Font by Mehr Nastaliq Web

حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری اور ’’ہنرنامہ‘‘

ریان ابوالعلائی

حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری اور ’’ہنرنامہ‘‘

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ ،داناپور کے معروف سجادہ نشیں اور عظیم صوفی شاعر حضرت شاہ محمد اکبرؔ ابوالعُلائی داناپوری بہت سی خوبیوں کے مالک تھے، ان کی حیثیت بیک وقت ایک درویش کامل،خدامست،سجادہ نشیں،امیرسخن،مذہبی رہنمااور حب الوطنی سے سرشار فلسفی اور مجاہد وقت کی تھی،حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری قومی یکجہتی اور ہندوستانی عوام کے مسائل کی ضرورتوں سے بھی خوب خوب واقفیت رکھتے تھے جس کی عکاسی ان کے اس نظم سے ہوتی ہے۔

    نظم ’’ہنرنامہ‘‘(معروف بہ آراستگیٔ صناعت) اس وقت کی عکاسی ہے جب ہم غلام تھے اور انگریزوں کی حکومت تھی ،ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ ہندو اور مسلمان میں نفاق پیداکرکے حکومت قائم رکھی جائے جسے ایک حسا س شاعر کی حیثیت سے حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری نے پڑھ لیاتھا اور لوگوں کو اس فرنگی حکومت سے نجات پانے کا راستہ اپنے اشعار کے ذریعہ بتایا جس راستے پر چل کر آخر کار ہمیں آزادی مل گئی، انہیں اپنے نسخہ پر اتنا یقین تھا کہ انہوں نے اپنے ذہن میں آزادی کے بعد ہندوستان کا نقشہ بھی بنا رکھا تھا جسے ہم ان اشعار سے سمجھ سکتے ہیں۔

    حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری فرماتے ہیں کہ

    پھریں گے کیسے دن ہندوستاں کے

    بلا کے ظلم ہیں اس آسماں کے

    اگر ہندو مسلماں میل کرلیں

    ابھی گھر اپنے یہ دولت سے بھر لیں

    گیا اقبال پھر آئے ہمارا

    ابھی ادبار گر جائے ہمارا

    الٰہی ایک دل ہو جائیں دونوں

    وزارت انڈیا کی پائیں دونوں

    (جذباتِ اکبرؔ،ص؍۲۷۰ )

    عطا کاکوی حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کے معتقد ہی نہیں بلکہ ان کے شیدا تھے، ان کے والد حمدؔؔکاکوی اور ان کے خانوادے کے زیادہ تر افراد کو حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری اور ان کے والد حضرت مخدو م شاہ محمد سجاد پاک سے بیعت اور اجازت وخلافت کا شرف حاصل تھا،لہٰذا عطاؔکاکوی رقمطراز ہیں کہ

    ’’اکبرؔصرف غزل گو ہی نہ تھے بلکہ فیچرل اور قومی نظمیں بھی خوب خوب لکھی ہیں، ان کی قومی نظموں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ ایک صوفی غزل گو ہوکر ان کی کتنی دور رس نگاہیں تھیں جو قوم کو تعلیم اور صنعت و حرفت کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ،ایسا روشن خیال صوفی اور صاحب وجدوحال تعلیمی،سیاسی اور سماجی کاموں میں دلچسپی لینے والاشاذ و نادر ہی ملے گا‘‘

    (سہ ماہی رسالہ سفینہ، پٹنہ ،ص؍۲۷،شمارہ ؍۳،جولائی تا ستمبر۱۹۸۲ء)

    حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کی شاعری ان کی حب الوطنی میں ڈوبی ہوئی خواہش کا اظہار ہے، آپ نے قومی اور سیاسی نظمیں بہت لکھی ہیں جن کو دیکھ اور پڑھ کر عقلیں ورطۂ حیرت میں ڈوبتی چلی جاتی ہیں کہ ایک صوفی شاعر کی کتنی دور رس نگاہیں ہیں جس نے قوم کو تعلیم اور صنعت وحرفت کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ،آپ نے قومی یکجہتی، ملک کی سلامتی اور استحکام کا دردشدت سے محسوس کیا ،آپ کی قومی شاعری تقریباً ایک صدی سے زائدکی تخلیق ہے،ان نمونوں سے ان کی قومی ہمدردی کی جھلک ملتی ہے ان اشعار سے وہ ایک قومی رہنما شاعر لگتے ہیں ،دراصل صوفی کا یہی انداز ہوتا ہے کہ جب بات وطن کی آتی ہے تو وہ حب الوطنی کا ایسا سبق پڑھاتے ہیں کہ لوگوں کے لیے وہ مشعلِ راہ ثابت ہوتا ہے۔

    حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری کی قومی نظم ’’ہنر نامہ‘‘ (آراستگیٔ صناعت)۱۳۰۳ھ کی تحریر ہے،مکمل نظم آپ کے دیوان اول ’’تجلیاتِ عشق‘‘کے صفحہ؍۳۸۸ سے۳۹۹؍پر دیکھا جا سکتاہے، اس نظم کے چند اشعار آج بھی زبان زد خاص وعام ہے،۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۷ء اورپھر ۱۹۷۴ ء تک مندرجہ ذیل اشعار ’’ہنرنامہ‘‘کے عنوان سے بہار ٹکسٹ بک پبلشنگ کارپوریشن لمیٹیڈ، پٹنہ سے منظور شدہ برائے امتحان سیکنڈری اسکول، بہار کے ذریعہ ہائی اس کول کے’’ انتخابِ اردو ‘‘(نثرو نظم)کے نصاب میں شامل تھا،قومی نظم کے ساتھ ہی ’’سیّدشاہ محمد اکبر ابوالعُلائی داناپوری ‘‘ کے عنوان سے ان کی مختصر سوانح بھی تھی جو برابر امتحان میں بطور سوا ل آیا کرتا تھا،ممکن ہو کہ آج بھی سیکڑوں اہل علم حضرات نے ’’انتخابِ اردو‘‘ (نثرونظم) میں اپنے طالبِ علمی کے دور میں یہ نظم پڑھی ہوگی،ہم حکومتِ بہار سے بالخصوص وابستگانِ اردو سے گزارش کریں گے کہ ایسی نظم جو ہمارے اسلاف نے قوم کی ترقی اور خوشحالی کی خاطر لکھی تھی اسے پھر سے نصاب میں شامل کریں تاکہ نئی نسل کو اپنے شاندار ماضی کے کارنامے سے روشناس کراتے ہوئے ان کے مستقبل کو مزید بلند و بالا بنایا جاسکے، قارئین کی دلچسپی کے لیے ہم اس نظم کے چنندہ اشعار یہاں پیش کررہے ہیں جس میں پہلے تو حدیث کی روشنی میں ہنرکی اہمیت بتائی گئی ہے پھر ہماری تاریخ،فلسفہ اورتھوڑا تذکرہ ہے اور آخرمیں قوم کے لیے پندونصائح بھی ہیں ۔

    حضرت سیّدِ سادات شہنشاہِ امم

    جن کے احسان پہ سو جان سے قربان ہیں ہم

    بادشاہ دوجہاں جانِ عرب فخر عجم

    جن کے در پر ہیں سلاطینِ جہاں کے سرخم

    پھر یہ واضح کیاہے کہ انبیاہوں یا اؤلیا سب ہنر مند اور کاسب تھے مثلاً حضرت نوح نجارتھے،حضرت داؤد لوہارتھے،حضرت ادریس سلائی کا ہنر جانتے تھے،حضرت لقمان حکمت و دانائی میں ماہر تھے اور حضرت منصور کپڑوں میں روئی بھرنے والاکا کام جانتے تھے یعنی کسی ہنر سے وابستہ ہونا شرم و حیا کی بات نہیں تھی مگر افسوس ہے کہ آج قوم ہنر سے دور ہے،حضرت اکبر قوم کے اندر ہنر ڈالنا چاہتے تھے، انہیں تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کرنے چاہتے تھے ،وہ گورے کالے ،امیر و غریب کے فرق سے اوپر اُٹھ کر لوگوں کو ہنر مند دیکھنا چاہتے تھے۔

    قوم کے واسطے سامانِ ترقی ہے ہنر

    بادشاہوں کے لیے جانِ ترقی ہے ہنر

    اہل حرفت کے لیے کانِ ترقی ہے ہنر

    باغِ عالم میں گلستانِ ترقی ہے ہنر

    قدر جس مُلک میں اس کی ناہو بربادہے وہ

    جس جگہ اہل ہنر ہوتے ہیں آباد ہے وہ

    انبیا جتنے تھے سب اہلِ ہنر تھے یکسر

    نوح نجارتھے یہ جانتے ہیں جملہ بشر

    تھے جو داؤد انہیں کہتے ہیں سب آہنگر

    نہیں خیاطی میں ادریس سے کوئی بڑھ کر

    عیب پوشی کو سمجھتے ہیں جہالت سے ہم

    دور ہو جاتے ہیں گیا کے شرافت سے ہم

    آ دمی جتنے ہیں بے شبہ بنی آدم ہیں

    بشریت میں ہم ان سے نہ وہ ہم سے کم ہیں

    متحدصورت و سیرت میں سبھی باہم ہیں

    پر ہنر مند جو فرقے ہیں وہی اعظم ہیں

    کالے گورے کی نہیں اہلِ ہنر میں تمیز

    آدمی شئے نہیں کوئی یہ ہنر سے ہے عزیز

    جتنی قومیں ہیں ہنرہی سے ہیں وہ مالامال

    جتنے نوکر ہیں وہ چھوٹے کہ ہوئے بس کنگال

    یہ ہنر وہ ہے کہ جس کو کبھی آئے نہ زوال

    فلسفی ہونے کاکچھ نہیںحاصل فی الحال

    مالداری جو ہو مطلوب ہنر کو سیکھو

    ہو جو ثروت تمہیں مرغوب ہنر کو سیکھو

    اسکولوں کی تعلیم کے نتیجے میں اور انگریزوں کی اتباع میں کوٹ پینٹ پہن کر ٹائی لگا کرچھری کانٹے سے کھانے میں عزت محسوس کرتے ہیں، سرِ افتخار بلند کرتے ہیں اور پیغمبروں کی سنت یعنی ہنر کو عار سمجھتے ہیں ،نوکری کے پیچھے بھاگ رہے ہیں،آج اس قوم کی زبوں حالی کے پیچھے یقینا یہ دو باتیں ہیں ،پہلا تعلیم اور دوسراہنر ،ان دونوں چیزوں سے یہ قوم آج دور ہوچکی ہے ،نہ تعلیم ہے نا کوئی ہنر ،غیروں نے ہمیں نِکما بنا دیا یاپھر ہم اپنی کوتاہیوں سے غیر ذمہ دار ہوگئے اور ہنر سے کوسوں دور ہوئے،واضح ہوکہ کسی بھی قوم یا پھر انسان کی تعمیر اس وقت ہوتی ہے جب اس کے اندر اعلیٰ تعلیم ہو یا پھر کوئی ہنر،جا ننا چاہیے کہ جہاں تعلیم کی شمع نہیں جلتی وہاں صرف بازار لگتا ہے ،لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو گالیاں دی جاتی ہیں،حالاں کہ جوتے سینے کاکام نوکری اور ملازمت سے کہیں بہتر ہے،حضرت اکبرؔ فرماتے ہیںکہ

    نوکری سے نہیں دنیا میں کوئی شے بدتر

    کفش دوزی کا بھی اس سے بہت اچھا ہے ہنر

    جس کو کوئی ہنرنہیں آتا شاہ اکبرؔ داناپوری اس کو کوڑا کہتے ہیں۔

    علم کے بعد اگر ہے تو ہے دنیا میں ہنر

    یہ نہ ہو ذات میں جس کی تو ہے کوڑا وہ بشر

    آزادی کے حوالے سے شاہ اکبرؔ داناپوری فرماتے ہیںکہ

    لطف آزادی تو یہ ہے کہ ترقی ہو عام

    کام وہ ہو کہ ہو حاصل جسے اثباتِ دوام

    دوسرے ملک پہ موقوف نہ ہو اپنا کام

    مئے یورپ سے بھرا جائے نہ اس قوم کا جام

    شہر اپنا ہو زمیں اپنی ہو، گھر اپنا ہو

    ہاتھ اپنا ہو ہنر اپنا ہو زر اپنا ہو

    بو ظفر شاہ جو نادار ہوئے غدر کے بعد

    امرا موردِ بیدار ہوئے غدر کے بعد

    لکھنؤ دہلی جو برباد ہوئے غدر کے بعد

    پیشہ والوں ہی سے آباد ہوئے غدر کے بعد

    بات ان شہروں کی پھر رکھ لی ہنر والوں نے

    کیا کیا کچھ نہ کیا لَعل و گہر والوںنے

    آخری بند ملاحظہ فرمائیںکہ ہنر سیکھنے کی کیسی زوردار تاکید فرمائی ہے ۔

    متوکل جو بنا چاہو ہنر کو سیکھو

    بے تردد جو جیا چاہو ہنر کو سیکھو

    دین و دنیامیں بھلا چاہو ہنر کو سیکھو

    حق کے محبوب ہوا چاہو ہنر کو سیکھو

    بے ہنر سے نہ نبی ہی نہ خدا راضی ہے

    شاہ راضی ہے نہ اکبرؔنہ گدا راضی ہے

    (تجلیاتِ عشق،ص؍۳۸۸)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے