Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    عہدِ رفتہ میں بہار کی خانقاہوں کے سجادگان و مشائخ نے اپنی زندگی کے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی، اس دور میں جب اطلاعات اور ذرائعِ ابلاغ آج کی طرح برق رفتار نہ تھے تب ہمارے اسلاف نے خدمتِ خلق اور اصلاحِ احوال کے ذریعے بے شمار دلوں کو روشن کیا، انہوں نے نام و نمود اور عیش و عشرت سے کنارہ کش رہ کر ہر آنے والے کو تسکینِ قلب پہنچانے کو اپنا شعار بنایا، انہی بزرگوں میں خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے سجادہ نشیں حضرت مولانا شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی بھی تھے جن کی زندگی فقر و تصوف کی عملی تصویر تھی، آپ نے بلا امتیازِ مذہب و ملت بندگانِ خدا کی خدمت کی، آج بھی آپ کی صحبت اور سلوک کے واقعات لوگوں کو اپنے بچپن سے یاد ہیں جن سے آپ کی اصول پسندی اور پابندیِ وقت کا اندازہ ہوتا ہے، موسم سرد ہو یا گرم آپ اپنی زندگی قرآن و حدیث کے مطابق گزارتے تھے، تہجد کے لیے وقت پر بیدار ہوتے اور گھڑی کے محتاج نہ تھے، جائے نماز اور مسواک ساتھ رکھتے، خود وضو کرتے اور دوسروں کے لیے بھی پانی کا انتظام کرتے، خانقاہ میں لوگوں کی کثرت کے باوجود کنویں سے پانی نکال کر بالٹیاں بھر کر رکھتے تاکہ کسی آنے والے کو زحمت نہ ہو، ہر شخص کی سہولت کا خیال رکھنا آپ کے معمولات میں شامل تھا، دنیا میں رہتے ہوئے بھی آپ دنیاوی جاہ و حشمت سے بے نیاز تھے، بقول نظیرؔ اکبرآبادی

    کس کو کہیے نیک اور ٹھہرائیے کس کو برا

    غور سے دیکھا تو سب اپنے ہی بھائی بند ہیں

    شاہ صاحب دکھاوے اور فضول خرچی سے دور تھے، بغل میں دو جوڑی کپڑے رکھ کر بھی سفر کرلیتے، حالاں کہ سفر کا سامان موجود ہوتا، دسترخوان پر جو میسر آتا اسے نعمت سمجھ کر تناول فرماتے اور اپنی خواہشات کا اظہار کبھی نہیں کرتے تھے، وہ اپنے عہد کے نابغۂ روزگار تھے، طریقت کے بلند مقام پر فائز ہونے کے باوجود دنیاوی جاہ و منزلت سے بے نیاز، بندگانِ خدا پر اس قدر اعتماد کرتے کہ جو کوئی کچھ کہتا اسے تسلیم کرلیتے، وہ اپنے زمانے میں رہتے ہوئے بھی گویا اپنے زمانے سے الگ تھے بلکہ یوں کہیے کہ

    جن لوگوں میں رہتا ہوں میں ان میں سے نہیں ہوں

    ہوں کون مجھے اپنا زمانہ نہیں ملتا

    شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی کی پیدائش ۴ شعبان المعظم بروز چہار شنبہ ۱۳۴۷ھ، موافق ۱۶ جنوری ۱۹۲۹ء کو شاہ ٹولی، داناپور میں ہوئی، آپ اپنے والد حضرت شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی کے دوسرے فرزند تھے، آپ کا نام آپ کے دادا حضرت شاہ محسن داناپوری نے محفوظ اللہ رکھا، اپنے والد کی اولاد میں آپ بڑے دیندار، متقی، پرہیزگار، نیک سیرت اور خلوت پسند تھے۔

    حضرت شاہ ظفر سجاد کی پہلی اہلیہ سے سات اولادیں تولد ہوئیں جن کی ترتیب یہ ہے محفوظ اللہ، خالد امام، جہاں گیرہ خاتون، محکوم اللہ، نوراللہ اور محمد حسین، ان میں سے چار صاحبزادے کم سنی میں وفات پاگئے، یہی وجہ تھی کہ آپ کی پرورش و پرداخت بڑے ناز و نعم میں ہوئی، آپ کا بچپن اپنے دادا حضرت محسن کی آغوش میں گزرا جہاں آپ نے ان کی صحبت بھی پائی اور ان کے فیوض و برکات سے بھی مستفید ہوئے۔

    سمجھ میں صاف آ جائے فصاحت اس کو کہتے ہیں

    اثر ہو سننے والے پر بلاغت اس کو کہتے ہیں

    (اکبر الہ آبادی)

    شاہ صاحب کا دادیہال اور نانیہال دونوں بہار کے معروف گھرانوں میں شمار ہوتا تھا، پدری سلسلہ حضرت شاہ اکبر داناپوری سے ہوتا ہوا مخدوم عبدالعزیز بن امام محمد تاج فقیہ تک پہنچتا ہے، جبکہ نانیہال حضرت حسن دائم بلخی بن حسین بلخی نوشۂ توحید سے جاملتا ہے، یہ خاندان علم و فضل کے لیے بہار میں ممتاز رہا ہے۔

    آپ کے نانا غلام حسنین بلخی بن حکیم ابوالحسن بلخی عمدہ مزاج اور روشن خیال انسان تھے، ان کی زمینداری عوام میں مشہور تھی اور سخاوت و فیاضی بھی ان کے اوصاف میں شامل تھی، جو شخص آتا اسے کچھ دے کر واپس کرتے، عقدِ مناکحت کے بعد اکثر پھلواری شریف کے سیدانہ محلہ میں مقیم ہوئے، کثیر مال و متاع سے نوازے جانے کے باوجود دینی معاملات میں ہمیشہ کوشاں و سرگرداں رہتے، ۲۲ شوال المکرم بروز جمعہ ۱۳۴۱ھ کو پھلواری شریف میں انتقال کیا۔

    شاہ صاحب کا مادری نسب کچھ اس طرح ہے۔

    محفوظ اللہ بن میمونہ خاتون بنت غلام حسنین بلخی بن ابوالحسن بلخی بن ابراہیم حسین بلخی بن کفایت حسین بلخی بن مخدوم بخش بلخی بن غلام مظفر بلخی بن برہان الدین بلخی بن نور محمد بلخی بن دولت بلخی بن فریدالدین بلخی بن جیون بلخی بن حافظ بلخی بن ابراہیم سلطان بلخی بن احمد بلخی بن حسن دائم بلخی بن حسین بلخی نوشۂ توحید بن معزالدین بلخی بن شمس الدین بلخی بن علی بلخی بن حمیدالدین بلخی بن سراج الدین بلخی بن محمود بلخی بن ابراہیم ادھم بلخی بن سلیمان بلخی بن ناصرالدین بلخی بن یعقوب بلخی اسحٰق بلخی بن زید بلخی بن محمد قاسم بن علی اصغر بن زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ۔ (تحقیقات المعانی، سفینہ شاہ تقی حسن بلخی)

    شاہ محفوظ اللہ شروع ہی سے نیک سیرت اور پُرمزاج تھے، عمر کے ساتھ ساتھ اخلاق کا دائرہ بھی وسیع ہوتا گیا، ابتدائی عمر میں طبیعت اکثر علیل رہتی، اس لیے خاندان کے افراد کو فکر رہتی، خانوادے کی معزز شخصیات میں خصوصاً اپنے دادا حضرت محسن کی طرف آپ کا میلان بہت زیادہ تھا، جب ہوش سنبھالا تو خود کو انہی کی آغوشِ محبت میں پایا اور عہدِ طفولیت کا بیشتر وقت ان کی صحبت میں گزارا، کم سنی ہی سے قلتِ کلام، قلتِ منام اور قلتِ طعام پر عمل رہا، پاکیزہ صحبت نے فطری طور پر آپ کو کم عمری ہی سے نماز و وظائف کا پابند بنا دیا، یہاں تک کہ فرائض کے علاوہ سنن و نوافل بھی ترک نہ کرتے۔

    حکیم شاہ علیم الدین بلخی کا بیان ہے کہ

    ’’جب ہم خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور آتے تھے تو شام کے وقت میں میں اکثر بچوں کو کھیلتا ہوا پاتا مگر جب آذان کا وقت ہوتا تو حضرت شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی فوراً جانب مسجد ہوتے، میں نے آج تک ان کو زیادہ باتیں کرتا نہیں دیکھا، ہمیشہ بچپن سے خاموش مزاج رہے، نماز و تقویٰ کے بالکل عادی رہے‘‘

    تربیت کے ساتھ ساتھ آپ میں مختلف خصوصیات نمایاں ہونے لگیں، کم عمری ہی سے آپ کی زبان میں تاثیر تھی، شاہ منہاج الدین حسین ابوالعلائی کا بیان ہے کہ

    ’’ایک مرتبہ ہم دونوں بزمانۂ طفولیت آٹا پسوانے کی خاطر بازار کی جانب گئے اور دوکان میں بھیڑ کی وجہ کر صف میں بترتیب کھڑے ہوگئے، لہٰذا ہمارا نمبر جب آیا تو اتفاقِ وقت دوکان دار نے کم سن پاکر چند لمحے کے لیے ہمیں بٹھا دیا اور کہا کہ ابھی چند افراد باقی ہیں پھر تمہارا نمبر آوے گا، آپ کو غصہ آیا اور سخت لہجے میں یہ کہہ کر باہر آگئے کہ اب یہ چکی کبھی نہ چلے گی، اسی وقت زبان ارشاد سے موزوں ہوا اور چکی کا پٹہ دو ٹکرے ہوا، لہٰذا پھر کبھی وہ دوکان درست نہ ہوسکی‘‘

    آپ شروع ہی سے صاف گو تھے اور بندگانِ خدا کا خاص خیال رکھتے تھے، اگر کوئی آپ سے زبردستی بھی کرتا تو آپ اس کے ساتھ حسنِ اخلاق ہی سے پیش آتے۔

    شاہ محفوظ اللہ کی ابتدائی تعلیم اپنے دادا اور والد کی صحبت میں ہوئی، مزید تعلیم مدرسہ نعمانیہ حنفیہ، داناپور کے اساتذہ سے حاصل کی، صرف و نحو کی کتابیں مولانا مسعود حسن ابوالعلائی منظر کاکوی سے پڑھیں، حدیث و تفسیر اپنے والد سے حاصل کی اور عصری تعلیم عبدالعزیز ابوالعلائی داناپوری سے حاصل کی، مثنوی مولانا روم اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی کی تصانیف کا مطالعہ بھی بچپن میں خوب رہا، آپ نے علم سے زیادہ عمل کو ترجیح دی، بقول اشفاق احمد

    ڈگریاں دراصل تعلیمی اخراجات کی رسیدیں ہوتی ہیں ورنہ علم تو وہ ہے جو عمل سے ظاہر ہو

    شاہ صاحب زندگی کے اکثر و بیشتر حصوں میں اخلاص اور عمل کی تعلیم دیتے تھے، خاصانِ خدا کے فرمودات کے دلدادہ تھے اور فرماتے تھے کہ

    انسان کو علم سے زیادہ عمل کو ترجیح دینا چاہیے

    ظاہری علم سے فراغت کے بعد باطنی علم کی طرف متوجہ ہوئے، اپنے والد حضرت ظفر سجاد کی صحبت میں مجاہدۂ نفس کیا اور انہوں نے آپ کو سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعلائیہ میں بیعت کیا، تلقینِ طریقت فرمائی، رشد و ہدایت کے لیے منتخب فرمایا، کل اجازت و خلافت دی اور اپنا نائب منتخب کیا۔

    اس سلسلے میں دعوتِ عرس کی تحریر بھی ملاحظہ کیجیے، جس سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ حضرت ظفر سجاد نے اپنی زندگی ہی میں آپ کو اپنی جانشینی سونپ دی تھی، حضرت ظفر سجاد رقمطراز ہیں کہ

    ’’اربابِ طریقت و عزیزانِ باہمت کی خدمات میں بعد سلام مسنون کہ التماس ہے کہ شیخ الکاملین ارشدالسالکین جدامجد حاجی سید شاہ محمد اکبر ابوالعلائی دانشمند قدس سرہ کے عرس شریف کی شرکت سے ممنون فرمائیں، اسی موقع پر نورِ چشم سید محفوظ اللہ سلمہ کی دستار بندی کی درویشانہ رسم بھی انجام پائے گی، کیوں کہ خرابیٔ صحت کی بنا پر میں بہتری خدمات کو انجام دینے سے معذور ہوں اس لیے وہ میری قائم مقامی کرسکیں اور میرے بعد اموراتِ سجادگی کو بھی سنبھال سکیں، التجا ہے کہ اس رسم میں بھی شرکت فرما کر مجھے ممنون بنائیں، ۱۵ رجب ۱۳۷۸ھ روز اتوار ۲۵ جنوری ۱۹۵۹ ؁ء ۹ بجے صبح دستار بندی

    سلسلے کے فروغ کے ساتھ آپ نے مختلف مقامات پر تبلیغِ دین کے لیے قیام کیا، ایثار و قربانی، مجاہدہ و فقر، ترکِ دنیا اور خوفِ خدا آپ کی زندگی کے نمایاں پہلو رہے، اوراد و وظائف کا شوق بچپن سے تھا اور آخری عمر تک اس معمول میں ناغہ نہیں ہوا، دن کا ایک گھنٹہ اوراد و وظائف کے لیے مخصوص تھا، حضرت سیدنا امیر ابوالعلا سے آپ کو والہانہ عشق تھا اور ہر ماہ کی ۹ تاریخ کو ان ارواحِ متبرکہ کو یاد کرتے اور سلام و نیاز کا اہتمام کرتے تھے۔

    اپنے والد کی رحلت کے بعد فاتحۂ چہلم کے موقع پر مؤرخہ ۷ شعبان العظم بروز سہ شنبہ ۱۳۹۴ھ موافق ۲۷ اگست ۱۹۷۴ء کو خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور میں سجادگی کی رسم ادا کی گئی، اس موقع پر بہار، جھارکھنڈ اور اتر پردیش کے علما و مشائخ و سجادگانِ ذیشان نیز اصحابِ علم و دانش شریک ہوئے، اس طرح آپ داناپور، کشن گنج اور آگرہ کی آبائی گدی کے سجادہ نشیں منتخب ہوئے، شاہ صاحب کے مریدین و معتقدین بھارت کے مختلف ریاست خاص طور سے بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں کثرت سے پھیلے ہوئے تھے، ان میں چند اشخاص کو آپ نے اجازت و خلافت سے بھی نوازا تھا جن میں حضرت شاہ ابو محمد ابوالعلائی، حضرت شاہ نصر سجاد ابوالعلائی، حافظ محمد علی اکبرآبادی، شیخ حسنو ابوالعلائی اکبرآبادی اور شیخ ظفر خاں اکبرآبادی وغیرہ سر فہرست ہیں، شاہ صاحب کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے شاہ ابو محمد ابوالعلائی للن میاں جانشیں ہوئے۔

    چنانچہ اس سلسلے میں رفیع الدین ابوالعلائی اکبرآبادی رقمطراز ہیں کہ

    ’’حضرت میر سید دوست محمد دکنی کے مشہور خلیفہ شاہ محمد فرہاد ان کے خلیفہ شاہ برہان الدین ان کے خلیفہ شاہ رکن الدین عشقؔ ان کے خلیفہ شاہ ابوالبرکات ان کے خلیفہ شاہ قمرالدین حسین ان کے خلیفہ شاہ محمد قاسم ان کے خلیفہ شاہ کو سجاد ان کے خلیفہ شاہ محمد اکبر دانشمند ان کے خلیفہ و سجادہ نشیں شاہ محمد محسن ان کے سجادہ نشیں شاہ ظفر سجاد ان کے سجادہ نشیں محفوظ میاں ہیں جو اس وقت بحمداللہ موجود ہیں ‘‘ (انوارِ ابوالعلائیہ، ص۱۲، کراچی)

    شاہ صاحب کے عادات و اطوار نہایت صوفیانہ تھے، قلتِ کلام آپ کا شیوہ تھا اور تابع داری، بندگی و فرماں برداری آپ کی فطرت میں داخل تھی، تاحیات نہ قیمتی لباس کی تمنا کی، نہ عیش و آرام کی فکر اور نہ عمدہ غذا کی خواہش، حالاں کہ ایسی کوئی تنگی نہ تھی کہ چیز دستیاب نہ ہو، جو پوشاک یا جوتا میسر ہوتا، اسی میں مطمئن رہتے، شدید گرمی میں بھی بجلی کے پنکھے کا احساس نہ کرتے اور اپنے حجرے میں زمین پر ہزارہ تسبیح لیے بیٹھے رہتے، کئی چلے صرف بیسن کی روٹی پر گزارے، سخت سردی میں بھی آخری شب میں وظیفہ میں مشغول رہتے، شاہ خالد امام ابوالعلائی رقمطراز ہیں کہ

    ’’میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ تاحیات بالکل سادہ زندگی بسر کی، کبھی قیمتی لباس کی نہ تمنا کیا نہ عیش و آرام کی فکر اور نہ اچھی غذا کی خواہش، حالں کہ ایسی بات نہ تھی کہ تنگی یا کوئی چیز دستیاب نہ تھی، جیسی پوشاک یا جیسا جوتا ہو ہر حال میں مست، شدید گرمی میں بھی کبھی بجلی پنکھے تک کا احساس نہیں، چھوٹے سے اپنے حجرہ میں زمین پر ہزارہ تسبیح لیے بیٹھے ہیں، وہ نقشہ بھی میں نے دیکھا ہے جب کئی چلہ صرف بیسن کی روٹی پر گزرا ہے، سخت سردی کے موسم میں آخری شب میں وظیفہ میں نظر آ رہے ہیں، بچپن سے کھیل کود اور لہو لعب سے دور، میرا اعتقاد ہے کہ وہ عملی طور پر صوفی صافی درویش صفت انسان تھے، اکثر و بیشتر جذب میں ٹہلتے رہتے (خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کا تاریخی پسِ منظر، ص۴۲)

    وہ اپنے نظام اور اصول کے سخت پابند تھے، وقت کا لحاظ رکھتے، ارادے میں پختہ اور مستقل مزاج تھے، پاپیادہ چلنے کے شوقین تھے اور سفر میں بھی سادگی اختیار کرتے، فرشِ خاک پر سونا پسند کرتے اور تکیہ استعمال نہ کرتے، سفر کے لیے سواری کا اہتمام نہ کرتے، حالاں کہ معتقدین سواری لیے کھڑے رہتے، تقریبات میں بھی اسی حالت اور پوشاک میں شریک ہوتے، آپ کی زبان میں تاثیر تھی اور مختصر کلام کو پسند کرتے تھے، زندگی کے معاملات میں اعتدال اختیار کرتے اور ظاہری عیش و عشرت سے گریز کرتے، بندگانِ خدا کی دلجوئی کرتے اور حرص و ہوس سے دور رہتے، فرماتے تھے کہ

    ’’انسان کی قدر و قیمت اس کے عمدہ پوشاک سے نہیں بلکہ عمدہ اخلاق سے ہوتی ہے‘‘

    اور احمد بن حنبل کے اس قول پر پورا عمل کرتے تھے کہ

    ’’میں نے انسانوں کو راضی رکھنے کی فکر چھوڑ دی، تب کہیں جا کر میں حق بولنے پر قادر ہوا‘‘

    مخلوقِ خدا پر اعتماد کرنا بھی آپ کا شیوہ تھا، خانقاہ کے وضوخانے کا لوٹا روزانہ خود بھر کر رکھتے اور اسے خدمتِ خلق قرار دیتے، کسی پر ملامت کا اظہار نہ کرتے بلکہ لوگوں کی اصلاح کرتے، سنتِ رسول پر عمل کرتے اور صبح کی سفیدی نمودار ہونے سے قبل مصلا پر پہنچ جاتے، چھوٹے بڑے سب کو یکساں نظر سے دیکھتے تھے، نماز، اوراد و وظائف کا کثرت سے اہتمام کرتے، بعد نمازِ عصر خاموشی اختیار کرتے اور انگلیوں پر تسبیح پڑھتے، صالحین کے اعراسِ مقدسہ میں شرکت بھی معمول کا حصہ تھی، اپنی مجلس میں لوگوں کی اصلاح کرتے اور ان کے سوالات کا تشفی بخش جواب دیتے، خوشی کے وقت لبوں کی مسکراہٹ اور جلال کے وقت ان کی کیفیت نمایاں ہوتی، اپنا کام خود انجام دیتے، مال و متاع اور عروج و اعتلا کی فکر نہ کرتے جو نقد ہوتا اسے خدا کی راہ میں صرف کرتے، بیماروں کی عیادت، رشتہ داروں سے ملاقات، بیواؤں اور یتیموں کی امداد و دل جوئی آپ کے پسندیدہ اعمال میں تھے، تاہم انہیں نام و نمود کے لیے انجام نہ دیتے بلکہ حتی الامکان پوشیدہ رکھتے، آپ روزانہ صرف دو وقت کا کھانا تناول فرماتے اور کہتے تھے کہ

    ’’سالک کو چاہیے کہ قلتِ طعام پر عمل کرے، حضراتِ قدسیہ نے صرف دو ہی روٹی کا اہتمام کیا ہے‘‘

    ہمیشہ اپنی جھولی میں خشک روٹی رکھتے، بندگانِ خدا آپ کے اخلاق کی وجہ سے آپ کو مختلف فرحت بخش القابات سے یاد کرتے تھے، ظاہری دنیاوی نعمتوں سے دور رہتے اور اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچنے دیتے۔

    شاہ صاحب کی شکل و صورت بڑی وجیہ و شکیل تھی، آنکھیں بڑی اور سیاہ، پیشانی کشادہ، روئے منور عرفانی و جمالی، داڑھی گھنی اور رخسار پر بھری ہوئی تھی، ناک بڑی اور کھڑی تھی، قد لمبا اور جسم درمیانی تھا، آخرِ عمر میں ابرص کی بیماری نے جکڑ لیا تھا، چوگشیہ ٹوپی پسند کرتے، تاہم دوپلہ کلاہ کو زیادہ ترجیح دیتے، شانے پر بڑا رومال رہتا اور سفید پوشاک پسند کرتے، ہلکا جوتا پہنتے اور مجلس میں انگرکھے کا استعمال کرتے، موسم سرد ہو یا گرم متوسط پوشاک اختیار کرتے اور نفیس و عمدہ لباس سے گریز کرتے، فقیرانہ پوشاک کے عادی تھے اور اکثر پھٹے پرانے کپڑے ہی زیبِ تن کرتے۔

    شاہ صاحب نے چلہ بھی خوب کیا، کئی چلے بیسن کی روٹی پر کیے، آپ کا زیادہ تر چلہ درگاہ حضرت عبداللہ احراری، حضرت سیدنا امیر ابوالعلا اور حضرت مخدوم محمد سجاد پاک پر ہوتا، اس کے علاوہ حضرت سبحان علی (بھنڈ)، حضرت رسول بخش (کشن گنج)، حضرت شاہ محمد اجمل (الہ آباد)، حضرت مخدوم منعم پاک (پٹنہ) اور خواجہ رکن الدین عشقؔ (پٹنہ) سے بھی آپ کو نسبت و قربت اور فیضِ اویسی حاصل رہی، سال میں دو تین مرتبہ ان آستانوں پر پابندی سے حاضر ہوتے تھے، حضرت سیدنا امیر ابوالعلا سے آپ کو جو عشق تھا وہ بیان نہیں کیا جاسکتا۔

    شاہ صاحب کے اندر تصنیف و تالیف کا شوق بھی موجود تھا، ان کے سفینے دیکھنے سے صاحبِ ذوق و فہم ہونے کا اندازہ ہوتا ہے، ۱۹۷۲ء میں ’’حالات حضرت شاہ اکبر داناپوری‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر رسالہ مطبع اسرارِ کریمی، الہ آباد اور بزم خدام ابوالعلائی، الہ آباد نے مشترکہ طور پر شائع کیا، اس کی دوسری اشاعت ۲۰۱۷ء میں خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ سے جدید رنگ و آہنگ کے ساتھ ہوئی۔

    شاہ صاحب معمولات کے سخت پابند تھے، نصف شب کے بعد بیدار ہوتے، وضو کرکے تہجد پڑھتے اور مصلا پر بیٹھ جاتے، یہاں تک کہ فجر کا وقت قریب آجاتا، نماز کے بعد وظیفے میں مشغول رہتے، بعد نمازِ اشراق آرام کے لیے بستر پر تشریف لے جاتے، کچھ وقفہ تعویذ لکھنے اور کچھ وقت لوگوں کی پریشانیاں سننے میں صرف کرتے، ہر وقت باوضو رہتے اور فرماتے کہ

    ’’سالک کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ باوضو رہے اس سے خیالات میں پاکیزگی آتی ہے‘‘

    بعد نمازِ عصر کسی سے کلام نہ کرتے اور ایک مخصوص وظیفے کا ورد کرتے، مغرب کے بعد عشا تک وظیفے میں مشغول رہتے اور اس دوران کبھی کبھی ارشاد فرماتے کہ

    دنیا بے ثبات ہے اس سے زیادہ محبت نہیں کرنی چاہیے

    صوفی کے لیے تہجد پڑھنا ضروری ہے

    کفن میں جیب نہیں ہوتا، لالچ سے بچو

    یہ ارشادات آج بھی لوگوں کو یاد ہیں۔

    شاہ صاحب کا عقد ۲؍ رجب المرجب ۱۳۰۹ھ موافق ۵ مئی ۱۹۵۰ء روزِ دوشنبہ مولانا عبدالرشید قادری کی صاحبزادی حمیرا خاتون سے ہوا، ان سے چار صاحبزادے شاہ ابو محمد، ڈاکٹر شاہ ابو طاہر، شاہ تراب الحق اور شاہ سیف اللہ اور دو صاحبزادیاں ہوئیں، بڑی صاحبزادی شاہین بانو کی نسبت محمد کلیم اللہ بن کریم اللہ (مظفر پور) سے ہوئی، جب کہ چھوٹی صاحبزادی کم سنی ہی میں وفات پا گئیں، شاہ صاحب کی اولاد خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ میں آباد ہے، مولانا عبدالرشید حکیم سعیدالقادری کے صاحبزادے، عبدالمجید ہلسوی کے داماد، مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے شاگرد اور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ کے مدرسین میں سے تھے۔

    شاہ صاحب کے عقد کے موقع پر ان کے چھوٹے بھائی شاہ خالد امام کی طرف سے سہرا ملاحظہ ہو۔

    معطر ہے مشامِ دوستاں سہرے کی دنیا میں

    کھلا ہے ایک تازہ گلستاں سہرے کی دنیا میں

    یہ بزم آرائی محسن کا اک اعجاز ہے گویا

    زمیں بھی بن گئی ہے آسماں سہرے کی دنیا میں

    ہو تم محفوظ خود اور اس پہ آغوشِ ظفر بھی ہے

    پھر آخر کیوں نہ ہو تم کامراں سہرے کی دنیا میں

    دعائے قاسم و سجاد و فیضِ محسن و اکبر

    تمہارے واسطے بے پاسباں سہرے کی دنیا میں

    گندھی ہیں اس میں جو کلیاں وہ باغِ بوالعلا کی ہیں

    تو شامل ہے دعائے خواجگاں سہرے کی دنیا میں

    جمیل آئیں بلائیں لیں عزیز آئیں دعائیں دیں

    وہی تو ہیں تمہارے میزباں سہرے کی دنیا میں

    سعادت ان کا حصہ ہے جو گزرے کامیابی سے

    کہ ہر لمحہ ہے تازہ امتحاں سہرے کی دنیا میں

    یہاں کی آزمائش کا مجھے اعلان لازم ہے

    قدم رکھنا سنبھل کر بھائی جاں سہرے کی دنیا میں

    خضر نے زندگی جاوداں ظلمات سے پائی

    تو ملتا ہے شباب جاوداں سہرے کی دنیا میں

    امیدیں آرزوئیں کیف و مستی شوق و بے تابی

    روا ہیں کارواں در کارواں سہرے کی دنیا میں

    خدائے شادمانی سے دعا خالدؔ کی ہے ہر دم

    کہ تم دونوں کو رکھے شادماں سہرے کی دنیا میں

    آخر وقت میں آپ جمادی الثانی میں داناپور سے آگرہ تشریف لے گئے اور حجرۂ اکبری میں مقیم تھے کہ ایک دن مسجد کی سیڑھی سے گر کر شدید طور پر مجروح ہوگئے، وہاں متوسلین نے فوراً ڈاکٹروں سے رجوع کیا اور آپ کو پٹنہ لایا گیا، ہر ممکن تدبیر کی گئی لیکن بے سود ثابت ہوئی، ہسپتال میں جو شخص آتا اسے پہچان لیتے اور کبھی سلام و کلام بھی کرلیتے، شاہ خالد امام ابوالعلائی لکھتے ہیں کہ

    مجھ سے نام لے کر کہنے لگے کہ دیکھو مجھے وضو کے لیے کوئی پانی نہیں دے رہا ہے، تم وضو کرا دو، عصر کی نماز پڑھنا ہے اور داناپور جانا ہے، رجب کا عرس قریب ہے جب کہ وہ پٹنہ میں ہیں، جسمانی حالت ایسی نہ تھی کہ وضو کرایا جائے، میں نے عرض کیا کہ تیمم کرا دے رہا ہوں پھر میں تیمم کرا دیا اور کہا کہ لیجیے اب آپ عصر پڑھ لیجیے، جب کہ صبح کا وقت تھا، پھر کہا کہ چلو داناپور چلنا ہے، رجب کا عرس قریب ہے، مجھے خوب یاد ہے، کون جانتا تھا کہ آپ جلد ہی جدا ہونے والے ہیں، ایک رات میرے منجھلے لڑکے ریحان خالد سلمہ سے جو شب میں ان کے پاس تھے کہنے لگے کہ چار آدمی آ رہے ہیں، صبح میں تم آ جانا اور پھر وہی ہوا، مؤرخہ ۵ رجب ۱۴۱۸ھ، مطابق ۶ نومبر ۱۹۹۶ء کو فجر کے وقت ہم سب کو سوگوار چھوڑ گئے (خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کا تاریخی پس منظر، ص۴۴)

    کبھی ان کا نام لینا کبھی ان کی بات کرنا

    مرا ذوق ان کی چاہت مرا شوق ان پہ مرنا

    (نصیرالدین نصیرؔ)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے