خاندانِ بلخیہ کی ایک ممتاز شاخ کا تذکرہ
حضرت مخدوم حسین بلخی جنہیں ’’نشۂ توحید‘‘ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے، بہار میں آپ کا خاندان خوب پھلا پھولا، یہ خاندان علم و حکمت، رشد و ہدایت کے لیے ہمیشہ نمایاں رہا ہے، آج یہ خاندان بہار سے نکل کر مختلف خطوں میں آباد ہے، مجھے محسوس ہوا کہ اس خاندان کی ایک شاخ کا تذکرہ نہایت ضروری ہے، اس لیے اسے قلم بند کر دیتا ہوں تاکہ بلخیوں کی اس شاخ کا تذکرہ محفوظ ہو جائے، ابتدائی دور میں یہ خاندان علم و حکمت کے لیے بہار میں معروف تھا، اس خاندان کو حضرت مخدوم جہاں سے شرفِ نیاز حاصل ہے، خانوادۂ بلخیہ نے اپنی ظاہری تقدس، علم و آگہی سے برصغیر میں اپنی چھاپ چھوڑی ہے، حضرت مخدوم کی رحلت کے بعد حضرت مظفر بلخی جانشینِ مخدوم ہوئے اور چند برسوں بعد عدن جا کر مدفون ہوئے، آپ کے بعد آپ کے برادرزادے حضرت حسین بلخی جنہیں حضرت مخدوم سے شرفِ بیعت و اجازت اور سجادۂ مخدوم پر جلوہ نشیں ہونے کا کمال حاصل تھا، آستانۂ منورہ سے مغرب جانب آرام فرما کر مرجعِ خلائق ہوئے، یکے بعد دیگرے چار پشت یعنی حضرت حسن دائم جشن بلخی بن حسین بلخی، حضرت احمد بلخی لنگر دریا بن حسن دائم، حضرت ابراہیم سلطان بلخی بن احمد بلخی خانقاہ معظم کے سجادہ نشیں ہوئے۔
حضرت ابراہیم سلطان بلخی کے صاحبزادے حافظ درویش بلخی کنارہ کش ہوکر موضع بیور منتقل ہوگئے اور وہیں رشد و ہدایت کا سلسلہ قائم کیا، آپ کی اولاد اس علاقے میں خوب پھلی پھولی، گیارہویں صدی ہجری میں اس خانوادے کے عالی مرتبت بزرگ حضرت برہان الدین بلخی فتوحہ میں قیام پذیر ہوئے، آپ عہدِ عالم گیری میں بہار کے ممتاز علما میں شمار ہوتے تھے، سالِ رحلت ۱۰۹۴ھ ہے، آپ کا نسب حافظ درویش بلخی تک یوں منتہی ہوتا ہے۔
برہان الدین بلخی بن علیم الدین بلخی (اول) بن نور محمد بلخی بن دیوان دولت بلخی بن فریدالدین بلخی بن جیون بلخی بن حافظ درویش بلخی بن ابراہیم سلطان بلخی یک از اولاد حضرت مخدوم حسین بلخی نوشۂ توحید۔
برہان الدین بلخی کے دو صاحبزادے غلام معز بلخی اور غلام مظفر بلخی ہوئے، غلام معز بلخی کے فرزندِ ارجمند حضرت تقی بلخی (اول) تھے جنہوں نے سلسلۂ فردوسیہ کی نشوونما کی خاطر فتوحہ میں خانقاہ بلخیہ کی بنیاد رکھی، اردو ادب میں آپ کی خدمات قابلِ قدر ہیں، اپنی لیاقت و صلاحیت سے بہت جلد علم و عمل کے ساتھ سلوک کی منزل طے فرمائی، خانقاہ بلخیہ کے سجادگان آپ ہی کی اولاد میں سے ہیں، اب اس وقت حکیم غلام مظفرالدین بلخی سجادہ نشیں ہیں، آپ کا نسب حضرت تقی بلخی (اول) سے یوں ہے۔
حکیم غلام مظفرالدین بلخی بن علیم الدین بلخی (دوم) بن تقی حسن بلخی بن غلام شرف الدین بلخی بن غلام مظفر الدین بلخی بن علیم الدین بلخی (دوم) بن تقی بلخی (اول)۔
غلام مظفر بلخی بن برہان الدین بلخی متحمل اور بردبار شخصیت کے مالک تھے، آپ عدل پور (پٹنہ) میں مدفون ہوئے، آپ کے صاحبزادے مخدوم بخش بلخی اپنے وقت کے مشہور رئیس گزرے ہیں، آپ کی شہرت شہر کے اطراف و اکناف میں خوب رہی، ظاہری عیش و عشرت کے باوجود دینی معاملات میں کوئی کمی نہیں کرتے بلکہ پیش قدمی کیا کرتے تھے، زندگی کی آخری بہار تک موضع عدل پور ہی کو پسند کرتے رہے، تصنیف و تالیف اور خط و کتابت کا ذوق بھی رکھتے تھے، آپ کے حکم کے مطابق مخدوم حسین بلخی کے ملفوظات مونس القلوب کا ایک نسخہ کاتب الٰہی بخش انصاری (موضع غیاث پور، رائے پورہ) نے عدل پور میں مقیم ہوکر 22 محرم الحرام 1248ھ میں اس کی کتابت مکمل کی ہے، کل صفحات ۵۱۵ ہیں، کیفیت کچھ اس طرح ہے مرقوم ہے کہ
ہذا الکتاب بعون الملک الرب مسمیٰ مونس القلوب از زبان و ملفوظ مخدوم قدوۃ العارفین، برہان العاشقین، مفخر بنی آدم من خلفائے ابراہیم ادب حضرت شیخ احمد بن شیخ حسن بن شیخ حسین المعروف بہ نوشۂ توحید بن شاہ معز شمس بلخی برادر شاہ مظفر قدس اللہ سرہما العزیز بتاریخ دوم شہر محرم الحرام 1241 فصلی روز دو شنبہ بوقت عصر بمقام عدل پور پرگنہ سریسا بموجب ارشاد حضرت شاہ مخدوم بخش صاحب قبلہ عالمیان رئیس الزماں بخط ناقص عاصی الٰہی بخش انصاری متوطن قدیم موضع رائے پورہ پرگنہ غیاث پور یکے از معتقدان قدیم از۔۔۔ آمدہ دہم ماہ شوال آغاز نوشتن کردہ بودم بعرصہ دو ماہ بست و دوم یوم تمام رسید فقط و در درقہائے جابجا کرم خوردہ بود لفظ معلوم نشد
آپ کے صاحبزادے کفایت حسین بلخی نے اپنے والد کے متروکات ہی سے مکمل زندگی بسر کی، آپ کا عقد موضع کسمر (سون پور، سارن) کے باشندہ قاضی غلام محی الدین کی دختر سراج النسا سے ہوا جن سے حکیم ابراہیم حسین بلخی تولد ہوئے، کفایت حسین بلخی ۱۲۸۴ھ میں دارِ فانی کی طرف کوچ کر گئے۔
حکیم ابراہیم حسین بلخی کا عقد پٹنہ کے موضع سملی نورالدین گنج میں بصیرالنسا سے ہوا، ان سے حکیم ابوالحسن بلخی اور دو صاحبزادیاں ہوئیں، پہلی بی بی امتوا (منسوب شاہ مبارک حسین، شیخ پورہ) اور دوسری بی بی کلثوم (منسوب غلام مظفر بلخی بن علیم الدین بلخی بن تقی بلخی)۔
حکیم ابوالحسن بلخی بن ابراہیم حسین بلخی (متوفیٰ ۱۳۰۰ھ) اپنے والد کے صورت و سیرت میں نمونۂ حیات تھے، والد کی طرزِ عمل پر آپ کا نکاح بھی موضع سملی کے محمد کلیم امیر کی صاحبزادی قمرالنسا سے ہوا، عقد کے بعد آپ نے زندگی موضع سملی میں گزاری، آپ بے تکلف، عمدہ پرور، خاموش طبیعت اور پاک فطرت کے مالک تھے، ابتدا ہی سے ذہین و فطین تھے اور ذوقِ علم کے ساتھ قوتِ برداشت و یادداشت بھی رکھتے تھے۔
آپ کو خط و کتابت کا ذوق تھا، بعض کتابیں آج بھی آپ کی نقل کردہ خانقاہ بلخیہ میں محفوظ ہیں جیسے اجوبۂ زاہدیہ، لطائف المعانی، رسالہ در ذکر وجود، در بیان ہشت چیز، در ہدایت حال، اقباس من کلام شیخ اکبر، رسالہ مرشدیہ، فائض البرکات، مظہر الاسرار، اسرار الصلوٰۃ، جواہر الانوار وغیرہ۔
حکیم ابوالحسن بلخی نے دو صاحبزادے غلام شرف الدین بلخی (زوجہ مجیدالنسا) اور غلام حسنین بلخی عرف کلو (زوجہ وصی النسا) اور ایک صاحبزادی عزیزالنسا (منسوب آل احمد بلخی بن غلام مظفر بلخی) کو چھوڑ کر عدل پور میں ۱۳۱۳ھ میں رحلت کی۔
غلام شرف الدین بلخی بن ابوالحسن بلخی کے صاحبزادے غلام معزالدین بلخی ہوئے اور ان کے حکیم معین الدین بلخی ہوئے، آپ کا عقد محی الدین بن جمال الدین بن تفضل حسین میر گنگو (ساکن اورنگ پور) کی صاحبزادی صالحہ خاتون سے ہوا۔
غلام حسنین بلخی بن ابوالحسن بلخی عمدہ مزاج اور روشن خیال انسان تھے، آپ کی زمینداری عوام میں مشہور تھی اور سخاوت و فیاضی بھی خوب شاملِ حال تھی، جو آتا اسے کچھ دے کر واپس کرتے، آپ کا عقد پھلواری شریف کے سیدانہ محلہ میں حضرت منہاج الدین راستی کی اولاد میں ارادت حسین عرف میر چمڑیا کی صاحبزادی وصی النسا سے ہوا، ان سے تین صاحبزادیاں ہوئیں۔
صالحہ خاتون (منسوب یوسف بلخی بن یعقوب بلخی بن غلام مظفرالدین بلخی)
میمونہ خاتون (منسوب شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی بن شاہ محسن داناپوری بن شاہ اکبر داناپوری)
مبارک خاتون (منسوب یوسف بلخی بن یعقوب بلخی بن غلام مظفرالدین بلخی)
عقدِ مناکحت کے بعد آپ سیدانہ محلہ میں مقیم ہوئے، خدا نے آپ کو کثیر مال و متاع سے نوازا تھا، دنیاوی راہ و رسم کے باوجود دینی معاملات میں ہمیشہ کوشاں و سرگرداں رہتے، ۲۲ شوال المکرم بروز جمعہ ۱۳۴۱ھ، موافق ۸ جون ۱۹۲۳ء کو پھلواری شریف میں انتقال کیا۔
آپ کا نسب کچھ اس طرح ہے۔
غلام حسنین بلخی بن ابوالحسن بلخی بن ابراہیم حسین بلخی بن کفایت حسین بلخی بن مخدوم بخش بلخی بن غلام مظفر بلخی بن برہان الدین بلخی بن علیم الدین بلخی (اول) بن نور محمد بلخی بن دیوان دولت بلخی بن فریدالدین بلخی بن جیون بلخی بن حافظ درویش بلخی بن ابراہیم سلطان بلخی بن احمد بلخی بن حسن دائم بلخی بن حسین بلخی نوشۂ توحید بن معزالدین بلخی بن شمس الدین بلخی بن علی بلخی بن حمیدالدین بلخی بن سراج الدین بلخی بن محمود بلخی بن ابراہیم ادھم بلخی بن سلیمان بلخی بن ناصرالدین بلخی بن یعقوب بلخی اسحٰق بلخی بن زید بلخی بن محمد قاسم بن علی اصغر بن زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ۔ (تحقیقات المعانی، سفینہ شاہ تقی حسن بلخی)
وصی النسا کا نسب آثاراتِ پھلواری شریف کے مؤلف نے یوں رقم کیا ہے کہ
وصی النساء بنت ارادت حسین بن نظام علی بن امام علی بن حسین علی بن معصوم بن معزالدین بن اعظم بن مربی بن جمال بن محمد برخوردار بن سعداللہ بن لعل محمد بن غلام جیلانی بن عارف بن معروف بن منہاج الدین راستی بن تاج الدین راستی بن عبدالرحمٰن بن عبدالکریم بن اسمعٰیل مشہدی بن مصطفیٰ بن حسن یکے از اولاد امام علی رضا بن امام موسیٰ رضا کاظم۔
غلام حسنین بلخی کی دوسری صاحبزادی میمونہ خاتون نیک سیرت اور عمدہ مزاج کی مالکہ تھیں، آپ کی پیدائش پر والد نے کئی اراضی ضرورت مندوں میں تقسیم کی تھیں، ایسے پاکیزہ خانوادے سے تعلق رکھنے کے باوجود آپ نے ہمیشہ فقیری کی راہ کو پسند کیا۔
آپ کا عقد خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ، داناپور کے سجادہ نشیں حضرت شاہ ظفر سجاد ابوالعلائی سے ہوا، یہ بزرگ حضرت شاہ اکبر داناپوری کے پوتے اور بہار میں اپنے وقت کے بڑے صوفی، صافی اور عالم گزرے ہیں، لوگوں کا بیان ہے کہ میمونہ خاتون نہایت نفیس اور عمدہ زندگی گزارتی تھیں، لباس میں طلائی بٹن استعمال کرتیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ راہِ فقر اختیار کرتی چلی گئیں، آپ معاشرتی اعتبار سے ایک کارآمد خاتون تھیں، ملنا جلنا، سلام و کلام آپ کا پسندیدہ شیوہ تھا، نیک مزاجی اور عمدہ خیال آپ نے وراثت میں پایا تھا اور خاندان کی عورتوں میں حسنِ اخلاق کے باعث ممتاز رہیں، صوم و صلوٰۃ کے علاوہ اوراد و وظائف سے بھی شغف رکھتی تھیں، روزانہ تلاوتِ کلامِ پاک کرتیں اور فاتحہ و درود کی پابند تھیں، شیخ عبدالقادر جیلانی سے خاص دلدادگی تھی۔
عقد کے بعد چار صاحبزادوں کے یکے بعد دیگرے رحلت کر جانے سے خاندان میں غم کی فضا قائم ہوئی مگر آپ نے صبر و رضا، تحمل و بردباری کا مظاہرہ کیا، خدا نے آپ کو گوناگوں خوبیوں سے نوازا تھا، آپ متقی و پرہیزگار ہونے کے ساتھ روشن خیال بھی تھیں، عقد کے چند ہی برس بعد اپنی پاکیزہ یادیں چھوڑ کر رحلت کر گئیں، تاریخِ رحلت ۲ شوال المکرم ۱۳۵۹ھ ہے، آپ شاہ ٹولی میں درگاہِ حضرت مخدوم سجاد کے احاطہ میں مدفون ہوئیں۔
آپ کے بطن سے تین اولادیں ہوئیں۔
شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی، شاہ خالد امام ابوالعلائی اور جہاں گیرہ خاتون (منسوب حکیم شاہ عزیز احمد ابوالعلائی)، دونوں صاحبزادوں شاہ محفوظ اللہ ابوالعلائی اور شاہ خالد امام ابوالعلائی کا خاندان شاہ ٹولی میں آباد ہے۔
اسی طرح یوسف بلخی بن یعقوب بلخی بن غلام مظفرالدین بلخی بن علیم الدین بلخی (دوم) بن تقی بلخی (اول) بن غلام معز بلخی بن برہان الدین بلخی کا عقد غلام حسنین بلخی کی بڑی صاحبزادی صالحہ خاتون سے ہوا جن سے ایک لڑکی شمسہ خاتون پیدا ہوئیں جو چند ماہ بعد فوت ہوگئیں، بعد ازاں صالحہ خاتون بھی انتقال کر گئیں، جس کے بعد آپ کا دوسرا عقد اپنی سالی مبارک خاتون سے ہوا ان سے کئی صاحبزادیاں متولد ہوئیں جن میں دو کے علاوہ سب کم سنی میں فوت ہوگئیں، بڑی قمرالنسا (منسوب عظیم الدین حیدر بن محی الدین بن جمال الدین بن تفضل حسین میر گنگو ساکن اورنگ پور) اور چھوٹی نبی فاطمہ بانو (منسوب حبیب اللہ) ہوئیں، اب یہ خاندان کراچی میں مقیم ہے۔
جاننا چاہیے کہ یوسف بلخی ۴ ربیع الاول ۱۳۱۱ھ موافق ۱۶ دسمبر ۱۸۹۳ء بروز شنبہ کو فتوحہ میں پیدا ہوتے ہیں، آپ کی پیدائش پر عبدالحسن شوقؔ (کسمر، سارن) نے عربی زبان میں ایک قطعۂ تاریخ لکھا کہ
شاہ یعقوب الذی اعطاہ رب العالمین
احسن المولود والدٌ سل نور فوق نور
قال بالطیب الفواد حامداً عبدالحسینؔ
ان تاریخ التولد جاء نعم الظہور
۱۳۱۱ھ
ابتدائی عمر ہی سے آپ ذہین و فطین تھے، بچپن کا کچھ عرصہ اپنے نانا عبدالوحید قادری (محی الدین پور) کے ساتھ گزرا جہاں تعلیمی سلسلہ شروع ہوا، علم سے گہرا شغف تھا اور دوسروں کو بھی اس کی طرف متوجہ کرتے، انگریزی زبان سے خصوصی دلچسپی تھی، اٹاوہ ہائی اسکول سے میٹرک پاس کیا اور کچھ ہی عرصے بعد پرائمری اسکول (فتوحہ) میں معلم ہوئے، آپ حسنِ اخلاق اور بلند طبیعت کے مالک تھے، گفتگو میں خاص اثر تھا اور رموز و حقائق اس انداز سے بیان کرتے کہ سامع حیرت و استجاب میں پڑ جاتا، انگریزی کے ساتھ اردو اور فارسی کے بھی دلدادہ تھے، مہمان نوازی آپ کا پسندیدہ عمل تھا، اپنے عہد کے ممتاز اور سرفراز لوگوں میں شمار ہوتے تھے، رحمانیہ ہوٹل (سبزی باغ) میں آپ کی سخاوت و فیاضی زبان زدِ عام تھی، لکھنے پڑھنے کا شوق بھی تھا اور خط و کتابت کیا کرتے، جس کی شناخت بعض رسائل سے ہوتی ہے، آپ کے والد یعقوب بلخی بھی کتابوں کا اعلیٰ شوق رکھتے تھے، ملفوظات التصفیہ اور رسالہ سماع آپ کے دستِ خاص کا لکھا ہوا موجود ہے، خانقاہی انداز و اطوار کا خاص خیال رکھتے تھے، انگرکھا اور دوپلہ کلاہ پسندیدہ لباس تھا، محفلِ سماع کے دلدادہ تھے اور سماع کے دوران آپ کی کیفیت پُرجوش ہوتی، آپ کو بیعت اپنے چچا حکیم غلام شرف الدین بلخی سے تھی، ۹ ذیقعدہ بروز جمعہ ۱۳۶۴ھ موافق ۱۹۴۵ء کو وفات پائی اور اپنے والد کے متصل رائے پورہ، فتوحہ کے عیدگاہ کے احاطہ میں مدفون ہوئے۔
یوسف بلخی کے اس شعر پر اب قصہ ختم کرتا ہوں کہ
نہ دو طول اشعار کو اپنے یوسفؔ
کہ زیادہ مناسب نہیں ژاد خواہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.