Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیرحضرت شاہ التفات احمد صابری

ریان ابوالعلائی

ذکر خیرحضرت شاہ التفات احمد صابری

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    ہندوستان میں بہت سی خانقاہیں ہیں جو قدیم زمانہ سے دین کی تبلیغ، علم کے فروغ، اصلاح تصوف، تحقیق و تصنیف، اور تربیت و تذکیہ کے ذریعے عظیم فریضہ انجام دے رہی ہیں، ان میں بعض خانقاہوں کو امتیازی شان حاصل ہے۔ ہندوستان کی قدیم ترین خانقاہوں میں خانقاہ حضرت شیخ العالم کا ایک کلیدی کردار رہا ہے، جس کی تاریخ صدیوں پر محیط ہے۔ یہاں کے سجادگان ذیشان بھی نمایاں شان کے حامل ہوئے ہیں۔ سجادگان کی فہرست طویل ہے، یہ نفوسِ قدسیہ روشنی کے مینار کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان پر قلم برداشتہ کرنا گویا تحقیق و تدقیق کے میدان میں غوطہ زن ہونے کے مترادف ہے۔ راقم الحروف کی چند سطریں خانقاہ حضرت شیخ العالم کے معروف سجادہ نشین حضرت مولانا شاہ التفات احمد کے ذکر خیر پر محمول ہیں۔

    اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو چودہویں صدی ہجری میں ہندوستان کی چند معروف خانقاہوں کے سجادگان ملک و ملت اور رشد و ہدایت کے لیے کمر بستہ تھے اور ان میں حضرت شاہ التفات احمد کی شخصیت گوہر نایاب کی حیثیت رکھتی ہے۔

    چودہویں صدی ہجری کا زمانہ تاریخ ہند کا وہ شاندار دور رہا ہے جس میں علما و مشائخ کے مابین مذہبی، علمی اور ملی تعلقات کی خوشبو رچی بسی ہوئی تھی۔ اصلاح ندوہ پر ہندوستان کے تمام علما و مشائخ ایک جگہ رونق بزم تھے، اور تحریک اہل سنت ہندوستان بھر میں محفل تذکیر کا انعقاد کر رہی تھی۔ ہر جگہ علما و مشائخ کا قافلہ پیش پیش تھا، اور شہر ہو یا گاؤں، لوگ مشائخ کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔

    اس سلسلے میں بہت سی خانقاہیں سامنے آئیں، جن میں

    خانقاہ معظم حضرت مخدوم جہاں، بہار شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا شاہ امین احمد فردوسی

    خانقاہ سجادیہ، داناپور کے سجادہ نشین حضرت مولانا شاہ محمد اکبر ابوالعلائی داناپوری

    خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا شاہ بدرالدین قادری

    خانقاہ منعمیہ قمریہ، میتن گھاٹ پٹنہ کے سجادہ نشین حضرت مولانا شاہ عزیزالدین حسین قمری المنعمی

    خانقاہ حضرت شیخ العالم کے سجادہ نشین حضرت مولانا شاہ التفات احمد

    اس تحریک کے خلاف سال ۱۳۱۸ھ میں ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا، جس کی قیادت بہار کی خانقاہوں کے سجادگان کر رہے تھے۔ ہند کا کون سا علاقہ یا کون سی خانقاہ تھی جو اس میں شرکت نہ کر سکی؟ چند خانقاہوں کو چھوڑ کر تمام علما و مشائخ عظیم آباد (پٹنہ) کی سرزمین پر سات روز تا ۱۳ رجب) تک مہمان رہے۔ بہار کے علاوہ اجمیر، دہلی، حیدرآباد، مارہرہ، بدایوں، بریلی، الہ آباد اور ردولی کے علما و مشائخ کثرت سے شامل ہوئے۔ سات روز تک مسلسل تاریخ ساز اجلاس شاید ہی کہیں عمل میں آیا ہو۔ اس کی روداد ’’دربار حق و ہدایت‘‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔

    مذکورہ روداد میں اپنے عہد کے مشہور عالم و فاضل مولانا حافظ سید محمد سلیمان اشرف بہاری کا تلخیص کردہ بیان بھی شامل ہے، موصوف فرماتے ہیں کہ

    ’’۔۔۔صرف دو ہی نہیں بلکہ صدہا علمائے کرام نے ندوہ سے مخالفت کی حتی کہ بعض مشاہیر علما و مشائخ نے جو پہلے اراکین اعزاز ی اور اراکین قسم اول سے تھے ندوہ سے تنفر کلی اختیار کیا جیسے

    مولانا شاہ التفات احمد صاحب زیب سجادہ ردولی شریف

    مولانا شاہ امین احمد صاحب زیب سجادہ بہار شریف

    مولانا سید شاہ محمد اکبر صاحب زیب سجادہ داناپور

    مولانا شاہ بدرالدین صاحب زیب سجادہ پھلواری شریف

    مولانا شاہ محمد حسین صاحب الہ آبادی

    مولانا شاہ محمد نعیم صاحب لکھنوی

    مولانا شاہ عبدالوہاب صاحب لکھنوی

    مولانا سید شاہ ابو سعید صاحب فتح پوری (خلیفۂ حضرت شاہ فضل رحمٰن)

    مولانا سید شاہ عبدالقدوس صاحب بنگلوری

    مولانا وصی احمد صاحب محدث سورتی

    مولانا عبدالسلام صاحب جبل پوری

    مولانا نذیر احمد خان صاحب احمد آبادی وغیرہ۔۔۔‘‘

    (دربار حق و ہدایت، ص۱۴۴)

    اس تحریک میں حضرت شاہ التفات احمد کے ہمراہ منشی مظہر الحق صاحب ردولوی (نائب ریاست عثمان پور، مصنف مظہر حق) اور منشی محمد فریدالدین احمد صاحب ردولوی، ابن شاہ محمد کرم رحمن (سجادہ نشین: حضرت مخدوم شیخ حنفی) بھی حضرت شاہ التفات احمد کے شانہ بشانہ تھے۔

    چنانچہ اس سلسلے میں منشی مظہر الحق صاحب نے حضرت مولانا سید عبدالصمد چشتی سہسوانی کے نام خط بھیجا، جس کے چند جملے درج ذیل ہیں کہ

    ’’حضرت شاہ التفات احمد صاحب اور عزیزی فریدالدین نے حضور کا نام سنتے ہی ندوہ سے عطف عنان کیا اور فرمایا جدھر حضور ہوں گے اسی طرف خدام چلیں گے، تاریخ ۱۴ صفر، ۱۳۱۴ھ‘‘ (مکتوبات علما و کلام اہل صفا، ص۹۸)

    دوسرا خط حضرت مولانا احمد رضا ؔخان بریلوی کے نام ملتا ہے۔

    ’’ذوالمجد والکرام، صاحب الفضل، والهممہ حضرت مولانا مولوی احمد رضا خان صاحب، دام فضلہ وعم فیضہ

    پس از آداب ادب ملتمس ہے، پارسل عطیہ محمولہ رسائل عطیہ بندگان عالی، صادر و کر باعث اعزاز ہو، بعض علما و اکثر رؤسا کی خدمت میں روانہ کی گئی۔ ملازمان جناب جو رسالہ باشتہار اس کے متعلق طبع ہو بنام نامی حضرت شاہ التفات احمد صاحب رئیس و سجادہ نشین ردولی شریف براہِ راست روانہ فرمادیا کریں، جناب ممدوح بھی آپ حضرات سے اتفاق رائے فرماتے ہیں۔‘‘(مکتوبات علما و کلام اہل صفا، ص۹۸)

    حضرت شاہ التفات احمد عالم دین، فاضل متین اور صاحب یقین بزرگ تھے۔ علم و عمل، تقویٰ و طہارت اور رشد و ہدایت کے علاوہ خدمت خلق کے جذبے سے بھی سرفراز تھے۔ مہمان نواز ایسے کہ خانقاہ میں آنے والے ہر شخص کی مہمان نوازی بڑے ذوق و شوق سے کی جاتی تھی، بلکہ خانقاہ میں آنے والوں کے لیے اپنی پلکیں بچھا دیا کرتے تھے۔

    واضح ہو کہ اپنے عہد کی مشہور شخصیت جناب حضور حضرت سید شاہ امین احمد فردوسی (سجادہ نشین: خانقاہ معظم حضرت مخدوم جہاں، بہار شریف) حضرت شاہ التفات احمد کے عہد میں آستانہ حضرت عبدالحق چشتی ردولی شریف میں حاضر ہوتے تھے اور فرنی پکوا کر فاتحہ دیتے اور زائرین میں تقسیم کیا کرتے تھے۔(حیات ثباتؔ)

    جاننا چاہیے کہ جناب محمد ابوالحسن فریدآبادی دہلوی نے اپنے مرشد حضرت سیّد مظفر علی شاہ کے حالات و برکتِ آیات کو تفصیل سے فارسی زبان میں لکھا ہے، اور اس کا نام ’’تذکرۃ اللٰہی‘‘ (مطبع نول کشور، سال طبع ۱۳۰۴ھ / ۱۸۸۷ء) رکھا ہے۔ یہاں مکمل عبارت حضرت شاہ التفات احمد کے تعلق سے نقل کی جاتی ہے کہ

    ’’براہِ راست بسواری ریل اسٹیشن ردولی رسیدند۔ آنجا شاہ عنایت احمد حاضر بودند، استقبال نمودہ با خود ردولی بردند اور حضرت با عظمت زیارت شاہ عبدالحق قدس اللہ سرہٗ العزیز حاصل نمودند۔ بعد از آن شاہ مسعود احمد غفر اللہ لہ و حضرت شاہ التفات احمد سجادہ نشین سلمہ اللہ تعالیٰ را دیدند۔ ایں حضرات با کمال اخلاق و محبت و مہمان نوازی درویشانہ بہ نیاز مندی پیش آمدند کہ مزیدے بران نباشد و یک شبانہ روز انجاے پاک قیام شدہ، ہریکے از مزارات متبرکہ آںجا زیارت فرمودند۔ حضرت جانشین سلمہ اللہ بار بار اعادہ ہمیں لفظ می نمودند کہ حضور والا مہمان حضرت شیخ عبدالحق قدس اللہ سرہٗ ہستند ما، او ران چیست روز دیگر حضرت اللہی قدس اللہ سرہٗ از انجام رخصت شدند۔ شاہ التفات احمد سجادہ نشین مشایعت تا اسٹیشن ردولی نمودند، از انجا کاروان دولت سوار شدہ گذر بر فیض آباد کنان بمقام گونڈہ خاص فائز گردید۔ شب در آںجا گذر اند بامد او بمقام نوباوان درگاہ مولد و موطن برادر شاہ عنایت احمد تشریف ارزانی فرمودند۔ آن روز تو گوئی۔۔۔‘‘ (تذکرۃ اللٰہی، ص۲۶)

    کوئی مجھ سا بھی صحیح النسب اکبرؔ کم ہے

    سلسلہ اپنا کسی زلف سے جاملتا ہے

    (شاہ اکبرؔ داناپوری)

    جلیلؔ مانک پوری نے آپ کی رحلت پر قطعِ تاریخ لکھا ہے کہ

    اے جلیلؔ ایں مصرع تاریخ آمد حسبِ حال

    اللہ اللہ آں ولی گفت وفنا فی اللہ شد

    ۱۳۳۴ھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے