Font by Mehr Nastaliq Web

جوہرؔ نوری ایک فطری شاعر

ریان ابوالعلائی

جوہرؔ نوری ایک فطری شاعر

ریان ابوالعلائی

MORE BYریان ابوالعلائی

    شعر و سخن کی دنیا میں جوہرؔ نوری کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، وہ تقریباً پانچ دہائیوں سے زلفِ اردو کو سنوارنے اور سجانے میں لگے ہوئے ہیں، جوہرؔ نوری کو شاعرانہ ذوق ورثہ میں ملا ہے، آپ کے جد اعلیٰ حضرت سیّد لطف احمد قادری ایک اچھے شاعر گزرے ہیں جن کا تخلص لطف تھا، آپ کے دادا سیّد ابوالحسن بھی اپنے وقت کے ممتاز غزل گو شاعر تھے اور حسن تخلص کرتے، جوہرؔ نوری کے والد سیّد انوارالحسن نورؔ نوحی بھی، بہار کے معروف شعرا میں شمار ہوتے ہیں، آپ نوحؔ ناروی کے شاگرد تھے، نورؔ نوحی اور نوحؔ ناروی دونوں کا خانقاہ سجادیہ ابوالعُلائیہ، داناپورسے گہرا رشتہ رہا ہے، دونوں استاد و شاگردحضرت شاہ محسنؔ داناپوری کے عہد سجادگی میں خانقاہ کے کئی مشاعرے میں شریک ہوئے ہیں، ان ہستیوں کو یہاں کے مشائخ سے نہایت عقیدت ومحبت تھی، نورؔ نوحی کے تین شعری مجموعہ (۱)بہارستانِ خیال(۲)جلوۂ نور (۳)شعاعِ نور شائع ہوچکے ہیں۔

    جوہرؔ نوری ۱۹۴۶ءمیں محلہ چودھرانہ، آرہ میں پیدا ہوئے، گھریلو تعلیم کے بعد بلدیوا ہائی ا سکول میں داخلہ لیا اور پھر ۱۹۷۲ءمیں مہاراجہ کالج، آرہ سے بی، اے کی سند حاصل کی۔

    ۱۹۶۵ء میں جوہرؔ نے ایک ماہنامہ داناپور سے بنام ’’پرستار‘‘جاری کیا، یہ تقریباً دو سال تک شائع ہوتا رہا مگر مالی دشواریوں کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا، شروع میں جوہرؔ اپنے والد نورؔ نوحی سے اصلاحِ سخن لیتے تھے، ۱۹۷۸ء میں والد کے وصال کے بعد چند برسوں تک خمارؔ بارہ بنکوی سے اصلاح لی مگر خمارؔ بارہ بنکوی کے وصال کے بعد پھر یہ سلسلۂ تلمذ ختم ہوگیا۔

    ۱۹۷۹ءمیں جوہرؔ ایک خالص ادبی ادارہ ’’بزم نور‘‘کے نام سے قائم کیا، ۱۹۷۹ءہی میں آپ کا پہلا آل انڈیا ریڈیو سے پروگرام بھی نشر ہوا اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے، جوہرؔ کے اب تک آل انڈیا ریڈیو سے تقریباً ۵۰؍ پروگرام نشرہوچکے ہیں، آپ کا کلام ملک کے معیاری رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے،جیسے ماہنامہ آج کل (دہلی)، ماہنامہ ہدیٰ (دہلی)، ماہنامہ پھلواری (دہلی)، ماہنامہ پیام تعلیم (دہلی)، ماہنامہ زبان و اد ب (پٹنہ)، ماہنامہ ہندوستانی ادب(حیدرآباد)، ماہنامہ قوس قزح (حیدرآباد) ، ماہنامہ ٹافی (لکھنو) اور پندرہ روزہ آواز (دہلی)وغیرہ ۔

    جوہرؔ کا قائم کردہ ادارہ ’’بزم نور‘‘ کے زیر اہتمام ہر ماہ طرحی اور غیر طرحی مشاعرہ بڑی پابندی کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں، اس سلسلے میں چند مشاعروں کا ذکر کیا جاتا ہے جس کے روح رواں جوہرؔ ہی ہیں۔

    ۱۹۸۶میں ہندومسلم اتحاد قائم رکھنے کے لیے ایک طرحی مشاعرہ زیر صدارت چودھری محبوب عالم(اے، ڈی، ایم)مندرجہ ذیل طرح پر منعقد ہوا۔

    ’’دیکھا نہ آئینہ اتنے قریب سے‘‘

    اس مشاعرہ میںدرجنوں شعرائے کرام نے شرکت کی ، نثری دور میں مشرف عالم ذوقی نے اپنا انشائیہ اور آخر میں ذوقی نے اپنا افسانہ ’’آواز‘‘ پڑھ کر سنایا، طرحی دور میں جوہرؔ نوری، تاجؔ پیامی، توفیق ؔشمسی، عباسؔ بلگرامی، انیسؔ امام اور چودھری محبوب عالم، غیر طرحی دور میںسلطانؔ اختر، خورشید سحرؔ، خورشید طلبؔ، فراز نظر، ابرؔنوری اور اظہرؔ ہاشمی نے اپنے اپنے کلام سنائے۔

    ۷؍جون ۱۹۸۶ءکو بزم نور کے زیر اہتمام پہلا کل ہند مشاعرہ زیر صدارت خمارؔ بارہ بنکوی، ناگری پرچارنی،آرہ میں منعقد ہوا، اس مشاعرہ میں بشیر ؔبدر، ساغر ؔاعظمی، وسیمؔ بریلوی، قمرؔ سنبھلی، جلالؔ اکبرآبادی، حفیظؔ بلیاوی، طلحہ رضوی برقؔ،حفیظؔ بنارسی،معین ؔکوثر، تاج ؔ پیامی، انیسؔ امام،جگرؔآروی، ابرؔنوری، سلطانؔ اختر، ظفرؔکاکوی،جوہرؔ نوری اور اظہرؔ ہاشمی نے حصہ لیا۔

    ’’بزم نور‘‘کا دوسرا کل بہار مشاعرہ زیر صدارت ڈاکٹر جتیندر سہائے (سول سرجن ہسپتال، آرہ) بمقام ناگری پرچارنی،آرہ میں متفق ہوا، اس مشاعرہ میں مندرجہ ذیل شعرائے کرام نے شرکت فرمائی، حفیظؔ بنارسی، سلطانؔ اختر، ظفرؔکاکوی، تاجؔ پیامی، جگرؔ آروی، بدنامؔ نظر، ابرؔنوری، رمیشؔ کنول، جوہرؔسیوانی، انیس ؔامام، رحمت علی رحمتؔ، جوہرؔ نوری اور اظہرؔ ہاشمی۔

    ’’بزم نور‘‘ کا تیسرا کل ہند نعتیہ مشاعرہ ۱؍اپریل ۱۹۸۶ ءکو ٹاؤن ا کول، آرہ زیرِ صدارت شبنم کمالی منعقد ہوا، اس مشاعرہ میں بیکلؔ اتساہی، رازؔ الہ آبادی، راہی ؔ بستوی، اسلمؔ گورکھپوری، ظفرؔ بنارسی، سلیم الحسن قادری، جگر ؔ آروی، ابرؔ نوری، جوہرؔ نوری اور اظہرؔ ہاشمی نے شرکت فرمائی۔

    مندرجہ بالامشاعروں کے علاوہ کئی کل ہند مشاعرہ و کل بہار مشاعرہ میں آپ نے شرکت کی ہے جن میں سے چند کا تذکرہ یہاں کیا جاتا ہے۔

    جان محمدی(پٹنہ سیٹی) کے زیراہتمام کل ہند نعتیہ مشاعرہ،کل ہند مشاعرہ (بھوج پور،آرہ)زیر صدارت ڈاکٹراخلاق الرحمٰن(گورنرحکومت بہار)،بزم تسکین (گلوش اکادمی،کھگول ) کے زیر اہتمام کل بہار مشاعرہ ،جشن اقبال (انجمن اسلامیہ ہال،پٹنہ)کے تحت کل بہار مشاعرہ ،حلقۂ احباب کے زیر اہتمام الحرا پبلک اسکول کا یادگار مشاعرہ، روزنامہ انقلاب(پٹنہ) کی طرحی مشاعرہ میں برابر شرکت رہی،اس کے علاوہ درجنوں مشاعرہ میں شرکت کی اور دادِ سخن حاصل کیا۔

    جوہرؔ نوری سے ملاقات کرنے والے اور ان کے کلام سننے اور پڑھنے والے شاید اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ وہ ایک اچھے شاعر ہی نہیں بلکہ ایک بہتر انسان بھی ہیں، خاکسار اور توضع ان کے اندر بدرجۂ اتم موجود ہے، آواز میں ایک کشش ہے، کلام سنانے کا بھی ایک خاص اندازہے، جوہرؔ کی شاعری کے واقف کار حلقے اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کی شاعری فکری و فنی لحاظ سے خاص اہمیت و واقفیت رکھتی ہے، روایتوں کے پابند ہوتے ہوئے اور سخن کی نگاہوں سے دیکھنے کے باوجود بہر حال آپ نے نہایت کامیابی کے ساتھ ایک الگ راہ نکالی ہے، اپنے اشعار میں صراحت کے ساتھ اپنے شعری مزاج اور معیار و موضوع کی نشاندہی کی ہے، آپ کے چند اشعار پیشِ خدمت ہے۔

    لٹکی ہے سرپر وقت کی تلوار کیا کریں

    جینا ہمارا ہوگیا دشوار کیا کریں

    جلتے نہیں ہیں ہم سے تو اشکوں کے بھی چراغ

    اب زیست ہوگئی ہے گراں بار کیا کریں

    دیگر

    عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے

    ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے

    جوہرؔ نوری کی شاعری ہندوستانی تہذیب و تمدن کی اعلیٰ قدروں کی پامالی، متوسط طبقے کی بیکسی و ذہنی انتشار کی کیفیت جو منظر نامہ پیش کرتی ہے وہ یقیناً وسیع ہے اور خاص شعور کے ساتھ ساتھ آپ نے روز مرہ کی زبان کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے کہ قاری کے لیے تفہیم و ترسیل کا کوئی سوال کھڑا نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ سماجی زندگی کے قریبی حقیقت تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے، تجزیوں سے موضوعات کو اخذ کرناجوہرؔ کی شاعری کا اپناایک وصف ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتااس ضمن میں آپ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

    ٹوٹ جائے نہ خیالوں کا حسیں تاج محل

    ذہن میں فکریہ دن رات لے کے مرتے ہیں

    دیگر

    کس کا خیال شیشۂ دل میں اتر گیا

    موتی کی طرح اشک زمیں پر بکھر گیا

    دیگر

    انساں کو گھر میں قید اندھیرے جو کر گئے

    ایسا لگا کہ شہر کے سب لوگ مر گئے

    دیگر

    آندھیوں کو ذرا خبر کردو

    آج پھر ہم دِیا جلا بیٹھے

    جوہرؔ کی شاعری میں فکر وفن کا حسن و جمال دیدنی ہے، آپ کا رنگ سخن بلاشبہ امتیازی شان رکھتاہے، جوہرؔ اگرچہ غم جاناں اور غم دوراں دونوں سے پریشان و مضطر نظر آتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے یہاں کیف و انبساط کی ایک عجیب دل پذیر کیفیت ملتی ہے اور لطف یہ ہے کہ وہ حسن و جمالیات کے نام پر، بہر حال تلخ حقائق پیش کش میں بھی کوتاہی سے کام نہیں لیتے آپ کے چند اشعار پیش کیےجاتے ہیں۔

    غم کی دیمک نے مجھے کھوکھلا کر ڈالاہے

    جو بھی صورت مری دیکھے وہی حیراں رہے

    دیگر

    شکوہ کریں کہ آہ بھریں یا رہیں خموش

    اپنے بھی ہم سے ہوگئے بے زار کیا کریں

    دیگر

    زرد چہرے پہ مصائب کی لکیروں کو نہ دیکھو

    زندگی ہم تری سوغات لیے پھرتے ہیں

    جوہرؔ کے یہاں بڑی گہری باتیں بھی آسان لفظوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے کہ پڑھنے اور سننے والوں کے دل و دماغ کو متاثر کردیں اور لوگوں کو اس میں اپنی آواز اور درد کا احساس بھی ہو، جوہرؔ کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہ کسی رجحان اور تحریک کے منکر ہیں اور نہ ہی کسی کے مبلغ، جوہرؔ ایک حساس، باخبر فن کار ہیں،چند اشعار مزید ملاحظہ کیجیے۔

    یہ مفلسی تو مسلسل وبال کرتی ہے

    نہ جینے دیتی ہے مجھ کو نہ خود ہی مرتی ہے

    نہ پوچھیے شب فرقت میں کیا گزرتی ہے

    کہ موت آنے سے مرے قریب ڈرتی ہے

    جوہرؔ کا پہلا مجموعہ ۲۰۱۵ء میں شعاعِ رسالت کے عنوان سے ایک سو کلام اور دو سو سلام کا مجموعہ شائع ہوچکا ہے اور ۲۰۱۹ء میں دوسرا شعری مجموعہ کرب کا سفر منظر عام آیا اس مجموعہ میں ایک سو غزلیں ہیں، یہ سب جنابِ جوہرؔ کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے، خدا سے دعا ہے کہ جوہرؔ کو مزید جوہر سے آراستہ و پیراستہ رکھے اور صحت و تندرستی بخشے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے