Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت مولانا شاہ مراداللہ فردوسی منیری

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت مولانا شاہ مراداللہ فردوسی منیری

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    منیر شریف صوبۂ بہار کی پہلی روشن گاہ ہے، بہار میں اسلام کی شمع یہیں سے پھوٹی، ۵۷۶ھ میں امام محمد تاج فقیہ کا یہاں آنا اور امن و محبت اور انسان دوستی کا ماحول قائم کرنا یہ سب بارگاہِ رسالت ﷺسے اشارہ تھا، آپ ہاشمی خانوادہ کے چشم و چراغ تھے، آپ کا نسب حضرت زبیر بن عبدالمطلب سے صحیح طور پر جاملتا ہے، آپ نے منیر شریف میں عبادت گاہیں اور خانقاہیں تعمیر کیں، بے بس اور مجبور لوگوں کی فریادیں سنی، کمزوروں کا سہارابنیں، یتیموں کے ہمدردبنیں، غریبوں اور مسکینوں کا ساتھ دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہار میں امن و امان کی فضا قائم ہوگئی۔

    خانقاہ منیر شریف کی ایک عظیم ہستی حضرت مولانا شاہ مراد اللہ فردوسی المتخلص بہ اثرؔ منیری بھی عہدِ رفتہ میں روشن کارناموں کے ساتھ تاریخ کا حصہ بنے جو بیک وقت صوفی بزرگ، خدامست،محقق ،ادیب وشاعر اور علم و عمل سے آراستہ و پیراستہ ایک عظیم شخصیت تھے۔

    شاہ مراداللہ فردوسی اپنے خاندان کی قابل فخر یادگار تھے، یہ خاندان علم و فضل اور درویشی کی حیثیت سے ہر عہد میں معزز و محترم رہاہے، آپ کا سلسلۂ نسب حضرت فریدالدین چشتی طویلہ بخش (متوفیٰ۸۹۷ھ) سے جاملتا ہے، پدری نسب کی ترتیب یہ ہے۔

    مراد اللہ بن سعید الدین احمد عرف فضل حسین بن امجد حسین بن محمد سلطان ثانی بن محمد بخش بن احسان اللہ بن امر اللہ بن عنایت اللہ بن مسعود بن محبوب بن منصور بن مظفر بن سلطان اکبر بن نصیر الدین بن معین الدین بن فریدالدین طویلہ بخش بن ابراہیم بن جمال الدین بن احمد بدایونی (والدحضرت نظام الدین اؤلیا) بن علی بخاری بن عبداللہ بن حسن بخاری بن علی بخاری بن احمد بن عبداللہ بن علی اصغر مدنی بن جعفر الثانی مدنی بن امام علی الہادی محمد نقی بن امام جواد محمد تقی بن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ بن ابو طالب۔

    (مخزن الانساب، ص؍۱۷۳)

    آپ کا نانیہالی نسب حضرت شیخ شعیب فردوسی بن شیخ جلال منیری بن مخدوم عبدالعزیز منیری بن امام محمد تاج فقیہ سے جاملتا ہے۔

    شاہ مراد اللہ فردوسی ۱۳؍محرم الحرام ۱۳۳۵ھ کو خانقاہ منیر شریف میں پیدا ہوئے، آپ کے والدماجد حضرت شاہ سعیدالدین احمد عرف شاہ فضل حسین فردوسی (متوفیٰ ۱۳۴۱ھ) خانقاہ منیرشریف کے سجادہ نشیں تھے اس لیے آپ کی پرورش و پرداخت صوفیانہ طریقے سے ہوتی رہی، آپ بچپن ہی سے ذہین و فطین تھے، ہمیشہ تعلیم سے دلچسپی رہی، بہت ہی کم عمری میں ابتدائی تعلیم شروع ہوگئی اور عام لڑکوں کے خلاف مستعدی اور تعلیمی شو ق و ذوق ایک طرف تو قدرت نے عطا کیا ہی تھا دوسری طرف اس مؤثر تربیت کا نتیجہ تھا جو حضرت شاہ فضل حسین اپنے فرزندِ عالی کو دے رہے تھے، عمر ابھی چھ سات برس تھی کہ ان کو یتیمی کا داغ نصیب ہوا کہ حضرت والد ماجد کے انتقال کا ایسا سخت حادثہ کہ جس سے غالباً آپ کی آئندہ تعلیم و تربیت پر خراب اثر پڑتا مگر خوش نصیبی سے ان کے بڑے بھائی حضرت شاہ امان اللہ فردوسی(متوفیٰ۱۳۴۶ھ) نے کبھی ان کو یہ احساس تک نہیں ہونے دیا اور اعلیٰ تعلیم کی طرف راغب کیا ، ۱۹۳۶ء میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ (پٹنہ) میں مولانا عبدالرشید قادری اور مولانا ظفرالدین بہاری سے ملاثانی میں تعلیم حاصل کی پھر اپنے بڑے بھائی شاہ ہدایت اللہ فردوسی (متوفیٰ۱۳۴۷ھ ) کے ساتھ دولت پور (آرہ) گئے اور کچھ ہی سال بعد ندوۃ العلما (لکھنؤ) کے درجہ عالم میں داخل ہوئے اور مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی اور مولانا مفتی محمد سعیدکی باضابطہ طور پر شاگردی اختیار کی، آپ کے ہم درس میں مولانا معین اللہ ندوی (نائب ناظم؍ندوۃ العلما، لکھنؤ)، مولانا ابوالاحسان (مہتمم؍ندوۃ العلما، لکھنؤ)، مولانا عبدالماجد ندوی (صاحبِ معلم الانشا)، مولانا محمد اویس ندوی نگرامی (شیخ التفسیر؍ندوۃ العلما،لکھنؤ) وغیرہ جیسی قابل قدر ہستیاں شامل تھیں۔

    (تذکرہ مولانا عبدالرشید قادری حیات و خدمات،ص؍۲۷)

    (از افادہ حضرت شاہ تقی الدین فردوسی منیری)

    آپ کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ۱۹۴۲ء میں مدرسہ عالیہ (کلکتہ)میں داخل کرایا گیا جہاں آپ نے مولانا سیّد عمیم الاحسان مجددی سے حدیثیں پڑھیں اور ۱۹۴۶ء میں درجہ’’ المحدثین‘‘کے امتحان میں کامیاب ہوکر’’ ممتاز المحدثین ‘‘کے خطاب کے ساتھ وطن منیرشریف واپس آئے۔

    شاہ مراداللہ کے کان میں بانگ صلوٰۃ شاہ فدا حسین بن صادق علی شعیبی شیخ پوروی نے دی تھی، جب آپ کو عالم کی سند ملی تو شاہ فدا حسین نے برجستہ کہا کہ

    بانگِ صلوٰۃ کان میں جس کے پکار دی

    عالم بنا دیا اسے فاضل بنا دیا

    (سہ ماہی المخدوم،بہار شریف، شمارہ نمبر؍۱، ص؍۱۳۵)

    شاہ صاحب کا تعلیمی دور اپنے دامن میں فضل و کمال، اوصاف و محاسن اور تحقیق و جستجو کا غیر معمولی خزانہ سمیٹے ہوئے تھا، انہوں نے علم وادب کے حصول میں دن رات خود کو مصروف رکھا، کتب بینی میں مستغرق رہنا فطرت میں داخل ہوچکا تھا، بعض اہم فنون کی طرف طبیعت زیادہ مائل تھی بالخصوص علم حدیث، علم تفسیر، علم الاخلاق، تاریخ و تذکرہ اور شعر و سخن سے بے حد دلچسپی تھی، یہ وہ زمانہ تھا جب بڑے بڑے علما و صلحا اپنی چادر بچھائے ہوئے تھے تو آپ نے مختصر ہی مگر حصول علم کیا اور بحیثیت عالم دین اپنی خدمات انجام دی۔

    آپ ایک خوش اخلاق ،بامروت، حسن سیرت ،حسن صورت ،ہنس مُکھ اور منکسر المزاج شخصیت کے مالک تھے، آپ دو عظیم کتب کے مصنف اور خانقاہ منیر شریف کے محترم نمائندہ اور نہایت ذی وقار و ذی وجاہت علمی شخصیت تھے،وہ اپنے بھائی بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے اس لیے گھرمیں سب سے زیادہ عزیز تھے، انہیں تحقیق سے دلچسپی تھی، وہ ہمیشہ کسی تحقیقی سلسلے میں مصروف رہتے، کتب بینی کا گہرا شغف تھا،نہایت ذہین و زیرک ،محتاط،وضع دار اور کم سخن واقع ہوئے بلکہ یوں کہیے کہ اپنے آباو اجداد کی عملی تصویر کا نمونہ تھے ، زہد وورع، خلق و ایثار، صبر وتحمل میں بے مثل رہے، بڑے خلوص سے ملتے اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتے، انہیں عربی و فارسی دونوں زبانوں پر مہارت حاصل تھی۔

    شاہ مراداللہ اپنے بڑے بھائی حضرت شاہ عنایت اللہ فردوسی (متوفیٰ ۱۴۱۴ھ) کی بے حد قدر و عزت کیا کرتے تھے، ہمیشہ دست بستہ ہاتھ باندھے خاموش کھڑے رہتے، تھے کبھی شاہ عنایت اللہ نے بلابھیجا تو فوراً تشریف لاتے اور خاموشی کے ساتھ نیچی نگاہ یہاں تک کہ یہ بھی نہ کہتے کہ حضور ہم حاضرہیں کئی دفعہ تو ایسا بھی ہوا کہ شاہ عنایت اللہ بھول جاتے اور گھنٹے دو گھنٹے بعد دیکھتے کہ ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، مکرمی شاہ خالد فردوسی کاکہنا ہے کہ

    ’’ کسی زمانے میں وہ ایران جارہے تھے مگر برادرِمعظم کی جدائی برداشت نہ ہوسکی اور اس سفر کو منسوخ کردیا‘‘

    آداب و تہذیب کا اس قدر خیال تھاکہ مت پوچھیے دونوں بھوئیوں میں شیر و شکر تھا وہ ان کی محبت میں دوچار تھے یہ ان کی عظمت پر قربان تھے،شاہ عنایت اللہ نے کبھی بھی اپنے چھوٹے بھائی شاہ مراداللہ کو مرادنہیں کہاہمیشہ’’ شاہ مراد صاحب‘‘ یا پھر ’’چھوٹے میاں‘‘ سے مخاطب کرتے،مکرمی شاہ اسداحمد فردوسی بتاتے ہیں کہ

    ’’میرے نانا ابو ۱۹۹۱ء میں شاہ صاحب کی اصرار پر بنگلہ دیش کے دورہ پر روانہ ہوئے اور ادھر شاہ عنایت اللہ سوئے عدم کو چلے، کہا جاتا ہے کہ آپ جب بنگلہ دیش سے واپس ہوئے تو اس خبر سے مطلع کیا گیا تومت پوچھیے کہ پھر شاہ مراداللہ کی کیا کیفیت تھی، ہر وقت گریہ و زاری کرتے، اُس وقت جو بستر پرپڑے تو پھر دوبارہ بستر سے نہ اُٹھے اور نہ ہی بلا ضرورت گھر سے باہر گئے، ان کی فرقت میں پھر ایک ایک لمحہ روتے یہاں تک کہ تین برس بعد آپ بھی کوچ کرگئے‘‘

    شاہ مراداللہ نے کئی مساجد کا افتتاح بھی کیا تھا اور اس کی سنگ بنیاد بھی رکھی تھی اس موقع پر آپ خاص طور پر مدعو کئے جاتے تھے۔

    آپ اہل اللہ میں سے تھے، بیعت و خلافت اپنے منجھلے بھائی حضرت شاہ عنایت اللہ فردوسی سے تھی، شاہ مراد اللہ بڑے درویش قسم کے انسان تھے، اؤلیا اللہ کے تذکرے کے شوقین تھے، ان کی گفتگو کا موضوع زیادہ تر خوفِ خدا ،اتباعِ رسول، تذکرہ صلحا وغیرہ پر مشتمل ہوتا، بے حد خلیق تھے جو شخص آپ سے ایک بار ملتا دوبارہ ملنے کی تمنا کرتا، بڑے رفیق القلب تھے، فوراً آنکھوں میں اشک بھر جایاکرتا، کیفیت سے معمور ہوجاتے جس زمانے میں آپ ’’آثارِمنیر‘‘ ترتیب دے رہے تھے اس وقت بیشتر کتب خانوں کا دورہ کرتے چنانچہ اس سلسلے میں خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور کے کتب خانہ کا بھی دورہ کیا تھا،ا س درمیان آپ رات بھر کتب خانہ میں مطالعہ کرتے تھے کہ ایک روز کسی کتا ب کے درمیانی صفحہ پر ایک پر چہ رکھا تھا جس پر چند اشعار لکھے ہوئے تھے اس کو پڑھنے کے بعد آپ کی کیفیت بالکل بدل گئی اور ہاتھوں کو رانوں پر اس قدر مارتے تھے کہ اس کی آواز سے خانقاہ میں ایک شور برپا ہوگیا، جب قریب جا کر دیکھا گیا تو آپ کی آنکھیں اشک بار تھی۔

    اشک آنکھوں سے ہوگئے جاری

    جب تیری یاد آگئیں آنکھیں

    (نثارؔ اکبرآبادی)

    دل بے چین تھا، جسم کپکپا رہا تھا اور باربار کہتے تھے کہ اسے پھر سے پڑھیے اور خوب پڑھیے، وہ کلام خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ کے سجادہ نشیں حضرت شاہ محسنؔ داناپوری کا ہے جو رشتے میں آپ کے بہنوئی بھی ہوتے، متعلقہ غزل کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔

    مرنے کی تھی سبیل جیئے جا رہا ہوں میں

    ساقی پلا رہا ہے پیئے جا رہا ہوں میں

    ساقی کو دل میں یاد کئے جا رہا ہوں میں

    کعبہ میں بھی شراب پیئے جا رہا ہوں میں

    محسنؔ حریم دل میں اسے دیکھ دیکھ کر

    اپنا طواف آپ کئے جا رہا ہوں میں

    (روحانی گلدستہ، ص؍۵۰)

    (از افادہ حضرت شاہ خالد امام ابوالعُلائی )

    آپ کی شخصیت تاریخِ منیر اور تذکرۂ منیر میں مسلم ہے، اردو کے اہم تذکرہ نگاروں نے آپ سے استفادہ بھی کیا ہے جن میں پروفیسر سیّد حسن عسکری(پٹنہ)، عرفانؔ عباسی (بارہ بنکی)، ڈاکٹر ظہورالحسن شاربؔ (اجمیرشریف)، پروفیسر مختارالدین احمدآرزوؔ (پٹنہ)،پروفیسر سیّد محمد حسنین(پٹنہ)، ڈاکٹر آدتیہ بہل(ریسرچ اسکالر: سئگاگو یونیورسیٹی، امریکہ) اورپال جیکسن (پٹنہ) کے اسمائے گرامی ہیں،آپ اردو کے نامور محقق و ادیب قاضی عبدالودود اور عطاؔ کاکوی کے معاصر تھے، آپ ریسرچ اسکالروں کی خوب مدد کیا کرتے تھے اور اپنے مفید مشوروں سے بھی نوازتے تھے۔

    چنانچہ ڈاکٹر سیّد شاہد اقبال (گیا) لکھتے ہیں کہ

    ’’پروفیسرانیس صدری صدر شعبۂ اردو سمستی پور کالج، سمستی پور کی دوران تحقیق انہوں نے بہت مدد کی جب وہ ’یاسؔ بہاری حیات اور شاعری‘ پر تحقیقی مقالہ لکھ رہے تھے، راقم الحروف نے بھی تحقیقی کام کے لیے حضرت شاہ مراد اللہ منیری سے کافی مدد لی ہے، مرحوم نے راقم کو مفید مشورے دیئے وہ ناقابلِ فراموش ہیں‘‘

    (نشترِ تحقیق، ص؍۹۲)

    شاہ مراد اللہ فردوسی شعر وسخن کی طرف خاصی دلچسپی رکھتے تھے، بچپن ہی سے شعر کہنے کے شوقین تھے،پٹنہ میں نوحؔ ناروی کی صدارت میں ایک مشاعرہ رکھاگیاتھا اس وقت آپ کی عمریباً چودہ پندرہ برس کی تھی جس میں آپ نے ایک غزل پڑھی تھی جسے بہت پسند کیا گیا تھا، نوحؔ ناروی نے پوچھا کہ یہ صاحبزادے کون ہیں؟ جنہوں نے یہ غزل پڑھی ہے تو لوگوں نے آپ کا تعارف کرایا کہ یہ خانقاہ منیر شریف کے صاحبزادے ہیں تو نوحؔ نے برجستہ کہا کہ یہ ان کا حق ہے کہ اتنی مرصع غزل اس عمر میں پڑھی، مخدومیہ اردو لائبریری (منیر شریف) کے مشاعرے میں بھی اپنی غزلیں پڑھا کرتے تھے، انہوں نے اس گلشن میں اثر اور مرادکے تخلص کے ساتھ قدم رکھا تھا، باقرؔ عظیم آبادی (تلمیذ وحیدؔ الہ آبادی)، ناطقؔ لکھنؤی (تلمیذ امیرؔ مینائی و حسنؔ شہسرامی) اور یاسؔ بہاری (فرزند و تلمیذ شاہ امین احمد ثباتؔ بہاری) سے مشورۂ سخن لیا کرتے، غزل، منقبت کے علاوہ قطعۂ تاریخ بھی آسانی سے نکال لیتے تھے، آپ کے چند قطعۂ تاریخ شائع ہوچکے ہیں، مثلاً

    قطعۂ تاریخ وفات حضرت سیّد احتشام الدین مشرقیؔ منیری(متوفیٰ۱۳۴۳ھ)

    قطعۂ تاریخ وفات حضرت سیّدشاہ امان اللہ فردوسی منیری(متوفیٰ۱۳۴۶ھ)

    قطعۂ تاریخ وفات حضرت سیّدشاہ ہدایت اللہ منیری(متوفیٰ۱۳۴۷ھ)

    قطعۂ تاریخ وفات حضرت مولوی سیّد مرتضیٰ ؔ منیری(متوفی۱۳۸۱ھ)

    قطعۂ تاریخ طبع ’’آثارِمنیر‘‘ (سال طبع۱۳۶۷ھ)

    قطعۂ تاریخ سفر حج حضرت شاہ عزیز احمد ابوالعُلائی (سال ۱۹۷۰ء)

    آپ نے زیادہ تر غزلیں، حمد و نعت کہی ہیں، حمد و نعت و غزل کے چندمتفرق اشعار ملاحظہ ہوں۔

    حمد

    ہے گلشن جہاں کی یارب بہار تو ہی

    ہر پھول ہر کلی میں ہے لالہ زارتو ہی

    قدرت ہے تیری ظاہر ہر شاخ ہر شجر سے

    ہر بیچ ہر ثمر میںہے آشکار تو ہی

    کعبہ ہو یاکلیسا سب میں جھلک ہے تیری

    ہے شیخ و برہمن کے دل کی پکارتو ہی

    جلووں سے تیرے تاباں ہیں شش جہات عالم

    ہے چاند اور سورج میں تابدار تو ہی

    منصور کی صدا میں پنہا تھاتو ہی یارب

    سرمد کی بھی زباں پر تھاہم باربار توہی

    تیر ے سوا نہیں ہے ہم بیکسوں کاوالی

    ہے اخیار ہم ہیں باختیار توہی

    ہم ہیں تیر بھکاری توہے ہماراداتا

    مونس ہماراتو ہے اور غمگسار توہی

    ہم مبتلا ئے غم ہیں محو غم والم ہیں

    ہے مضطرب دلوں کا صبروقرار توہی

    تیرے ہی آسرے پر ہے یہ مرادؔ بیکس

    جاری ہے اس کے لب پر لیل ونہار توہی

    نعت

    میری جاں آپ پہ قربان رسول عربی

    سرورِ دیں شہِ ذیشان رسول عربی

    زیست کا ہے یہی سامان رسول عربی

    میرے ہاتھوں میں ہے دامان رسول عربی

    چشم رحمت کا اشارہ مری جان ہوجائے

    ہوں بہت بے سرو سامان رسول عربی

    آپ کے روضۂ اقدس کی زیارت کرلوں

    میرے دل میں ہے یہ ارمان رسول عربی

    مجھ کو للہ بلا لیجیے طیبہ میں شہا

    میرے دل میں ہے یہ ارمان رسول عربی

    آپ کی ذات ہے کونین کی جب عقدہ کشا

    مشکلیں ہوں مری آسان رسول عربی

    ہے مرادؔ آپ کے بندوں میں جو ادنیٰ بندہ

    آپ ہی کاہے یہ احسان رسول عربی

    دیگر

    خوشا نصب کہ میں آگیا مدینے میں

    شگفتہ غنچۂ دل ہوگیا مدینے میں

    جوسنتے آئے تھے صد شکر میں نے دیکھ لیا

    بہار لٹ رہی ہے فضا مدینے میں

    اس لیے تو تڑپتا تھا ہند میں کب سے

    نثار آپ کے میں آگیا مدینے میں

    وہ صبح جس کے یہ فضائے بہشت ہے صدقے

    یہ شام ہے کہ ہے نورِخدا مدینے میں

    شفاعت آپ کی اس کے لیے یقینی ہے

    مری طرح جوکوئی آگیا مدینے میں

    بھلا مرادؔ سے ہوشرح رازِ دل کیوں کر

    کہے یہ کیا کہ ملا اس کو کیامدینے میں

    دیگر

    الٰہی دکھا جلوہ ہائے مدینہ

    سما جائے دل میں ضیائے مدینہ

    بہار جناں جس پہ ہوجائے صدقے

    عجب دلربا ہے فضائے مدینہ

    مرا مضطرب دل سکون پارہاہے

    چلی آ رہی ہوائے مدینہ

    نہیں چاہتا کچھ سوائے مدینہ

    مری جاں ہو نام احمد پہ صدقے مدینہ

    دم مرگ اپنی تمنا یہی ہے

    ہوں پیشِ نظر جلوہ ہائے مدینہ

    خدادن وہ لائے کہ یثرب کو جائیں

    مرادؔ ہم بھی بن کر گدائے مدینہ

    حضرت اثرؔ منیری کے چند متفرق غزلوں کے چند اشعارملاحظہ ہو۔

    درد دل اشک کی روانی ہے

    اب یہ سامان زندگانی ہے

    زندگی ہے حساب کی مدت

    آپ سمجھتے ہیں جاودانی ہے

    ایسی ہستی کا اعتبار ہے کیا

    جس کا ہر نقش فانی ہے

    چین ملتا نہیں کسی صورت

    کی عجب طور زندگانی ہے

    آج توبہ کی خیر ہو یا رب

    بارہ شیشے ہیں ارغوانی ہے

    درد دل کیوں نہ ہو عزیز اثرؔ

    یہ کسی دولت کی نشانی ہے

    (گل صد رنگ، ص؍ ۹۳)

    دیگر

    یاد اُن کی ہے دل ناکام میں

    ہے یہی صہبا ہمارے جام میں

    زلف جاناں میں ہے جب سے دل اسی

    کٹ رہی ہے زندگی آرام میں

    خوگرِ رنج و الم جب ہوچکا

    اب سکوں کیسا دل ناکام میں

    ما سواسے ہم نے آنکھیں پھیر لیں

    تھی کشش ایسی کسی کے نام میں

    آخری دم ہے لبوں پر جان ہے

    کچھ سنیں گے آپ صبح و شام میں

    زندگی کی تلخیاں ہم کیا کہیں

    کٹ رہی ہے رنج میں آلام میں

    ڈھونڈتے ہو آہ کیا دل کو اثرؔ

    وہ تو جا بیٹھا کسی کے دام میں

    (گل صد رنگ، ص؍ ۹۳)

    دیگر

    ڈھونڈتے ہیں آپ پیری میں جوانی کی امنگ

    پھول میں خوشبو کہاں رہتی ہے مرجھانے کے بعد

    انہیں حضرت مخدوم جہاں شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری(متوفیٰ ۷۸۲ھ) سے بے پناہ عقیدت تھی، یہی وجہ ہے کہ آپ نے ان کی شان میں غزلیں بھی کہی اور مقالے بھی لکھے، ان کی غزل آج قوال حضرات گاتے ہیں تو دل محو ہونے لگتا ہے، انہیں حضرت مخدوم جہاں سے حقیقی عشق تھا۔

    ہے نورِ نگاہِ شہِ یحییٰ شرف الدین

    ملجا مرا ماوا مراآقا شرف الدین

    اک چشمِ کرم مجھ پہ خدا را شرف الدین

    میں جاؤں کدھر ہوکے تمہارا شرف الدین

    اس نام کی عزت کوکوئی مجھ سے تو پوچھے

    واللہ عجب نام ہے پیارا شرف الدین

    یہ نام ملائک کے بھی تو وردِ زباں ہے

    میں ہی نہیں کہتا ہوں فقط یا شرف الدین

    گردن میںمری طوق غلامی ہے ازل سے

    میں بندہ ہو ں میں بندہ تمہارا شرف الدین

    فکر غم کونین سے آزاد ہوا میں

    رشتہ ترے دامن سے جو باندھا شرف الدین

    اک جرعہ نگاہوں سے پلا دیجیے مجھ کو

    مدت سے ہوں اس جام کا پیاسا شرف الدین

    گرتوں کو اٹھایا ہے بہت آپ نے آقا

    دے دیجیے مجھ کو بھی سہارا شرف الدین

    دیکھا نہیں جاتے ہوئے محروم کسی کو

    در پر ترے جو عجز سے آیا شرف الدین

    ہنگامِ اجل سامنے ہو مرقدِ انور

    اور ورد زباں پر ہو مری یا شرف الدین

    ملتا ہے سکوں دل کو مرادؔ اپنے اسی سے

    لے لیتاہوں جو نام دل آرا شرف الدین

    شاہ صاحب تصنیف و تالیف کا گہرا شوق و ذوق رکھتے تھے،انہیں تحقیق و تدقیق سے گہری دلچسپی تھی، اس سلسلے میں انہوں نے خوب تگ و دو کی، قدیم و جدید رسائل کی ورق گردانی کی ،مطبوعات و مخطوطات کا جائز لیا، بستی بستی جا کر بوڑھے پرانے لوگوں سے معلومات اکھٹا کرکے تحقیق کے ترازو پر تول کر تب کہیں جاکر ’’آثارِ منیر ‘‘(مطبوعہ اول ۱۹۴۸ء، مطبوعہ دوم ۲۰۱۰ء) اور ’’تذکرہ شعرائے منیر‘‘ (مطبوعہ ۱۹۸۸ء) مستند ماخذکے ساتھ شائع ہوا، آپ کا یہ ادبی کارنامہ بہار کی ادبی دنیامیں قیمتی اضافہ ہے۔

    شاہ مراد اللہ کی ان دو کتب کے علاوہ مختلف رسائل میں مثلاً ماہنامہ بہار کی خبریں (پٹنہ)، ماہنامہ اقلیت (پٹنہ) اور آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن (پٹنہ) وغیرہ میں مضامین بھی شائع و ذائع ہوتے رہے، قیاس اغلب ہے کہ آپ آخر وقت میں کسی کتاب کی تصنیف میں مشغول تھے جو تشنۂ طبع ہے، شاہ مراداللہ کی نثری اور منظوم خدمات کو یکجا کرنے کی اشد ضرورت ہے چوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بہار میں آج بھی اپنی نمایاں شان رکھتے ہیں۔

    ۱۵؍مارچ ۱۹۵۰ء میں آپ کی تقرری بحیثیت ہیڈ مولوی بلدیوا ہائی اسکول (داناپور) ہوئی، چند مہینے کے بعد۱۶؍جنوری ۱۹۵۱ء میں آپ کا تبادلہ منیر ہائی اسکول (منیر شریف) میں بحیثیت صدرمولوی ہوئے، اس درمیان آپ کے تلامذہ کثیر تعداد میں ہوئے، اس زمانے میں داناپور اور منیر شریف کے اکثر طلبہ اردو اور دینیات میں آپ ہی کے شاگرد ہوا کرتے تھے مگر آپ نے کبھی اپنے شاگردوں کو تم یا تو کہہ کر مخاطب نہیں کیا بلکہ ہمیشہ آپ ہی کہا کرتے، پان کے شوقین تھے صدری کی جیب میں پان رکھے رہتے، خود بھی کھاتے اور دوسروں کو بھی کھلاتے، مکرمی شاہ عمران خالد فہمی صاحب کہ کہنا ہے کہ

    ’’ان کی صحبت میں بیٹھنے والابڑا خوش نصیب ہوتا تھا ‘‘

    وہ چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں پر مہربانیاں کرتے تھے، انہیں پردے کے پیچھے رہنا پسند تھا، ہمیشہ اپنی ہستی کوچھپائے رکھا، ہر حال میں مست بادۂ الست رہتے، جتنا وہ بڑے بوڑھے سے قریب تھے اتناہی نوجوانوں سے بھی قریب تر تھے، دل جوئی کے لیے کبھی کبھی ان کی محافل میں بھی چلے جایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ

    ’’دیکھو بھائی! انسان کی پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے‘‘

    منیر شریف کی ملازمت کے دوران جامع مسجد منیر کی نمازِ جمعہ کی امامت کا بوجھ بھی ان پر پڑا جس کی مسافت اسکول سے ایک میل سے کم نہیں تھی، ہر جمعہ کو پابندی کے ساتھ نمازِ جمعہ کے لیے اسکول سے وقفہ نماز کی فرصت میں آتے اور پھر واپس اسکول وقت پر پہنچ جاتے، اسکول جانے آنے کا یہ سلسلہ مشقت بھرا تھا مگر تا عمر اسے خوش اسلوبی اور پابندی سے نبھاتے رہے۔

    ۳۰؍ ستمبر ۱۹۸۶ء کو آپ منیر ہائی اسکول سے سُبکدوش ہوئے تو پھر مستقل خانقاہ منیر شریف کی خدمت میں مصروف ہوگئے، آپ اپنے منجھلے بھائی حضرت شاہ عنایت اللہ کے ہمیشہ ہم نوا رہے، خانقاہی امور میں ان کا ہاتھ بٹاتے رہے اور تمام ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دیتے رہے۔

    شاہ مراداللہ نے بنگلہ دیش اور پاکستان تک کا دورہ کیا تھا، اس کے علاوہ ۱۹۶۱ء میں اپنے منجھلے بھائی حضرت شاہ عنایت اللہ فردوسی اور خالہ (دختر محمد صادق شعیبی بن باسط علی شعیبی) کے ہمراہ حج بیت اللہ کے شرف سے بھی مشرف ہوئے واپسی کے موقع پر شمسؔ منیری نے یہ رباعی پڑھی تھی۔

    کعبے میں سوال جب لگائے ہوں گے

    احباب ضرور یاد آئے ہوں گے

    مٹھی میں یہ کیا ہے لایئے ہاتھ ادھر

    منہ مانگی مراد آپ پائے ہوں گے

    (تذکرہ شعرائے منیر، ص؍ ۱۱۲)

    اس مبارک سفر کی واپسی پر مولانا محمد یوسفؔ عظیم آبادی نے بھی قطعۂ تاریخ کہا تھا، ملاحظہ ہو

    خلیل اللہ کی سنت ہے حج کعبہ بیت اللہ

    مسلسل اس زمانہ سے ہے جاری سلسلہ حج کا

    بروئے نص مقررحج بھی ہے اک رکن اسلامی

    مسلماں وہ ادھورا ہے جو رہ جائے بلا حج کا

    ان احکام صریحی نے مراداللہ عنایت کو

    بفضل ربِّ ابراہیم بخشا حوصلہ حج کا

    اگر چہ نیک بندے دونوں ہی اللہ والے

    ضرورت تھی مگر اس کی کہ پڑجائے جلا حج کا

    محمد مصطفیٰ کے عاشقان زار ہیں دونوں

    نہ کیوں رکھتے دلوں میں اشتیاق وولولہ حج کا

    بہ حج ہونے مشرف ان کے یوں تاریخ کہہ یوسفؔ

    ’’ہو فی الدارین خیرا یہ صلہ حج کا‘‘

    ۱۳۸۰ھ

    (طرزِ سخن، ص؍۱۳۹)

    شاہ مراداللہ اپنے عہد کے نامور عالم دین، فاضل متین اور صاحب صدق ویقین بزرگ تھے، ان کی علمی جلالت کا ہر کوئی قائل تھا، مذہبی دنیامیں آپ کی ہستی گوہرِ آبدار کی مانند تھی، ان کے حلقۂ احباب میں بڑی بڑی ہستیاں شامل تھیں، ان میں سے چند نام یہ ہیں۔

    حضرت مولانا شاہ ظفر سجادابوالعُلائی (سجادہ نشیں: خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور)، حضرت مولانا شاہ محمد اسمعٰیل ابوالعُلائی روحؔ کاکوی(نائب صدرالمدرسین : مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ، پٹنہ)، حضرت مولانا شاہ عون احمد قادری (خانقاہ مجیبیہ، پھلواری شریف) اور حکیم احمد اللہ ندوی (صدر شعبۂ اردو: جامعہ طبیہ شرقیہ، کراچی)۔

    آپ کا پہلا عقد خاندان ہی میں سیّد شاہ غلام حسنین (منیر شریف) کی بڑی صاحبزادی وارث فاطمہ عرف اخترن سے ہوا مگر یہ خاتون چند ہی مہینوں میں رحلت کر گئیں، لہٰذا دوسرا عقد۱۹۵۵ء میں شاہ محمد الیاس فردوسی یاسؔ بہاری (متوفیٰ ۱۳۸۰ھ) کی چوتھی صاحبزادی شاہدہ فردوسی سے ہوا جن سے سات صاحبزادی ہوئیں اور وہ یہ ہیں۔

    (۱)عزیز فاطمہ (منسوب سیّد امان اللہ بن سیّد سبحان اللہ، داناپور)

    (۲)حفصہ خاتون (منسوب حاجی سیّد سرفراز احمدبن سیّد امام الدین، منیر شریف)

    (۳)ثروت فردوس عرف شرف جہاں (منسوب سیّد جمیل احمدبن سیّد منظر حسن، ناسِک)

    (۴)عائشہ فردوس ( منسوب قیصر حسنین اکبر بن سیّد مظفر حسین اکبر، کراچی)

    (۵)بشریٰ مرحومہ (منسوب سیّد اعجاز احمدبن سیّد یوسف احمد، بہار شریف)

    (۶)ازرا (منسوب محسن امام بن حسین امام، دیگھا)

    (۷)اکبرشائرہ فردوسی ( منسوب سیّد پرویز انور بن حاجی سیّد عبدالمقیت، کلکتہ)

    آپ کا انتقال ۲۴؍ ذی الحجہ جمعہ ۱۴۱۴ھ کو طویل علالت کے بعد ہوا، نماز جنازہ دوسرے روز سنیچر کو ساڑھے دس بجے چھوٹی درگاہ کے احاطہ میں آپ کے برادر زادہ حضرت شاہ نورالدین فردوسی پیارے (سجادہ نشیں: خانقاہ منیر شریف)نے پڑھائی اور حضرت مخدوم دولت کے احاطہ میں حضرت شاہ عنایت اللہ کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے