Font by Mehr Nastaliq Web

تصوف

MORE BYسید حیات احمد

    تصوف اسلامی علوم و معارف کی دنیا میں ایک اسیا پُر اسرار اور ورائے عقل اقلیم ہے، جس کا احاطہ لسانی تراکیب منطقی تعبیرات اور لفظی ضوابط کی حدوں میں کرنا ناگزیر طور پر عدمِ امکان اور استحالہ کا شکار ہو جاتا ہے، جسے عام اصطلاح میں ’’تفسیر‘‘ یا تشریح سے تعبیر کیا جاتا ہے، وہ اصل میں ذہنِ انسانی کی وضع کردہ ایک ایسی قیاسی اور حسی ساخت ہے جو صرف محسوس، معقول اور مادی حقائق کے ابلاغ پر قادر ہے۔

    اس کے برعکس، تصوف کا دائرہ کا نفس کی تطہیر، باطن کا تزکیہ اور تجلیاتِ الٰہیہ کے استغراق پر محیط ہے، جس کا ادراک کے لیے نصوص کی ظاہری تاویل یا لفظی تناظر یکسر ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔

    زبان بنیادی طور پر ایک تحریری و صوتی اشاریہ ہے جو خارجی وجود اور مادی مفاہیم کے تعین کے لیے وضع کی گئی ہے، جب انسان تصوف کی قلبی وارادت، تجلیِ ذات اور فنا و بقا کی باریک بینیوں کو الفظ کا پیرایہ دینے کی سعی کرتا ہے تو زبان کی ساخت اپنے عجز کا اعتراف کر لیتی ہے، صوفیائے کرام کے نزدیک معارفِ باطینہ کا بلا واسطہ ادارک ’’ذوق‘‘ اور ’’وجدان‘‘ کا مرہون منت ہے، جو چیز بذاتِ خود ایک باطنی تجلی اور حسی تجریہ ہو اسے تحریری یا کلامی قالب میں ڈھالنا ایسا ہی ہے جیسے آفتابِ عالم تاب کی ضیا پاشیوں کو بپھرے ہوئے کوزے میں بند کرنے کی ناکام جسارت کی جائے۔

    حضرت ابوالقاسم القشیری اور امام غزالی نے اپنی تصانیف میں بارہا اس امر کی اشارہ بندی کی ہے کہ علومِ باطنیہ کی حقیقت سے آگاہی حاصل کرنے کا واحد ذریعہ کشش اور ذوقی مشاہدہ ہے، جب تک انسان خود اس وادیِ حیرت اور یاضت کے دشوار گزار راستوں کا مسافر نہ بنے، محض الفاظ کی نصوص اور فنی تعبیرات اس کے لیے کسی مجرد تسلی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔

    تصوف کی منطقی فریم ورک میں محصور کرنے کی کوشش اس لیے بھی ناممکنات میں سے ہے کہ منطق کا مدار ’’دلیل‘‘ اور’’علت پر قائم ہے، جب کہ تصوف کی بنیاد ’’عشق‘‘ اور تسلیم‘‘ پر ہے، Logic اور Philosophy جہاں اپنے استدلال کی حدوں پر پہنچ کر ٹھہر جاتے ہیں وہیں سے عالمِ تصوف کی سرحدیں شروع ہوتی ہیں۔

    عقل ظاہری اسباب کے گرد طواف کرتی ہے، جب کہ مسبب الاسباب کے مشاہدے میں مستغرق رہتا ہے، عقل تفریق اور تحدید کا نام نام ہے، جب کہ تصوف وحدت اور کثرت میں تجلی واحد کے شہود کا۔

    ایسی تفاوت کی بنا پر حکما اور فلسفہ دان تصوف کے اسرار و روموز کے اداراک میں ہمیشہ ٹھوکریں کھاتے رہے، چوں کہ تصوف کسی سائنسی فارمولے یا فلسفیانہ مقولے کا نام نہیں جو عقل سلیم کی میزان پر پورا اتر سکے بلکہ یہ تو طہارتِ قلب کی وہ معراج ہے جہاں نفس امارہ کی حاکمیت ملیامیٹ ہو جاتی ہے۔

    تصوف کی اسی بے کناری کا نتیجہ ہے کہ اکابرینِ صوفیائے نے کثرتِ کلام کے بجائے ’’سکوت‘‘ اور ’’خموشی‘‘ کو معارفِ الٰہییہ کے ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا، جب باطن پر انوار الٰہی کا نزول ہوتا ہے تو انسان کی زبان گنگ ہو جاتی ہے اور حیرت و استغراق کا عالم طاری ہو جاتا ہے، جیسا کہ ایک صوفی کا مشہور قول ہے’’جس نے خدا کو پہچانا اس کی زبان گنگ ہوگئی‘‘

    حاصلِ کلام یہ ہے کہ تصوف کی تشریح کا دعویٰ کرنا دراصل اس کی حقیقت سے نا آشنائی کی دلیل ہے، تصوف نہ تو کوئی کتابی علم ہے جو مطالعے سے حاصل ہو اور نہ ہی کوئی ایسا مقولہ جس کی افہام و تفہیم منطقی مقدمات کے ذریعے ممکن ہو، یہ ایک داخلی انقلاب، باطنی تطہیر اور ذاتِ حق میں محویت کا نام ہے، جسے بیان کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اسے اسے جیا جائے، محسوس کیا جائے اور اس کے انوار و برکات سے اپنے قلب و روح کو منور کیا جائے۔

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے