ذکر خیر حضرت مولانا عبدالمجید ابوالعُلائی افغانی
حضرت مولانا عبدالمجید ابوالعُلائی کا تعلق افغانستان کےسرحدی قبائل میں قبیلہ اُتمان خیل سےہے، یہ خیبرپختونخواکےضلع باجوڑمیںآتاہے،اُتمان خیل قوم پٹھانوں کا ایک مشہور قبیلہ ہے جس کی مردانگی اور بہادری رطب اللسان ہیں،ا س قوم کا بنیادی تعلق خراسان کےعلاقہ غورہ مورگہ بتایاگیاہےجوجہالت میں دیگر افغانی قابل سے زیادہ ممتاز ہے، آپ کے پردادا کا نام شاہ زرین تھا اوریہ خاندان اسی نام سے مشہور ہے۔
مولاناعبدالمجید۱۲۸۸ھ میں باجوڑ کے علاقہ بتائی علیزومیں پیدا ہوئے، پندرہ سال کی عمر میں بغرض تعلیم ہندوستان آئےاور بڑی محنت ومشقت کے بعد آگرہ میں تعلیم حاصل کرنےلگے،ہندوستان میںآپ کی طالب علمی کازمانہ اس طرح بسر ہوا ہے جس طرح دیگرافغانی طلبہ کا گزرتاتھا،یہ وقت آپ کے لیے بہت کٹھن وقت تھا، نہایت محنت ومشقت کی راہ سےگزر کر تقریباً ۱۳۱۳ھ میں آگرہ کے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے،یہاںمولاناسعادت اللہ قادری سنبھلی کی علمی درس گاہ آبادتھی،مولاناکی صحبت اختیار کی اوریہیں سے دستار بندی ہوئی،خودلکھتےہیں کہ
’’میری دستارِ فضیلت جن ہاتھوں نے باندھی وہ معمولی نہ تھے،دامن گیررسول تھے، دردومحبت کےخمیرسےبنےتھے،یہ کس کےہاتھ تھے؟میرےآقامیرےمولیٰ مولوی محمدسعادت اللہ اسرائیلی سنبھلی کے ہاتھ تھے جو آج کل جامع مسجدآگرہ میںمدرس اول ہیں، میں ان کی بابت کچھ کہہ نہیںسکتاہوں،ہاںجوکچھ وہ ہیں۔
دل من داند و من داندذداند دل من
مولانانےمیری ہرقسم کی اصلاح میں پدرانہ کوشش کی ‘‘ (حیاتِ جمالی،ص؍۷۳)
۱۳۱۹ھ میں آگرہ کی جامع مسجد میں آپ کی دستاربندی عمل میںآئی، اس
موقع پرعمائدین شہرکثرت سےموجودتھے،محفل کی صدارت حضرت شاہ محمداکبرؔابوالعُلائی داناپوری فرمارہے تھے،اس موقع پرآپ نےفارسی میں قطعۂ تاریخ کہا۔
چوں آں عبدالمجید نیک انجام
لیت بربست از قیل و ہم از قال
فراغت کرد او از علم ظاہر
بحمد اللہ کنوں شد صاحبِِ حال
بفرقتش ہست دستارِ فضیلت
مبارک باشد ایں شاہانہ اقبال
چہ می جستم سنہ دستار بندیش
’’جلیل القدر فاضل ‘‘یافتم سال
۱۳۱۹ھ
(جذباتِ اکبر،ص؍۱۰۴)
اس مبارک موقعے سے قبل ہی آپ کے استاد مولاناسعادت اللہ قادری نےآپ کوسلسلہ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ میںحضرت شاہ اکبرؔداناپوری سے بیعت کرایا اور بعد فراغت حضرت اکبرنےآپ کو اجازت و خلافت سےمشرف فرماکرطریقت کی دولت سے سرفرازفرمایااورادھرمولاناسعادت اللہ قادری نےاپنی بڑی صاحبزادی کا نکاح آپ سےکردیا،گویادوسرےافغانی طلبہ کےبہ نسبت آپ کی طالبِ علمی کا دورسنہرہ تھا، وہ آگرے کاسب سےسنہرادورتھاایسےموقع پرروزانہ نئی بستی میں شام کومحفل لگتی، حضرت شاہ اکبرؔداناپوری کی صحبت کےعلاوہ منشی انعام اللہ خاں،ڈاکٹروزیرالدین خاں، منشی عبدالغفارخاں،خواجہ تجمل حسین وغیرہ زندہ دارلوگ تھے۔
مولاناکےدونوںدامادمولاناعبدالمجیدافغانی اورپروفیسرمحسن فاروقی شروع سے کالج اوریونیورسیٹی میںشعبۂ صدر رہے،کئی کتابیں لکھیں،انعام حاصل کیا،سیکڑوں طلبہ پیدا کئے،علم وادب کےشعبےمیں نام بنایااورآگرہ کانام پشاوراورکراچی میںروشن کیا، محسن فاروقی کےصاحبزادےپروفیسرطاہرفاروقی نےدرجنوںعلمی رسالے یادگار چھوڑے، اقبال کی سوانح عمری لکھی اوراپنانام ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا۔
حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کا ایک خط نثار ؔ اکبر آبادی کے نام ملتا ہے جس میں مرقوم ہے کہ
’’آپ کو اپنی محبت عطا فرمائے اور اپنے پیر بھائیوں کے
دلوں کو اپنے ہاتھ میں رکھنا اورمولوی عبدالمجید سلمہٗ کو بھی اجازت دی گئی
ہے وہ بہت سعید ہیں ،اللہ تعالیٰ شانہٗ آپ سب کا خاتمہ بخیر فرمائے‘‘ (جذباتِ اکبر،ص؍۱۹)
مولاناعبدالمجیدافغانی نےتقلیداً یہ مقام ومرتبہ دوسری قسط خلافت میں حضرت شاہ اکبرؔداناپوری کےمریدوخلیفہ مولاناسیّدنثارعلی اکبر آبادی سےپایا۔ (تذکرہ بزم ابوالعُلا،جلد دوم ،ص؍۲۴۸)
مولانا شاہ ظفر سجاد ابوالعُلائی رقمطراز ہیں کہ
’’آپ کو بیعت و اجازت حضرت جدی سیّدشاہ محمد اکبر دانشمند قدس سرہٗ سےہے،آپ عالمِ باعمل ہیں، باجوڑ کے رہنے والے ہیں بالفعل سینٹ جونس کالج (اور) پشاورکےعربی پروفیسر کے ممتاز عہدےپرمامورہیں‘‘
(حاشیہ برہان العاشقین ،ص؍۲۶)
سعیداحمدمارہروی بھی ایساہی لکھتےہیںکہ
’’اس عرصہ میںچارطالبِ علم فارغ التحصیل ہوئے،انہیں میں ایک مولوی عبدالمجیدصاحب بھی ہیںجوپہلےسینٹ جانس کالج آگرہ میں اوراب پشاورکےمشن کالج میںعربی کےپروفیسرہیں‘‘
(تذکرہ مشاہیرِاکبرآباد،ص؍۱۸۱)
فراغت کےفوراًبعدکالج کی ملازمت مل گئی چند سال تک سینٹ جونس کالج، آگرہ میں فارسی کے لکچرررہےپھر۱۹۲۰ءمیںپشاورکےایڈورڈس کالج میںشعبۂ فارسی کے صدراوربعدمیںنواب سرعبدالقیوم خاںکےاصرارپر مشن کالج میںشعبۂ عربی کے صدر ہوئے،آپ کےقیام کےبعدسےکالج نے معاشرے میں تعلیمی، سماجی ترقی اور پشتو زبان و ادب کے حوالےسےاہم خدمات سرانجام دی ہیں۔
پروفیسرطاہرفاروقی لکھتےہیںکہ
’’ایڈورڈس کالج،پشاورمیں پروفیسرعبدالمجیدافغانی فارسی کے پروفیسر تھے، فارسی اور اردوکےشاعرتھے،سعدیؔتخلص کرتے تھے، انہوں نے اسلامیہ کالج کی طرح اپنےکالج میں بھی ادبی انجمنیںقائم کی تھی، جس کےمشاعروں میںپشاورشہرکےشعرابھی شرکت کرتے تھے بلکہ ایڈورڈس کالج کےمشاعرے ہی ایسامرکزتھےجہاں مختلف یا ہم دگر رقابت رکھنےوالےشعراکااجتماع ہوجاتاتھا،طلبہ میں اردوزبان و ادب کاشوق وذوق پیداکرنےمیںاسلامیہ کالج اور ایڈورڈس کالج کے ان اساتذہ اورادبی اجتماعات کوپوراپورااثراوردخل حاصل ہو رہا ہے‘‘ (ہماری زبان،ص؍ ۵۶)
سیّدمعظم علی اکبرآبادی لکھتے ہیںکہ
’’۔۔۔جب سے کہ ہمیں کچھ حال معلوم ہوتاہےوہ ۱۹ء۔۲۰ءکاہےاس زمانےمیں استادایک مولوی عبدالمجیدصاحب فارسی کے لیےاوردوسرےمولوی احمدعلی خاںصاحب اسیرؔ بدایونی عربی کےلیےتھے۔۔۔۔مولوی عبدالمجیدصاحب سرحد کے رہنے والے تھے اورسرحدکی تمام خصوصیات ان میں پائی جاتی تھیں،مہمان نواز، صاف گو،مخلص اورآزادخیال،ان میں تعصب بالکل نہیں تھا،اپنے طالب علموں سےبےحدمحبت کرتے تھے،ایسی محبت جیسی کہ ہم آج کل کہہ دیتے ہیں بلکہ وہ واقعی محبت کرتےتھے ان کو اپنی اولادکی طرح سمجھتے تھے، ان کے پڑھانےکاطریقہ وہی پرانا بکتی انداز کا تھا، خود بہت زبردست عالم تھے اور اپنے شاگردو ں کو اپنا پورا علم سکھادینےکی کوشش کرتےتھے،۱۹۲۰ءمیں مرحوم کوپشاورکالج میں جگہ مل گئی اور وہاںتشریف لےگئے۔۔۔مولوی عبدالمجیدصاحب مرحوم کے پشاور چلے جانےکےبعدمولاناعابدحسن صاحب فریدی فارسی کے شعبہ میں تشریف لائے۔۔۔‘‘ (ماہنامہ شفق،آگرہ،ص؍ ۹۱۰)
مولاناعبدالمجید ایک ذہین و فطین انسان تھے دیگر ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ شاعری بھی کرتے اور ایک اعلیٰ پایہ کے لکھاری تھے،مولانا پختونخوا میں بیسویں صدی کے ان چند لکھاریوں میںتھےجواس زمانے میںپشتو میں مقالے لکھتے تھے، ’’رہبرِاخلاق‘‘کےنام سےانہوںنے پانچویںجماعت سےلے کر آٹھویں جماعت کے طلبہ کےلیےدرسی کتب کاایک کورس بھی لکھاتھاجوبعد میں اس وقت کے پختونخوا کے اسکولوںمیںبطورِ نصاب منظور ہوا تھا جسے ’’لیڈر ایتھکس‘‘ بھی کہاجاتاہے،ہمیش خلیل کے مطابق مولانانےجونصابی کتاب لکھی تھی وہ چار کتابچوںپرمشتمل تھاجبکہ صدیق اللہ رشتین کےمطابق اس کی تعدادآٹھ تھی جن میںنظم ونثر دونوںشامل تھا، مولانا نے رحمٰن بابا کے دیوان پر ایک بھی مقدمہ لکھا تھا، اسی طرح خوشحال خان خٹک کے کلیات پر بھی ایک مقدمہ لکھاتھاجوکہ۱۹۲۹ ءمیںمردان کےہوتی خاندان کی طرف سے شائع کیاگیاتھا ، اس سےپہلےرحمٰن بابااورخوشحال خان خٹک کےدواوین پر مقدمے نہیں ہوتے تھے، پختون رسالے میں اس وقت کےسیاسی حالات کےحوالےسےسیاسی مقالےبھی لکھتے تھے، سرحد نام کے رسالے میں بھی مقالے شائع ہوئےہیں۔
’’سرحد‘‘ پشاور کے مئی و جون ۱۹۲۶ء کے شمارے میں ’’عید نمبر‘‘ شائع ہوا تھا، اس شمارے کے صفحہ؍ ۲۵ پر ’’تفسیری نوٹ‘‘ کے عنوان سے سورۂ فاتحہ کی تفسیر دو صفحات میں بیان کی گئی ہے، اسی شمارے میں پشتو زبان و ادب سے متعلق ایک حصہ بھی شامل تھا، جس کے صفحہ؍ ۱۵ پر آپ کی پشتو زبان میں ایک غزل درج ہے، جس میں آپ نے اپنا تخلص صابر استعمال کیا ہے، مزید برآں صفحہ؍ ۳۰ پر ’’احکامِ اسلام‘‘ کے عنوان سے دو صفحات پر مشتمل ایک مضمون بھی شامل ہے، جس کے آخر میں ’’جاری‘‘ درج ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مضمون آئندہ شمارے میں بھی جاری رہا ہوگا۔
وہ شروع سےعلم و ادب سے وابستہ رہے انہوں نے افغانیوںکا طرز حکومت ، نسبی حالات، قومی تاریخ کے علاوہ مختلف قبائل کے عادت،طرزِزندگی، بدوی ، مراسم ،قومی خصوصیات کو بڑے دلچسپ پیرائے میں بیان کیاہے ،افغانیوں کی فطری زندگی ، جبلی اخلاق ، بدوی عادات سے واقفیت حاصل کرنے والے کے لیے آپ کی تین جلدوں پر مشتمل ’’مشاہیرافاغنہ‘‘ سے بہتر سرمایہ کہیں نہ ملے گا جو بڑی جانفشانی سے جمع کیاگیاہے۔
مشاہیر افاغنہ کی پہلی جلد افغانستان کی مشہور علمی و انقلابی شخصیت مولانا سیّدجمال الدین افغانی کے حالات پر مشتمل اردومیںبعنوان’’حیاتِ جمالی‘‘ ابوالعُلائی اسٹیم پریس، آگرہ سے ۱۳۳۹ھ میں۱۴۱؍صفحات پرمشتمل شائع ہوچکی ہے،اس کتاب کے ساتھ مولاناجمال الدین افغانی کا رسالہ ’’ردِّ نیچریہ ‘‘کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔
کہاجاتاہےکہ۱۸؍ستمبر۱۹۲۱ءکونواب عبدالقیوم خاںنےمولانا کو ایک خط بھیجا جس میںجمال الدین افغانی کےحوالےسےمصراورفرانس کےلوگوںکےخیالات سےمولاناکوآگاہ کیا،اس کتاب کا پشتوترجمہ آپ نےثمین جان کےکہنےپرکیاتھا،اسی کتاب کے مقدمے میں مولانا مادری زبانوںمیںتعلیم کی افادیت اورضرورت کے حوالےسےایک تاریخی بات لکھتےہوئےکہتےہیںکہ
’’جب تک کسی قوم کواس کی مادری زبان میں تعلیم نہیں دی جاتی اس وقت وہ ترقی نہیں کرسکتی ،پرائےزبان کااثربہت کم ہوتا ہے، اپنی مادری زبان کسی قوم کوتب فائدہ پہنچاسکتی ہےجب اس میںقومی خیالات واحساسات کاظہورہورہاہو‘‘
مولاناسعادت اللہ قادری اپنے مکتوب میںآپ کی اصلاح کرتے ہوئے لکھتے ہیںکہ
’’شب کوتھوڑاسا رسالہ کاترجمہ بھی دیکھا،سچ یہ ہےکہ جناب سیّد صاحب کےاصل مضمون سےمجھے زیادہ دلچسپی تمہارےبامحاورہ سلیس ترجمہ سے ہوئی۔۔۔تم سامنےہوتےتوباتیں کرتا،افسوس کتاب کا حصہ دیکھنےسےباقی رہ گیااورجودیکھاوہ بھی نظرِثانی چاہتا تھا،مز ے میںدیکھتاچلاگیا،تم نےہی لکھاہے؟چنددماغوں کی عرق ریزی تو نہیں، کسی دلّی والےسےتورابطہ نہیںبڑھایا،سرحدی افغان اور دلّی والے کی زبان اللہ کرےحسنِ رقم اور زیادہ‘‘
(حیاتِ جمالی،ص؍۴)
نواب عبدالقیوم خاں (بانی ؍اسلامیہ یونیورسیٹی،پشاور)حصہ اول کےتعلق سےلکھتےہیں کہ
’’افغانوںکی حالتِ زاراورکل اہلِ اسلام کاخاکہ جوآپ نےاپنےتذکرہ میںکھینچاہےقابلِ دادوقدرہےاوراعجازسےکم نہیں، حالیؔ نےمسدس لکھ کرلوگوںکو بیدار کیا تھا، آپ نےیہ تذکرہ لکھ کراسلام کا مرثیہ پیش کیاہے‘‘ (حیاتِ جمالی،ص؍۳)
مولاناعبدالرحیم پشاوری نےبھی اس کتاب کاذکرکیاہے۔
مولانا عبدالمجید افغانی نے ’’مشاہیرِ افاغنہ‘‘ کے عنوان سے مسلسل تین کتابیں تصنیف کیں، جن کا موضوع افغان قوم اور اس کی تاریخ ہیں، یہ تینوں حصے ابوالعلائی اسٹیم پریس، آگرہ سے حافظ فیاض الدین ابوالعلائی اکبرآبادی کے اہتمام سے یکے بعد دیگرے شائع ہوئے۔
اس سلسلے کی دوسری کتاب جو در اصل مقدمہ ہے وہ ’’حیاتِ قومی‘‘ کے عنوان سے۶۳؍صفحات پر مشتمل ہے جو اسی سال ۱۳۳۹ھ میں شائع ہوئی۔
اس کتاب میں مصنف نے افغانی قوم کے اندر ترقی کا جذبہ اور شعور پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، وہ قوم کو تحریک، تعلیم اور عملی جدوجہد سے وابستہ ہونے کی تلقین کرتے ہیں، جگہ جگہ تاریخی اور عملی مثالیں پیش کرتے ہوئے اپنی قوم کو بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے نظر آتے ہیں، اسی رسالے میں وہ رقمطراز ہیں کہ
’’مجھے اس وقت دیگر اقوام سے دریافت کرنا نہیں کہ انہوں نے اس خداوندی حفاظت سے کیا کام لیا اور اس کی کیا قدر کی، مجھے تو فقط اپنی ہی قوم کو دیکھنا ہے کہ اس نے اس مزاحمت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان ربانی فطری مستحکم قلعوں کو کیوں کر مسمار کرکے شکر گزاری کا حق ادا کیا، میری پیاری قوم! میں تمہاری کس کس ادا کو بیان کروں‘‘
(ص؍ ۲۶)
اس کتاب میں مولانا عبدالمجید افغانی نے کئی مقامات پر گاندھی جی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔
مشاہیرِ افاغنہ کا تیسرا حصہ ’’تاریخِ افاغنہ یعنی آئینۂ خودنما‘‘ کے عنوان سے ۲۲۴؍صفحات پر مشتمل ہے، یہ افغانستان کی تاریخ کا ایک جامع مجموعہ ہے، جس میں افغان قوم کی اہمیت، دیگر اقوام کے ساتھ اس کا تقابل، یورپ اور افغانستان کے انقلابات، جنگیں اور سرحدی قبائل کی بیداری، اقوام کے فنا و بقا کے اسباب، اسلام کی ابتدائی حالت اور دیگر مذاہب سے اس کا تقابل جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئے ہیں۔
اس کے علاوہ کتاب میں یورپ کی تقلید اور ایک سرحدی نوجوان کی خدا سے شکایت، مذہبی خیالات پر گاندھی جی کے اثرات، مادی اور مذہبی اقوام کے زوال میں فرق، جرمنی اور ترکی کی شکست کا موازنہ، عربوں کی ابتدا اور ترکوں کی موجودہ حالت کا تقابل، افغان قوم کی بیداری اور تعلیمی توجہ، افغانی اور برطانوی مصالحت، امیر کی الوداعی تقریر، معاہدے کی شرائط اور افغان مصالحت پر خارجی اثرات جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔
کتاب میں سلسلۂ مشاہیر کی وجہ، افغانستان کا مختصر جغرافیہ اور دیگر حالات، لفظ ’’افغان‘‘ کی تحقیق اور افغانوں کی اصل، امیر کا انتخاب اور ایرانی سلطنت سے آویزش، ابتدائے بغاوت اور جرجین خاں کے مظالم، مرویس کی امارت اور آزادی، محمود کی بادشاہی اور ایران پر افغانوں کی حکومت، اشرف شاہ کی حکومت اور اس کی موت، نادر شاہ کا قندھار پر حملہ، احمد شاہ کی تخت نشینی اور وفات، زمان شاہ اور محمود شاہ کے واقعات، شاہ شجاع کی تخت نشینی، دوست محمد خاں کا استقلال اور اکبری واقعات کے علاوہ امیر دوست محمد خاں کی وفات سے لے کر عبدالرحمٰن تک کے اہم تاریخی واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔
مصنف نے افغان قوم کے مختلف طبقات و اقوام، ان کے اخلاق و عادات، طرزِ حکومت، زراعت، تجارت و صنعت اور دیگر معاشرتی و سیاسی حالات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، اس طرح ’’تاریخِ افاغنہ یعنی آئینۂ خودنما‘‘ نہ صرف افغانستان کی سیاسی و تاریخی صورتِ حال کا جائزہ پیش کرتی ہے بلکہ افغان قوم کی بیداری، تعلیمی ترقی اور قومی شعور کے حوالے سے بھی ایک اہم تصنیف کی حیثیت رکھتی ہے، یہ کتاب بھی ۱۳۳۹ھ میں شائع ہوئی۔
مولانا عبدالمجید افغانی کی تین حصوں پر مشتمل افغانستان کی تاریخ کی یہ تصنیف افغان قوم اور افغانستان سے وابستہ افراد کے لیے ایک نہایت قیمتی علمی و تاریخی اثاثہ ہے۔
مولاناعبدالمجید ہمیشہ اپنی قوم کی زبوں حالی اورمعاشی گراوٹ پر روتے نظر آئے ہیں اور حتی الامکان اس جہالت کو دو ر کرنے کی پوری کوشش کی ہے ، خود ایک جگہ رقمطرازہیںکہ
’’گرماکی تعطیل میں اپنے وطن جاتاہوں، اپنی قوم کی حالت دیکھتاہوں کہ جہالت کی گھٹائیں ان پر چھائی ہوئی ہیں،خسر الدنیا والاخرہ کی حالتِ زار میںگرفتار ہوں تعلیم یافتہ کی گفتگو سنتا ہوں، ناخواندوںکی حالات دیکھتاہوںمگراُف نہیںکر سکتا، چند روزہ رہ کروا پس آجاتاہوںاورجس طرح اورمبتذل حیوانات اپنے لوازم معیشت کی فراہمی میں لگےہوئےہیں،اسی طرح میں بھی لگ جاتا ہوںدیکھیے اس بے لطف زندگی کاکب خاتمہ ہو‘‘
(حیاتِ جمالی،ص؍۷۴)
مولاناعبدالمجیدافغانستان کےبااثراورمتحرک علمی رہنماؤںمیںسےایک ہیں، انہوںنےقرآن کی تفسیربھی لکھی ہے جوتقریباً۸۰۰؍صفحات پرمشتمل ہےکہاجاتاہےکہ اس کےکچھ اقساط سرحد (پشاور) ۱۹۲۶ء اور آگرہ اخبارسے۱۹۳۶ءمیںشائع ہوچکا ہے، خواجہ حسن نظامی نے اپنے سفرنامۂ افغانستان میںآپ کوماہرین علوم وفنون میں شمار کیا ہے،واضح ہوکہ پشتو ادب کے چمکتے ستارے حمزہ خان شنواری اور دوست محمد کامل ان کے شاگرد ہیں۔
(قرآن حکیم کےاردوتراجم،ص؍۱۲۷)
وہ پشتواوراردوکےمستندخودنوشت شاعراوربہترین انشاپرداز ہوئےہیں، اردو، فارسی اور پشتومیںبہت سی نظمیں اورغزلیں بھی لکھیں ہیں،اپنی کتاب میں جگہ جگہ اپنےپیرحضرت شاہ اکبرؔداناپوری کےاشعارنقل کئے ہیں، سعدی اور صابر تخلص کرتے، ’’آزاد پختون‘‘رسالےمیں بھی رومانیت سےبھرپورنظمیںشائع ہوتی رہی ہیں،ادبی دنیا میںسعدی افغانی کےنام سےبھی یادکئےجاتےہیں،چندمختلف اشعارپیش خدمت ہیں ۔
زدیت نامیدی وارہاں دامان دل یارب
کہ سودائے خیال او حیات جاوداں دارد
(ص؍۷۲)
لگے آگ دامانِ رحمت میں جس سے
وہی راگ صابرؔ سنائے چلا جا
( ص؍۶)
ہجوم یاس و حرماں سے بڑی مشکل سے نکلے گی
ہماری لاش جس دن کوچۂ قاتل سے نکلے گی
( ص؍۴۱)
عبدالمجیددوراندیش اور بالغ النظر تھے، ان کی زبان سادہ اور صاف و شفاف تھی،ان کےپاس شاندارالفاظ،استعارے،محاورے، چست ترکیبوں کاذخیرہ جمع تھا، خاموش مزاج،خوش اخلاق اورتوکل الی اللہ تھے،اپنی قوم کی سربلندی کی خاطرہمیشہ کوشاں و سرگرداں رہے، بقول آپ کہ مولاناجمال الدین افغانی کےتعلق سےہندوستانی دانشوران نےاتنی تفصیل سےنہیں لکھاجیسےانہیں لکھناچاہیئےتھااورنہ ہی نیچری عقائدکی تردید میںان کے قدم بقدم ہوئے،اسی سلسلےمیں مولاناابوالکلام آزادؔکےمتعلق ان کی رائے بہت اچھی نہیں تھی،لکھتے ہیںکہ
’’الہلال جو اس قسم کےقومی خیالات کی نشونماکامتکفل تھا، اس میں بھی اس شجرحکمت وسیاست کامفصل ذکرنظرنہیںپڑا،معلوم نہیں کہ ترجمان درد وآلام مولاناابوالکلام کی چشم خوں چکاںسےیہ تصویرد رد و غم کیوںکرپوشیدہ رہی‘‘ (ص؍۳۰)
آپ نے اپنی تصنیفات میںجابجامسلمانوںکےلیےحکمت و دانائی کی باتیں لکھی ہیں،ان کاکہنا تھا کہ
’’دنیاکی اخلاقی تہذیب مسلمانوں ہی سے شروع ہوئی اور انہیں پر ختم ہوگی ‘‘
(حیاتِ جمالی،ص؍۹)
آزادی کے۴؍ماہ بعد۷؍صفر المظفرشنبہ ۱۳۶۷ھ کو پشاورمیں انتقال ہوا اور وہیںپشاورصدرکےقریب نوتھیہ قبرستان میں سپردِخاک کیا گیا، پروفیسرحامدحسن قادری نےقطعۂ تاریخِ رحلت کہی ہے۔
پنہاں نظر سے عبدالمجید ہیں
وہ جن کو دو جہاں میں رضائے خدا ملا
پڑھنے کو آئے آگرہ سرحد کے پار سے
ہاں چار سمت علم و ادب کی فضاملا
استاد جو ہوئے تھے وہی خسر بن گئے
گویا کہ یوں سعادتِ دارین آملا
حاصل کمال دانش و علم و ادب کیا
نعمت خداکے فضل سے کیاکہیے کیاملا
خُلق نکو ملا ورع اتقا ملا
عشق خدا محبت خیرالوریٰ ملا
عمر عزیز علم کی خدمت بھی صرف کی
ذہن ذکی ملا انہیں طبع رساملا
لو مزار کے لیے تاریخ قادری
لکھ ’’رحمت کریم سے روح ان کی جاملی‘‘
۱۳۶۷ھ
دیگر
’’فاضل علی مقدر‘‘ ’’عبدالمجید خا ں افغانی‘‘
۱۳۶۷ھ ۱۹۴۷ء (جامع التواریخ،ص؍۶۸)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.