تصوف کی اصطلاح
تمہید اور بنیادی حقیقت : اسلامی علوم کی تاریخ میں مختلف علم کی تدوین اور نام سازی بعد کے ادوار میں ہوئی، جس طرح فقہ (احکام شریعہ)، حدیث (اقوال و افعالِ رسول) اور عقائد کلام کی اصطلاحات رسول اللہ اور صحابۂ کرام کے بعد مدون و مرتب ہوئیں، بالکل اسی طرح تصوف کی اصطلاح بھی پہلی اور دوسری صدی ہجری کے بعد تزکیہ، احسان اور زہد کے مجموعے کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی، اگرچہ لفظ ’’تصوف‘‘ قرآن و حدیث میں بعنیہ موجود نہیں ہے لیکن اس اصطلاح کی روح معانی اور مفاہیم قرآن مجید اور احادیثِ مبارکہ میں کثرت سے موجود ہیں اور انہیں سے ثابت ہے، تصوف کے لغوی ماخذ اور قرآنی و حدیثی ربط علما اور صوفیا نے لفظ تصوف کے مختلف اشتقاقات بیان کیے ہیں جو قرآن و حدیث سے براہِ راست مطابقت رکھتے ہیں۔
(۱) صفہ (اصحاب صفہ سے نسبت) مسجد نبوی کا وہ چبوترہ جہاں صحابۂ کرام تمام مادی تعلقات توڑ کر محض عباد الٰلی تزکیہ اور تعلیم میں مشغول رہتے تھے۔
قرآن مجید میں ایسے بندوں کی تعریف کی گئی ہے (وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ) سورۃ الکہف ۲۸ اور اپنے آپ کو ان لوگوں کی معیت میں ثابت قدم رکھیے جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور محض اس کی رضا کے طلب گار ہیں، ہدآیت کریمہ اصلاً اصحابِ صفہ کی شان میں نازل ہوئی۔
(۲) صفا (پاکیزگی اور تطہیر) دل کا ماسوا اللہ سے پاک و صاف ہو جانا۔ (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) (سورۃ الشمس:۹) بے شک وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک (صفا) کرلیا۔
(۳) صوف (اون کا لباس) سادگی، زہد اور انکساری کی علامت کے طور پر موٹا اون کا کپڑا پہننا۔
حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم معمولی اون (صوف) ان تعبداللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔
قرآن مجید سے تصوف کے مفاہیم کا ثبوت : تصوف جس حقیقت کا نام ہے، قرآن کریم کی آیات بینات اس کی بنیادیں قائم کرتی ہیں۔
(۱) تزکیۂ نفس (باطنی صفائی)
بعثت محمدی کا ایک بنیادی مقصد قرآن میں تزکیہ بنایا گیا ہے، ( وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ) (سورۃ الجمعہ۔۲) اور وہ ان کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، تصوف کا تمام تر زور اسی باطنی تزکیے پر ہے یعنی حد بعض، تکبر اور ریا کاری سے دل کو پاک کرنا۔
(۲) تقویٰ اور خشیت اللہ، (إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ) (سورۃ الحجرات۔۱۳) اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔
(۳) ذکر الٰہی کی کثرت، تصوف کا محور و مرکز ذکر خداوندی ہے، (سورۃ الرعد۔۲۸) جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پاتے ہیں، سن لو اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔
(۶) مقام رضا اور محبت الٰہی (سورۃ المائدہ۔۱۱۹) اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ (سورۃ المائدہ۔۵۴) اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔
احادیثِ مبارکہ سے تصوف کا ثبوت : احادیث نبوی میں تصوف کی روح اور نظام کی کامل بنیادیں ملتی ہیں۔
(۱) حدیث جبرئیل اور ’’مقام احسان‘‘ (تصوف کی سب سے بڑی بنیاد)
بخاری شریف و مسلم شری میں روایت کردہ مشہور حدیث جبرئیل میں دین کے تین درجات بیان کئے گئے ہیں۔
(اول) اسلام۔ (ظاہری ارکان، نماز روزہ، زکوٰۃ، حج)
(دوم) ایمان۔ (باطنی عقائد، اللہ، ملائکہ، کتب، رسل پر ایمان)
(سوم) حضرت جبرئیل نے پوچھا کہ ماالاحسان؟ (احسان کیا ہے؟) تو حضرت رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادث اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو کم از کم یہ احساس غالب ہو کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔
محدثین اور شارحین کے نزدیک جس طرح احکام اسلام کے علم کو فقہ کہا گیا اور عقائد کے علم کو عقائد؍کلام نام دیا گیا، بالکل اسی طرح مقام احسان کو عمل میں لانے اور اس کی کیفیات حاصل کرنے کے علم کا نام اصطلاحاً تصوف یا سلوک رکھا گیا۔
(۲) اعمال کا دار و مدار نیت اور دل پر ہے، ارشادِ نبوی ہے، (أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ) (صحیح بخاری)
خبردار جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہوجائے تو پورا جسم فاسد ہوجاتا ہے، سن لو وہ دل ہے، تصوف کا اصل موضوع یہی دل کی اصلاح اور طہارت ہے۔
(۳) زہد فی الدینا (دنیا سے بے رغبتی) حضرت مسّورد بن شداد سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا کی مثال آخر کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر وہ دیکھے کہ وہ کتنا پانی لاتی ہے (صیحح مسلم)۔
علمائے امت کے اقوال اور تصوف کی شرعی حیثیت : امت مسلمہ کے جلیل القدر ائمہ اور علمائے کرام نے تصوف کو کتاب و سنت کا یہی ایک شعبہ قرار دیا ہے۔
(۱) امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر آخری دوسال حضرت امام جعفر صادق کی صحبت کے نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا (اشارہ باطنی تربیت کی طرف ہے)
(۲) امام شافعی فرماتے ہیں ’’میں نے صوفیا کی صحبت سے دو بنیادی باتیں سیکھیں، ایک یہ کہ وقت تلوار کی مانند ہے اگر تم نے اسے خیر میں نہ کاٹا تو یہ تمہیں کاٹ دے گا اور دوسرا یہ کہ اپنے نفس کو حق میں مشغول رکھو ورنہ وہ تمہیں باطل میں مشغول کردے گا۔
(۳) امام احمد ابن حنبل اپنے بیٹے سے صوفیا کے بارے میں فرماتے تھے کہ اے بیٹے ان لوگوں کی صحبت اختیار کرو چوں کہ یہ لوگ علم، مراقبہ، خشیت اور زہد میں ہم سے آگے ہیں،
(۴) امام غزالی اپنی کتاب المنتزمن الضلال میں لکھتے ہیں کہ صوفیہ ہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی معنوں میں اللہ کے راستے پر گامزن ہیں اور ان کی سیرت تمام سیرتوں سے بہترین اور ان کا اخلاق تمام اخلاق سے پاکیزہ تر ہے۔
خلاصۂ لفظ ’’تصوف‘‘ بذات خود ایک جدید اصطلاحی نام ہے جس طرح فقہ، اصول حدیث، تفسیر اور تجدید کے نام بعد میں وضع کئے گئے۔
تاہم جس طرح ان تمام علوم کے اصول و ضوابط قرآن و سنت میں موجود ہیں، بالکل اسی طرح تصوف کے تمام اجزا یعنی تزکیۂ نفس، اخلاص نیت، زہد، توکل، صبر، شکر، محبت الٰہی، مراقبہ اور ذکر، قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبویہ سے ثابت ہے، پس یہ ثابت ہوا کہ تصوف کوئی الگ یا نیا دین نہیں بلکہ اسلام کے باطنی اور روحانی حصے یعنی مقام احسان کا عملی اور سائنسی نام ہے۔
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.