Font by Mehr Nastaliq Web

ذکر خیر حضرت مخدومہ بی بی کمال

ریان ابوالعلائی

ذکر خیر حضرت مخدومہ بی بی کمال

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    صوبۂ بہار میں مسلمانوں کی آمد سے قبل کمال آباد المعروف کاکو میں ہندوؤں کی آبادی قائم تھی، جہاں کسی راجہ یا بڑے زمیندار کی حکمرانی تھی، اور آج بھی قدیم ٹیلوں اور کھدائی کے دوران ملنے والی پرانی اینٹیں اس قدیم بستی اور اس کی تاریخی حیثیت کی گواہی دیتی ہیں۔

    بقول عطاؔکاکوی کہ

    ’’بہیترے ٹیلے اور گڈھ اس بات کی شہادت دیتے ہیں جدید مکانات کی تعمیر کے دوران قدیم عمارات کی دیواریں اور مورتیاں کثرت سے برآمد ہوئیں ہیںاور اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کہ قدیم باشندے بودھ مذہب کے پیروکار رہے ہوں گے اور مہاراجہ اشوک کے زیرِ اثر ہوں گے‘‘ (آثارِ کاکو)

    بہار میں مسلمانوں کی باقاعدہ حکومت اختیار الدین محمد بن بختیار خلجی کی فتوحات (۵۹۰ھ/۱۱۹۲ء تا ۶۰۲ھ/۱۲۰۴ء) سے قائم ہوئی، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اس سیاسی غلبے سے قبل ہی خصوصاً منیر شریف میں مسلمانوں کی آمد و رفت شروع ہوچکی تھی، چنانچہ امام محمد تاج فقیہ کی قیادت میں میر قطبی ابدال، رکن الدین مرغیلانی اور میر قطب سالار ربانی جیسے افراد منیر شریف—جو کاکو سے تقریباً چودہ کوس (۶۷ کلومیٹر) کے فاصلے پر واقع ہے—پہنچے اور وہاں روحانی و دینی اثر قائم کیا، جس کی فتح کی تاریخ “دینِ محمد شد قوی” کے جملے سے نکالی جاتی ہے جو ۵۷۶ھ پر دلالت کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ کاکو کی سرزمین پر متعدد عظیم اور باکمال بزرگ گزرے ہیں، جیسے حضرت شیخ سلیمان لنگر زمین، حضرت شاہ عز، حضرت شاہ قیام الدین، حضرت شاہ رکن الدین، حضرت سیّد ابراہیم زندہ دل، حضرت سلمان سیّاح، حضرت شاہ مبارک اور حضرت شاہ محمد بن درویش وغیرہ، مگر افسوس کہ ان میں سے اکثر کے نام عام شہرت حاصل نہ کرسکے، جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس بستی کو کئی بار آتش زدگی جیسے حادثات کا سامنا کرنا پڑا، نتیجتاً قدیم کتب، تذکرے اور تاریخی دستاویزات ضائع ہوکر مٹی میں دب گئے اور یوں ان بزرگوں کے حالات و خدمات مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے؛ چنانچہ تیرہویں صدی ہجری کے اواخر میں حمدؔ کاکوی نے بھی اسی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ’’۱۵؍ربیع الثانی ۱۲۹۱ھ مطابق ۲؍مئی۱۸۷۴ء فصلی ۱ ؍جیٹھ بروز شنبہ اور دوسری مرتبہ۱۴؍ذیقعدہ ۱۳۱۴ھ مطابق۱۷؍اپریل ۱۸۹۷ء فصلی ۳۰؍چیت بروز شنبہ کو ایسی آگ لگی کہ ساری بستی جل گئی‘‘

    جس سے بستی کے باشندوں کاسارا سرمایہ خاکستر ہوگیا اور یہ کہاوت مشہور ہے کہ

    ’’سارا کاکو جل گیا اور بی بی کمال سوئی رہیں‘‘

    المختصر صوبۂ بہار کے خطۂ کاکو کی مشہور بافیض و صاحبِ کرامت ولیۂ زمان حضرت مخدومہ ہدیہ المعروف بی بی کمال کی زندگی کے کئی اہم گوشے باوجود بہت تلاش و جستجو کے مکمل طور پر معلوم نہ ہوسکے، اور یہ ہماری کوتاہی ہے کہ ہم جیسے لوگ آپ کی سوانح کو یکجا اور جامع صورت میں محفوظ نہ کرپائے۔

    آپ کا اسمِ گرامی بی بی ہدیہ المعروف بی بی کمال ہے اور عوام الناس میں آپ کو ’’ہند کی رابعہ بصری‘‘ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، تاہم جائے پیدائش کے بارے میں کوئی مستند اور متفقہ روایت دستیاب نہیں، بعض کے نزدیک آپ کی پیدائش کاشغر (ایران) میں ہوئی، جیسا کہ حمدؔ کاکوی کی تحریر سے اس کا اشارہ ملتا ہے۔

    ’’حکومت ترک کر کے اپنی اہلیہ اور چاروں لڑکیوں کو ساتھ لے کر وطن سے باہر نکلے اور لاہور ہوتے ہوئے بہار شریف لائے‘‘

    آپ کی تاریخِ ولادت اندازاً ۶۰۰ھ کے قریب بیان کی جاتی ہے، آپ حضرت شہاب الدین پیر جگجوت (متوفیٰ ۶۶۶ھ) کی صاحبزادی تھیں، جبکہ آپ کی والدہ بی بی نور المعروف ملکہ جہاں بنت سیّد وجیہہ الدین تھیں، یوں آپ ایک عظیم روحانی اور ساداتِ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔

    حضرت شاہ عطاحسین فانیؔ نے آپ کا نسب نامہ یوں درج کیا ہے ۔

    ہدیہ عرف بی بی کمال بنت شہاب الدین پیرجگجوت بن محمد تاج الدین کاشغری بن ناصر الدین بن یوسف بن حمزہ بن حسین بن قاسم بن موسیٰ بن حمزہ بن داؤد بن رکن الدین بن قطب الدین بن محمد اسحٰق بن امام محمد جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن امام حسین بن علی بن ابی طالب۔ (کنزالانساب)

    حضرت بی بی کمال کا کاکو میں ورود کا واقعہ عوام میں مشہور ضرور ہے مگر مستند تاریخی حیثیت نہیں رکھتا؛ بقول صاحب آثارِ کاکو نہ تو واضح روایت ملتی ہے اور نہ ہی عقل اس بات کو آسانی سے تسلیم کرتی ہے کہ ایک خاتون ایسے پُرآشوب دور میں اس طرح طویل سفر تنہا طے کرسکتی ہوں، اسی لیے یہ سوال بھی اٹھایا جاتا ہے کہ آپ کا کاکو میں آنا کب اور کن حالات میں ہوا اور آیا آپ کے شوہر حضرت سلیمان لنگر زمین بعد میں تشریف لائے یا آپ کے ساتھ ہی تھے، تاہم حتمی تاریخی تعین ممکن نہیں، روایت کے مطابق جب آپ یہاں پہنچیں تو پالکی میں سوار تھیں، چار مسلمان کہار آپ کے ہمراہ تھے، ایک استاد شاہ محمد فرید گھوڑے پر سوار ساتھ تھے، ایک خادمہ ’’دائی بیگو‘‘ کے نام سے معروف ہوئی اور ایک خادم فہیم نامی بھی ہمراہ تھا اور ان سب کے مزارات آج بھی درگاہ شریف کاکو میں موجود بتائے جاتے ہیں۔

    حضرت نثار علی ابوالعُلائی اکبرآبادی رقمطراز ہیں کہ

    ’’حضرت سیّدنا امام تاج فقیہ قدس سرہٗ سے ایک پرپوتے حضرت سیّدنا سلیمان لنگر زمین قدس سرہٗ مقام کاکو ضلع گیا میں آسودہ ہیں،یہ بھی اپنے وقت کے قطب الاقطاب تھے آپ کی بی بی صاحبہ قدس سرہا المعروف بہ پاک دامن دختر حضر ت شہاب الدین جگجوت قدس سرہٗ بھی ایس مقام کاکومیں آسودہ ہیں،آپ کے مزار پاک سے بہت بڑا فیض جاری ہے اور بہت بڑا رقبہ اس درگاہ شریف کا ہے دوازدہ ماہ اس مزار مبارک پر بیمار پر وآسیب زدہ حاضر رہتے ہیں یہ حضرت بی بی پاکدامن قدس سرہا حضرت مخدوم شرف الدین بہار ی قدس سرہٗ کی خالہ ہیں اور حضرت سیّدشاہ طیب اللہ نقاب پوش قدس سرہٗ کے جد امجد کی دادی ہی اور تمام صوبہ بہار شریف انہیں بزرگوں کی اولاد سے آباد ہے ‘‘ (دل،ص؍ ۳۶)

    آپ کا نکاح امام محمد تاج فقیہ کی دوسری زوجہ سے پیدا ہونے والے مخدوم عبد العزیز منیری کے بڑے صاحبزادے شیخ سلیمان لنگر زمین سے ہوا جو منیر شریف کی زینت اور ممتاز شخصیت تھے، بعد ازاں آپ دونوں میاں بیوی منیر شریف سے کوچ کر کے کاکو تشریف لائے، جہاں سے ان کی روحانی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اور اس ازدواج سے دو اولاد پیدا ہوئیں۔

    آپ کے ایک صاحبزادے حضرت شاہ عطاؤ اللہ اور ایک صاحبزادی بی بی دولت المعروف کمالِ ثانی تھیں، بی بی دولت (مدفن: درگاہ کاکو) کا نکاح مخدوم حسام الدین ہانسی ہنساروی سے ہوا جن سے مخدوم حسین دھکڑ پوش (متوفیٰ ۸۰۲ھ) پیدا ہوئے، واضح رہے کہ بی بی کمال کے نواسے دھکڑ پوش، مخدوم احمد چرم پوش کے ہم عصر، ہم درس اور ہم طریقت تھے اور ان کے مشہور خلیفہ صوفی ضیاؤالدین چنڈھوسی ہوئے، نیز بی بی کمال کے خویش مخدوم حسام الدین اور نواسہ دھکڑ پوش کا مزار مہسی میں مرجعِ خلائق ہے جہاں لوگ آج بھی فیض حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔

    حضرت عطاؤ اللہ کا نکاح کجانواں میں ہوا اور وہیں آخری آرام گاہ ہے، بقول حمدؔکاکوی کہ آپ کے ۶؍صاحبزادے تھے۔

    ’’شفیع الدین ، شمس الدین،تاج الدین، سراج الدین ، صلاح الدین اور قطب الدین‘‘

    واضح رہے کہ یہ خانوادہ امام محمد تاج فقیہ کے وسیلے سے محلہ قدس خلیل (مکہ) سے منیر شریف پہنچا پھر شاہ تاج الدین خلفِ عطاؤ اللہ کجانواں کے ذریعہ کاکو، کجانواں، نوآبادہ اور موڑہ تالاب سے ہوتا ہوا آج داناپور میں واقع خانقاہ سجادیہ ابوالعلائیہ میں آباد و شاد ہے، اور یہ تمام سلسلہ حضرت شیخ سلیمان لنگر زمین اور ان کی زوجہ بی بی کمال کی اولادِ قلبی و صلبی سے منسلک ہے، جیسا کہ حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری نے بھی اپنے اشعار میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

    حضرت ہمارے جد بھی ہیں

    ہم ہیں عبد العزیز کی اولاد

    پسر خورد تھے یہ حضرت کے

    ہوئے یہ بھی منیر میں آباد

    یہ گھرانہ بڑامکرم ہے

    اس میں عباد اس میں ہیں زہاد

    کاکو میں آکے اِن بزرگوں نے

    بعض نومسلموں کی کی امداد

    پھر بہار اور نوآدہ ان سے بسا

    پڑی دونوں جگہ نئی بنیاد

    پھر یہ پھیلے تمام صوبہ میں

    ہر جگہ پہنچے یہ فرشتہ نزاد

    موڑے سے میرے جد یہاں آئے

    داناپور میں رہے وہ دل شاد

    (جذباتِ اکبرؔ،ص)

    موجودہ سجادۂ آبائی حضرت شاہ سیف اللہ ابوالعُلائی مدظلہ ہیں۔

    حضرت سلیمان لنگر زمین کی مساعی سے بہت سے لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے، آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ جب قصبۂ کاکو میں مقیم ہوئے تو روایت کے مطابق وہاں ’’کوکا‘‘ نامی ایک جادوگر لوگوں کو سخت اذیت میں مبتلا کیے ہوئے تھا، کہا جاتا ہے کہ آپ کی باکمال اہلیہ بی بی کمال نے حالتِ غیظ میں ایسا تصرفِ باطنی کیا کہ پوری بستی الٹ جانے کے قریب ہوگئی اور اس کی شدت اتنی تھی کہ زمین تہہ و بالاہوجاتی مگر حضرت سلیمان کی موجودگی نے اس اثر کو روک لیا، اسی مناسبت سے آپ کو ’’لنگر زمین‘‘کا لقب ملا اور اس بستی کا نام ’’کاکو‘‘ پڑ گیا جو ’’کوکا‘‘ کی الٹی صورت بیان کی جاتی ہے۔

    فیروز شاہ تُغلق جو حضرت مخدومِ جہاں کا معتقد تھا، ۷۵۹ھ میں دہلی سے بہار شریف جاتے ہوئے کاکو سے گزرا اور جہاں حضرت بی بی کمال کا خام مزار تھا وہیں اس کا قیام ہوا، بی بی پور کے لوگوں نے بادشاہ کو آگاہ کیا کہ یہاں مخدومِ جہاں کی حقیقی خالہ بی بی کمال مدفون ہیں، اس پر اس نے عقیدت کے طور پر حکم جاری کیا اور بہار کے حاکم کے ذریعے ۷۶۰ھ میں ایک شاندار روضہ اور عیدگاہ تعمیر کرائی، اس درگاہ کے احاطے میں متعدد اؤلیائے کرام کے مزارات بھی موجود ہیں جو اپنے زمانے کے آفتابِ ولایت تھے، نیز یہی مقام مخدومِ جہاں کی چلہ گاہ بھی رہا جو اہلِ بستی کے لیے باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے، اور درگاہ شریف میں موجود سیاح رنگ کا پتھر اور روغنی اینٹیں آج بھی اپنی قدامت اور تاریخی اہمیت کی نشانیاں سمجھی جاتی ہیں۔

    آپ کی تاریخِ رحلت مستند طور پر معلوم نہیں، مؤرخین کا اندازہ ہے کہ آپ کا وصال تقریباً ۶۹۰ھ سے ۷۰۰ھ کے درمیان ہوا ہوگا، نہ سال یقینی ہے اور نہ ہی قمری مہینہ متعین، تاہم زمانۂ دراز سے ایک روایت کے مطابق فصلی مہینہ بھادو کے آخری جمعرات کو آپ کا عرس نہایت عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے، جس میں خصوصاً کھیر کی فاتحہ مشہور ہے، اور دور دراز سے آنے والے عقیدت مند حاضر ہوکر گل ہائے عقیدت اور نذر و نیاز پیش کرتے ہیں، یوں یہ روحانی سلسلہ آج تک جاری و ساری ہے، جیسا کہ حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری نے بھی اس کیفیت کو اپنے اشعار میں بیان کیا ہے۔

    عدم کی منزل سے ڈرنہ اکبرؔنہ چور اس میں نہ اس میں رہزن

    ہزاروں لاکھوں ہیں آتے جاتے یہ راستہ خوب چل رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے