کے اراکین میں تھے اور سیاسی اور ادبی تحریکوں سے بہت دلچسپی رکھتے تھے (تذکرہ ہندو شعرائے بہار، ص ۱۰۱)
عشرتؔ لکھنوی رقمطراز ہیں کہ
قوم کائست، عالمِ شباب سے ذوقِ سخن تھا، اردو کے محقق تھے، علمی اور۔۔۔ کاموں سے بہت دلچسپی تھی، شاگرد اکبر داناپوری، ۵۵ برس کی عمر میں انتقال فرمایا (ہندو شعرا، ص ۱۱۳)
مستؔ گیاوی کی ایک غزل جو گیا کے لٹریری کلب کے ۱۸۹۸ء کے مشاعرے میں پڑھی گئی تھی، اس مشاعرے کا گلدستہ مؤرخہ۴ مارچ ۱۸۹۹ء کو شائع ہوئی، ملاحظہ ہو۔
پھر حوصلہ دعا کو ہوا ہے وفا کرے
ظالم جفا سے باز نہ آئے خدا کرے
مفتوں صد نگاہ تمنا ہے دل مرا
اس کو کہاں تلک کوئی صرف وفا کرے
صد گو نہ حدّ حصر سے افزوں ہے شوق دل
کیا عمر خضر کو کوئی صرف دعا کرے
پھر دیدہ و جگر میں ہیں باہم یہ چشمکیں
تیر نگاہِ یار کہاں دیکھیں کیا کرے
پھر تیغ ناز ڈھونڈتی ہے سینہ و جگر
تیرِ نگہ کو دھن ہے کہ پھر دل میں جا کرے
پھر جیب کو ہوس ہے کہ ہو یوں وہ تار تار
ممنوں بخیہ گر نہ طبیعت ہوا کرے
پھر گرم آہ شعلہ فشاں ہے دل حزیں
پھر گریہ چاہتا ہے کہ طوفا بپا کرے
ان روزوں جوش پر ہے پھر اشک رواں کی سیل
پھر ہے جنوں کا حکم کہ محشر بپا کرے
پھر عشق چاہتا ہے ترے آستانہ پر
با منت و نیاز مجھے جبہ سا کرے
میرے غبار کو ہے خیال عروج پھر
تا زیر بار منت دوش صبا کرے
پھر امتحانِ جذبہ دل کو چلی ہے یاس
تا مہرباں ہو وہ بت کافر خدا کرے
پھر میرے سر پہ کھیل رہی ہے اجل مری
شمشیر ناز تن سے مرا سر جدا کرے
کیا پھر ہے مئے کشی کا تہیا جناب مستؔ
زاہد سے کہہ دو ابر کی اس دم دعا کرے
(تذکرہ ہندو شعرائے بہار، ص101)
دیگر
سودائے زلف یار کا دل مبتلا نہ ہو
یا رب بلائے جان حزیں یہ بلا نہ ہو
فرقت میں اک تجھی سے بہلتا ہے جی مرا
دل سے تو اے تصور جانان جدا نہ ہو
اٹھا بخار دل سے تو آنسو ٹپک پڑے
سچ ہے کہ منہ نہ برسے گا جب تک گھٹا نہ ہو
دل میں غبار آنے نہ پائے کس طرح
اندھا وہ آئینہ ہے کہ جس میں صفا نہ ہو
عالم تمام تر ہے دل بے قرار کا
سیماب میری خاک سے یا رب بنا نہ ہو
کیا ہجر گل میں نالہ بلبل ہے جاں گسل
اب کوئی نشیب سے جدا نہ ہو
زاہد خدا کے واسطے تو مستؔ کو نہ چھیڑ
ہاتھوں سے اس کے چاک یہ تیری قبا نہ ہو
(گلدستہ، ص۲۰)
مستؔ کا ایک قطعہ جو بہت مشہور ہوا تھا، خیرات احمد گیاوی کے صاحبزادے ہادی حسن کے انگلینڈ سے بیرسٹری کرکے واپس آنے کے موقع پر ۱۰ جنوری ۱۸۹۹ء کو منعقدہ ایک تقریب میں بطورِ ایڈریس پڑھا گیا تھا، ملاحظہ ہو۔
ساقی گلفام دے جام شراب ارغواں
ہے سرور افزاے دلہا حاصل بزم سخن
رقص میں طاؤس گلشن نغمہ زن مرغان باغ
ابر رحمت شامیانہ ناچ گھر صحن چمن
قطرۂ شبنم ہیں یوں اوراق گل پر جابجا
خاتم لعیں میں ہو جیسے جڑبے درّ عدن
لوٹتی پھرتی ہے بادہ صبح فرش سبزہ پر
جامے سے باہر ہوئے جاتے ہیں نسریں و سمن
چرخ پر کتنا مسرت خیز ہے رنگ شفق
پیر گردوں نے بھی بدلا آج اپنا پیرہن
کیو نہ ہو یہ روز ہے کیسا سعادت انتما
لو لگائے جس میں تھے مدت سے یارانِ وطن
سیدِ ہادی حسن از فضل رب لم یزل
کونسلی ہو کر ہوئے اب رونق افروز وطن
مولوی خیرات احمد ہو مبارک آپ کو
یہ پسر باجاہ و حشمت اے محب بوالحسن
واہ خالق نے دیا کیا آپ کو نور نظر
خوش کلام و خوش بیاں شیریں زن با شیریں سخن
زیر و دانش پناہ و خوش سیر ہر دل عزیز
نوجواں ہمت میں دور اندیشی میں پیر کہن
نیک اندیشہ محبت پیشہ پاکیزہ خیال
نام بردار پدر نام آور ہر انجمن
باپ پیارا قوم کا بیٹا ہے پیار ملک کا
پاک دونوں کی طبیعت نیک دونوں کا چلن
یاد تھی سب کے دلوں میں آپ کی مسکن پذیر
دور تھے ظاہر میں ہم سے آپ اے ہادی حسن
ہو زیادہ عمر و دولت جاہ و اقبال و حشم
سب مرادیں آپ کی برلائے رب ذوالمنن
آپ کی تقریر میں ہو برک اور شرون کا زور
آپ کی تحریر میں ہو لطف مثل ایڈیسن
بار سے کر کے ترقی آپ جائیں بنچ پر
چیف جسٹس کی عبا ہو آپ کے زیب بدن
ہو مطیع حکم پہ گردوں گرداں آپ کا
آپ کے حامی علی ہوں آپ کے ہادی حسن
آپ کے آنے کا کیا اچھا مناسب سال ہے
اب رفتہ باز اندر جوئے آمد در چمن
جام الفت آپ کا پی کر دعا کرتا ہے مستؔ
بزم میں ہر اک کہے آمیں رب ذوالمنن
(تذکرہ ہندو شعرائے بہار، ص۱۰۲)
اس سلسلے میں خیرات احمد گیاوی رقمطراز ہیں کہ
اور شب کو بڑی دھوم دھام سے دعوتِ احباب کی جس میں شہر کے کل رؤسا و حکام و وکلا رونق افروز ہوئے اور شفیقی بابو نند کشور لال صاحب نے ایک قطعہ تہنیت و تاریخ کا بطور ایڈریس کے نہایت ہی فصیح و بلیغ جس میں سجع ہادی حسن کا نہایت خوش اسلوبی سے نظم کیا ہے (آپ کے حامی علی ہوں آپ کے ہادی حسن) پڑھا، اس کا جواب ہادی نے انگریزی میں دیا اور سب لوگ اس عزیز کی سعادت مندی اور لیاقت سے بہت ہی محظوظ و مسرور ہوئے (خمسۂ کاملہ مع سلام، ص۷)
مختار احمد عاصیؔ رقمطراز ہیں کہ
مستؔ گیا کے ایک رئیس زمیندار گھرانے کے چشم و چراغ تھے، آپ نے ایم اے تک تعلیم حاصل کی تھی، شعر و سخن کا ذوق جوانی میں نکھرا، حضرت اکبرؔ داناپور سے شرف تلمذ حاصل تھا، کلام میں فصاحت و بلاغت کے ساتھ زبان کی چاشنی اور روز مرہ قابل داد پائی جاتی یں، آپ صاحبِ دیوان بھی تھے (حیاتِ دوام، ص۱۶۰)
حضرت اکبر مست کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
ایک ممبر نند کشور لال ہیں
ہے تخلص مستؔ صاحبِ جمال ہیں
ایم اے بی ایل و پاکیزہ سخن
میں انہیں کہتا ہوں اکثر جانِ من
میرے چے دوست میرے مبتلا
بالیقیں ہے مجھ سے ان کا دل ملا
ایک دوسری جگہ حضرت اکبر فرماتے ہیں کہ
عجب مذاق کے رندانہ شعر مستؔ کے ہیں
کہ جس نے ن کو سنا وہ ہمیشہ مست رہا
(جذباتِ اکبر، ص۲۳۷)
جگیشر پرشاد خلشؔ لکھتے ہیں کہ
عنفوانِ شباب سے ذوقِ سخن ہے، فصحا کے متروکات وغیرہ فصیح لفاظ مع عیوب شعر و غلطی املا اور قواعد کی تحقیق کا کمال شوق ہے، آپ کے کلام میں فصاحت کے ساتھ بلاغت بھی موجود ہے، زبان کی صفائی اور روز مرہ قابلِ داد ہے، آپ گیا کے اعلیٰ طبقہ کے رؤسا میں شمار کیے جاتے ہیں، آپ کا خاندان مہاراجہ ٹیکاری کے دربار میں اعلیٰ خدمت پر معمور رہا رہے، مستؔ کچھ ہی دنوں تک بحیثیت منیجر ریاست کی سیر کرتے رہے، آدمی نہایت شجاع و دلیر میں علمی و ملکی کاموں سے آپ کو گہری دلچسپی ہے، کانگریس کی شرکت بھی آپ اپنا فرض سمجھتے ہیں (فروغِ بزم، جلد اول، ص۶۳)
مست کا انتقال ۱۹۰۵ء میں ہوا، آپ کی یادگار آپ کے صاحبزادے بابو لال جی ہوئے یہ اپنے والد کی طرح خوش اخلاق اور بامروت شخص تھے۔
اسی طرح حضرت شاہ اکبر داناپوری کے تیسرے ہندو شاگرد صہبا گیاوی ہیں، ان کا اصل نام رائے کنور بھائی تھا، وہ گیا کے رئیسوں میں شمار ہوتے تھے اور حضرت اکبر کے شاگردِ رشید تھے، جگیشر پرشاد خلشؔ نے نمونے کے طور پر ان کا ایک غزل نقل کی ہے، ملاحظہ ہو۔
سجدے ہم کرتے ہیں وہ پاؤں جہاں رکھتے ہیں
جب تو دعوائے خدائی یہ بتاں رکھتے ہیں
اے فلک تیری عداوت کا کریں کیا شکوہ
اپنے پہلو ہی میں دشمنِ جاں رکھتے ہیں
آپ کے نام کا زیبا ہے جہاں میں سکہ
بے نشان لوگ کہاں نام و نشاں رکھتے ہیں
دوزخ میں جو مرتے ہیں بتوں پر صہباؔ
اہلِ جنت ہوس حور جناں رکھتے ہیں
(فروغِ بزم، جلد اول، ص۴۲)
جگیشر پرشاد خلشؔ صہبا گیاوی کے حالاتِ زندگی معلوم کرنے سے قاصر رہے، وہ لکھتے ہیں کہ
زمانہ حال کے شاعروں میں ہیں لیکن باوجود کوشش آپ کا حال معلوم نہ ہوسکا، صرف گلدستہ نالۂ عشاق سے چند شعر انتکاب کیے جاتے ہیں (فروغِ بزم، جلد اول، ص 42)
اسی طرح حضرت شاہ اکبر داناپوری کے چوتھے ہندو شاگرد رونق گیاوی ہیں، ان کا اصل نام لالہ شوناتھ سہائے بن منشی کشن دیال تھا، وہ پکری براواں، گیا کے رہنے والے تھے، لالہ سری رام لکھتے ہیں کہ
بکھری برانواں صوبۂ بہار کے باشندے اور حضرت اکبر داناپوری کے شاگرد ہیں، فارسی میں کافی دستگاہ ہے، لکھنؤ و بریلی کے رسالوں میں آپ کا کلام شائع ہوتا رہا ہے (خمخانۂ جاوید، جلد سوم، ص۵۵۵)
اس کے علاوہ لالہ سری رام نے رونق گیاوی کے پانچ اشعار بھی نقل کیے ہیں، ملاحظہ ہو۔
خوش خرامی میں بھی صاحب کو توجہ چاہیے
دیکھیے دل خاکساروں کے ہیں غلطاں زیر پا
دیگر
وہ دل سے ایسا ہی سمجھیں تو لطف ہے ورنہ
لکھا جو عاشقِ شیدا خطاب کیا ہوگا
دیگر
پاؤں میں چھالے جگر شق دل میں درد
میں سراپا غم کا پتلا ہوگیا
دیگر
کس قدر پُر درد ہے رونقؔ بیانِ عندلیب
ہوش اڑ جاتے ہیں سن سن کر بیانِ عندلیب
دیگر
بود و نابود انساں کے لیے مثلِ حباب
ہستی و نیستی ہے اپنی خبر کے مانند
اسی کو فصیح بلخی نے بھی نقل کیا ہے۔
اسی طرح داناپور کے پرنو چندر جو ماہؔ تخلص کرتے تھے، انہیں بھی حضرت اکبر کے شاگردوں میں شمار کیا جاتا ہے، یہ حضرت اکبر کے چند ہندو تلامذہ کا ایک مختصر تذکرہ تھا، جسے اختصار کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، ورنہ اس موضوع کی وسعت ایسی ہے کہ اس پر تفصیل سے ایک مستقل کتاب لکھی جاسکتی ہے، یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ حضرت اکبر کے دو ہندو تلامذہ قیسؔ اور مستؔ صاحبِ دیوان شاعر ہوئے، قیسؔ کا دیوان طبع ہوچکا ہے لیکن افسوس کہ مستؔ کا دیوان طبع نہ ہو سکا۔
حضرت اکبر کے ہندو تلامذہ کا یہ تذکرہ اس وسیع ادبی اور تہذیبی روایت کی محض ایک جھلک ہے، جس میں مذہبی حدود سے بلند ہو کر استاد اور شاگرد کا رشتہ علم، ادب اور محبت کی بنیاد پر استوار ہوتا تھا، رام پرشاد قیسؔ، نندر کشور لال مستؔ، رائے کنور بھائی صہباؔ، لالہ شوناتھ سہائے رونقؔ اور پرنو چندر ماہؔ جیسے باذوق افراد انیسویں صدی میں خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے ممتاز شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.