ذکر خیر حضرت شہاب الدین ’’پیر جگجوت‘‘
اکثر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام محمد تاج فقیہ کو بحکم حضرت رسول اللہﷺ چندافرادکے ساتھ مکہ مکرمہ سے ہندوستان آنا نصیب ہوا اور انہوں نے ۵۷۶ھ میں صوبۂ بہار کے خطۂ منیر کو فتح کیا، بعد ازاں اس علاقہ کو اپنے ورثہ نے اختیار الدین محمد بن بختیار خلجی کے حوالے کر کے خود راہِ فقیری اختیار کرلی، تاہم بعض تاریخی روایات کے مطابق خلجی نے ۵۹۰ھ میں بہار کو فتح کیا؛ درحقیقت مسلمانوں کی آمد اور آبادکاری کا سلسلہ اس سے بھی پہلے شروع ہوچکا تھا، محمود غزنوی کے حملوں نے ہندوستان کے کئی علاقوں پر اثر ڈالا اور سالار مسعود غازی کی بہرائچ تک آمد بھی مشہور ہے، اگرچہ یہ تمام امور مزید تحقیق کے متقاضی ہیں، بعد میں محمد غوری کی یلغاریں بنارس تک پہنچیں جن کے نتیجے میں مسلمانوں نے بہار کے مختلف علاقوں میں سکونت اختیار کی اور رفتہ رفتہ اہلِ اللہ کا روحانی اثر و رسوخ بڑھتا گیا، لوگ دور دراز سے آکر فیوض و برکات حاصل کرنے لگے، انہی بزرگ ہستیوں میں حضرت شہاب الدین سہروردی پیر جگجوت کا نام نمایاں ہے جن کی محبت و عنایت سے بہار امن و سکون کا گہوارہ بنا رہا، اور بہار کے قدیم روحانی مراکز جیسے منیر شریف، کاکو، بہار شریف اور عظیم آباد آج تک دعوت و تبلیغ اور امن کے پیغام کے امین ہیں، نیز آپ کی صاحبزادیوں کی اولاد سے بھی بے شمار درویش، اولیا، حکما اور اہلِ دانش پیدا ہوئے جن کی عظمت و تقدس مسلم ہے۔
شہاب الدین آپ کا نام تھا، آپ کی ولادت باسعادت تقریباً ۵۷۰ھ میں کاشغر (ایران) میں ہوئی، آپ ساداتِ جعفری میں سے تھے اور کاشغر کے فرماںروا خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جہاں کئی پشتوں سے سلطنت کا سلسلہ جاری تھا، آپ کے والد سلطان سیّد محمد تاج المعروف عبد الرحمٰن بن سلطان سیّد احمد تھے جبکہ والدہ ماجدہ کا نام راحت النسا بنت سیّد لطف اللہ بیان کیا جاتا ہے، والد کے وصال کے بعد آپ نے سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس سے پہلے منصبِ قضا پر بھی فائز رہ چکے تھے، آپ کو فقہ اور اصولِ فقہ میں خاص مہارت حاصل تھی، اگرچہ بچپن شاہانہ انداز میں گزرا لیکن عشقِ الٰہی کے جذبے نے ایسا رنگ دکھایا کہ آپ نے کاشغر کی بادشاہت ترک کر کے فقیری اختیار کی اور معرفتِ الٰہی کے حصول میں مشغول ہوگئے۔
شہاب الدین بن محمد بن احمدبن ناصرالدین بن یوسف بن حسن بن قاسم بن موسیٰ بن حمزہ بن داؤد بن رکن الدین بن قطب الدین بن اسحٰق بن اسمعٰیل بن امام محمد جعفر صادق بن امام محمد باقر بن زین العابدین بن امام حسین بن علی مرتضیٰ بن ابی طالب۔
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر ہی میں خاندان کے معزز اور علم دوست بزرگوں سے حاصل کی، بعد ازاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ آپ حضرت نجم الدین کبریٰ ولی تراش کے حلقۂ درس میں شامل ہوئے جہاں آپ نے علومِ ظاہری کے ساتھ ساتھ علومِ باطنی کی بھی تکمیل کی اور روحانی تربیت حاصل کرتے رہے۔
بقول اعیانِ وطن کے آپ نے حضرت نجم الدین کبریٰ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی، تاہم دوسری روایت زیادہ قوی مانی جاتی ہے جس کے مطابق آپ اور آپ کی اہلیہ بی بی نور المعروف ملکہ جہاں دونوں کو شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی (متوفیٰ ۶۳۶ھ) سے بیعت کا شرف حاصل ہوا،حضرت نجم الدین کبریٰ سے تعلیم لینے کی روایت مستند نہیں کیوں کہ اعیان وطن نے اس سلسلے میں وضاحت کردی ہے کہ یہ باتیں’’محض سنی سنائی ‘‘ہے،جب آپ علوم ظاہری سے آراستہ وپیراستہ ہوچکے تو علم طریقت کی طرف آپ کا رجحان بڑھا، شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور علم طریقت حاصل کرنے لگے رفتہ رفتہ آپ سے عقیدت وارادت بڑھنے لگی کچھ عرصہ بعد دست حق پرست پر بیعت حاصل کرلی آپ کے پیر کامل نے جگجوت کالقب عطا کیا، چنانچہ مولانا عبدالحئی نے اپنی کتاب مستطاب نزہۃ الخواطرمیں جگجوت کاترجمہ ’’منورالعالم‘‘ لکھا ہے، بعض غیر مستند تاریخ نگاروں نے صرف سنی سنائی باتوں پر حضرت نجم الدین کبریٰ کامرید وخلیفہ بتایاہے،حالانکہ یہ سراسر غلطی پر مبنی ہے حقیقت تویہ ہے کہ شیخ الشیوخ سے بھی بیعت وخلافت کاکوئی قدیم مستند اور تاریخی ثبوت نہیں ملتاہے،البتہ یہ ضرور ہے کہ آپ سہروردی بزر گ تھے اور آپ کی ہستی صوبۂ بہار میں متبرک اور مقدم ہے اور آپ کو مرکزیت کا شرف حاصل ہے۔
حضرت شاہ محمد کبیر ابوالعُلائی داناپوری رقمطراز ہیں کہ
’’آپ (حضرت مخدومِ جہاں )کے والد حضرت مخدوم یحییٰ منیری اور آپ کے جدفاسد حضرت شہاب الدین خلفائے عظام سے حضرت شیخ الشیوخ شہاب الدین سہروردی کے تھے‘‘
(تذکرۃ الکرام، ص۴۷۵)
کریم الدین احمد بہاری اپنی کتاب رقمطراز ہیں کہ
’’گویند کہ حضرت قاضی شہاب الدین پیر جگجوت علیہ الرحمہ شاہزادۂ کاشغر بودند ،خدمت ایشاں واہلیہ ایشاں راکہ ملکہ خاتون عرف ملکہ جہاں نام داشت بیعت وخلافت از شیخ الشیوخ شہاب الدین عمر سہرورد حاصل گشتہ بود۔۔۔‘‘
)مخزن الانساب ،ص؍۳۳۳)
قدیم تذکروں میں مناقب الاصفیامیں صرف اس قدر درج ہے کہ
’’پدرمادر شیخ شرف الدین منیری مردے بزرگ بود قاضی شہاب الدین نام داشت‘‘
گنج ارشدی کی عبارت ملاحظہ ہو۔
’’حضرت شیخ شہاب الدین پیرجگجوت جد مادری حضرت مخدوم شرف الملت والدین احمد یحییٰ منیری قدس سرہ ‘وفات بست ویکم ماہِ ذیقعدہ ،قبر حضرت ایشاں درموضع جٹھولی (جیٹھلی) ازبلدۂ عظیم آباد و کر وہ (کوس)بجانب مشرقی گوئیدکہ حضرت ایشاں خودولی بودند وزوجہ ایشاں ولیۂ مسماۃ بی بی ملکہ خاتون و چہار دختران حضرت ایشان خود ولیہ بودند و چہار نواسہ حضرت ایشاں‘‘
(حصہ سوم)
بقول ’’آثارِ کاکو‘‘کہ حضرت مخدوم حمیدالدین چشتی (خویش) آپ کے جانشیں ہوئے۔
جب آپ نے بادشاہت سے کنارہ کش ہوکر روحانیت کی راہ اختیار کی تو اقتدار چھوڑ کر اپنی اہلیہ اور چار صاحبزادیوں کے ساتھ وطن سے ہجرت کی، ایران سے لاہور اور وہاں سے ہندوستان کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہوئے بہار کے متعدد مقامات پر قیام فرمایا، بعض روایات کے مطابق آپ پہلے منیر شریف تشریف لائے جبکہ کچھ کے نزدیک آپ نے حاجی پور میں قیام کیا، بعد ازاں اپنی سمدھی حضرت آدم صوفی (متوفیٰ ۶۹۷ھ) کی درخواست پر عظیم آباد کے قریب واقع مقام جیٹھلی میں مستقل سکونت اختیار فرمائی، جو دریا کے کنارے ایک بلند ٹیلے پر واقع ایک روحانی اہمیت کا حامل مقام ہے۔
جیٹھلی کی وجۂ تسمیہ کے بارے میں دو دلچسپ روایات بیان کی جاتی ہیں، پہلی روایت کے مطابق ایک نوجوان گوالہ فوت ہوگیا تھا اور لوگ اس کی آخری رسومات کی تیاری کر رہے تھے، اس کی دلہن شدتِ غم میں اس کے ساتھ جل مرنے پر بضد تھی کہ اسی دوران پیر جگجوت وہاں پہنچے، حال دریافت کیا اور پھر گوالہ کے پاس جا کر فرمایا کہ یہ مرا کہاں ہے، اس کے بعد اسے پیر سے ٹھوکر مار کر کہا اٹھ کیوں پڑا ہے، تو وہ گوالہ فوراً زندہ ہوکر اپنی زبان میں بولا’’جی اُٹھلی‘‘ جس سے اس مقام کا نام “جیو ٹھلی” پڑ گیا۔
دوسری روایت کے مطابق حضرت پیر جگجوت کے نواسے حضرت احمد چرم پوش بچپن میں ایک ہندو لڑکے کے ساتھ کھیلتے تھے، ایک دن کھیل ادھورا چھوڑ کر مغرب کے وقت گھر چلے گئے، اتفاق سے اسی رات وہ لڑکا فوت ہوگیا، اگلے دن جب احمد چرم پوش کھیل مکمل کرنے کے لیے اس کے گھر پہنچے اور اس کی وفات کی خبر سنی تو میت کے پاس جا کر فرمایا ’’اے فلاں اٹھ‘‘ یہ سنتے ہی وہ لڑکا زندہ ہوکر بولا’’جی اُٹھلی‘‘ اور اسی واقعہ کے بعد اس علاقے کا نام ’’جیو اُٹھلی‘‘ مشہور ہوگیا۔
آپ کا نکاح بی بی نور المعروف ملکہ جہاں بنت سیّد وجیہ الدین (کاشغر) سے ہوا، جن سے چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں جو اپنے وقت کی صاحبِ کمال مخدومائیں ثابت ہوئیں، آپ نے شہنشاہیت کا منصب ترک کر کے اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کے ساتھ ہندوستان کا رخ کیا اور بعد ازاں منصبِ قضا پر بھی فائز رہے، روایت ہے کہ حضرت پیر جگجوت کے گھر میں چودہ قطب موجود تھے جو ایک ہی دسترخوان پر کھانا تناول کرتے تھے، جن میں خود آپ، آپ کی اہلیہ، چار صاحبزادیاں (رضیہ، حبیبہ، ہدیہ، جمال)، چار قریبی بزرگ (کمال الدین منیری، موسیٰ ہمدانی، سلیمان لنگر زمین، حمید الدین بہاری) اور چار نواسے (شرف الدین منیری، احمد چرم پوش، عطا ؤاللہ، تیم اللہ سفید باز) شامل تھے،
حضرت شاہ تبارک حسین کاکوی اپنی کتاب وصیت نامہ میںآپ کاذکر یوں کرتے ہیں کہ
’’سر حلقۂ چہاردہ آفتاب ‘‘
اور یہ شعر جو باموزوں اور بے معنی ہےلکھ دیتے ہیں، نہیں معلوم یہ دو شعر کس کے ہیں۔
چہار دہ اقطاب داد و ذوالجلال
حق مقرب کردہ وے صاحب کمال
من گرفتار ند والا رسید
دادمی خواہم زتو بی بی کمال
یوں کہا جاتا ہے کہ صوبۂ بہار کا شاید ہی کوئی مقدس خانوادہ ایسا ہو جو کسی نہ کسی طور آپ کے فیض سے مستفید نہ ہوا ہو، اور اب آپ کی صاحبزادیوں کا مختصر تعارف پیش کیا جاتا ہے۔ (آثارِ کاکو)
آپ کی پہلی صاحبزادی بی بی رضیہ المعروف بڑی بوا (مدفن: بڑی درگاہ، بہار شریف) کا نکاح شیخ کمال الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ ۶۹۰ھ) سے ہوا، جن سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزادی پیدا ہوئے: شیخ جلیل الدین، شیخ شرف الدین، شیخ خلیل الدین، شیخ حبیب الدین اور ایک دختر، یہ سب اپنے زمانے میں آفتابِ ولایت کے مرتبے پر فائز تھے، شیخ جلیل الدین فردوسی منیری اپنے والد کے بعد سجادۂ منیر ہوئے، جبکہ شیخ شرف الدین احمد یحییٰ منیری (متوفیٰ ۷۸۲ھ) کو بیعت و خلافت شیخ نجیب الدین فردوسی (متوفیٰ ۶۹۱ھ) سے حاصل تھی اور ان کا مزار بڑی درگاہ، بہار شریف میں واقع ہے، شیخ خلیل الدین منیری ثم بہاری اپنے بڑے بھائی مخدومِ جہاں کے مرید و مجاز تھے اور ان کا مزار اپنے پیر و مرشد کے پہلو میں ہے، جبکہ شیخ حبیب الدین اپنے برادرزادہ مخدوم ذکی الدین فردوسی بن مخدوم جہاں کے ساتھ مخدوم نگر، پیر بھوم، ضلع بردوان میں مدفون ہیں، نیز ایک صاحبزادی کا نکاح میر شمس الدین مازندرانی سے ہوا اور دونوں کا مزار بڑی درگاہ منیر میں مرجعِ خلائق ہے۔
دوسری صاحبزادی بی بی حبیبہ کا نکاح سلطان سیّد موسیٰ ہمدانی سے ہوا، جن سے تین صاحبزادے پیدا ہوئے، سیّد محمد ہمدانی، سیّد محمود ہمدانی اور مخدوم احمد چرم پوش، جن کے وسیلے سے تبت سے ہندوستان تک روحانی فیض عام ہوا، بعد ازاں مخدوم احمد چرم پوش کا نکاح اپنے ہم کفو خاندان میں ہوا جن سے دو صاحبزادے دیوان سیّد سراج الدین احمد اور دیوان سیّد تاج الدین احمد پیدا ہوئے اور اسی خانوادے کی نمایاں یادگار شخصیت شاہ محمد نور سہروردی بہاری ہیں۔
تیسری صاحبزادی بی بی ہدیہ المعروف کمال کا نکاح حضرت شیخ سلیمان لنگر زمین سے ہوا جن کے ذریعے ایک طویل عرصہ تک خلقِ خدا کو روحانی فیض حاصل ہوتا رہا اور دونوں کا مزار کاکو میں مرجعِ خلائق ہے، آپ کے بطن سے ایک صاحبزادے شاہ عطاؤ اللہ اور ایک صاحبزادی بی بی دولت پیدا ہوئیں، مخدوم عطاؤ اللہ کا خاندان کاکو سے منتقل ہوکر کجانواں، نوآبادہ، موڑہ تالاب سے ہوتے ہوئے محلہ شاہ ٹولی، داناپور میں آج خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ کی صورت میں موجود ہے جو راقم کا مولد و مسکن بھی ہے، جبکہ بی بی کمال کی صاحبزادی بی بی دولت کمالِ ثانی (مدفن: درگاہ کاکو) کا نکاح مخدوم حسام الدین ہانسی سے ہوا جن سے مخدوم حسین دھکڑ پوش پیدا ہوئے، اور والد و فرزند دونوں کا مزار حضرت شیخ تقی الدین مہسوی کے پہلو میں واقع ہے۔
چوتھی صاحبزادی بی بی جمال کا نکاح حمید الدین چشتی بن صوفی آدم سے ہوا، جن سے تیم اللہ سفید باز پیدا ہوئے اور یہ خانوادہ بھی اپنی روحانی عظمت، بزرگی اور خدماتِ دینی کے اعتبار سے نمایاں اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔
جب آپ ۹۶؍ برس کی عمر کو پہنچے تو علالت نے شدت اختیار کی اور بالآخر ۲۱؍ ذیقعدہ ۶۶۶ھ کو آپ اس دارِ فانی سے کوچ کر کے دارالبقا کی طرف منتقل ہوگئے، آپ کا مزارِ پُرانوار دریائے گنگا کے کنارے ایک بلند چبوترے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ واقع ہے، جہاں انتظام و انصرام خدام کے سپرد ہے اور ہر سال آپ کا عرس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے جس میں دور دراز سے آنے والے عقیدت مند بڑی تعداد میں شریک ہوکر سلام و نیاز پیش کرتے ہیں۔
حضرت غفورالرحمٰن حمدؔ کاکوی رقمطراز ہیں کہ
’’جو زائرین وہاں حاضر ہوتے ہیں تو زمانۂ قدیم سے یہ رسم دستور جاری ہے کہ پہلے حضور کے مزار شریف پر حاضر ہوکر نیاز دیتے ہیں اس کے بعد آپ کے سمدھی مخدوم سیّد آدم صوفی چشتی کے مزار پر جو پکی درگاہ کے نام سے مشہور ہے، وہاں حاضر ہوکر نیاز دیتے ہیں دونوں میں کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے محض قریب ہے لوگ بیان کرتے ہیں کہ آپ کے سمدھی نے اپنی زندگی میں ایسا حکم دیاتھا کہ پہلے آپ کی خانقاہ میں حاضر ہولیں بعدہ میرے پاس آیا کریں اس لیے بعد ممات بھی وہی قاعدہ بدستور جاری رہا، حضرت مخدوم آدم صوفی کی وفات یازدھم صفر ۶۳۶ھ میں ہوا مزار پکی درگاہ سے مشہور وزبان زدوعام ہے‘‘
(آثارِ کاکو)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.