ذکر خیر حضرت امجد حسین نقشبندی
ہندوستان میں خانقاہیں اور بارگاہیں کثرت سے وجود میں آئیں جہاں شب و روز بندگانِ خداکوتعلیم وتلقین دی جاتی رہی،ان متبرک خانقاہوں میں بعض ایسی بھی خانقاہیں ہوئیں جو متانت و سنجیدگی اور سادگی و سخاوت کا مجسمہ ثابت ہوئیں، روحانیت و معرفت کاخاص خیال رکھنےوالی چندمقدس بارگاہوں میں بارگاہ عشقؔ کو امتیازی شان حاصل ہے، تقریباً ڈھائی صدی سے متواتر بارگاہِ عشق کا فیضان عام ہوتا رہا ہے، یہاں توجۂ عینی کے ساتھ توجہ قلب کا ہونا ضروری سمجھاجاتاہے ،علمائے زمانہ ہوں یا شاہانِ زمانہ ہر ایک یہاں سلام و نیاز پیش کرتے ہیں، امام العاشقین حضرت رکن الدین عشقؔ (متوفیٰ ۱۲۰۳ھ) کی طرح اس بارگاہ کے سجادگان ذیشان بھی بیشتر اوصاف و کمالات کے مالک ہوئے ہیں لہٰذا بارگاہ عشق کے چوتھے سجادہ نشیں خواجہ شاہ امجدحسین نقشبندی ابوالعُلائی جو اپنی علمی وعملی صلابت کے لحاظ سے معاصر مشائخ میں سرفراز و بے نیاز تھے ان کا ذکرخیراس جگہ کیا جاتاہے۔
خواجہ امجد حسین نقشبندی کی پیدائش ۱۲۶۶ھ کوبارگاہ عشق میںہوئی،اس پر یحییٰؔ عظیم آبادی نے قطعہ کہاہے۔
’’قطعۂ تاریخ ولادت پسر برادرم شاہ لطیف علی عرف میاں جان صاحب نقشبندی ابوالعُلائی سلمہٗ اللہ تعالیٰ
خدا بخشید فرزند نرینہ
بوالارتبۂ فخر اب و جد
میاں جان آں کہ بر اسرار عرفان
کمالے اطلاع و علم دارد
چو از دل خواستم تاریخ میلاد
ندا آمد کہ ’’بر خوردار احمد‘‘
۱۲۶۶ھ
آیتِ قرآنی اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا‘‘
۱۲۶۶ھ
(کنزالتواریخ،ص۱۵)
آپ کے والد ماجد خواجہ لطیف علی نقشبندی(متوفیٰ ۱۲۹۹ھ)نےمراقبہ کے بعد آپ کا نام ’’امجد حسین ‘‘رکھا ، والد ہی کے زیرِاثر آپ کی تربیت ہونے لگی،رفتہ رفتہ تعلیم کی طرف مائل ہوئے، پہلے پہل خانقاہ میں ہی دوسرے بزرگوں کے ذریعہ تعلیم دی جانے لگی جب تھوڑا عاقل وبالغ ہوئےتومزیدعلما وفضلا کی طرف متوجہ ہوئے۔
حسیب اللہ عمادی لکھتے ہیںکہ
’’جب سن شعور کو پہنچے تو تحصیلِ علم ظاہری جناب مولوی کمال صاحب اور مولانا سعید صاحب وحکیم غلام علی صاحب سے کی اور علوم باطنی کی تکمیل اپنے والد ماجد قدس سرہٗ سے حاصل کی‘‘
(تذکرۃ الصالحین،ص؍ ۶۸)
علم فقہ،اصول فقہ کی طرح علم حدیث کابھی گہراعلم حاصل تھا،خواجہ آپ کا موروثی لقب اورامیرمیاںیاامیرمرزاعرفیت،آپ اپنےدونوںبھائیوںخواجہ نظیرحسین اورخواجہ وجیہہ حسین میں سب سےبڑے اورنیک فعال تھے،بھائیوںکےعلاوہ ایک ہمشیرہ کابھی ذکرملتاہے۔
خواجہ امجد حسین اپنےآباواجدادکےتعلق سے ’’جلوۂ عشق‘‘پر ایک قیمتی تقریظ میںلکھتےہیںکہ
’’خواجہ علاؤالدین عطارقدس سرہٗ خلیفۂ معظم خواجۂ خواجگان خواجہ بہاؤالدین نقشبند قدس سرہٗ کے تھے ،حضرت سیّدنا شیخ المشائخ امام الطریقہ والشریفہ نقشبندقدس سرہٗ کو صرف ایک صاحبزادی تھی ان کو خواجہ علاؤالدین عطارؔکےساتھ حضرت ممدوح نے فرمایا تھا، چنانچہ انہیں صاحبزادی سے اولادجاری ہوئی اورنسبت فرزندیت کی بھی اس فقیر کو بوجہ خواجہ علاؤالدین عطارقدس سرہٗ کےحضرت نقشبند قدس سرہٗ سےہے، اسی لیے بیعت بھی اسی سلسلۂ نقشبندیہ میں حضرت خواجہ ممدوح کے وقت سے اس فقیر تک ہم لوگوں کو ہوتی آئی ہے‘‘
(کیمیائے دل،ص؍ ۲۷ )
بارگاہ عشق کےسفائن میںنسب نامہ اس طرح درج ہےجب کہ وجیہہ الدین تاعلاؤالدین عطارکےدرمیان چندنسبی شک وشبہات پیداہورہےہیں۔
امجد حسین بن لطیف علی بن لطف علی (نواسہ حضرت عشقؔ)بن محمدمحسن بن محمدآفتاب(نواسہ خواجہ محمدی احراری) بن وجیہہ الدین بن محمدی غازی بن محمدشریف بن محمدلطیف بن محمدمنیربن علاؤالدین عطارؔوالیٰ آخرہٖ اوراسی وجیہہ الدین تک طرح کنزالانساب میں بھی درج ہے۔
آپ کےآباواجدادظہیرالدین محمدبابرکےہمراہ سمرقندسےکابل اورکابل سے ہندوستان آئے،یہاں خواجہ محمدیحییٰ شہیدبن خواجہ عبیداللہ احرارکےتیسرے صاحبزادے خواجہ محمدامین کی اولادخوب پھلی پھولی،واضح ہوکہ خواجہ عبیداللہ احرارکےچھوٹے صاحبزادےخواجہ محمد یحییٰ سےعبدالرحمٰن جامیؔ کوبڑی عقیدت تھی،جامیؔ فرماتےہیںکہ
’’خواجہ محمدیحییٰ کوطریقت خواجگان سےبھرپورمناسبت ہے، نسبتِ علمی میںخواجکااورجذب میںخواجہ یحییٰ برترہیں‘‘
(رشحات نقشبند)
خواجہ احرارنےاواخرعمرمیںخواجہ محمدیحییٰ کواپناقائم مقام مقررکردیاتھا،آپ کاعقدمیرمحمدارغوان کی صاحبزادی سےہوا،محمدارغوان سلطان ابوسعیدمرزا کے امرا میں سے تھے، ان سےتین بیٹےاوردوبیٹی ہوئیں،جب شاہ بیگ خان نےسمرقندفتح کیا تو آپ کےاجداد کی تمام جائیدادقبضےمیں لےلیںاورآپ کوآپ کےدوصاحبزادوں خواجہ زکریااورخواجہ عبدالباقی کے ہمراہ محرم ۹۰۶ھ کوقتل کردیا،خواجہ یحییٰ کے تیسرے صاحبزادےخواجہ محمدامین سلامت تھےجوقتل ہونےسےبچ نکلے،ظہیرالدین محمد بابر نے انہیں اپنےساتھ کابل اورپھرہندوستان لے گیا، بابرنامہ میں ۹۱۰ھ تا۹۲۵ھ کے واقعات میںان کانام آیاہے،خواجہ محمدیحییٰ کامزارسمرقندمیںخواجہ عبیداللہ احرارکےنزدیک واقع ہے۔
خواجہ محمدہاشم کِشمی لکھتےہیںکہ
’’ظہیرالدین محمدبابرنےجب سمرقنددوبارہ فتح کیاتوخواجہ محمد یحییٰ کی تعزیت کی اور فاتحہ کا کھاناکیااورخواجہ محمد امین کواپنےہمراہ کابل و ہندوستان لےآیا‘‘
(نسمات القدس)
خواجہ یحییٰ کےصاحبزادوںکےحالات چوںکہ کم ملتےہیںلہٰذاہاشم کِشمی نےبھی اسی پراکتفاکیاہے،خواجہ یحییٰ کےچھ خطوط مرقع علی میرشیرنوائی میں محفوظ ہیں، قاضی میرحسین بن معین الدین میبدی کی منشیات میںدوخطوط خواجہ یحییٰ کےنام ہیں جس سےان کی خواجہ سےعقیدت وارادت کاپتاچلتاہے۔
(منشیات میبدی،بابرنامہ،نسب نامۂ احرار)
’’کنزالانساب‘‘ کےمطابق آپ کاپدری نسب یوں ہے۔
امجد حسین بن لطیف علی بن لطف علی (نواسہ حضرت عشق)بن محمدمحسن بن محمدآفتاب(نواسہ خواجہ محمدی خاں) بن وجیہہ الدین۔۔۔
حکیم شعیب احمد پھلواروی نےتجلیاتِ انوارمیںآگےکانسب نامہ اس طرح لکھاہے۔
وجیہہ الدین بن علی دوست بن عبدالفتاح بن احمدبن محمدبن انوربن نورالعین بن محمدامین بن محمدیحییٰ شہیدبن خواجہ عبیداللہ احراربن محمودشاشی بن شہاب الدین۔
خواجہ امجدحسین علم ظاہر کےبعدعلم باطن کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے والدکے ذریعہ نعمت باطنی حاصل ہوئی، آپ کو سلسلۂ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ میںبیعت وخلافت سے نوازکراپنی زندگی میںہی اپنا جانشیں نامزدکردیاتھا،لہٰذا والدکےچہلم کےموقع پر۱۲۹۹ھ کو بارگاہ حضرت عشق ،میتن گھاٹ ،پٹنہ سیٹی کے سجادہ نشیں ہوئے ۔
اس کےعلاوہ خانقاہ منیر شریف کے سجادہ نشیں حضرت شاہ امجدحسین منیری (متوفیٰ ۱۳۰۲ھ)سے بھی اجازت و خلافت حاصل تھی، چنانچہ حسیب اللہ عمادی لکھتے ہیں کہ
’’اجازت و خلافت طریقۂ نقشبندیہ ابوالعُلائیہ سہروردیہ وغیرہ سے مشرف ہوکر بحکم اجازت پیر،منیرشریف میں اپنے خسر جناب سیّدشاہ امجد حسین قدس سرہٗ سے اجازت و خلافت چہاردہ خانوادہ حاصل کیا‘‘
(تذکرۃ الصالحین،ص؍۶۸)
علمی لیاقت خوب تھی، عقدۂ لایخل بھی بڑی آسانی سے حل کرلیتےتھے، مولانا جلال الدین رومی کی مثنوی کا درس باضابطہ بارگاہ عشق میں دیاکرتےجس میں اہلِ علم کا مجمع رہتا، دور دور سے لوگ آپ کے درس میں شریک ہوتے،کثرت سے لوگ آیا کرتےاورمن کی مرادپاکربخوشی واپس جاتے،بعنوان عنایت الٰہی کچھ ایسی استعداد حاصل تھی کہ طالبان حق کو برابردرس کلام اللہ شریف و مثنوی سے مستفید فرماتے رہے۔
(تذکرۃ الصالحین،ص؍ ۶۸)
تمناؔعمادی کہتےتھےکہ
’’حضرت کو قرآن و حدیث پر مکمل علم حاصل تھا‘‘ (تذکرۃ الصالحین،ص؍ ۶۸)
مستجاب الدعواۃ اور صاحبِ استقامت بزرگ ہوئے،آپ کےاوصاف وکمالات کوتحریر میں لانا ناشادکےبس کی بات نہیں ،اللہ پاک نےکمال علم وعمل سے نوازہ تھا کہ جس فن کی جانب میلان ہوتا اس میں اچھا درک فرمالیا کرتے۔
سیّدبدرالحسن عمادی ’یادگارِروزگار‘میںلکھتےہیںکہ
’’اخلاق تواس خاندان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا، ہر ایک ممبرخاندان اخلاق کاپتلاتھااورشاہ امیرصاحب کےوقت میں علمی چرچا رہاکرتاتھا،مثنوی مولاناروم اچھابیان فرماتے، توحیدکے مسئلہ بہت ہواکرتےتھے،بہت نیک اورصاحبِ کیف آدمی تھے‘‘
(ص؍۱۲۲۳)
حکیم مؤمن سجادکانپوری ردِّندوہ کی تحریک کےتعلق سے لکھتےہیںکہ
’’پنجشنبہ کووقت چاشت حضرت شاہ امیرصاحب سجادہ نشیں عظیم آباد سے ملازمت ہوئی،بحمداللہ نہایت مستقل اور متبع طریق سلف ہیں،ندوہ کی نئی روشنی سے بہت نفورہیں،آپ نےاہلِ ندوہ کوان کی درخواست پرجواب دےدیاکہ ملنے کے لیےکوئی صاحب آئیںتو درِدرویش رادربان نباشدلیکن ندوہ کاذکرزبان پرنہ لائیں،اُن کےیہاں اہلِ ندوہ تشریف لےگئے وہ توایسی ہی جگہ قدم جماتے ہیں جہاں میل جول کی طرف کسی کی طبیعت مائل ہو،کوئی مصلحت زمانہ کے تقدیم کاقائل ہو،حضرت شاہ صاحب کی ملازمت سےمعلوم ہوگیاکہ بجز ان لوگوںکےجونئی روشنی والے ہیں یا غیر مقلد یا اہلِ تقیہ ہیںکوئی سنی صحیح المذہب ان کا طرف دارنہیںاورنہ یہ حضرات مشائخ لغزش کرنےدیں گے،اہلِ ندوہ نےجب ہزار قریب کئےہیں،لاکھوں قسمیںکھائیں ہیں تو بعض سلیم القلب بزرگ مثل مولوی محمدعظیم صاحب کےان کےوعدہ تعلیم مذہب حنفی کوکچھ سچ کی طرف مائل سمجھنے لگےہیںیاآئندہ جلسوںکےرنگ و ڈھنگ کارروائی عمل دار آمد کے دیکھنےپراپنی رائے کافیصلہ موقوف رکھاہے،وہ بھی بحمداللہ اہلِ حق میں سےدوتین صاحب ایسےہوںگےجوان کی اس قدر عیار یوں سے حالت توقف میںہوںورنہ بحمداللہ سنی مسلمان راسخ العقیدہ کوئی دل سے ان کاشریک نہیں‘‘
(فک فتنہ ازبہاروپٹنہ،ص؍۹)
اسی تعلق سےحسنؔرضابریلوی نے مثنوی صمصام حسن بردابرفتنمیں کہتے ہیںکہ
’’شاہ سماعیل و عزیز و امیر‘‘
(ص؍۴۰)
خواجہ امجد حسین کے تعلقات معاصر علماومشائخ میںدیرینہ رہےہیں، بلند اخلاق کے ساتھ پاکیزہ طبیعت اور باغ وبہار شخصیت کے مالک تھے ،حسن صورت ،حسن سیرت کے ساتھ حسن اخلاق تھے، مہد سے لحد تک کی زندگی اتباعِ رسول کا نمونہ تھی ،بیشتر مشائخ سے آپ کا خاندانی رشتہ رہاہے ، خانقاہ معظم حضرت مخدوم جہاں بہار شریف کے سجادہ نشیں حضرت شاہ امین احمد فردوسی (متوفیٰ ۱۳۲۱ھ)آپ کے ہمشیر ۂ زوج ہوئے، خانقاہ منیرشریف کے سجادہ نشیں حضرت شاہ امجدحسین فردوسی (متوفیٰ ۱۳۰۲ھ) آپ کے خسرمحترم ہوئے،اسی رشتہ سے خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپور کے سجادہ نشیں حضرت شاہ محمدمحسن ابوالعُلائی (متوفیٰ ۱۳۶۴ھ) کے آپ رفیق ہوئےہیں۔
حضرت شاہ محمداکبرابوالعُلائی داناپوری (متوفیٰ ۱۳۲۷ھ ) سے بھی آپ کے تعلقات قدیمانہ تھے، حضرت عشقؔ کے عرس پاک کے مبارک موقع پر آپ اپنے صاحبزادے حضرت شاہ محسن ؔداناپوری کے ہمراہ داناپور سے بذریعہ کشتی برابر تشریف لاتے بلکہ کبھی کبھی تو عرس سے دو یاتین روز قبل سازو سامان کےساتھ قیام کرتے اور مجلس سماع پُرتکلف انداز میںمنعقدکرتے۔
حضرت شاہ اکبرؔ داناپوری نذرِمحبوبمیں آپ کا ذکرخیر اس طرح کرتے ہیںکہ
’’عزیز باتمیز سعیدکونین خواجہ شاہ امجدحسین عرف امیر میاں سلمہٗ اللہ تعالیٰ
یہ سعید ازلی جناب برادرمعظم خواجہ لطیف علی عرف شاہ میاں جان صاحب رحمۃ اللہ علیہ سجادہ نشین تکیہ حضرت عشقؔ کے فرزند رشید ہیں، اپنے والد ماجد کے بعد اب یہی صاحبزادہ رونق افروز سجادہ ہیں نیک بختی اور سعادت مندی آپ کے ضمیر میں ہے، بدو شعو ر سے آثار نیک ان کے چہرے سے پائے جاتے ہیں ،ماشاء اللہ اپنے معمولات اور تعلیم و ارشادات میں مستقیم الحالت ہیں، آپ کے دو بھائی اور بھی ہیں ،اللہ تعالیٰ شانہٗ ان کو ان کے برادرمعظم کی طرح سے نیک بخت و سعادت مند فرما وے، آمین ‘‘ (ص؍۳۰)
شعرو شاعری کا اعلیٰ ذوق تھا،مگراکثر حصہ آج غیرمطبوعہ ہے ، حسن تخلص کرتے، ایک فارسی مناجات یہاں نقل کرتاہوں۔
الٰہی سربسر غفلت پناہم
عنایت کن زخود آگاہ راہم
الٰہی شام کفرم صبح گرداں
عطا کن چشم بینا جان ایماں
زمینم راز لطف آسماں کن
دلم فارغ زبندہ ایں و آں کن
دلم دہ حسن پرور تاب و مہتاب
کہ ہر ذرہ نماید جلوۂ ناب
بہ حسنؔ تو بود عشقم دوبالا
زنم چوں نعرہ مستان تلالا
شعری سرمایہ کی طرح نثری کارنامےپربھی آپ کی خاصی توجہ رہی ہے،باقرؔ عظیم آبادی کی کتاب ’’کیمیائے دل ‘‘پر دو تقریظ شامل ہے ،پہلی تقریظ جنابحضور شاہ امین احمد فردوسی کی اور دوسری تقریظ آپ کی ہےجوبزبان فارسی تقریباً ۶۰؍صفحات پر محیط ایک گراں قدر تحریر ہے ، اس کی طباعت قاضی عبدالوحید فردوسی نےمطبع حنفیہ، لودی کٹرہ،پٹنہ سیٹی سےکیا،اسی طرح حضرت شاہ محمد یحییٰ ؔ ابوالعُلائی عظیم آبادی (متوفیٰ ۱۳۰۲ھ) کی’’ فتوحات شوق‘‘پربھی بزبان فارسی ۴؍صفحات پر ایک قیمتی تقریظ لکھی ہے۔
جب آپ عاقل و بالغ ہوئے تو آپ کاعقد خانقاہ منیر شریف کےسجادہ نشیں حضرت شاہ امجد حسین فردوسی(متوفیٰ ۱۳۰۲ھ) کی بڑی صاحبزادی ماجد النسا عرف شرفاً سے سال ۱۲۸۹ھ میں ہوا، اس موقع پر یحییٰؔ عظیم آبادی نے قطعہ تاریخ کہا ہےملاحظہ ہو۔
’’تاریخ تحریر رقعۂ تقررشادی کدخدائی برخوردارخواجہ امجدحسین مدعمرہٗ از طرف برادرم خواجہ شاہ لطیف علی صاحب بنام شاہ امجدحسین صاحب امیر۔
محررۂ پتہ و یکم محرم قطعہ کہ در آقرآں رقعہ نوشتہ شد متصم قبول استدعا۔
’’مطبوع طبع فیض عام یہ ہے‘‘
۱۲۸۹ھ
دیگر
نشست باہمہ تمکین بمسند اب و جد
جوان صالح امجد کہ تخم نیک کشت
جناب شاہ میاں جان مقام و مسند خود
حوالہ کرد بآن خوش صفات نیک سرشت
دبیر خامۂ فرسال جانشین او
نشاندہ والدہ او جاے خود و را بنوست‘‘
۱۲۸۹ھ
(کنزالتواریخ،ص؍ ۱۵۳)
کریم الدین احمد بہاری لکھتے ہیں کہ
’’دختر اولین حضرت سیّدشاہ امجدحسین مرحوم از جناب شاہ امیرصاحب سجادہ حضرت رکن الدین عشقؔ علیہ الرحمۃ منسوب بودند و صاحب اولاد اندند‘‘
(مخزن الاصفیا،ص؍ ۴۲۵)
یہ بزرگ حضرت سیّدمحمدسلطان چشتی کےصاحبزادےاورخانقاہ منیرشریف کےسجادہ نشیںحضرت شاہ قطب الدین فردوسی (متوفیٰ ۱۲۸۱ھ) کےدامادتھے،شاہ قطب الدین نے اپنے بعد آپ کو اپناجانشیں منتخب کیا،بڑوںکاکہناہےکہ منیرشریف کی اکثر روایت خواجہ امجدحسین کےعہد کےقائم ہوئی،یہاںتک کہ منیرشریف میںدن کی محفل بھی آپ کی قائم کردہ ہے، بارگاہ عشق میں محفل سماع کا ایک خاص مقام ہے،اکثر مقامات پر یہاں کے بزرگوں نے محفل سماع کی چھاپ چھوڑرکھی ہے،یہاںکا کہنا ہے کہ علم زبان سے نکلے تو وہ قال ہے اور اگر قلب سے نکلے تو وہ حال ہے ۔
’’آگیا صاحبان قال کو حال‘‘
(شاہ اکبر ؔداناپوری)
خواجہ امجد حسین کی اہلیہ کے بطن سے آٹھ پسراوردو دخترہوئیں، صاحبزادوں کے نام یہ ہیں۔
خواجہ ابوالحسن، خواجہ گھسو،خواجہ حمیدالدین،خواجہ آفتاب،خواجہ ماہتاب،خواجہ محسن،خواجہ محمدیٰسین،خواجہ علی حسنین،واضح ہوکہ تین صاحبزادوںکےعلاوہ پانچوں صاحبزادگان کم سِن اورعنفوان شباب میںہی رحلت کرگئے۔
بڑے فرزند خواجہ ابوالحسن نقشبندی یہ جوانی کی عمر میں فوت ہوئے،بڑے صاحبِ کمال تھے،اپنے نانیہال چھوٹی درگاہ منیر شریف میں دفن ہوئے،منجھلےبھی والد کے سامنےوفات پاگئے،تیسرے فرزندخواجہ حمیدالدین نقشبندی اپنے والد کے بعد مسند رشد وہدایت پر متمکن ہوئے ایک زمانہ آپ سے فیضیاب ہوااورچھوٹے فرزند خواجہ علی حسنین نقشبندی یہ بزرگ بھی اپنے والد کی طرح عمدہ اخلاق کے مالک تھے، آپ کا سلسلہ بنگلہ دیش میں عام ہوا،آخری آرام گاہ میرپور(ڈھاکہ) میںہے،شعرو شاعری سے کافی رغبت تھی،ضیاؔ تخلص کرتے،بیعت وخلافت اور تعلیم وتلقین کُل اپنےوالد سےہوئی۔
آپ کی پیدائش پر یحییٰؔ عظیم آبادی نے قطعہ کہا ہے۔
’’قطعۂ تاریخ ولادت ابن الابن برادرم خواجہ لطیف علی عرف شاہ میاں جان صاحب پسر خواجہ امجد حسین عرف امیر مرزا سلمھم اللہ تعالیٰ‘‘
میاں جان شاہ اقلیم فنا و وحدت و عرفاں
کہ دارد خانقاہ شق اللہ فیض خود آباد
بفرزندش کہ نام نیک او امجد حسین آمد
خدا پور سعادت مند بخشید و دلم شد شاد
رقم زدکلک یحییٰؔ مصرع برجستۂ تاریخ
’’بآن فرزندفرزند جگر بندی مبارک باد‘‘
۱۲۹۴ھ
دیگر
امیر ابن شاہ لطیف الطبیعت
جوان رشید سعادت مجسم
نرینہ پسر کردش ایزد عنایت
دل اقربا گشت مسرور و خرم
ازیں مژدہ چوں گل شگفتیم و تاریخ
’’بباغ لطیف علی گل‘‘ نو شتم
۱۲۹۴ھ
دیگر
یافت فرزندی برادر زادہ ام
ہم چوگل بشگفتم از فرط خوشی
از سرالہام تاریخ لطیف
گفت دل فرزند فرزند اخی
۱۲۹۴ھ
دیگر
میرے بھائی کا پیارا پوتا
راحت و روح و دل و جاں ہے یہ
کہو تاریخ ولادت یحییٰؔ
’’نوگل باغ میاں جان ہے یہ‘‘
۱۲۹۴ھ
(کنزالتورایخ، ص؍۱۹۰)
دو صاحبزادی میں پہلی دختر بی بی منیبہ کا عقد حضرت شعیب نقشبندی ہلسوی سے ہوایہ بزرگ بھی ہلسہ سے پٹنہ سیٹی آئے اور یہاں سے مصاہرت کرکے بنگلہ دیش چلے گئے اور رشد وہدایت کا سلسلہ وہاںقائم کیا، دوسری دختر بی بی زہراحضرت متین سے منسوب ہوئیں۔
حلقۂ مریدان کافی وسیع تھا، بنگلہ دیش کا زیادہ ترعلاقہ آپ کے فیضان سے بہرور تھا،کیاامیرکیاغریب کیاکالےکیاگورےکیاعالم کیاجاہل ہر ایک آپ کی عزت وحرمت کا قائل تھا ، بڑے بڑے نوابین و رؤسا حلقۂ یاران میں داخل تھے ،نواب عتیق اللہ خاں (ڈھاکہ )اورنواب سمیع اللہ خاں(ڈھاکہ )جیسےرؤسا کا شمار آپ کے معتقدین میں ہوتا تھا،ٹیپوسلطان کے پوتے محمد کریم شاہ (متوفیٰ۱۹۱۵) آپ ہی کےمریدہیں،شمشادؔ لکھنؤی نےقطعۂ تاریخ وصال لکھاہے،دوشعریہاں لکھ دیتاہوں۔
پے تعلیم بیعت ساخت از جان
بدست خواجہ امجد شاہ مشہور
بہ پٹنہ بارگاہِ عشق منزل
گرفت از چشم عالم گشت مستور
چند خلفا کے نام نامی درج کئے جاتے ہیں ۔
خواجہ ابوالحسن نقشبندی (صاحبزادۂ اکبر)
خواجہ حمید الدین نقشبندی (صاحبزادۂ دوم و جانشیں)
خواجہ علی حسنین نقشبندی (صاحبزادۂ سوم)
حضرت شاہ فضل احمدفردوسی(سجادہ نشیں:خانقاہ منیرشریف)
حضرت شعیب نقشبندی (خویش)
حضرت شاہ اؤلیاعلی نقشبندی(مدفن:کلیر)
۲۲؍ذیقعدہ بروز جمعہ ۱۳۳۶ھ کو بعد عصر بارگاہ عشق میں انتقال کیا، نمازِ جنازہ خواجہ حمید الدین نقشبندی نے پڑھائی ۔
۱۰؍فروری ۱۹۳۷ء کو ہفتہ واری اخبار Behar Herald کی ایک خبر کے مطابق ڈھاکہ کے پانچویں نواب خواجہ حبیب اللہ اپنے پیر و مرشد خواجہ امجد حسین کے سالانہ عرس میں شرکت کی غرض سے ڈھاکہ سے پٹنہ سٹی تشریف لائے، ملاحظہ ہو۔
NAWAB OF DACCAAttends ‘
Urs’ in PatnaPatna, Monday - Nawab Bahadur Khwaja Habibullah of Dacca, who came here to attend the annual ‘urs’ of the late Maulana Khwaja Amjad Ali at Mithan Ghat, left for Dacca by the Punjab Mail last night. The ‘urs’ continued for three days and was attended by a large number of Muslims from different parts of India
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.